Table of Contents
فہرست
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ بدھ، 8 جولائی 2026 کو ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کے بعد، ایران نے ان کارروائیوں کو “جارحیت” اور “دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، جس میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، جوہری پروگرام، اور علاقائی اثر و رسوخ شامل ہیں، ایک نیا موڑ لے چکی ہے۔ تازہ ترین حملوں اور ایران کے جوابی ردعمل کے دعوؤں نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
تازہ ترین کشیدگی اور امریکی حملے
حالیہ کشیدگی کا آغاز آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے بعد ہوا، جس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 8 جولائی 2026 کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ امریکی حکام کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، کوسٹل سرویلنس سسٹم، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائلز، ڈرون لانچ سائٹس اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہی کشتیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائیاں “طاقتور حملے” تھے تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ شہری عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی “بھاری قیمت وصول کی جا سکے”۔ ان حملوں کے بعد، امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری تھیں، اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات متوقع تھے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق، امریکی اقدامات مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں اور تہران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
پاسداران انقلاب کا فوری ردعمل اور دعوے
امریکی حملوں کی خبر کے بعد، ایران نے فوری اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی فوج کی مرکزی کمان نے امریکی حملوں کو “کھلی جارحیت اور دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کے جنوبی علاقے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان اہداف میں بحرین میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ کا اڈہ اور کویت میں علی السالم ائیر بیس شامل ہیں۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور ایک سابقہ معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں “ابتدائی ردعمل” کے طور پر کی گئی۔ آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ “امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی” اور “ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے محفوظ راستہ صرف وہی ہوگا جس کا تعین ایران کرے گا”۔ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی حملوں کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھونس، دھمکی اور زبردستی مطالبات منوانے کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
امریکا-ایران تعلقات: ایک دہائیوں پرانی کشیدگی
ایران اور امریکا کے تعلقات چار دہائیوں سے عالمی سیاست کے پیچیدہ ترین موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، پراکسی جنگیں، جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی اثر و رسوخ وہ بنیادی نکات ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کو مسلسل ایک دوسرے کے مدِمقابل رکھا ہے۔
2015 کا جوہری معاہدہ (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) اس کشیدہ تعلق میں ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا گیا تھا، جس کے تحت ایران کی یورینیم افزودگی پر پابندیاں لگائی گئیں اور اس کے بدلے تہران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔ تاہم، 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی نے اعتماد کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد، امریکا نے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی جاری رکھی، جبکہ ایران نے بھی معاہدے کی مختلف شرائط پر بتدریج عمل روک دیا اور اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کیا۔ ایران اب واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر عائد عالمی پابندیوں کا پابند نہیں رہا کیونکہ 10 سالہ معاہدہ باضابطہ طور پر 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکا ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں، حالیہ امریکی حملے اور ایران کا جوابی ردعمل اس دہائیوں پرانی کشیدگی کا ایک تازہ اور خطرناک اظہار ہے۔
آبنائے ہرمز: ایک تزویراتی نکتہ
آبنائے ہرمز خلیج فارس میں واقع ایک تنگ بحری گزرگاہ ہے جو عالمی توانائی کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ آبنائے دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی سپلائی کا راستہ ہے، اور اس کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے اس آبنائے پر اپنی سیکیورٹی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، اور یہ ایک ایسا تزویراتی نکتہ ہے جسے ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کی خلیج فارس میں فوجی موجودگی، خاص طور پر بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کی تعیناتی، آبنائے ہرمز میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، ایران اسے اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور بارہا امریکی فوجی موجودگی کی مذمت کر چکا ہے۔ حالیہ امریکی حملوں کا ایک بڑا جواز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملے بتائے گئے ہیں، جبکہ ایران نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے آبنائے کے معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کیا ہے۔ یہ صورتحال آبنائے ہرمز کو ایک انتہائی حساس مقام بنا دیتی ہے، جہاں دونوں فریقین کی جانب سے کسی بھی غلط اندازے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب کی فوجی طاقت اور حکمت عملی
پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) ایران کی سب سے طاقتور اور بااثر تنظیموں میں سے ایک ہے، جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد نئے اسلامی نظام کے دفاع کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ جہاں ایرانی فوج ملک کی خودمختاری کا روایتی دفاع کرتی ہے، وہیں پاسداران انقلاب کا آئینی فریضہ اسلامی جمہوریہ کی سالمیت کا تحفظ ہے۔ اس تنظیم کی اپنی زمینی، بحری اور فضائی افواج ہیں، جن میں تقریباً 125,000 جدید اسلحے سے لیس اہلکار شامل ہیں۔ پاسداران انقلاب نیم فوجی ملیشیا بسیج کو بھی کنٹرول کرتی ہے، جس کے فعال اہلکاروں کی تعداد 90,000 کے لگ بھگ ہے۔
IRGC کی حکمت عملی میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرون طیارے اور چھوٹی، تیز رفتار بحری کشتیاں شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں خاص طور پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے میں ایک اہم فوجی عنصر سمجھا جاتا ہے، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ امریکی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز تک ایران کے بیلسٹک میزائل ذخیرے اور لانچنگ نظام کا تقریباً نصف حصہ محفوظ تھا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت کا لگ بھگ 60 فیصد اب بھی موجود ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی حماقت کا جواب “تباہ کن اور پچھتانے پر مجبور کرنے والا ہوگا”۔
| پاسداران انقلاب کی اہم فوجی صلاحیتیں | تفصیل |
|---|---|
| زمینی افواج | فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد، جدید تربیت اور اسلحہ، بسیج ملیشیا کو کنٹرول کرتی ہے۔ |
| بحری افواج | خلیج فارس میں بنیادی کارروائی جُو قوت، ساحلی محافظ دستے کا کردار، چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں۔ |
| فضائی افواج | ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی صلاحیت۔ |
| بیلسٹک میزائل پروگرام | دور رس اور درمیانے فاصلے کے میزائل، جو خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ |
| ڈرون ٹیکنالوجی | نگرانی اور حملے کے لیے ڈرونز کا وسیع استعمال، جنہیں امریکی تنصیبات پر حملوں میں استعمال کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ |
جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل کا معاملہ
ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل کی صلاحیتیں طویل عرصے سے بین الاقوامی تشویش کا باعث رہی ہیں، اور یہ امریکا-ایران کشیدگی کے مرکزی نکات میں سے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں 2015 کا جوہری معاہدہ باضابطہ طور پر ختم ہونے کے بعد، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے جوہری پروگرام پر عائد عالمی پابندیوں کا پابند نہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق، ایران اس وقت یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ جوہری ہتھیاروں کی سطح (90 فیصد) کے قریب ہے۔
امریکا، ایران سے جوہری افزودگی روکنے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق مکمل شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم، ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جوہری مقامات تک رسائی یا جوہری مواد کا معاملہ اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک امریکا کے ساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور امریکی پابندیاں ہٹانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ مزید برآں، ایرانی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، بشمول میزائل اور ڈرون پروگرام، قومی سلامتی کی “ریڈ لائنز” ہیں اور ان پر کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ایران اپنے موجودہ دفاعی نظام کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ موقف دونوں فریقوں کے درمیان کسی بھی جامع حل تک پہنچنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
خطے پر ممکنہ اثرات اور عالمی تشویش
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خطے اور عالمی سطح پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے میں پہلے ہی سے جاری تنازعات اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، خلیجی ریاستوں میں مختلف اڈوں پر 40,000 سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، اور پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر یہ تنازع وسیع ہوتا ہے تو کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ایران نے خلیجی ممالک کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ دیکھا جا چکا ہے، اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق دھمکیوں کے ماحول میں کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں غلط اندازہ کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستان جیسے علاقائی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع کے براہ راست اثرات ان پر بھی مرتب ہوں گے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس قسم کی کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
نتیجہ
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی نازک ترین صورتحال سے دوچار ہے۔ امریکا کے حالیہ حملے اور ایران کے جوابی دعوے، جن میں امریکی ڈرون مار گرانے اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں، نے خطے میں ایک نئی جنگ کے سائے منڈلا دیے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت، ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام، اور دونوں فریقین کے درمیان دہائیوں پرانی عدم اعتماد کی فضا اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اس کشیدگی کے معاشی اور علاقائی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، اور اگر سفارتی حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ تنازع ایک بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دونوں فریقین کو انتہائی احتیاط سے کام لینے اور مزید جارحانہ اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے اور عالمی امن کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔ عالمی برادری کی جانب سے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا اور تعمیری مذاکرات کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ اس خطرناک صورتحال سے بچا جا سکے اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
