spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

انگلینڈ کی سپر 8 مرحلے میں ڈرامائی رسائی اور پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال

انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے سپر 8 مرحلے میں جس طرح رسائی حاصل کی ہے، وہ کسی سنسنی خیز فلم کی کہانی سے کم نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں مشکلات کا شکار رہنے والی دفاعی چیمپئن ٹیم، جسے ایک موقع پر ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا شدید خطرہ لاحق تھا، نے قسمت اور بہترین کارکردگی کے امتزاج سے اگلے مرحلے میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ یہ سفر نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ دنیا بھر میں موجود انگلینڈ کے شائقین کے لیے بھی اعصاب شکن رہا۔ بارش کے امکانات، نیٹ رن ریٹ کی پیچیدگیاں اور روایتی حریف آسٹریلیا کی اسکاٹ لینڈ کے خلاف کارکردگی پر انحصار نے گروپ بی کی صورتحال کو انتہائی دلچسپ بنا دیا تھا۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم انگلینڈ کی کوالیفکیشن، نمیبیا کے خلاف اہم میچ، پوائنٹس ٹیبل کی حتمی صورتحال اور سپر 8 میں ان کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

انگلینڈ کا سپر 8 کا سفر: ایک سنسنی خیز داستان

انگلینڈ کے لیے یہ ورلڈ کپ کسی رولر کوسٹر رائیڈ سے کم نہیں رہا۔ گروپ بی میں انگلینڈ کا آغاز ناامید کن تھا جب اسکاٹ لینڈ کے خلاف ان کا پہلا میچ بارش کی نذر ہو گیا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا۔ اس کے بعد بارباڈوس میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 36 رنز کی شکست نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس شکست کے بعد انگلینڈ کا نیٹ رن ریٹ منفی میں چلا گیا تھا اور ان کے سپر 8 میں پہنچنے کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے تھے۔ دوسری جانب اسکاٹ لینڈ نے نمیبیا اور عمان کو شکست دے کر پانچ پوائنٹس کے ساتھ اپنی پوزیشن مضبوط کر لی تھی۔ انگلینڈ کے لیے راستہ بالکل صاف تھا: انہیں اپنے باقی دونوں میچز (عمان اور نمیبیا کے خلاف) بڑے مارجن سے جیتنے تھے تاکہ ان کا نیٹ رن ریٹ اسکاٹ لینڈ سے بہتر ہو سکے، اور ساتھ ہی انہیں یہ دعا بھی کرنی تھی کہ آسٹریلیا اپنے آخری گروپ میچ میں اسکاٹ لینڈ کو شکست دے دے۔

عمان کے خلاف انگلینڈ نے شاندار واپسی کی اور حریف ٹیم کو صرف 47 رنز پر ڈھیر کر دیا، جس کے بعد انگلینڈ نے یہ ہدف صرف 3.1 اوورز میں حاصل کر کے اپنے نیٹ رن ریٹ کو آسمان پر پہنچا دیا۔ تاہم، اصل ڈرامہ ابھی باقی تھا جو نمیبیا کے خلاف میچ اور پھر آسٹریلیا اور اسکاٹ لینڈ کے میچ میں دیکھنے کو ملا۔

نمیبیا کے خلاف میچ: بارش، اوورز میں کمی اور حکمت عملی

انگلینڈ اور نمیبیا کا میچ اینٹیگا کے سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں شیڈول تھا، لیکن موسلا دھار بارش نے میچ کے انعقاد کو خطرے میں ڈال دیا۔ اگر یہ میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو جاتا تو انگلینڈ اور نمیبیا کو ایک ایک پوائنٹ ملتا، جس کے نتیجے میں انگلینڈ کے کل پوائنٹس 4 ہوتے اور اسکاٹ لینڈ 5 پوائنٹس کے ساتھ بغیر کوئی اور میچ کھیلے سپر 8 میں پہنچ جاتا۔ انگلینڈ کے کیمپ میں بے چینی عروج پر تھی کیونکہ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ امپائرز نے کئی معائنوں کے بعد بالآخر فیصلہ کیا کہ میچ کو 11 اوورز فی اننگز تک محدود کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں مزید بارش کی وجہ سے اسے 10 اوورز تک محدود کر دیا گیا (حالانکہ انگلینڈ کی اننگز کے دوران اسے دوبارہ 11 اوورز کیا گیا لیکن ہدف کا تعین 10 اوورز کے حساب سے ہوا)۔

ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی شروعات اچھی نہ رہی۔ کپتان جوس بٹلر اور فل سالٹ جلد آؤٹ ہونے سے ٹیم دباؤ میں آ گئی۔ نمیبیا کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز روبن ٹرمپلمین نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کو پریشان کیا۔ تاہم، ایسے وقت میں جب میچ ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا، مڈل آرڈر نے ذمہ داری سنبھالی۔

ہیری بروک اور جونی بیرسٹو کی فیصلہ کن بلے بازی

انگلینڈ کی اننگز کو سنبھالنے اور ٹیم کو ایک قابلِ دفاع مجموعے تک پہنچانے میں ہیری بروک اور جونی بیرسٹو نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان دونوں بلے بازوں نے نمیبیا کے باؤلرز پر لاٹھی چارج شروع کیا اور میدان کے چاروں طرف دلکش شاٹس کھیلے۔ ہیری بروک نے خاص طور پر انتہائی جارحانہ انداز اپنایا اور 20 گیندوں پر 47 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جس میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ جونی بیرسٹو نے 18 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔ ان دونوں کی شراکت داری نے انگلینڈ کو مقررہ 10 اوورز میں 122 رنز کے مجموعے تک پہنچایا۔ ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت نمیبیا کو جیت کے لیے 126 رنز کا ہدف ملا (جو بعد میں نظر ثانی شدہ ہدف بنا)۔

جواب میں نمیبیا کی ٹیم نے بھی مزاحمت دکھائی۔ ڈیوڈ ویزے، جو اپنا آخری بین الاقوامی میچ کھیل رہے تھے، نے 12 گیندوں پر 27 رنز بنا کر میچ میں سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن انگلینڈ کا باؤلنگ اٹیک اور تجربہ نمیبیا پر بھاری پڑا۔ انگلینڈ نے یہ میچ 41 رنز (ڈی ایل ایس میتھڈ) سے جیت کر اپنے پوائنٹس کی تعداد 5 کر لی اور اپنا نیٹ رن ریٹ اسکاٹ لینڈ سے کہیں بہتر کر لیا۔

نیٹ رن ریٹ کا گورکھ دھندا: انگلینڈ بمقابلہ اسکاٹ لینڈ

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نیٹ رن ریٹ اکثر فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے اور گروپ بی میں بھی یہی ہوا۔ انگلینڈ نے عمان کے خلاف ریکارڈ جیت کے ذریعے اپنا نیٹ رن ریٹ +3.081 تک پہنچا دیا تھا، جبکہ اسکاٹ لینڈ کا نیٹ رن ریٹ +2.164 تھا۔ نمیبیا کے خلاف جیت کے بعد انگلینڈ کا نیٹ رن ریٹ مزید مستحکم ہو گیا۔ اس صورتحال میں اسکاٹ لینڈ کے لیے آسٹریلیا کو ہرانا لازمی ہو گیا تھا کیونکہ ہارنے کی صورت میں ان کے پوائنٹس 5 ہی رہتے، جو انگلینڈ کے برابر تھے، لیکن کم نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، اگر دو ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں تو سب سے پہلے ‘زیادہ جیت’ کو دیکھا جاتا ہے (جو دونوں کی برابر تھیں)، اور پھر نیٹ رن ریٹ فیصلہ کرتا ہے۔ اسی اصول نے انگلینڈ کو اسکاٹ لینڈ پر برتری دلائی۔

آسٹریلیا بمقابلہ اسکاٹ لینڈ: شکوک و شبہات اور حقائق

گروپ بی کا آخری میچ آسٹریلیا اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان سینٹ لوشیا میں کھیلا گیا۔ یہ میچ انگلینڈ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میچ سے قبل آسٹریلوی فاسٹ باؤلر جوش ہیزل ووڈ کے ایک بیان نے کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی جس میں انہوں نے اشارتاً کہا تھا کہ آسٹریلیا کے مفاد میں ہو سکتا ہے کہ انگلینڈ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے۔ اس بیان کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید آسٹریلیا اس میچ میں ڈھیلا کھیلے گا تاکہ اسکاٹ لینڈ کا نیٹ رن ریٹ بہتر رہے یا وہ جیت جائے، جس سے انگلینڈ باہر ہو جاتا۔

تاہم، میچ کے دوران آسٹریلیا نے پیشہ ورانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ اسکاٹ لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 180 رنز کا شاندار مجموعہ ترتیب دیا، جس نے انگلینڈ کے شائقین کی دھڑکنیں تیز کر دیں۔ جواب میں آسٹریلیا کا آغاز بھی سست تھا اور ایک موقع پر اسکاٹ لینڈ کی جیت ممکن دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن ٹریوس ہیڈ اور مارکس اسٹوئنس کی جارحانہ بیٹنگ نے بازی پلٹ دی۔ اسٹوئنس نے 29 گیندوں پر 59 رنز بنا کر اسکاٹ لینڈ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ آسٹریلیا کی اس جیت نے اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور انگلینڈ کو سپر 8 کا ٹکٹ تھما دیا۔

گروپ بی پوائنٹس ٹیبل: اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ

گروپ بی کے تمام میچز مکمل ہونے کے بعد پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال کچھ یوں رہی:

پوزیشن ٹیم میچز جیتے ہارے بے نتیجہ پوائنٹس نیٹ رن ریٹ (NRR)
1 آسٹریلیا (Q) 4 4 0 0 8 +2.791
2 انگلینڈ (Q) 4 2 1 1 5 +3.611
3 اسکاٹ لینڈ (E) 4 2 1 1 5 +1.255
4 نمیبیا (E) 4 1 3 0 2 -2.585
5 عمان (E) 4 0 4 0 0 -3.062

Q = کوالیفائی کر لیا، E = باہر ہو گئی

اس ٹیبل سے واضح ہوتا ہے کہ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے پوائنٹس برابر تھے لیکن انگلینڈ کا نیٹ رن ریٹ (+3.611) اسکاٹ لینڈ (+1.255) سے نمایاں طور پر بہتر تھا، جو کہ عمان کے خلاف بڑی جیت کا نتیجہ تھا۔

اسکاٹ لینڈ کی بدقسمتی اور ٹورنامنٹ سے اخراج

اسکاٹ لینڈ کرکٹ ٹیم کے لیے یہ ٹورنامنٹ انتہائی دل شکستہ انداز میں ختم ہوا۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کھیل پیش کیا۔ اپنے پہلے میچ میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 90 رنز (10 اوورز میں) بنائے تھے اور بارش نہ ہوتی تو شاید وہ میچ جیت بھی سکتے تھے۔ نمیبیا اور عمان کے خلاف ان کی فتوحات جامع تھیں۔ آسٹریلیا کے خلاف بھی انہوں نے 180 رنز بنا کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایسوسی ایٹ نیشنز میں سب سے بہترین ٹیموں میں سے ایک ہیں۔ تاہم، بدقسمتی سے وہ آسٹریلیا کی فیلڈنگ کی غلطیوں (کئی کیچز ڈراپ ہوئے) کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور ڈیتھ اوورز میں اسٹوئنس کی ہٹنگ کو نہ روک سکے۔ ان کا باہر ہونا کرکٹ کے شائقین کے لیے افسوسناک تھا، لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی سے دنیا بھر میں عزت کمائی۔

سپر 8 مرحلے کی گروپس بندی اور انگلینڈ کا راستہ

انگلینڈ نے سپر 8 میں گروپ 2 میں جگہ بنائی ہے۔ آئی سی سی کے فارمیٹ کے مطابق، ٹیموں کی سیڈنگ پہلے سے طے شدہ تھی (بشرطیکہ وہ کوالیفائی کریں)۔ چونکہ انگلینڈ بی 1 (B1) سیڈ تھا (درجہ بندی کے لحاظ سے)، اس لیے وہ گروپ 2 میں شامل ہوا۔

سپر 8 کے گروپس:

  • گروپ 1: بھارت، آسٹریلیا، افغانستان، بنگلہ دیش۔
  • گروپ 2: انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، امریکہ۔

انگلینڈ کے لیے یہ گروپ نسبتاً چیلنجنگ بھی ہے اور موقع بھی۔ انہیں میزبان ویسٹ انڈیز اور امریکہ کا سامنا کرنا ہوگا، جبکہ جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم بھی ان کے گروپ میں شامل ہے۔ سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے انگلینڈ کو کم از کم دو میچز جیتنے ہوں گے۔

دفاعی چیمپئن کے لیے ویسٹ انڈیز میں درپیش چیلنجز

سپر 8 مرحلے کے تمام میچز ویسٹ انڈیز کے جزائر پر کھیلے جائیں گے، جہاں کی پچز اسپنرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہیں۔ انگلینڈ کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی باؤلنگ لائن اپ کو کنڈیشنز کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ عادل رشید اور معین علی کا کردار انتہائی اہم ہوگا، جبکہ جوفرا آرچر اور مارک ووڈ کی پیس جوڑی کو بھی دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا۔

دوسری جانب، انگلینڈ کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ان کے ہوم گراؤنڈ پر ہوگا جو کہ ٹی ٹوئنٹی کی سب سے خطرناک ٹیموں میں سے ایک ہے۔ امریکہ کی ٹیم، جس نے پاکستان کو شکست دے کر اپ سیٹ کیا، کو بھی آسان نہیں لیا جا سکتا۔ جنوبی افریقہ کے پاس بھی کلاسین اور ملر جیسے پاور ہٹرز موجود ہیں۔ لہذا، جوس بٹلر کی کپتانی کا اصل امتحان اب شروع ہوگا۔

جوس بٹلر کا فارم میں آنا

امریکہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچز میں انگلینڈ کو اپنے کپتان جوس بٹلر سے بڑی اننگز کی توقع ہوگی۔ نمیبیا کے خلاف وہ جلدی آؤٹ ہوئے تھے لیکن ان کی قائدانہ صلاحیتیں دباؤ کے لمحات میں نکھر کر سامنے آئی ہیں۔

نتیجہ: کیا انگلینڈ اپنے اعزاز کا دفاع کر پائے گا؟

انگلینڈ کی ٹیم نے

spot_imgspot_img