پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2026 کے اختتام پر 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے سرپلس کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ اس خسارے کی ایک اہم وجہ جون 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا جانا ہے، جسے 3 سال کی بلند ترین ماہانہ سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ملکی معیشت کے بیرونی کھاتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے اور اقتصادی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیا ہے؟
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کسی ملک کے بیرونی تجارتی توازن کا ایک اہم اشاریہ ہوتا ہے۔ یہ ملک میں آنے والے اور ملک سے باہر جانے والے سرمائے کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، جب کوئی ملک اشیاء و خدمات کی درآمدات پر برآمدات کے مقابلے میں زیادہ خرچ کرتا ہے، تو اسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں اشیاء کی تجارت (Exports and Imports of Goods)، خدمات کی تجارت (Exports and Imports of Services)، ترسیلات زر (Remittances) اور پرائمری انکم (جیسے منافع اور سود کی ادائیگیاں) شامل ہوتی ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک اپنی بیرونی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی مالیات پر انحصار کر رہا ہے، جو طویل مدت میں ملکی معیشت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
مالی سال 2026 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی تفصیلات
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ یہ صورتحال مالی سال 2025 کے بالکل برعکس ہے، جب پاکستان نے ایک ارب 84 کروڑ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا تھا۔ یہ تبدیلی ایک سال کے اندر بیرونی کھاتوں کی مجموعی صورتحال میں رونما ہوئی ہے۔ خاص طور پر، جون 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ مئی 2026 میں 50 کروڑ ڈالر کا سرپلس تھا۔ جون 2025 میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ 22 کروڑ ڈالر سرپلس رہا تھا۔ مالی سال 2026 میں 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا خسارہ گورنر اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق تھا، جو جی ڈی پی کا صفر سے ایک فیصد کے درمیان بتایا گیا تھا.
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی بنیادی وجوہات
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں بڑھتی ہوئی درآمدات، برآمدات میں جمود، اور تجارتی توازن پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہیں۔ اگرچہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا، لیکن وہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے اثرات کو زائل کرنے میں ناکام رہیں۔
بڑھتی ہوئی درآمدات
مالی سال 2026 کے دوران درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اشیاء اور خدمات کی درآمدات بڑھ کر 76 ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 8.5 فیصد زیادہ ہیں۔ اشیاء کی درآمدات میں بھی 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 64 ارب 46 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ اس بے تحاشا اضافے کی ایک بڑی وجہ خام مال، پٹرولیم مصنوعات، اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ ملکی صنعتوں کی ضروریات اور صارفین کی طلب پوری کرنے کے لیے زیادہ درآمدات کرنا پڑیں، جس سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔
جمود کا شکار برآمدات
درآمدات میں اضافے کے برعکس، پاکستان کی برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں یا ان میں کمی دیکھی گئی۔ مالی سال 2026 میں اشیاء اور خدمات کی برآمدات 40 ارب 88 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں صرف 0.2 فیصد زیادہ ہیں۔ اشیاء کی برآمدات میں 5 فیصد کمی دیکھی گئی اور وہ 30 ارب 80 کروڑ ڈالر تک رہ گئیں۔ برآمدات میں یہ سست روی عالمی منڈی میں کمزور طلب، مسابقتی چیلنجز، اور بعض شعبوں میں ملکی پیداواری صلاحیتوں کے محدود ہونے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ برآمدات میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد نہیں مل سکی۔
تجارتی توازن پر دباؤ
بڑھتی ہوئی درآمدات اور جمود کا شکار برآمدات کے مجموعی نتیجے کے طور پر تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2026 میں اشیاء اور خدمات کی مجموعی تجارت کا خسارہ بڑھ کر 35 ارب 51 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال میں 29 ارب 63 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔ صرف اشیاء کا تجارتی خسارہ 33 ارب 62 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔ یہ تجارتی خسارہ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بنیادی وجہ بنا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی طلب تو بڑھ رہی ہے مگر زرمبادلہ کمانے کی رفتار اس کے مطابق نہیں ہے۔
ترسیلات زر کا کردار
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، مالی سال 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 41 ارب 59 کروڑ ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان ریکارڈ ترسیلات زر نے بیرونی شعبے کو کافی حد تک سہارا دیا۔ تاہم، یہ اضافہ بھی بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا اثر زائل نہ کر سکا اور کرنٹ اکاؤنٹ کو خسارے میں جانے سے نہیں بچا سکا۔ جون 2026 میں ترسیلات زر مئی کے مقابلے میں کم ہو کر 3 ارب 47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں، حالانکہ یہ گزشتہ سال جون سے زیادہ تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن اس وقت بڑی حد تک ترسیلات زر کے سہارے برقرار ہے۔
| اقتصادی اشاریہ | مالی سال 2025 (سرپلس/خسارہ) | مالی سال 2026 (سرپلس/خسارہ) | جون 2025 (سرپلس/خسارہ) | جون 2026 (سرپلس/خسارہ) |
|---|---|---|---|---|
| کرنٹ اکاؤنٹ | +1 ارب 84 کروڑ ڈالر | -13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر | +22 کروڑ ڈالر | -64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر |
| مجموعی برآمدات (اشیاء + خدمات) | ~40 ارب 80 کروڑ ڈالر (تقریباً) | 40 ارب 88 کروڑ ڈالر (+0.2% سالانہ) | دستیاب نہیں | دستیاب نہیں |
| مجموعی درآمدات (اشیاء + خدمات) | ~70 ارب 40 کروڑ ڈالر (تقریباً) | 76 ارب 39 کروڑ ڈالر (+8.5% سالانہ) | دستیاب نہیں | دستیاب نہیں |
| اشیاء کی برآمدات | 32 ارب 34 کروڑ ڈالر | 30 ارب 84 کروڑ ڈالر (-5% سالانہ) | دستیاب نہیں | 2 ارب 59 کروڑ 50 لاکھ ڈالر |
| اشیاء کی درآمدات | 59 ارب 14 کروڑ ڈالر | 64 ارب 46 کروڑ ڈالر (+9% سالانہ) | دستیاب نہیں | 6 ارب 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر |
| تجارتی خسارہ (اشیاء) | 29 ارب 63 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (FY2025) | 33 ارب 62 کروڑ 30 لاکھ ڈالر | دستیاب نہیں | 3 ارب 55 کروڑ ڈالر (جون) |
| ترسیلات زر | ~38 ارب 30 کروڑ ڈالر (تقریباً) | 41 ارب 59 کروڑ ڈالر (+8.6% سالانہ) | دستیاب نہیں | 3 ارب 47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (جون) |
معیشت پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اثرات
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بڑھنا کسی بھی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں پہلے ہی معاشی عدم استحکام کے خدشات موجود ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ مزید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سب سے فوری اور براہ راست اثر ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ جب درآمدات برآمدات سے زیادہ ہوتی ہیں تو ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ اس سے زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آتی ہے، جو ملک کی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی بیرونی دباؤ کو بڑھاتی ہے اور ملک کی مالیاتی استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اگرچہ جون 2026 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 19 ارب 68 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئے، جو ایک سال قبل 15 ارب 83 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھے، لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس پر طویل مدتی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ
زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کے نتیجے میں ملکی کرنسی (روپے) کی قدر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی درآمدی اشیاء کو مزید مہنگا کر دیتی ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، خام مال، اور دیگر ضروری اشیاء کی درآمدی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، اور بالآخر یہ بوجھ عام صارف پر منتقل ہوتا ہے۔ مالی سال 2025 تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ مہنگائی اور ادائیگیوں کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
قرضوں کا بوجھ
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت اکثر غیر ملکی قرضوں کا سہارا لیتی ہے۔ یہ قرضے ملکی معیشت پر مزید بوجھ ڈالتے ہیں اور مستقبل میں ان کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس طرح ایک شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے، جہاں خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے ہیں اور پھر ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے۔ یہ صورتحال ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں مالی سال 2025 تک ادائیگیوں کا بوجھ 29 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
حکومتی اقدامات اور چیلنجز
پاکستان کی حکومت اور اسٹیٹ بینک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ ان اقدامات میں درآمدات کو کم کرنے، برآمدات بڑھانے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے درآمدات پر کنٹرول کرنے کی پالیسی برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم، یہ ایک مشکل چیلنج ہے کیونکہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی ممالک سے مسابقت جیسے عوامل برآمدات کو بڑھانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مزید برآں، ملک میں صنعتی پیداوار میں بہتری، توانائی کے مؤثر استعمال اور برآمدات میں تنوع لانے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صرف ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپا استحکام کے لیے کافی نہیں ہے۔
حکومت کو پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس میں مقامی پیداوار کو فروغ دینا، برآمدی صنعتوں کو مراعات دینا، اور غیر ضروری درآمدات کو کم کرنا شامل ہو۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی ایک وجہ معاشی شرح نمو پر سمجھوتہ کرنا اور خام مال کی درآمدات کی اجازت نہ دینا بھی ہے۔ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے، کیونکہ خام مال کی کمی صنعتی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے اور طویل مدتی ترقی کو روک سکتی ہے۔
آگے کا راستہ: ممکنہ حل اور سفارشات
پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں درج ذیل نکات شامل ہو سکتے ہیں:
- برآمدات میں اضافہ: حکومت کو برآمدی شعبے کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔ اس میں برآمدی صنعتوں کو مالی مراعات، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹنگ شامل ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں جیسے آئی ٹی، زراعت پر مبنی مصنوعات، اور انجینئرنگ کے سامان کی برآمدات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
- درآمدات میں کمی: غیر ضروری درآمدات پر قابو پانے کے لیے پالیسیاں وضع کی جائیں۔ مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر درآمدی متبادلات کی پیداوار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس میں توانائی کی بچت، قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار، اور مقامی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ خام مال کی درآمد پر انحصار کم ہو۔
- براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا: غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، جس سے نہ صرف زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہوگی۔
- مالیاتی نظم و ضبط: حکومتی اخراجات پر قابو پانا اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ بجٹ خسارے کو کم کرنا اور غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کرنا معیشت پر دباؤ کم کر سکتا ہے۔
- سرمایہ کاری دوست ماحول: کاروباری برادری کے لیے سازگار اور آسان قوانین، ٹیکس اصلاحات، اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھا سکتا ہے۔
- معاشی استحکام: سیاسی استحکام اور طویل مدتی معاشی پالیسیوں کا تسلسل سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو مالی سال 2026 میں 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، ملک کی معاشی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ بڑھتی ہوئی درآمدات اور جمود کا شکار برآمدات اس خسارے کی بنیادی وجوہات ہیں، حالانکہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، اور قرضوں کے بوجھ جیسے منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں برآمدات کا فروغ، درآمدات کا مؤثر انتظام، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہو۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خسارہ ملک کی مجموعی معاشی ترقی اور استحکام کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔


