مقبول خبریں

ایران کا جوابی وار؛ امریکی فوجی تنصیبات اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کا جوابی وار؛ امریکی فوجی تنصیبات اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے متعدد خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جن میں ریڈار سسٹمز کو خصوصی طور پر ہدف بنانے کی باتیں سرِ فہرست ہیں۔ یہ دعوے دونوں ممالک کے درمیان جاری ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ایران پر حملوں کا دعویٰ کر رہے ہیں تو دوسری طرف تہران جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

موجودہ کشیدگی کی لہر: جولائی 2026

موجودہ سال جولائی 2026 کا مہینہ مشرق وسطیٰ میں شدید فوجی کشیدگی کا شاہد رہا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) نے مسلسل کئی روز تک خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں میں قطر، کویت، بحرین، عمان، اردن اور شام میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تفصیلات شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے مسلسل فضائی اور میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ یہ حالیہ لہر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازع ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے علاقائی اور عالمی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

  • ایرانی پاسداران انقلاب نے 17 جولائی 2026 کو دعویٰ کیا کہ اس نے قطر میں امریکی العدید ایئربیس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا ریڈار سسٹم اور کئی امریکی فضائی ریفیولنگ طیارے تباہ ہو گئے۔
  • 13 اور 16 جولائی کو ایران نے کویت میں علی السالم ایئربیس اور احمد الجابر ایئربیس پر حملوں کا دعویٰ کیا، جہاں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایندھن کے ذخائر اور ایک اسٹریٹیجک FPS ریڈار سسٹم کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے کی بات کہی گئی۔
  • بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس اور جفیر میں امریکی فوجی تنصیبات بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنیں، جہاں ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی سہولیات، P-8 طیارے کا ہینگر اور امریکی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو ہدف بنایا گیا۔ ایرانی رپورٹس میں امریکی فوج کے ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ریڈار سسٹمز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے

ایران کے حالیہ جوابی حملوں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس نے خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کے مطابق، ایران نے مختلف مقامات پر نصب طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار (long-range radar)، فضائی نگرانی کے ریڈار (air surveillance radar)، بحری نگرانی کے ریڈار (maritime surveillance radar)، میزائل دفاعی نظام کے ڈیٹیکشن اور ٹریکنگ ریڈار (missile defense detection and tracking radar) اور سپر ہاک ریڈار سسٹمز (Super Hawk radar systems) کو تباہ کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں، جو ایران کے ساحلی ریڈار سسٹمز، میزائل تنصیبات اور ڈرون مراکز کو ہدف بنا رہے تھے۔ ان حملوں کا مقصد امریکا کی خطے میں فوجی برتری کو چیلنج کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ ایران اپنے دفاع میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عمان میں نصب امریکی فضائی نگرانی کے ریڈار اور بحری نگرانی کے ریڈار بھی ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے مربوط میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں ان ریڈار سسٹمز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

خطے میں ایران کے مبینہ اہداف

ایران کے حالیہ جوابی وار میں خلیجی خطے کے کئی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ حملے ایک وسیع دائرہ کار پر پھیلے ہوئے ہیں، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

ملکنشانہ بننے والی تنصیب/مقاممبینہ طور پر نشانہ بننے والے اہدافایران کا دعویٰ
قطرالعدید ایئربیسطویل فاصلے تک مار کرنے والا ریڈار سسٹم، فضائی ریفیولنگ طیارےمکمل تباہی
کویتعلی السالم ایئربیس، احمد الجابر ایئربیس، لاجسٹک مرکزپیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایندھن کے ذخائر، اسٹریٹیجک FPS ریڈار سسٹم، ہینگرز، ریڈار سسٹمز، فوجی کیمپبھاری نقصان اور تباہی
بحرینشیخ عیسیٰ ایئربیس، جفیر میں فوجی مراکز، امریکی ڈرون ڈپو، مصنوعی ذہانت کا مرکزہیلی کاپٹروں کی مرمت کی سہولیات، P-8 طیارہ ہینگر، امریکی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، ریڈار سسٹمز، پیٹریاٹ تنصیباتبھاری نقصان اور تباہی
عمانسلامہ راکس میں نیول کنٹرول ریڈار، غانم ریجن میں امریکی فضائی کنٹرول ریڈارطویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار، فضائی نگرانی ریڈار، بحری نگرانی ریڈارمکمل تباہی
اردنپرنس حسن ایئربیسایندھن اور گولہ بارود کے گودامنقصان
سعودی عربنامعلوم امریکی فوجی اڈہ (ری فیولنگ ٹینکر طیاروں کی میزبانی)نامعلوممیزائل حملہ
شامالتنف ریجن میں امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹرنامعلومحملہ

علاوہ ازیں، ایران نے شمالی بحر ہند میں ایک امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے بھی ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی شہر کے قریب بمپور گیریژن اور بوشہر سمیت کئی مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو ہدف بنایا گیا۔

امریکی ردعمل اور نقصانات پر متضاد بیانات

ایرانی دعوؤں کے برعکس، امریکی حکام نے اکثر ان حملوں کی شدت اور نقصانات کی تصدیق نہیں کی ہے یا پھر انہیں کم اہمیت دی ہے۔ کئی مواقع پر امریکی دفاعی حکام نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روکا۔ مثال کے طور پر، کویت، اردن اور بحرین نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر نے بھی کہا کہ اس کی مسلح افواج نے کئی فضائی حملوں کو ناکام بنایا۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ایرانی حملوں میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کو “انتہائی افسوسناک واقعہ” قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے اور متعدد ہیلی کاپٹروں سمیت فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

پینٹاگون کی جانب سے پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوری 2020 کے حملے میں کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا، لیکن بعد میں 100 سے زائد فوجیوں کو دماغی چوٹوں کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ تضاد موجودہ صورتحال میں بھی پایا جا سکتا ہے، جہاں ایران بھاری نقصانات کا دعویٰ کر رہا ہے جبکہ امریکا انہیں رد کر رہا ہے یا کم کر کے دکھا رہا ہے۔ فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کا حصول مشرق وسطیٰ میں مشکل بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ تاہم، کچھ رپورٹس میں ایرانی سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں امریکی تنصیبات کی تباہی دکھائی گئی ہے۔ یہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایران کے حملوں سے امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں۔

پس منظر: قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد کا جوابی وار (2020)

موجودہ کشیدگی کی جڑیں جنوری 2020 میں اس وقت گہری ہوئیں جب امریکا نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے کو ایران نے ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا اور اس کے شدید ردعمل کا اعلان کیا۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھا گئے تھے اور عالمی برادری نے صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے چند روز بعد، 8 جنوری 2020 کو، ایران نے ’آپریشن شہید سلیمانی‘ کے نام سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ کیا۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف عراق کے مغربی صوبے الانبار میں واقع الاسد ایئربیس اور شمالی عراق کے شہر اربیل میں ایک اور فوجی اڈہ تھا، جہاں امریکی اور اتحادی افواج تعینات تھیں۔

الاسد ایئربیس پر حملہ: تفصیلات اور اثرات

الاسد ایئربیس پر ایرانی حملے نے دنیا کو حیران کر دیا، کیونکہ یہ امریکی افواج پر اب تک کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل حملہ تھا۔ عراقی حکومت کے مطابق، الاسد ایئربیس پر 17 میزائل گرے تھے، جن میں سے دو ناکارہ ہو گئے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، 16 قلیل فاصلے کے میزائل ایران کے تین مقامات سے داغے گئے تھے، جن میں سے 11 الاسد اور ایک اربیل میں گرا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلیمانی کے قتل کا بدلہ تھا۔

ابتدائی طور پر امریکا نے دعویٰ کیا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، بعد میں امریکی محکمہ دفاع نے تسلیم کیا کہ 110 امریکی فوجی اہلکاروں کو دماغی چوٹوں (traumatic brain injuries) کی تشخیص ہوئی، جن میں سے کچھ کو پرپل ہارٹ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ یہ فوجی میزائل حملوں کی شدت کی وجہ سے جھٹکے اور دھماکوں کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔

اس حملے میں الاسد ایئربیس پر کم از کم پانچ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں رہائشی کوارٹرز، طیاروں کے ہینگرز اور فوجی سازوسامان کی تباہی دیکھی گئی۔ امریکی فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل انہیں انتباہ موصول ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے زیادہ تر اہلکاروں کو بنکرز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر انخلاء کا حکم نہ دیا جاتا تو 100 سے 150 امریکی ہلاک یا زخمی ہو سکتے تھے اور 20 سے 30 طیارے تباہ ہو جاتے۔

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حملوں کے دوران امریکی میزائل ٹریکنگ سسٹمز کو سائبر حملوں کے ذریعے غیر فعال کر دیا تھا۔ یہ دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نے صرف جسمانی اہداف کو ہی نہیں بلکہ امریکی دفاعی انفراسٹرکچر کے ڈیجیٹل اجزاء کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ ایران کے پاس جدید بیلسٹک میزائل صلاحیتیں موجود ہیں جو امریکی تنصیبات کو درستگی سے نشانہ بنا سکتی ہیں۔

یہ واقعہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچنے کے ایک اہم لمحے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا، اور بعد میں ایک پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے۔ تاہم، حالیہ جولائی 2026 کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مفاہمت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ مزید معلومات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔

علاقائی سلامتی اور مستقبل کے اسٹریٹجک اثرات

ایران کے امریکی فوجی تنصیبات اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر گہرے اسٹریٹجک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایک غیر مستحکم خطہ ہے، اور امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اسے مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

  • جنگ کا خطرہ: دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے ایک کھلی جنگ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی قابو سے باہر ہو گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، جس سے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔
  • علاقائی ممالک پر اثرات: خلیجی ممالک جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، وہ اس تنازع کا براہ راست حصہ بن سکتے ہیں۔ ان ممالک کی معیشتیں اور سلامتی شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ کویت، بحرین، قطر، عمان اور اردن میں ایرانی حملوں کے دعوے اس بات کا ثبوت ہیں۔
  • عالمی معیشت پر اثرات: آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، تنازع کی صورت میں بند ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔
  • نیوکلئیر خطرہ: ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی تعطل اور کشیدگی میں اضافہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، جس کے عالمی امن پر سنگین اثرات ہوں گے۔
  • سائبر وارفیئر: 2020 میں امریکی میزائل ٹریکنگ سسٹمز کو غیر فعال کرنے کے ایرانی دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کے تنازعات میں سائبر حملے ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ایک نئی جہت ہے جو جنگی منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہر قدم کا حساب ہے، ہر کارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

نتیجہ

ایران کے امریکی فوجی تنصیبات اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانے کے دعوے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد الاسد ایئربیس پر ایرانی حملے اور اس کے بعد کی صورتحال نے پہلے ہی ایک بڑی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا تھا، اور موجودہ جولائی 2026 کے واقعات اس خطرے کو ایک نئی سطح پر لے آئے ہیں۔ ایران کی جانب سے قطر، کویت، بحرین، عمان، اردن اور شام میں امریکی اڈوں اور خاص طور پر ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

اگرچہ امریکا ان دعوؤں کی مکمل تصدیق کرنے سے گریزاں ہے اور اپنے دفاعی نظام کی کامیابی کا اعلان کر رہا ہے، لیکن امریکی صدر کے بیانات اور بعض رپورٹس میں نقصانات کی تصدیق اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ عالمی برادری کو اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور مفاہمتی یادداشتوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ہی طویل المدتی امن کی واحد ضمانت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، اس تنازع کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔