مقبول خبریں

چین اور روس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کو ہتھیار نہیں دیں گے، صدر ٹرمپ 2026

چین اور روس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کو ہتھیار نہیں دیں گے، یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ایسا دعویٰ ہے جس نے عالمی سطح پر سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن دونوں نے انہیں ذاتی ملاقاتوں کے دوران یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ممالک ایران کو کسی بھی صورت میں ہتھیار فراہم نہیں کریں گے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ اس مضمون میں ہم صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی گہرائی میں جائیں گے، اس کے پس منظر، چین اور روس کے ایران کے ساتھ تعلقات، اسلحہ کی پابندیوں کی تاریخ اور مستقبل، اور اس کے علاقائی اور عالمی مضمرات کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

صدر ٹرمپ کے دعوے کا پس منظر اور عالمی ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کے حوالے سے ہمیشہ سخت موقف اپنایا ہے۔ 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کے بعد سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا، جس کا مقصد تہران کو اس کی جوہری سرگرمیوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ایران ایک غیر مستحکم قوت ہے اور اسے ہتھیاروں کی فراہمی سے مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

ان کے حالیہ بیانات جو کہ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کیے گئے، میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ان کی حالیہ ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ چین اور چینی کمپنیاں “کسی بھی حالت میں ایران کو کوئی ہتھیار فراہم یا فروخت نہیں کریں گی”۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ ایسی منتقلی بیجنگ کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسی طرح، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں یقین دلایا کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا، اور یہ کہ تہران کو مسلح کرنا ماسکو کے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ انہیں دونوں رہنماؤں کی یقین دہانیوں پر یقین ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ چین یا روس ایران کے ساتھ کسی تنازع میں شامل ہیں۔

تاہم، ان دعوؤں پر فوری طور پر چین، روس یا ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی تجزیہ کار ان دعوؤں کی حقیقت اور ان کے پیچھے چھپے سیاسی محرکات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے موقف کو مضبوط کرنے اور ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک پیچیدہ سفارت کاری کا حصہ ہو سکتا ہے، جہاں چین اور روس اپنے اپنے مفادات کے تحت امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

ایران پر اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی اور اس کا انجام

ایران پر عائد اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندیوں کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔ 2010 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1929 کے تحت ایران پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کا مقصد اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ یہ پابندیاں 2015 کے جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) کا حصہ تھیں، جس میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔

اس معاہدے کے تحت، ایران پر اسلحہ کی پابندیاں اکتوبر 2020 میں ختم ہو گئیں، جس سے ایران کو قانونی طور پر روایتی ہتھیار خریدنے اور فروخت کرنے کی آزادی مل گئی۔ امریکہ نے اس پابندی میں توسیع کرنے کی سر توڑ کوشش کی تھی لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ پابندی کے خاتمے سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھے گا اور ایران کو مزید خطرناک ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جس سے خطے کے امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، روس اور چین سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے اس پابندی کی توسیع کی مخالفت کی تھی، ان کا موقف تھا کہ یہ JCPOA معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے۔

پابندی کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق اسلحہ اور متعلقہ سامان خریدنے کے اپنے حق پر زور دیا ہے۔ یہ صورتحال چین اور روس کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج پیدا کرتی ہے، جو ایک طرف ایران کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتے۔ صدر ٹرمپ کی یقین دہانیوں کا دعویٰ اسی پس منظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگرچہ پابندی قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ اب بھی موجود ہے۔ پابندی کے خاتمے کے بعد، ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی کے امکانات بڑھ گئے تھے، تاہم ٹرمپ کے حالیہ دعوے ان امکانات پر ایک نیا سوال کھڑا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات ڈان نیوز کی رپورٹ میں روس اور ایران کے درمیان فوجی اور تجارتی تعلقات میں اضافے کے معاہدے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

چین کا دوہرا کردار: اقتصادی مفادات اور سفارتی توازن

چین کے ایران کے ساتھ تعلقات کی تاریخ بہت پرانی اور متنوع ہے۔ دونوں ممالک شاہراہ ریشم کے زمانے سے ہی ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی تبادلے میں شامل رہے ہیں، جو کم از کم 200 قبل مسیح سے جاری ہیں۔ جدید دور میں، چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار اور تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ امریکہ کی پابندیوں کے باوجود، چین نے ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھی ہے، جو کہ ایران کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔ مارچ 2021 میں، ایران اور چین نے ایک 25 سالہ جامع تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے، جس میں اقتصادی، سیاسی، دفاعی اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے میں ایران کے تیل، گیس، پیٹرو کیمیکل صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے میں 280 سے 400 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری شامل ہے۔

چین کے لیے ایران “ایک پٹی ایک سڑک” (Belt and Road Initiative) منصوبے میں ایک اہم ملک ہے، جو اس کی عالمی تجارت اور رسائی کے لیے ایک اسٹریٹجک راستہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم، چین کی پالیسی ہمیشہ سے اپنے اقتصادی مفادات اور عالمی سفارتی توازن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایک طرف، چین ایران کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف، وہ امریکہ کے ساتھ بھی اپنے وسیع تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتا۔

صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا، چین کے اس دوہرے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ چین امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں۔ یہ ممکن ہے کہ چین نے اپنے اقتصادی مفادات اور عالمی تجارت پر ممکنہ منفی اثرات سے بچنے کے لیے ایسی یقین دہانی کرائی ہو۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین ایران کو دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کے ذریعے بالواسطہ مدد فراہم کر سکتا ہے، جو سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

روس کی مشرق وسطیٰ پالیسی اور ایران سے تعلقات

روس اور ایران کے درمیان بھی تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے شام میں مشترکہ فوجی آپریشنز میں حصہ لیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اکثر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔ روس ایران کو فوجی سازوسامان کی فراہمی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اور یوکرین جنگ کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران نے روس کو ڈرون فراہم کیے ہیں، جو ماسکو یوکرین میں استعمال کرتا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں یقین دلایا ہے کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا، یوکرین میں جاری جنگ کے پیش نظر مزید پیچیدہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک طرف، روس کو یوکرین جنگ کی وجہ سے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے اور اسے اپنے فوجی سازوسامان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران جیسے شراکت داروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف، روس بھی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید خراب کرنے سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی کشیدگی پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

روس کی مشرق وسطیٰ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اپنے مفادات کو فروغ دینے پر مرکوز رہی ہے۔ اس میں توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہونا، مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا، اور اپنی سلامتی کے خدشات کو دور کرنا شامل ہے۔ ایران کے ساتھ فوجی تعاون ان اہداف کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، پوتن کی جانب سے مبینہ یقین دہانی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس بھی امریکہ کے ساتھ ایک حد تک سفارتی رابطے اور توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ یقین دہانیاں شاید روس کے اسٹریٹجک احتیاط کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں وہ براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے اپنے طویل مدتی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

طاقتصدر ٹرمپ کا دعویٰپالیسی اور مفاداتتاریخی رجحان
امریکہایران کو ہتھیاروں کی فراہمی کی شدید مخالفت۔ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا، مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کی حفاظت۔ایران پر پابندیاں عائد کرنا، JCPOA سے انخلا۔
چینشی جن پنگ نے ہتھیار فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اقتصادی مفادات (تیل، ایک پٹی ایک سڑک)، امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں توازن، علاقائی استحکام۔ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار، 25 سالہ تعاون کا معاہدہ۔
روسولادیمیر پوتن نے ہتھیار فروخت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کا فروغ، امریکہ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ، شام میں مشترکہ مفادات، فوجی تعاون۔ایران کو فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی، یوکرین جنگ کے تناظر میں گہرا تعاون۔

یقین دہانیوں کی حقیقت: کیا عالمی طاقتیں اپنا وعدہ پورا کریں گی؟

صدر ٹرمپ کے دعوے کہ چین اور روس نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ایک ایسے عالمی منظرنامے میں سامنے آئے ہیں جہاں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ یقین دہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں اور کیا عالمی طاقتیں ان پر عمل پیرا ہوں گی؟

ایک طرف، امریکہ، چین اور روس کے درمیان باہمی انحصار اور وسیع تر سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ کوئی بھی ملک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہے گا، خاص طور پر تجارتی اور اقتصادی میدان میں۔ چین کے لیے، امریکہ ایک بہت بڑی منڈی ہے، اور روس کے لیے، عالمی سطح پر تنہائی کوئی اچھی حکمت عملی نہیں۔ اس لیے، امریکہ کے دباؤ کے پیش نظر، چین اور روس کی جانب سے ایسی یقین دہانیاں قابل فہم ہو سکتی ہیں، تاکہ امریکہ کو براہ راست تصادم سے گریز کا پیغام دیا جا سکے۔

دوسری طرف، چین اور روس دونوں کے ایران کے ساتھ اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات ہیں۔ چین کو ایران سے تیل کی ضرورت ہے اور وہ اپنے “ایک پٹی ایک سڑک” منصوبے میں ایران کو ایک اہم کڑی سمجھتا ہے۔ روس کے لیے، ایران مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور امریکہ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں ایک کلیدی اتحادی ہے۔ یوکرین جنگ میں ایران کی جانب سے ڈرون کی فراہمی روس کے لیے اہم فوجی مدد رہی ہے۔

اس کے علاوہ، یہ بھی اہم ہے کہ ٹرمپ کے بیانات پر چین، روس یا ایران کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق یا تردید نہیں آئی۔ اس خاموشی کو کئی طریقوں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے: یہ ممکن ہے کہ یہ ایک غیر رسمی سمجھوتہ ہو جس پر عوامی سطح پر بات کرنا فریقین کے لیے مناسب نہ ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض ٹرمپ کا سیاسی بیان ہو جو اندرونی اور بیرونی سامعین کے لیے ہو۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اور روس کی جانب سے ایران کو بالواسطہ مدد (جیسے دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی یا تکنیکی مہارت) فراہم کی جا سکتی ہے، جو براہ راست ہتھیاروں کی فروخت کے زمرے میں نہیں آتی لیکن پھر بھی ایران کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھا سکتی ہے۔

مجموعی طور پر، ان یقین دہانیوں کی حقیقت کا انحصار وقت کے ساتھ ہونے والی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کے عملی اقدامات پر ہو گا۔ عالمی سطح پر ‘ایکسز آف ایویژن’ (Axis of Evasion) کا تصور بھی زیر بحث ہے، جس کے تحت امریکہ کے مخالف ممالک مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ اس تناظر میں، ٹرمپ کے دعوے ایک سفارتی چال بھی ہو سکتے ہیں، جس کا مقصد ایران اور اس کے اتحادیوں پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اور علاقائی مضمرات

صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران ایک اہم علاقائی قوت ہے جس کے تعلقات سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدہ رہے ہیں۔ اگر چین اور روس واقعی ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی سے گریز کرتے ہیں، تو یہ خطے میں ایران کے فوجی عزائم پر ایک رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور ممکنہ طور پر علاقائی تنازعات کی شدت میں کمی لا سکتا ہے۔

تاہم، صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کئی پراکسی جنگیں اور علاقائی رقابتیں جاری ہیں جہاں ایران کا ایک اہم کردار ہے۔ یمن، شام، لبنان اور عراق میں مختلف گروہ ایران کی حمایت سے سرگرم ہیں۔ اگر ایران کو بڑے ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، تب بھی وہ اپنی علاقائی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے دیگر ذرائع اور حکمت عملیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکہ کے اتحادی، جیسے اسرائیل اور سعودی عرب، ایران کی فوجی صلاحیتوں میں کسی بھی اضافے کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان ممالک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر سخت دباؤ برقرار رکھے۔ اگر چین اور روس کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی سے انکار کی یقین دہانیاں درست ثابت ہوتی ہیں، تو یہ ان اتحادیوں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہو سکتی ہے اور خطے میں امریکہ کے سفارتی موقف کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب، اگر یہ یقین دہانیاں صرف زبانی حد تک رہتی ہیں اور چین یا روس خفیہ طور پر ایران کو فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں، تو اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت ردعمل ظاہر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک نیا اور خطرناک تصادم پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی گزرگاہوں میں جہاں عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے عالمی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

نتیجہ

صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، عالمی سفارت کاری کے پیچیدہ جال اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ایران پر عائد اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی ختم ہو چکی ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، عالمی طاقتوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔

چین اور روس، دونوں کے ایران کے ساتھ گہرے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ چین اپنے توانائی کے مفادات اور “ایک پٹی ایک سڑک” منصوبے کے ذریعے ایران سے منسلک ہے، جبکہ روس مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی مکمل طور پر خراب نہیں کرنا چاہتے، جس کی وجہ سے ان کا موقف ایک سفارتی توازن کا مظہر ہے۔

ٹرمپ کے دعوؤں کی حقیقت اور ان یقین دہانیوں پر عالمی طاقتوں کا عملی عمل درآمد آنے والے وقت میں واضح ہو گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ دعوے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے سفارتی تصادم کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ بہرحال، یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جیوسیاسی حرکیات اور عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات کی گہری سمجھ بوجھ کا مطالبہ کرتی ہے۔