Table of Contents
جنگ ہمارے حق میں جا رہی ہے اور ایران کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے یہ بیانات عالمی سیاست میں ہمیشہ سے ایک گہرے تجزیے کا موضوع رہے ہیں۔ یہ الفاظ اس وقت سامنے آئے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم چلا رکھی تھی، جس کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے باز رکھنا تھا۔ ان بیانات کا مقصد نہ صرف اندرونی امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنا تھا بلکہ ایران پر بھی نفسیاتی دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جائے۔
یہ مضمون صدر ٹرمپ کے ان دعووں کا تفصیلی جائزہ لے گا کہ کس طرح ان کی انتظامیہ کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی، اور ان بیانات کے پس پردہ کیا حقائق کارفرما تھے۔ ہم اس پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے، جن میں اقتصادی پابندیاں، فوجی اقدامات، علاقائی حرکیات اور سفارتی کوششیں شامل ہیں۔ یہ ایک ایسا دور تھا جس نے مشرق وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام اور جنگ کے سائے میں رکھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ-ایران تعلقات کا تاریخی پس منظر
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے قبل، امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) کی وجہ سے نسبتاً بہتر تھے، جسے 2015 میں اوباما انتظامیہ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر طے کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک “بدترین ڈیل” قرار دیا اور بارہا اس سے دستبرداری کا عندیہ دیا۔
مئی 2018 میں، صدر ٹرمپ نے امریکہ کو یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکالنے کا اعلان کیا اور ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کیا اور خطے میں تناؤ کو عروج پر پہنچا دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ناکافی ہے اور اس کے میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی فورسز کی حمایت کو نظر انداز کرتا ہے۔
ایران نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور جوابی کارروائی کے طور پر اپنے جوہری پروگرام کی کچھ سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ اور عملی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس نے مشرق وسطیٰ کو ایک خطرناک دوراہے پر لاکھڑا کیا۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم: پابندیاں اور اقتصادی اثرات
صدر ٹرمپ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کا مرکزی حصہ ایران کی معیشت کو نشانہ بنانا تھا۔ امریکہ نے ایران کے تیل کی برآمدات، بینکنگ سیکٹر اور دیگر اہم صنعتوں پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی حکومت کو مالی طور پر کمزور کرنا تھا تاکہ وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنی پراکسی فورسز کی حمایت جاری نہ رکھ سکے۔
ان پابندیوں کے ایران کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا اور ملکی کرنسی کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی۔ ایرانی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، “ایرانی معیشت تیزی سے زوال کا شکار ہے اور افراط زر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے، اس لیے حکومت رقم کے حصول کے لیے بے چین ہے۔” اس دباؤ کے باوجود، ایران نے امریکہ کے مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اپنی علاقائی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ امریکی حکام کے دعووں کے مطابق، پابندیوں کی وجہ سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان پابندیوں کے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوئے، کیونکہ بہت سے ممالک کو امریکہ اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا، اور انہیں ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پڑے تاکہ امریکی پابندیوں کا نشانہ نہ بنیں۔
عسکری اقدامات اور دھمکیاں: بڑھتی ہوئی کشیدگی
صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی بھی عروج پر رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیں اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا۔
چند اہم واقعات:
- امریکی ڈرون کا گرایا جانا: 2019 میں ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا، جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا لیکن آخری لمحات میں اسے منسوخ کر دیا۔
- قاسم سلیمانی کی ہلاکت: جنوری 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایران نے اس کے جواب میں عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
- مسلسل حملے اور جوابی کارروائیاں: حالیہ رپورٹس کے مطابق، جولائی 2026 میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول، “ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔” امریکی فوج نے ایرانی فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
- ایران کے ایٹمی مرکز پر دھمکیاں: صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ “ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔”
یہ فوجی اقدامات اور دھمکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال سے گریزاں نہیں تھی۔
| تاریخ | اہم واقعہ | امریکہ کا موقف | ایران کا موقف |
|---|---|---|---|
| مئی 2018 | امریکہ کا جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان | معاہدہ ناکافی، ایران پر زیادہ دباؤ ضروری | بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، اپنی جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا حق |
| جون 2019 | آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون کا گرایا جانا | ایران کی جانب سے جارحیت، جوابی کارروائی کا حق | اپنی فضائی حدود کا دفاع |
| جنوری 2020 | جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت | دہشت گردی کے خلاف کارروائی | ریاستی دہشت گردی، سخت بدلہ لینے کا عزم |
| جولائی 2026 | ایران پر مزید حملوں کا اعلان | ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا، جوہری ہتھیاروں سے روکنا | امریکی جارحیت، اپنی سلامتی کا دفاع |
علاقائی حرکیات اور اتحادیوں کا کردار
امریکہ-ایران کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی علاقائی حرکیات کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ امریکہ نے خطے میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر سعودی عرب، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی۔
- اسرائیل: اسرائیل نے ہمیشہ ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھا ہے اور وہ امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کا ایک مضبوط حامی رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ “اگر انہوں نے بارک اوباما اور ایران کے درمیان ہوئی “نیوکلیئر ڈیل” ختم نہ کی ہوتی تو آج دنیا میں اسرائیل کا وجود باقی نہ ہوتا۔” امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
- سعودی عرب: سعودی عرب، ایران کا علاقائی حریف ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت پر ایران پر تنقید کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب نے امریکی پالیسیوں کی حمایت کی اور ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کو سراہا۔
- دیگر خلیجی ممالک: کچھ خلیجی ممالک نے اس کشیدگی میں ثالثی کی کوششیں بھی کیں، جن میں قطر اور عمان شامل ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور مختلف فریقین کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی بھی ایک اہم عنصر رہی ہے۔ امریکہ نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، جو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اڈوں کو ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
علاقائی تنازعات، جیسے یمن اور شام میں، بھی امریکہ-ایران کشیدگی سے براہ راست متاثر ہوئے، جہاں دونوں ممالک مخالف دھڑوں کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے عرب ممالک میں تقریباً 54,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ امریکہ کی بحریہ کا پانچواں جنگی بیڑا بحرین میں عرصہ دراز سے تعینات ہے، جو خلیج عرب، خلیج عمان، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے پانیوں میں گشت کرتا ہے۔ اس کی مزید تفصیلات کے لیے آپ وائس آف امریکہ کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات
2026 میں، صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے تناظر میں، امریکہ اور ایران کے تعلقات اب بھی انتہائی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ “امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا” اور “ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔” وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، اگرچہ ایران کے پاس اب بھی کچھ محدود صلاحیتیں موجود ہیں۔
تاہم، سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور بعض اوقات عارضی جنگ بندی کے اعلانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان، قطر اور مصر جیسے ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، “ایک طرف ایران کے لیے ثالث ممالک نئی جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ مکمل جنگ کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔” امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی تھی، لیکن واشنگٹن نے تہران کو واضح طور پر مطلع کیا ہے کہ “جنگ بندی ختم ہو چکی ہے!”
مستقبل قریب میں امریکہ-ایران تعلقات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں امریکی اندرونی سیاست (خصوصاً آئندہ امریکی انتخابات)، ایران کی علاقائی پالیسیاں، اور عالمی طاقتوں کا کردار شامل ہیں۔ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن اس میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکہ کو پہلے پابندیاں ہٹانی چاہئیں اور معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔
نتیجہ
صدر ٹرمپ کے بیانات کہ “جنگ ہمارے حق میں جا رہی ہے اور ایران کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں” ان کی انتظامیہ کی ایران سے متعلق جارحانہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان پالیسیوں میں اقتصادی پابندیوں کی شدید مہم اور عسکری دھمکیاں شامل تھیں، جن کا مقصد ایران کو اس کی جوہری سرگرمیوں اور علاقائی اثر و رسوخ سے باز رکھنا تھا۔ ان اقدامات نے اگرچہ ایران کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا اور خطے میں کشیدگی کو بڑھایا، لیکن ایران نے اپنی پالیسیوں میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی۔
آج 2026 میں بھی، امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے، اور اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی گہری خلیج موجود ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال کے حل کے لیے عالمی طاقتوں اور علاقائی اداکاروں کے درمیان مزید سنجیدہ اور تعمیری مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن ان کی گونج آج بھی خطے کی سیاست میں سنائی دیتی ہے۔


