مقبول خبریں

حماس کے ہتھیار ڈالنے تک فوج کا انخلاء ناممکن، نیتن یاہو کے 5 اہم بیانات

حماس کے ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ناممکن ہے۔ یہ وہ دوٹوک مؤقف ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے بارہا دہرایا ہے، جس نے غزہ میں جاری جنگ بندی اور امن کی کوششوں کو ایک سنگین تعطل سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ حماس کی مکمل غیر مسلح کاری کے بغیر کوئی بھی فوجی انخلا ممکن نہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ واضح موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ امن منصوبے کو بھی مسترد کرنے کے مترادف ہے، جس میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بدلے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا ذکر کیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کا دوٹوک مؤقف: غیر مسلح کیے بغیر انخلا ناممکن

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔ ان کا یہ مؤقف اسرائیلی حکومت کی بنیادی پالیسی کا حصہ ہے اور انہوں نے اسے کابینہ کے اجلاسوں اور بین الاقوامی فورمز پر واضح طور پر پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق، “اسرائیل اس 15 نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا۔ فوج اس وقت تک کوئی انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔ اس کا مطلب ہے بھاری ہتھیار، ہلکے ہتھیار، تمام ہتھیار”۔ وہ حقیقی تخفیف اسلحہ کی بات کر رہے ہیں، نہ کہ کسی “فرضی” تخفیف اسلحہ کی۔

یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے بارے میں بھی نیتن یاہو کے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک امن منصوبے کا مسودہ پیش کیا تھا جس میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے بدلے اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا کی بات کی گئی تھی۔ تاہم، نیتن یاہو نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ “ہمارا مسودہ نہیں ہے” اور اسرائیل اس منصوبے کے بعض پہلوؤں کو قبول نہیں کرتا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ غزہ میں کسی بھی سیاسی یا تعمیر نو کے عمل سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔ نیتن یاہو کے اس موقف کی وجہ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اسرائیل کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

اسرائیلی حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ حماس اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کر رہا ہے اور یہ اسرائیلی فوج اور غزہ کے گرد و نواح کی بستیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ اس لیے، ان کے نزدیک، کسی بھی ایسے معاہدے پر عمل درآمد ناممکن ہے جو حماس کی فوجی قوت کو مکمل طور پر ختم نہ کرتا ہو۔ اس ہٹ دھرمی نے جنگ بندی کی کوششوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے امکانات کو مزید تاریک کر دیا ہے۔

حماس کا مؤقف اور اس کی شرائط: مزاحمت کا حق اور مکمل انخلا کا مطالبہ

دوسری طرف، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے نیتن یاہو کے اس دوٹوک مؤقف کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ حماس کا اصرار ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کے حصے پر عمل درآمد شروع کرنے سے پہلے اسرائیل حملے روکے اور اپنی افواج کو غزہ سے مکمل طور پر نکالے۔ حماس کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ “غیر مسلح ہونے” کی اصطلاح کو قبول نہیں کرتے اور ان کے ہتھیار قابضین کے خلاف قانونی مزاحمت کا حصہ ہیں۔

حماس کے سینئر رہنما غازی حمد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ غزہ امن معاہدہ ایک مکمل پیکیج ہے، جس کے کسی ایک حصے پر باقی نکات سے الگ ہو کر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، حماس کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کا انحصار اسرائیل کی طرف سے اپنی تمام ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرنے پر ہوگا، کیونکہ اسرائیل کا معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔

  • فوجی انخلا اولین شرط: حماس کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی افواج جن علاقوں پر قابض ہوئیں، وہاں سے انخلا معاہدے پر پیش رفت کے لیے بنیادی شرط ہے۔
  • حملوں کا خاتمہ: تنظیم کے مطابق، جارحیت پر مکمل پابندی اور اسرائیلی حملوں کا خاتمہ طے شدہ فریم ورک اور ٹائم ٹیبل کی تیاری شروع کرنے کی بنیاد ہے۔
  • ہتھیاروں کی حیثیت: حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار غزہ کی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گی، جو ایک نئی ٹیکنوکریٹ کمیٹی ہے۔ تاہم، یہ شرائط اسرائیل کی طرف سے تمام قسم کی جارحیت کے مکمل خاتمے اور غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلا سے مشروط ہیں۔
  • حق خود ارادیت: حماس فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔

یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے بنیادی مطالبات ایک دوسرے سے متصادم ہیں، جس کی وجہ سے جنگ بندی اور امن معاہدے کے امکانات مسلسل معدوم ہو رہے ہیں۔

غزہ میں انسانی بحران اور عالمی برادری کا دباؤ

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع نے غزہ کی پٹی میں ایک بے مثال انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کی 23 لاکھ آبادی کی اکثریت شدید مشکلات کا شکار ہے، جہاں خوراک، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں قحط کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، اور ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ طبی مراکز اور شہری علاقوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت متعدد ممالک نے غزہ میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اور پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ کی “ناقابل برداشت وحشتناک” صورتحال پر کئی اجلاس منعقد کیے ہیں، جہاں جنگ کے فوری خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، ان کوششوں کے باوجود، زمینی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی، جس کی ایک بڑی وجہ دونوں متحارب فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی ریڈ کراس کی آواز، اسرائیلی حکام پر جنگ بندی کے لیے لچک دکھانے کے لیے زور دے رہی ہے، لیکن نیتن یاہو حکومت اپنے سیکیورٹی خدشات کو ترجیح دے رہی ہے۔

متحارب فریقاہم مطالباتبنیادی موقف
اسرائیل (نیتن یاہو)حماس کی مکمل غیر مسلح کاری (بھاری اور ہلکے تمام ہتھیار) حماس کی فوجی صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اسرائیل کی سلامتی کا مکمل تحفظفوج کا انخلا حماس کے مکمل ہتھیار ڈالنے سے مشروط ہے۔
حماساسرائیلی جارحیت کا مکمل خاتمہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی ضمانت ہتھیاروں کی منتقلی فلسطینی انتظامیہ کو، اسرائیلی انخلا کے بعداسرائیلی حملے اور انخلا کے بعد ہی ہتھیاروں سے متعلق بات چیت ممکن ہے۔

سفارتی کوششیں اور تعطل کی وجوہات

غزہ میں جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کی گئی ہیں، جن میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک جامع امن منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا گیا تھا، جس میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے غیر مسلح ہونے، اسرائیلی افواج کے انخلا اور غزہ کی تعمیر نو جیسے نکات شامل تھے۔ تاہم، ان کوششوں کو نیتن یاہو کے اس دوٹوک مؤقف نے شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک غزہ سے فوج نہیں نکالے گا۔

حماس نے بھی اس امریکی منصوبے کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ہتھیار ڈالنے سے متعلق شرائط پر، جب تک کہ اسرائیلی افواج مکمل طور پر غزہ سے انخلا نہ کر لیں۔ اس تعطل کی بنیادی وجوہات میں دونوں فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد، بنیادی مطالبات کا ٹکراؤ اور سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف تصورات شامل ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حماس کی مکمل عسکری صلاحیتوں کے خاتمے کو ضروری سمجھتا ہے، جبکہ حماس اپنے وجود اور مزاحمت کے حق کو تسلیم کرانے پر بضد ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نکولائے ملادینوف نے بھی نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی حملے فوری طور پر روکیں، کیونکہ یہ حملے جنگ بندی کے روڈ میپ پر عمل درآمد کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنی ذمہ داریوں پر بیک وقت عمل کریں۔ لیکن، اختلافات گہرے ہیں اور فی الحال کوئی قابل عمل حل نظر نہیں آ رہا۔ قطر، مصر اور ترکیہ جیسے ممالک نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی اثرات: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

اسرائیل-حماس جنگ کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات نہایت گہرے اور وسیع ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔ پڑوسی ممالک، جیسے مصر، اردن، اور لبنان بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ لبنان کے ساتھ حزب اللہ کے جاری جھڑپوں اور شام میں بڑھتے ہوئے تناؤ نے جنگ کے خطے میں پھیلنے کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر، اس تنازع نے عالمی طاقتوں کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ امریکہ جہاں اسرائیل کا دیرینہ اتحادی ہے اور اس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی بات کرتا ہے، وہیں روس، چین اور کئی اسلامی ممالک فلسطینیوں کے حقوق اور جنگ بندی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جنگ بندی کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور یہود دشمنی و فلسطینی دشمنی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل اور حماس دونوں پر شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکامی اور ممکنہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کے نفاذ پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس بحران کو حل کرنے کی کوششیں اکثر سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے اختلافات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس تنازع نے علاقائی اتحادوں کو بھی متاثر کیا ہے اور سعودی عرب جیسے ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچایا ہے۔ اس حوالے سے ڈان نیوز کی ایک رپورٹ خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی ردعمل پر روشنی ڈالتی ہے۔

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے اور تعمیر نو کے چیلنجز

غزہ کے مستقبل کے بارے میں کئی ممکنہ منظرنامے زیر بحث ہیں، لیکن ان سب میں غیر یقینی کی صورتحال غالب ہے۔ ایک منظرنامہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کا مؤقف غالب رہے اور حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوجی غزہ میں موجود رہیں، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک عسکری موجودگی اور ممکنہ طور پر شورش جاری رہ سکتی ہے۔ یہ صورتحال ایک مستقل حالت جنگ کو جنم دے سکتی ہے اور کسی بھی پائیدار امن کے امکانات کو ختم کر دے گی۔

دوسرا منظرنامہ کسی بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کا ہے، جس میں کثیر الملکی فوجی دستے غزہ میں سیکیورٹی کو مستحکم کرنے میں مدد دیں۔ اس منصوبے میں نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور بین الاقوامی برادری کے کردار پر ہوگا۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے اس فورس میں ممکنہ کردار پر بات چیت ہوئی ہے، لیکن اس کی نوعیت اور غیر جانبداری پر سوالات موجود ہیں۔

تیسرا منظرنامہ ایک پائیدار جنگ بندی معاہدے کا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ معاہدہ قیدیوں کے تبادلے، اسرائیلی افواج کے انخلا، اور غزہ کی تعمیر نو پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے دونوں فریقین کو اپنے بنیادی مطالبات میں لچک دکھانی پڑے گی، جو فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔ غزہ کی تعمیر نو کا عمل بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کیونکہ شہر کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد کو پناہ، خوراک اور طبی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں ایک قانونی فلسطینی حکومت کا قیام بہت ضروری ہے، جس کی بنیاد فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون پر ہو۔ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا تعین فلسطینی عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

نتیجہ

غزہ کی موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ اور سنگین بحران کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ مؤقف کہ “حماس کے ہتھیار ڈالنے تک فوج کا انخلاء ناممکن ہے” امن کی تمام کوششوں کے سامنے ایک بڑی دیوار بن چکا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات اور حماس کی مکمل غیر مسلح کاری پر بضد ہے، تو دوسری طرف حماس اپنے مزاحمت کے حق اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بغیر ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا ہے اور خطے میں عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔

عالمی برادری کی تمام سفارتی کوششیں، بشمول امریکی امن منصوبے، اس بنیادی اختلاف کی وجہ سے بے اثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ جب تک دونوں فریق اپنے انتہائی سخت مؤقف میں لچک پیدا نہیں کرتے اور ایک قابل عمل، جامع حل پر متفق نہیں ہوتے، غزہ میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ مستقبل کا راستہ صرف اور صرف بامعنی مذاکرات، باہمی اعتماد کی بحالی، اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر مبنی ہو سکتا ہے، جہاں فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور اسرائیلی ریاست کی سلامتی دونوں کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر، یہ علاقہ مزید خونریزی اور تباہی کا شکار رہے گا۔