ٹرمپ ایران جنگ ہار گئے ہیں، امریکی سینیٹر کرس مرفی کے اس جرات مندانہ بیان نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے اختیار کردہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس بیان نے نہ صرف موجودہ امریکی انتظامیہ کو بلکہ عالمی مبصرین کو بھی اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور امریکہ کی طویل مدتی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں۔ سینیٹر مرفی کے یہ الفاظ، جنہیں انہوں نے ایک انٹرویو میں دہرایا، اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی صرف فوجی کارروائیوں یا اقتصادی پابندیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے گہرے سیاسی، اقتصادی اور علاقائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جن کا تجزیہ اب کھلے عام کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کا پس منظر
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے خلاف ایک جارحانہ پالیسی اختیار کی جسے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کا نام دیا گیا۔ اس حکمت عملی کی بنیاد 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے، جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) سے امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری پر رکھی گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ناکافی ہے اور اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ دستبرداری کے بعد امریکہ نے ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے ایک نئے، جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا۔
ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات، بینکاری نظام اور دیگر کلیدی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے اور امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گا۔ تاہم، ایران نے ان پابندیوں کے جواب میں اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے کچھ وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور خطے میں کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ امریکہ کا یہ اقدام عالمی برادری، خصوصاً یورپی اتحادیوں، کی شدید مخالفت کے باوجود کیا گیا تھا جو JCPOA کو بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
سینیٹر کرس مرفی کا جرات مندانہ دعویٰ: “امریکا یہ جنگ ہار چکا ہے”
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مسلسل لڑائی سے امریکہ کمزور جبکہ ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ سینیٹر مرفی کے مطابق موجودہ صورتحال میں جنگ جاری رکھنے سے امریکہ کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے اور ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی طاقت اور وسائل کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے یہ الفاظ کہ “امریکا کمزور ہو رہا ہے جبکہ ایران مضبوط ہو رہا ہے،” اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی نظر میں ٹرمپ کی حکمت عملی اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
سینیٹر مرفی نے اپنی گفتگو کے دوران اس “جنگی صورتحال” کو صدر ٹرمپ کے لیے ایک ناکام حکمت عملی قرار دیا اور زور دیا کہ لڑائی کو مزید طول دینے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت پڑتی ہے، تو وہ ایک ایسے معاہدے کی بھی حمایت کریں گے جسے وہ خود “برا معاہدہ” سمجھتے ہوں۔ یہ بیان اس گہری مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی پالیسی سازوں کے ایک طبقے میں ٹرمپ کی ایران پالیسی کے نتائج کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھ رہا تھا، اور سینیٹر مرفی نے خبردار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، اور جنگ ختم کرنے میں تاخیر کا براہِ راست اثر آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت پر پڑ رہا ہے۔ امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، اگر کسی سمجھوتے کے ذریعے لڑائی ختم ہوتی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے، تو اسے جنگ جاری رکھنے سے کہیں بہتر سمجھا جانا چاہیے۔
“زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کی ناکامی کے دلائل
ٹرمپ انتظامیہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کو اس کے ناقدین کی جانب سے متعدد دلائل کی بنیاد پر ناکام قرار دیا جاتا ہے۔ سینیٹر کرس مرفی کے بیان کی بازگشت دیگر سینیٹرز کے بیانات میں بھی سنائی دیتی ہے، جنہوں نے اس پالیسی کے منفی نتائج پر روشنی ڈالی ہے۔
- جوہری پروگرام کی پیشرفت: پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں پیشرفت کی، جس میں یورینیم کی افزودگی کی سطح اور ذخیرہ کو بڑھانا شامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دباؤ کا مقصد، یعنی جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا، حاصل نہیں ہو سکا۔
- علاقائی کشیدگی میں اضافہ: اس پالیسی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی، جس میں آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں پر حملے، امریکی ڈرون کو مار گرانا، اور خطے میں پراکسی جنگوں میں شدت شامل ہے۔
- معاشی دباؤ کا الٹا اثر: اگرچہ پابندیوں نے ایران کی معیشت کو متاثر کیا، لیکن اس نے ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اسے مزید مزاحمت کرنے اور علاقائی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے پر اکسایا۔ امریکہ کو خود بھی فوجی اخراجات اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
- عالمی سطح پر تنہائی: امریکہ کی JCPOA سے یکطرفہ دستبرداری نے اسے اپنے یورپی اتحادیوں سے دور کر دیا، جنہوں نے اس معاہدے کو بچانے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس، ایران نے روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا۔
- سینیٹرز کی تنقید: سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو “غیر ضروری اور خطرناک” ہے، اور اس سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں اور یہ کہ “ہمیں اربوں ڈالر ایک غیر آئینی جنگ پر خرچ کرنے کے بجائے امریکی عوام کی ضروریات پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے”۔ سینیٹر کوری بُکر نے بھی ٹرمپ پر “ایک ناکام جنگ میں مزید الجھنے” کا الزام لگایا۔
| پالیسی کا پہلو | ٹرمپ انتظامیہ کا ہدف | حقیقی نتائج (نقادوں کے مطابق) |
|---|---|---|
| جوہری پروگرام | ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا، نیا جامع معاہدہ | یورینیم افزودگی میں اضافہ، JCPOA سے دستبرداری کے بعد مزید عدم تعمیل |
| علاقائی سرگرمیاں | ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنا | خطے میں کشیدگی میں اضافہ، پراکسی جنگوں میں شدت |
| اقتصادی پابندیاں | ایرانی معیشت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا | ایرانی معیشت کو نقصان، لیکن حکومت کی مزاحمت برقرار، عوام پر بوجھ |
| عالمی اتحاد | ایران کے خلاف عالمی اتحاد بنانا | یورپی اتحادیوں سے فاصلہ، روس اور چین کے ساتھ ایران کے تعلقات میں مضبوطی |
| آبنائے ہرمز | آبنائے ہرمز کی آزادی برقرار رکھنا | تناؤ میں اضافہ، آمدورفت میں رکاوٹ کا خطرہ |
علاقائی استحکام اور امریکی پالیسی کے نتائج
ٹرمپ کی ایران پالیسی کے علاقائی استحکام پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوئے۔ JCPOA سے امریکہ کی دستبرداری اور پابندیوں کی بحالی نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا، جس نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مزید خراب کیا بلکہ خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔
- آبنائے ہرمز میں کشیدگی: یہ علاقہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور یہاں متعدد واقعات پیش آئے جن میں تیل کے ٹینکروں پر حملے اور امریکی ڈرون کو مار گرانا شامل ہیں۔ ان واقعات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو غیر مستحکم کیا اور عالمی تجارت کے لیے خطرات پیدا کیے۔
- پراکسی جنگوں میں شدت: مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں اور امریکہ کے اتحادیوں کے درمیان پراکسی جنگیں مزید شدت اختیار کر گئیں۔ یمن، شام اور عراق جیسے ممالک میں تنازعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہوا۔
- علاقائی اتحادوں میں دراڑیں: امریکہ کی پالیسی نے خطے کے ممالک کے درمیان بھی عدم اعتماد پیدا کیا۔ کچھ عرب ممالک نے اگرچہ ایران کے خلاف امریکی موقف کی حمایت کی، لیکن انہیں امریکہ کی پائیداری پر تشویش بھی تھی، جس کے نتیجے میں علاقائی تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے۔
- سیکیورٹی خدشات: خطے میں امریکی افواج اور مفادات پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، جس کے جواب میں امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا۔ اس سے خطے میں ایک فوجی ٹکراؤ کا خدشہ مستقل طور پر منڈلاتا رہا۔
ایرانی پالیسی کے ان نتائج نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا، کیونکہ خطے کا استحکام عالمی معیشت اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔
عالمی برادری اور ایران کے تعلقات پر اثرات
امریکہ کی جانب سے JCPOA سے دستبرداری اور ایران پر پابندیوں کی بحالی نے عالمی برادری میں تقسیم پیدا کر دی۔ یورپی ممالک، جن میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، نے اس معاہدے کو بچانے کی بھرپور کوششیں کیں کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے ایک اہم کامیابی تھی۔ انہوں نے امریکہ کے اقدامات کی مذمت کی اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی میکانزم (INSTEX) بھی متعارف کروایا، اگرچہ یہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔
- یورپی ممالک کا موقف: یورپی یونین نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ سفارتکاری ہی ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے ایران سے اپنے جوہری وعدوں کی پاسداری پر زور دیا لیکن ساتھ ہی امریکہ پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ معاہدے پر واپس آئے۔
- روس اور چین کا کردار: روس اور چین، جو JCPOA کے دستخط کنندگان بھی تھے، نے امریکہ کی پالیسی کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا اور اس کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا۔ ایران کے لیے ان ممالک کی حمایت نے امریکی دباؤ کو جزوی طور پر کم کرنے میں مدد کی۔
- خطے سے باہر کے ممالک: بعض دیگر ممالک، جیسے کہ بھارت اور جاپان، جو ایران سے تیل درآمد کرتے تھے، انہیں امریکی پابندیوں کی وجہ سے اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا پڑا۔ اس سے عالمی اقتصادی تعلقات میں پیچیدگی پیدا ہوئی۔
- عالمی سطح پر تناؤ: مجموعی طور پر، ٹرمپ کی ایران پالیسی نے عالمی سطح پر تناؤ میں اضافہ کیا اور بین الاقوامی قوانین اور کثیر الجہتی سفارتکاری کے اصولوں پر سوالات اٹھائے۔
واشنگٹن میں سینیٹر کے بیان پر سیاسی ہلچل
سینیٹر کرس مرفی کا یہ دعویٰ کہ “امریکہ ایران سے جنگ ہار چکا ہے” واشنگٹن میں ایک طوفان برپا کرنے کا باعث بنا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی سیاستدان پہلے ہی سابق صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے طویل مدتی نتائج پر منقسم تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز نے طویل عرصے سے ٹرمپ کی حکمت عملی پر تنقید کی ہے اور اسے ناکام قرار دیا ہے۔
- ڈیموکریٹس کا ردعمل: سینیٹر مرفی کے بیان کی حمایت میں دیگر ڈیموکریٹ سینیٹرز جیسے چک شومر اور برنی سینڈرز بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو غیر ضروری اور خطرناک قرار دیا۔ ان سینیٹرز نے کانگریس کے اس اختیار پر زور دیا کہ وہ جنگ کے اعلان یا فوجی کارروائیوں کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے۔
- ریپبلکنز کا دفاع: دوسری جانب، ریپبلکن سینیٹرز نے عام طور پر ٹرمپ کی ایران پالیسی کا دفاع کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور امریکی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم، بعض ریپبلکنز نے بھی ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے اور واضح منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا۔
- جنگی اختیارات پر بحث: سینیٹر مرفی کے بیان نے کانگریس کے “جنگی اختیارات” (War Powers) کے حوالے سے بھی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ کئی سینیٹرز نے ٹرمپ کے فوجی اقدامات کو محدود کرنے کے لیے قراردادیں پیش کیں، جن میں سے اکثر ریپبلکن اکثریت کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکیں۔ یہ قراردادیں اس بات پر زور دیتی تھیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
- پینٹاگون میں اختلافات: رپورٹوں کے مطابق، ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے حوالے سے امریکی عسکری اور سیاسی قیادت میں بھی حکمت عملی پر اختلافات سامنے آئے۔ پینٹاگون کے اندر کچھ حکام بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے حامی تھے جبکہ دیگر محتاط حکمت عملی کو ترجیح دے رہے تھے تاکہ امریکی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
سینیٹر مرفی کا یہ بیان صرف ایک تنقید نہیں تھا بلکہ یہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ایک سینیٹر نے کھل کر یہ تسلیم کیا کہ دباؤ کی پالیسی کے بجائے سفارتکاری اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کے بیان نے واشنگٹن میں ایک اہم سیاسی مباحثے کا آغاز کیا ہے، جو امریکہ کی مستقبل کی ایران پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مستقبل کی راہ: امریکہ کی ایران پالیسی کا رخ
سینیٹر کرس مرفی کے اس جرات مندانہ بیان اور ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کے نتائج کے بعد، امریکہ کی مستقبل کی ایران پالیسی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی حکمت عملی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، اور اب نئی حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
- سفارتکاری کی بحالی: بہت سے پالیسی ساز اور تجزیہ کار اب یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارتکاری کی بحالی ہی تناؤ کو کم کرنے اور جامع حل تلاش کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اس میں JCPOA میں دوبارہ شامل ہونا یا ایک نئے، بہتر معاہدے پر بات چیت کرنا شامل ہو سکتا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی سرگرمیوں کو ایک ساتھ حل کرے۔
- اقتصادی پابندیوں کا جائزہ: اگرچہ پابندیاں ایران پر دباؤ کا ایک ذریعہ ہیں، لیکن ان کے طویل مدتی اثرات پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سخت پابندیاں ایرانی عوام کو متاثر کر کے حکومت مخالف جذبات کو تقویت دیتی ہیں یا انہیں حکومت کے ساتھ کھڑا کر دیتی ہیں؟ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ پابندیوں کا استعمال زیادہ ہدف بنا کر اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
- علاقائی سلامتی کا فریم ورک: امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کے لیے ایک جامع فریم ورک پر بھی غور کرنا ہو گا جس میں نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ یہ ایک ایسا فریم ورک ہو گا جو تنازعات کے حل اور اعتماد سازی کو فروغ دے۔
- کانگریس کا کردار: سینیٹرز کے بیانات اور قراردادیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کانگریس جنگ اور امن کے فیصلوں میں اپنا آئینی کردار بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مستقبل میں، صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے اور فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی منظوری کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔
- نئی عالمی صورتحال: عالمی سطح پر بدلتے ہوئے تعلقات، خصوصاً روس اور چین کے ساتھ ایران کے گہرے ہوتے تعلقات، امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ امریکہ کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو کیسے منظم کرے تاکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھ سکے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کر سکے۔
مستقبل کی راہ انتہائی پیچیدہ ہے، لیکن سینیٹر مرفی جیسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی پالیسی سازوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ محض فوجی دباؤ یا اقتصادی پابندیاں طویل مدتی حل فراہم نہیں کر سکتیں۔ ایک جامع، سفارتی اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہی مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
نتیجہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی، جسے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کا نام دیا گیا تھا، اپنے مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، اور اس حقیقت کو اب واشنگٹن کے اہم سیاسی حلقوں میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی کا یہ واضح اور جرات مندانہ بیان کہ “امریکہ ایران جنگ ہار چکا ہے” اس بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ محض اقتصادی پابندیاں اور فوجی دھمکیاں ایران کو اس کے جوہری پروگرام یا علاقائی سرگرمیوں سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔
اس پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام نے مزید پیشرفت کی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بھی عروج پر پہنچ گئی، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ سینیٹر مرفی، چک شومر، برنی سینڈرز اور کوری بُکر جیسے کئی سینیٹرز نے اس پالیسی کو “غیر ضروری، خطرناک اور ناکام” قرار دیا اور سفارتکاری کی بحالی اور جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔
واشنگٹن میں سینیٹر کے بیان پر ہونے والی سیاسی ہلچل اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں کانگریس اپنے جنگی اختیارات کی بحالی اور صدارتی اقدامات پر چیک اینڈ بیلنس کو مضبوط کرنے کی خواہاں ہے۔ مستقبل کی امریکی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ تعلقات کو از سر نو تعریف کرنا ہو گی، جس میں سفارتکاری، مذاکرات اور علاقائی سلامتی کے جامع فریم ورک کو اولیت دی جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ مستقبل کی پالیسی کیا ہو گی، سینیٹر مرفی کے الفاظ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خارجہ پالیسی کے فیصلوں کے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہوتے ہیں جن کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
