مقبول خبریں

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، پاکستان نے تیل کی سپلائی کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو اپنی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خلیج فارس کو بحر عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملانے والا یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی معیشت کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر مرتب ہو رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز: عالمی توانائی کی شہ رگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحر عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جو جغرافیائی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران جبکہ جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ یہ آبنائے اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 سے 39 کلومیٹر چوڑی ہے، اور یہ خلیجی ریاستوں جیسے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کی تیل کی برآمدات کا واحد بڑا بحری راستہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، روزانہ عالمی تیل کی کل رسد کا تقریباً 20 سے 25 فیصد اور عالمی مائع قدرتی گیس (LNG) کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فوری طور پر بے چینی کا شکار ہو جاتی ہیں اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران نے بارہا اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران نے اپنی مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 45 آئل ٹینکروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو ایک نیا امریکی علاقہ قرار دینے کے دعوے کیے ہیں، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اپنا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ ان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اضافے کا شکار ہیں، اور حال ہی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 91 ڈالر 75 سینٹ فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کی توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات

پاکستان کی توانائی کی سلامتی کا انحصار بڑی حد تک تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر ہے، جن میں سے اکثریت آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مکمل بندش کے پاکستان کی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اور فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے 80 فیصد تیل اور 99 فیصد گیس کی درآمد پر انحصار کرتا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، اور یہ راستہ اس وقت جنگ کی وجہ سے بند ہے۔ ایسی صورتحال میں، ملک کو نہ صرف درآمدات کے لیے زیادہ ادائیگی کرنی پڑتی ہے بلکہ سپلائی میں تاخیر یا رکاوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جو صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

تیل کی سپلائی کا تحفظ: پاکستان کے فوری اقدامات

آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، حکومت پاکستان نے اپنی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ مارچ 2026 میں، حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے بعد ایک اہم فیصلہ کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ملک میں اسٹاک اور طلب و رسد کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینا ہے، اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، پاکستان نے تیل کی سپلائی کو مستحکم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مارچ 2026 میں، تیل سے لدے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے ریڈ سی اور دیگر راستوں سے سعودی عرب، کویت اور سنگاپور سے تیل لے کر پاکستان پہنچے۔ ان جہازوں کی آمد سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 30 دن تک پہنچ گیا، جس سے سپلائی کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی۔ یہ تیل بنیادی طور پر عمان کے آئل ٹرمینل فجیرہ سے خریدا گیا، جو ریڈ سی میں سعودی آرامکو سے تیل کی خریداری کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔

یہ فوری اقدامات پاکستان کی جانب سے غیر یقینی عالمی صورتحال میں اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کی سنجیدہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

سال واقعہ/اقدام اثرات
2026 (اگست) آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، ایران کا ٹینکرز کو بلیک لسٹ کرنا، تیل کی قیمتوں میں اضافہ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 91.75 ڈالر فی بیرل۔ پاکستان کی توانائی سلامتی پر دباؤ۔
2026 (مارچ) پاکستان کا تیل کی سپلائی مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام اور متبادل راستوں سے تیل کی درآمد۔ ملکی پٹرولیم ذخائر 30 دن تک پہنچ گئے، سپلائی مستحکم ہوئی۔
2026 (جون) سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت (بوبی ڈیپ ون)۔ یومیہ 2,000 بیرل تیل اور 1.1 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی پیداوار کا امکان، درآمدی انحصار میں کمی۔
2026 (جنوری) خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت (نشپا بلاک، سامانہ سُک اور شنواری فارمیشنز)۔ ملکی ہائیڈرو کاربن ذخائر میں اضافہ، یومیہ 4100 بیرل خام تیل اور 10.5 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس کا امکان۔
2020-2025 پاکستان میں شمسی توانائی کا تیزی سے فروغ۔ اینںدھن کی درآمدات میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت، 25 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوئی۔

متبادل راستوں کی تلاش: گوادر کا بڑھتا ہوا کردار

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و سیاسی حساسیت نے پاکستان کو متبادل تجارتی اور توانائی سپلائی کے راستوں کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ اس ضمن میں، گوادر بندرگاہ کا کردار انتہائی کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ گوادر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بحیرہ عرب پر واقع ایک گہرے پانی کی بندرگاہ ہے، جو خلیج فارس کے دہانے پر آبنائے ہرمز کے قریب موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایک گرم پانی کی بندرگاہ ہے، جو سال بھر تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے موزوں رہتی ہے۔

گوادر بندرگاہ نہ صرف خلیجی ریاستوں کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہے بلکہ یہ زمین بند وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان کے لیے بھی قریب ترین گرم پانی کی بندرگاہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ رکاوٹوں نے گوادر بندرگاہ کی اہمیت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ بہت سی بین الاقوامی شپنگ لائنز نے کارگو کو روایتی خلیجی بندرگاہوں سے ہٹا کر گوادر کو علاقائی ترسیل کے لیے ایک اسٹریٹجک متبادل مرکز کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بندرگاہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ بن سکتی ہے، جس سے روایتی راستوں پر انحصار کم ہوگا۔ اندازہ ہے کہ مستقبل میں چین کی تیل کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ بھی اسی بندرگاہ کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے گیس منصوبے اور مقامی ذخائر کی اہمیت

تیل کے ساتھ ساتھ، قدرتی گیس کی سپلائی بھی پاکستان کی توانائی کی سلامتی کا ایک اہم جزو ہے۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن (IP) منصوبہ، جو کئی برسوں سے التوا کا شکار ہے، آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتا تھا، تاہم امریکی پابندیوں کے باعث اس پر کام رکا ہوا ہے۔ پاکستان نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا کہا ہے جبکہ ایران اس میں 10 سال کی توسیع کا خواہاں ہے۔ حالانکہ، وزارت پٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے یہ منصوبہ بحال ہو سکتا ہے اور سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کی گیس دستیاب ہو سکے گی۔

اس کے علاوہ، تاپی (TAPI) گیس پائپ لائن منصوبہ، جو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کا مشترکہ منصوبہ ہے، گیس کی فراہمی کا ایک اور متبادل ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔ یہ 1700 کلومیٹر طویل پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی، جس میں سے ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان کو حاصل ہو گی۔

تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان میں مقامی ذخائر کی دریافت بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ حال ہی میں، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) نے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں “بوبی ڈیپ ون” کنویں سے تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کیا ہے، جہاں سے روزانہ 2,000 بیرل تیل اور 1.1 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اسی طرح، خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نشپا بلاک کے براگزئی ایکس-1 کنویں اور سامانہ سُک و شنواری فارمیشنز میں بھی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ان نئی دریافتوں سے قومی ہائیڈرو کاربن ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملکی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی، جس سے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔ آئل انڈسٹری کے شعبے سے منسلک ایک سرکاری عہدے دار کے مطابق، پاکستان میں تیل کی تلاش میں کامیابی کا تناسب 3.7 ہے جو کہ بہت ہی بڑا ریشو ہے، اگر ماحول سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ہو تو مزید دریافتیں ممکن ہیں۔

قابل تجدید توانائی: پائیدار حل کی جانب ایک اہم قدم

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر، پاکستان نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ پاکستان قابل تجدید توانائی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے تاکہ اپنے توانائی کے مسائل کو حل کر سکے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کر سکے۔ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دینا اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو سے تین برسوں میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تنصیب ہوئی ہے، اور اندازاً 25 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہو رہی ہے۔ اس ‘شمسی انقلاب’ کو توانائی بحران کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی قرار دیا گیا ہے، اور اس سے 2020 کے بعد سے ایندھن کی درآمدات میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قابل تجدید توانائی کا فروغ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت، استحکام اور معاشی بہتری کی مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان نے 2019 میں “Alternative and Renewable Energy Policy” متعارف کرائی، جس کے تحت 2030 تک اپنی بجلی کی پیداوار میں 30% حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قائد اعظم سولر پارک جیسے بڑے منصوبے اور جھمپیر و گھارو کے علاقوں میں ونڈ فارمز اس جانب اہم پیش رفت ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار ہیں بلکہ درآمدی تیل پر ملک کے انحصار کو کم کرکے توانائی کی سلامتی کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر، یہ اقدامات مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ملک کی توانائی کی پالیسی میں تنوع لانا اور مقامی وسائل پر انحصار بڑھانا طویل المدتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، شمسی توانائی کے میدان میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو ملک کی توانائی کے مستقبل کے لیے ایک روشن امید ہے۔

نتیجہ

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے، اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج ہے۔ پاکستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوری اقدامات کیے ہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملیوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ کو ایک متبادل تجارتی اور توانائی کی ترسیل کے مرکز کے طور پر ترقی دینا، مقامی تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کو تیز کرنا، اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانا پاکستان کے اہم فیصلے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد صرف حالیہ بحران سے نمٹنا نہیں بلکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی صورتحال کے لیے ملک کو تیار کرنا ہے۔