مقبول خبریں

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں مزی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ سابق امریکی صدر نے حالیہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک نہیں ہوئے بلکہ شدید زخمی ہیں۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے اور ان کے والد، سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کے طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کے یہ بیانات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، معاشی دباؤ اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹرम्प کا دعویٰ: مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں قدامت پسند ریڈیو میزبان گلین بیک کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں اہم دعوے کیے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک نہیں ہوئے بلکہ شدید زخمی حالت میں ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے جسم کے بائیں جانب، بشمول بازو اور ٹانگ، کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہلاکت ہوچکی ہے تو ایرانی حکام اس معاملے کو انتہائی مہارت سے چھپا رہے ہیں۔ ان کے بقول، ایرانی حکام اب بھی اہم معاملات پر حتمی منظوری کے لیے “سپریم لیڈر سے دوبارہ بات کرنے” کا تذکرہ کرتے ہیں، جس سے انہیں ان کی زندگی کے بارے میں یقین ہوتا ہے۔

یہ دعوے اس وقت منظر عام پر آئے ہیں جب 28 فروری کو ایران پر امریکی حملوں کے پہلے روز مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد سے وہ عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے۔ ان کی اس غیر موجودگی نے ان کی صحت اور موجودہ حیثیت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ امریکی صدر کے یہ بیانات ایران کے خلاف جاری فوجی اور اقتصادی دباؤ کے تناظر میں بھی دیکھے جا رہے ہیں، جسے ٹرمپ مؤثر قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایک بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور امریکہ بہت جلد ایک بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ تاہم، ٹرمپ کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای: ایک نئی قیادت کا آغاز

مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، جو 8 ستمبر 1969 کو پیدا ہوئے، ایران کی سیاست میں ایک نمایاں اور اب سپریم لیڈر کے طور پر ابھرنے والی شخصیت ہیں۔ وہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے فرزند ہیں، جو تقریباً چار دہائیوں تک اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر رہے اور 28 فروری 2026 کو تہران میں ایک امریکی-اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کے والد کی شہادت کے بعد، ایران کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبر اعلیٰ منتخب کیا۔ مجلس خبرگان 88 ارکان پر مشتمل ایک مذہبی ادارہ ہے جو ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب کئی دہائیوں سے جاری قیاس آرائیوں کا اختتام ہے، کیونکہ مغربی ذرائع طویل عرصے سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھتے رہے تھے۔ ان کی پیدائش ایران کے شہر مشہد میں ایک آذری فارسی نژاد خامنہ ای خاندان میں ہوئی۔ انقلاب ایران کے وقت ان کی عمر تقریباً نو برس تھی جب ان کے والد ایک نمایاں سیاسی و مذہبی شخصیت کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سردشت اور مہاباد میں حاصل کی اور بعد میں تہران کے مدرسہ علوی سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد اور محمود ہاشمی شاہرودی کی رہنمائی میں اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور 1999 میں مزید دینی تعلیم کے لیے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا، جہاں وہ بعد میں دینیات کے استاد بھی بنے۔ ان کی تقرری کو بعض ناقدین ایران میں ایک طرح کی خاندانی طرز کی قیادت سے بھی تشبیہ دیتے ہیں، جو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت سے مشابہت رکھتی ہے۔

پس پردہ قیادت اور اثر و رسوخ

مجتبیٰ خامنہ ای، ایک عالم دین ہونے کے باوجود، ایران کی سیاسی اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ایک گہرا اور پس پردہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے زیادہ تر سیاسی کیریئر کے دوران کوئی رسمی سرکاری عہدہ نہیں رکھا، اور نہ ہی کسی عوامی انتخاب میں حصہ لیا۔ تاہم، انہیں اپنے والد کے دفتر میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے، جہاں انہیں اکثر اقتدار کے گلیاروں میں ایک بااثر پاور بروکر اور گیٹ کیپر کے طور پر دیکھا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) اور بسیج ملیشیا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات انہیں طاقت کے مراکز میں غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاجات کو دبانے میں بسیج ملیشیا کے کردار پر اثر ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ، 2025 میں پیش آنے والے ایک بڑے اور غیر معمولی قتل عام کے سلسلے میں بھی ان کا نام لیا گیا تھا۔

سنہ 2019 میں، امریکی وزارت خزانہ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد سے وابستہ افراد کے ساتھ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی حکام نے اس وقت الزام لگایا تھا کہ وہ کوئی باضابطہ حکومتی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود سپریم لیڈر کی جانب سے ایک بااثر کردار ادا کر رہے ہیں اور اسلامی انقلابی گارڈ کور-قدس فورس (IRGC-QF) اور بسیج مزاحمتی فورس (Basij) کے کمانڈروں کے ساتھ مل کر اپنے والد کی علاقائی طاقتوں کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ یہ پابندیاں ایران پر امریکی دباؤ کی ایک وسیع مہم کا حصہ تھیں، جس کا مقصد ایرانی نظام کے اندر اہم شخصیات کو نشانہ بنانا تھا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کا اقتدار سنبھالنا اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ ایران کے طاقتور اداروں میں سخت گیر حلقے بدستور مضبوط ہیں اور مستقبل میں ملک کی پالیسیوں، خصوصاً خارجہ اور سکیورٹی امور پر ان کا اثر برقرار رہ سکتا ہے۔

پہلوتفصیل
تاریخ پیدائش8 ستمبر 1969ء
والدآیت اللہ علی خامنہ ای (سابق سپریم لیڈر)
موجودہ عہدہایران کے سپریم لیڈر (8 مارچ 2026ء سے)
سیاسی پس منظرغیر رسمی مگر بااثر کردار، IRGC اور بسیج سے قریبی تعلقات
تعلیمی پس منظراسلامی علوم کی تعلیم، حوزہ علمیہ قم میں استاد
امریکی پابندیاں2019ء میں امریکی وزارت خزانہ نے پابندیاں عائد کیں

امریکی دباؤ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

ڈونلڈ ٹرمپ کے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق دعوے ایران کے خلاف امریکہ کی وسیع تر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کا عسکری اور اقتصادی دباؤ کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام چیزیں ایک “بڑی کامیابی” کی طرف بڑھ رہی ہیں اور امریکہ بہت جلد ایک بڑی کامیابی حاصل کرنے والا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں دیے جا رہے ہیں جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، اور امریکہ نے ان ممالک کو بھی اقتصادی نتائج کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے سے انکار کریں گے۔

آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، بھی ٹرمپ کے بیانات کا مرکز رہی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب درحقیقت مکمل طور پر کھلی ہے، اور متعدد بحری جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں جبکہ تمام بارودی سرنگیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایران پر امریکی دباؤ کے نتائج سے جوڑتے ہوئے کہا کہ عسکری اور اقتصادی اقدامات کے باعث صورتحال امریکہ کے حق میں آگے بڑھ رہی ہے۔

تاہم، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران اور عمان کے درمیان عارضی بحری راہداری سے متعلق بات چیت جاری ہے، اور تجارتی آمدورفت کے مکمل معمول پر آنے کی صورتحال اب بھی متنازع ہے۔ ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دور کردی جائے گی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے بیانات کو “وہم” قرار دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں آزادانہ بحری آمدورفت کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے حقوق اور اثر و رسوخ کو اہم قرار دیتا ہے۔

ایران میں جانشینی کا عمل اور اس کے مضمرات

ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہے، جو مجلس خبرگان (Assembly of Experts) کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔ یہ 88 رکنی مذہبی ادارہ ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا ذمہ دار ہے اور ممکنہ امیدواروں کی مذہبی، سیاسی اور قائدانہ اہلیت کا جائزہ لیتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب مجلس خبرگان کے متفقہ مشاورت کے بعد ہوا۔

یہ جانشینی نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جنہوں نے اپنے والد کے دفتر کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا اور پاسدارانِ انقلاب و قدس فورس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے، اب ایک ایسے وقت میں قیادت سنبھال رہے ہیں جب ایران کو شدید جنگی صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی تقرری کو بعض مبصرین ایران میں ایک طرح کی خاندانی جانشینی سے بھی تشبیہ دیتے ہیں، جسے کچھ ناقدین 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت کی طرز کی سیاسی روایت قرار دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کا اقتدار سنبھالنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے طاقتور اداروں میں سخت گیر حلقے بدستور مضبوط ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران کی خارجہ پالیسی اور سکیورٹی امور پر سخت گیر موقف برقرار رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کو اپنے 47 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ اس تبدیلی کا علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے، کیونکہ مغرب اور اسرائیل ایران کی نئی قیادت کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔

عالمی ردعمل اور آئندہ چیلنجز

مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب اور ان کی صحت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں پر عالمی سطح پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ چونکہ ٹرمپ کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لیے عالمی برادری میں ان پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم، ان کی قیادت میں ایران کی مستقبل کی پالیسیاں خاص طور پر مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔

اسرائیل، جو ایران کا ایک بڑا علاقائی حریف ہے، نے پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کوئی بھی جانشین نشانے پر ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایران میں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فوجی اور اقتصادی دباؤ نئے سپریم لیڈر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی پابندیوں کو “ریاستی اور معاشی دہشت گردی” قرار دیا ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایسے اقدامات سے روکے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو داخلی محاذ پر بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ ایران اس وقت شدید جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اور اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے علاوہ، معاشی صورتحال، جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر رہا اور مظاہرین کو بھی قتل کیا جا رہا ہے، بھی ایک اہم چیلنج ہو گا۔ نئے سپریم لیڈر کو ان تمام مسائل سے نمٹنا ہوگا جبکہ بین الاقوامی سطح پر ایران کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے معاملات پر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ بدستور برقرار ہے۔ نئے سپریم لیڈر کی پالیسیاں نہ صرف ایران کی داخلی صورتحال بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔

ایرانی سپریم لیڈر کی جانشینی کے متعلق ماضی کی قیاس آرائیاں

ایران کے سپریم لیڈر کا عہدہ اسلامی جمہوریہ میں سب سے طاقتور مقام ہے، اور اس کی جانشینی کا عمل ہمیشہ سے ہی عالمی مبصرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دورِ قیادت میں بھی ان کے ممکنہ جانشین کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری رہتی تھیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ان ممکنہ جانشینوں میں سرفہرست رہا ہے۔ انہیں طویل عرصے سے ایک بااثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اور ان کے پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سیکورٹی اداروں سے قریبی تعلقات نے ان کے دعوے کو مزید تقویت دی تھی۔

تاہم، ایران میں جانشینی کا عمل انتہائی خفیہ نوعیت کا ہوتا ہے، اور مجلس خبرگان اپنے فیصلے عوامی سطح پر سامنے آنے سے پہلے انتہائی احتیاط سے کرتی ہے۔ ماضی میں بھی کئی شخصیات کو سپریم لیڈر کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن حتمی فیصلہ اکثر اندرونی سیاسی گلیاروں اور مذہبی علماء کے درمیان پیچیدہ مشاورت کے بعد ہی ہوتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی کم عوامی پروفائل اور کسی سرکاری عہدے پر منتخب نہ ہونے کے باوجود ان کا انتخاب، ان کے اندرونی اثر و رسوخ اور مذہبی حلقوں میں ان کی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

جانشینی کا یہ عمل ایران کے نظام کی پختگی اور اس کی اندرونی طاقت کی ساخت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کا سیاسی ڈھانچہ، بانی آیت اللہ خمینی کے اصولوں پر قائم ہے، جو مذہبی قیادت اور ریاستی امور کو یکجا کرتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے ساتھ، ایک نئی نسل کی قیادت نے ایران کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جس کے بارے میں عالمی مبصرین مختلف آراء رکھتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اپنے پیشرو کی پالیسیوں کو کس حد تک جاری رکھیں گے اور امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو کیسے آگے بڑھائیں گے۔

نتیجہ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں مگر شدید زخمی ہیں، ان کی عوامی عدم موجودگی اور ایرانی حکام کے بیانات کے تناظر میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب ہو چکے ہیں، اور ایران کو اندرونی و بیرونی طور پر کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب، جو مجلس خبرگان کے ذریعے عمل میں آیا، ایران کی داخلی سیاست میں سخت گیر حلقوں کے مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سیکورٹی اداروں سے قریبی تعلقات ایران کی آئندہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر امریکی دعوے اور ایران پر جاری اقتصادی پابندیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

جب تک مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ حالت کے بارے میں کوئی ٹھوس اور آزادانہ تصدیق شدہ معلومات سامنے نہیں آتیں، ٹرمپ کے دعوے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ایران کی نئی قیادت کے لیے یہ ایک حساس اور چیلنجنگ دور ہے، جہاں انہیں نہ صرف داخلی استحکام برقرار رکھنا ہے بلکہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی ایک نئی سمت دینی ہے۔ آئندہ دنوں میں ایران کی پالیسیاں اور مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی موجودگی (یا عدم موجودگی) مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔