وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 سالوں کے لیے ایک نئی آٹو پالیسی کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے آٹو سیکٹر میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہے۔ یہ پالیسی 2026 سے 2031 تک نافذ العمل ہوگی اور اس کا بنیادی ہدف مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے ملک میں گاڑیوں کی تیاری، فروخت اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
یہ نئی پالیسی گاڑیوں کی صنعت میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گی۔ یہ حکومتی کوششیں ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی اور مستقبل کی پیشرفت
پالیسی کے بنیادی مقاصد اور اہم اہداف
نئی آٹو پالیسی کے متعدد کلیدی مقاصد ہیں جن میں مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کو بڑھانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ اور مقامی پیداوار کی صلاحیت کو بہتر بنانا بھی اس پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جائے۔
یہ پالیسی نہ صرف معیشت کو سہارا دے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کو بھی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ سے آلودگی میں کمی آئے گی اور ملک کے ایندھن کے درآمدی بل میں نمایاں بچت ہوگی۔ اس سے عوام کی صحت اور زندگی کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
- مقامی صنعت میں سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ۔
- گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینا۔
- جدید ٹیکنالوجی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا فروغ۔
- آلودگی میں کمی اور ایندھن کے اخراجات میں بچت۔
- غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت۔
- عوامی صحت کے معیار میں بہتری۔
ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے نمایاں مراعات
نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ پانچ سالوں کے دوران ٹیکسوں اور ڈیوٹی میں مرحلہ وار 20 فیصد تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک اہم اقدام ہے جس سے صارفین کو سستی ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے کا موقع ملے گا۔ مثال کے طور پر، 800 سی سی تک اور 851 سے 1000 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح، 1501 سے 1800 سی سی اور 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی موجودہ 50 فیصد ڈیوٹی کو پانچ سال کے دوران مرحلہ وار کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ ہائبرڈ ٹرکوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد، ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد اور ہائبرڈ بسوں پر 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی بھی تجاویز شامل ہیں۔
نئی انرجی گاڑیوں (NEVs) اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا فروغ
نئی پالیسی میں بیٹری الیکٹرک گاڑیاں (BEVs)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں (REEVs) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (PHEVs) کو سب سے زیادہ ترجیحی ٹیکس سہولیات دی جائیں گی۔ ان نئی انرجی گاڑیوں، ان کی مکمل ناک ڈاؤن کٹس، پرزہ جات، ان پٹس اور خام مال پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔ اس کے علاوہ، انہیں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
حکومت نے NEVs کی خریداری کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس سے عام صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان ہو جائے گی۔ چارجنگ اور بیٹری سویپ اسٹیشنز کی درآمد پر بھی ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی جبکہ سویپ اسٹیشنز کے لیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
| گاڑی کی قسم | موجودہ ڈیوٹی (فیصد) | نئی مجوزہ ڈیوٹی (فیصد) | کمی |
|---|---|---|---|
| 800-1000 سی سی ہائبرڈ گاڑیاں | 50% | 30% | 20% |
| 1501-1800 سی سی ہائبرڈ گاڑیاں | 50% | 30% | 20% |
| 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیاں | 50% | 30% | 20% |
| ہائبرڈ ٹرکس | 30% | 15% | 15% |
| ہائبرڈ کمرشل گاڑیاں | 60% | 30% | 30% |
| ہائبرڈ بسیں | 30% | 15% | 15% |
حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل (NEV) پالیسی 2025-30 کے تحت 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں میں سے 30 فیصد الیکٹرک کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے، حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 9 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔ اس سبسڈی کا ایک بڑا حصہ الیکٹرک بائیکس اور رکشے فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا، جس میں خواتین کے لیے بھی 25 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ اور حکومتی اقدامات
ماحولیاتی لیوی اور روایتی گاڑیوں پر اثرات
نئی آٹو پالیسی میں مالی ضروریات پوری کرنے اور ماحولیاتی اہداف کے لیے بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق 2001 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 10 فیصد جبکہ 3001 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں پر 19.5 فیصد ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس سے آئندہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 142.79 ارب روپے کی آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ آمدن گاڑیوں کی برآمدات کے فروغ، تحقیق و ترقی اور متعلقہ شعبوں کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے گی۔ دوسری جانب، پالیسی میں روایتی گاڑیوں کے موجودہ اسمبلرز کو مزید چار سال تک تحفظ دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ البتہ روایتی اندرونی احتراقی انجن (ICE) گاڑیوں پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے تاکہ ٹیرف میں کمی سے پیدا ہونے والے قیمتوں کے فرق کو متوازن کیا جا سکے۔
تاہم، وزیراعظم نے 1000 سی سی سے کم روایتی گاڑیوں پر مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، جو چھوٹے اور متوسط طبقے کے خریداروں کے لیے ایک ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں اور روایتی ICE گاڑیاں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کے حوالے سے یکساں سلوک کی حامل ہوں گی، سوائے NEVs کے جنہیں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔
آئی ایم ایف کی منظوری اور عملی چیلنجز
وزیراعظم کی اصولی منظوری کے بعد، اس پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد، اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) اور وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی اس پالیسی کا باقاعدہ اطلاق ممکن ہو سکے گا اور عملدرآمد شروع ہوگا۔
ماضی میں بھی آٹو پال
