بغیر ٹرائل عمر خالد کی قید کو چھ سال مکمل ہو چکے ہیں، یہ ایک ایسا سنگین معاملہ ہے جس نے بھارتی نظام انصاف پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو دہلی فسادات کی مبینہ “بڑی سازش” کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
چھ سال کی طویل حراست کے باوجود، ان پر تاحال فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے، اور نہ ہی مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
دہلی فسادات کے تناظر میں بین الاقوامی کشیدگی
عمر خالد کون ہیں اور ان کا معاملہ کیا ہے؟
سید عمر خالد، ایک نمایاں طالب علم رہنما اور سماجی کارکن ہیں، جو اپنی بے باک آواز اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ 2019-2020 کے موسم سرما میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ملک گیر احتجاج میں سرگرم رہے تھے۔
ان پر دہلی فسادات سے متعلق آئی پی سی کے مختلف دفعات، اسلحہ ایکٹ اور UAPA کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں فساد، مہلک ہتھیاروں سے فساد، قتل، قتل کی کوشش، بغاوت، اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا شامل ہیں۔
دہلی فسادات کی سازش میں مبینہ کردار
عمر خالد نے 2016 میں جے این یو غداری کیس میں بھی حراست کا سامنا کیا تھا، جہاں ان کے خلاف لگائے گئے ‘بھارت مخالف نعروں’ کے شواہد کو بعد میں جعلی قرار دیا گیا تھا۔ انہیں بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
- وہ ‘یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ’ مہم کے بانی ارکان میں سے بھی ہیں، جس کا مقصد شمالی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
- خالد نے قبائلی سماج اور ان کی تکالیف پر پی ایچ ڈی بھی کی ہے، جو ان کے سماجی کاموں کی عکاسی کرتی ہے۔
UAPA کے تحت گرفتاریوں کے عالمی نتائج
UAPA قانون اور اس کا غلط استعمال
غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) ایک متنازعہ قانون ہے جسے 1967 میں ملک مخالف سرگرمیوں کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون میں متعدد ترامیم کی گئی ہیں، خاص طور پر 2019 میں، جس کے تحت حکومت کو کسی بھی فرد کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ UAPA کی دفعات اتنی سخت ہیں کہ یہ ضمانت کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں، اور ریاست کو صرف الزامات کی بنیاد پر کسی فرد کو برسوں تک قید رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
بھارت میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی
اس قانون کے تحت ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑتا ہے، نہ کہ استغاثہ کو جرم ثابت کرنا ہوتا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ UAPA کے تحت ضمانت کی درخواستیں بارہا مسترد کی جاتی رہی ہیں، اور سماعتوں میں غیر ضروری تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔
| معاملہ | تفصیل |
|---|---|
| گرفتاری کی تاریخ | 13 ستمبر 2020 |
| قید کی مدت (2026 تک) | 6 سال |
| اہم الزام | دہلی فسادات کی “بڑی سازش” میں ملوث ہونا (UAPA کے تحت) |
| ضمانت کی صورتحال | بارہا مسترد، سپریم کورٹ سے بھی ضمانت سے انکار |
| ٹرائل کی حیثیت | شروع نہیں ہوا، الزامات کا طے ہونا باقی ہے |
ضمانت سے انکار اور مقدمے کی سست روی
عمر خالد کو ضمانت دینے سے متعدد بار انکار کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ UAPA کی سخت دفعات اور عدالتوں کی جانب سے یہ قرار دینا ہے کہ ان کے خلاف “پہلی نظر میں” کیس بنتا ہے۔
حال ہی میں، جولائی اور اگست 2026 میں، دہلی ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ دونوں نے عمر خالد اور شرجیل امام کی نئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، حالانکہ سپریم کورٹ نے UAPA کے تحت بھی “ضمانت اصول ہے، جیل استثنا” قرار دیا ہے۔
دوسرے شریک ملزمان جیسے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، سلیم خان، اور شاداب احمد کو ضمانت مل چکی ہے، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو اب بھی حراست میں رکھا گیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ ان کا کردار دوسروں سے مختلف تھا۔
عالمی برادری کی تشویش
عمر خالد کی طویل قید نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ 2026 میں، آٹھ امریکی قانون سازوں نے ہندوستانی سفیر کو ایک مشترکہ خط لکھ کر عمر خالد کو ضمانت دینے اور ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور معیار کے مطابق چلانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فرد کو معقول مدت میں ٹرائل یا رہائی کا حق حاصل ہونا چاہیے، اور جب تک جرم ثابت نہ ہو، اسے بے گناہ تصور کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس معاملے پر مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے اصولوں پر عمل کرے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبات
ملک بھر کی 100 سے زائد اہم شخصیات، جن میں سماجی کارکن، مصنفین، فلم ساز اور ماہرین تعلیم شامل ہیں، نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک کھلا خط لکھ کر عمر خالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید پر توجہ دلائی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ “احتجاج دہشت گردی نہیں ہے” اور اختلاف رائے کو UAPA جیسے قوانین کے تحت کچلنا ایک مہذب جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔
عمر خالد کے والد نے بھی دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا، اس امید کے ساتھ کہ سپریم کورٹ انہیں انصاف فراہم کرے گی۔
بھارتی نظام انصاف پر سنگین سوالات
عمر خالد کے معاملے نے بھارتی نظام انصاف کے بنیادی ستونوں پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ بغیر ٹرائل کے کسی کو اتنے طویل عرصے تک قید رکھنا آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ذاتی آزادی کے حق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
خصوصاً جب سپریم کورٹ خود یہ کہہ چکی ہے کہ UAPA جیسے سخت قوانین کے تحت بھی “ضمانت ایک اصول ہے اور جیل استثناء ہے”۔ اس کے باوجود عمر خالد کو ضمانت نہ ملنا عدالتی فیصلوں کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور حکومت اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی پاسداری کو عالمی سطح پر سراہا جاتا تھا، وہاں ایسے واقعات تشویشناک ہیں۔
بھارتی جریدے دی کوئنٹ کے مطابق، دہلی فسادات کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے بعض بی جے پی رہنما آزاد ہیں، جبکہ عمر خالد تاحال قید ہیں۔ یہ صورتحال انصاف کے دوہرے معیار کی نشاندہی کرتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ ممکنہ راستہ
عمر خالد کے وکلاء مسلسل ضمانت کے حصول اور مقدمے کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں، جولائی 2026 میں، انہیں اپنی والدہ کی سرجری کے لیے تین دن کی عبوری ضمانت ملی تھی، جو ایک عارضی راحت تھی۔
سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس کہ UAPA کے تحت بھی ضمانت ایک اصول ہے، ایک نئی امید پیدا کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ماضی کے فیصلوں پر نظر ثانی کریں اور عمر خالد کو انصاف فراہم کریں۔
مضبوط راستہ یہی ہے کہ آئین، قانون، پرامن جدوجہد اور قانونی اداروں کے ذریعے انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔ بھارت کی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوگی جب ہر شہری، چاہے وہ اکثریت سے ہو یا اقلیت سے، یہ محسوس کرے کہ قانون اس کے ساتھ برابر کھڑا ہے۔
اس معاملے کی عالمی سطح پر مسلسل نگرانی اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے دباؤ بھی انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں ہیں۔
نتیجہ
عمر خالد کی بغیر ٹرائل چھ سالہ قید بھارت کے جمہوری اور عدالتی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ یہ نہ صرف ایک فرد کی آزادی کا معاملہ ہے بلکہ وسیع تر عدالتی اصلاحات اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے۔
بھارتی نظام انصاف کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کو حل کرے، ٹرائل کو شروع کرے، یا عمر خالد کو ضمانت پر رہا کرے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کے لیے یہ ایک افسوسناک مثال ہے جو اس کے بنیادی اصولوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
