مقبول خبریں

بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف گوگل کا شاندار اقدام: 2024 میں ڈیجیٹل تحفظ کی نئی حکمت عملی

بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف گوگل کا بڑا اقدام ملک میں آن لائن چائلڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدام بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے گوگل کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے فعال روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ 2024 میں، یہ حکمت عملی مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے تاکہ بچوں کے لیے ایک محفوظ آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کا جنسی استحصال، جسے چائلڈ سیکسول ابیوز میٹریل (CSAM) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اور گوگل اپنی مصنوعات اور خدمات میں بچوں کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ کوششیں نہ صرف تکنیکی حل فراہم کرتی ہیں بلکہ آگاہی اور تعلیم کے ذریعے بھی اس مسئلے سے لڑتی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون

بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کا سنگین منظرنامہ

بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں، اور ملک میں یہ ایک کم رپورٹ شدہ جرم ہے جو وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئیٹڈ چلڈرن (NCMEC) کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت CSAM سے متعلق 2.25 ملین سے زیادہ رپورٹس کے ساتھ عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کی رپورٹس بھی اس سنگینی کو اجاگر کرتی ہیں۔ 2018 میں، بھارت میں ہر روز اوسطاً 109 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح، 2023 میں بچوں کے خلاف جرائم کے 177,335 واقعات درج کیے گئے، جو 2022 کے مقابلے میں 9.2 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا حصہ Protection of Children from Sexual Offences (POCSO) ایکٹ کے تحت درج کیے گئے مقدمات کا ہے۔

عالمی خبروں کا جائزہ

آن لائن پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (CSAM) کی گردش میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مئی 2023 میں، میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارت میں سوشل میڈیا پر CSAM کی گردش میں 250 سے 300 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ ٹیکنالوجی کی دو دھاری تلوار کو نمایاں کرتا ہے، جہاں اس کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ بچوں کے استحصال کے لیے اس کے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔

گوگل کا عالمی عزم اور ٹیکنالوجیکل حل

گوگل آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کا مقابلہ کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز کو اس طرح کے مواد کو پھیلانے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی کی خدمات کی شرائط سختی سے کسی بھی گوگل پلیٹ فارم یا سروس کو CSAM کو ذخیرہ کرنے یا شیئر کرنے کے لیے استعمال کرنے سے منع کرتی ہیں۔ گوگل کی ٹیمیں اس مواد کی نشاندہی، ہٹانے اور رپورٹ کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں، جس میں صنعت کے سرکردہ خودکار شناخت کے آلات اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ جائزہ کاروں کا امتزاج استعمال ہوتا ہے۔

گوگل کا بنیادی مقصد اپنے پلیٹ فارمز پر غلط استعمال کو روکنا ہے جبکہ غلط معطلی کے خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔ جب گوگل اپنے پلیٹ فارمز پر CSAM کی شناخت کرتا ہے، تو وہ NCMEC (نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئیٹڈ چلڈرن) کو ایک “سائبر ٹِپ لائن” رپورٹ بھیجتا ہے۔ NCMEC پھر ان رپورٹس کو دنیا بھر کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو بھیجتا ہے، جس سے عالمی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی

ٹیکنالوجی کے ذریعے مواد کی شناخت اور رپورٹنگ

گوگل CSAM کی شناخت کے لیے دو اہم ٹیکنالوجیز پر انحصار کرتا ہے: ہیش میچنگ اور مصنوعی ذہانت (AI)۔ ہیش میچنگ تکنیک کے ذریعے، پہلے سے شناخت شدہ CSAM کو اس کے منفرد ڈیجیٹل دستخط (ہیش) کا استعمال کرتے ہوئے خود بخود جھنڈا لگایا جاتا ہے اور معروف دستخطوں کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ الگورتھم نئے اور نامعلوم CSAM مواد کی شناخت میں مدد کرتے ہیں، جو مستقل طور پر تیار ہونے والے مواد سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

  • ہیش میچنگ: یہ ٹیکنالوجی تصاویر اور ویڈیوز کو ایک منفرد ڈیجیٹل دستخط (ہیش) فراہم کرتی ہے، جو پہلے سے معلوم CSAM کے ایک ڈیٹا بیس سے ملایا جاتا ہے۔
  • مصنوعی ذہانت (AI): AI ماڈلز کو نئے CSAM مواد کی شناخت کے لیے تربیت دی جاتی ہے، جو ان مواد کو تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں جو ہیش ڈیٹا بیس میں موجود نہیں ہیں۔
  • خودکار شناخت: گوگل کا 99.7% CSAM مواد خودکار طریقوں سے شناخت کیا جاتا ہے، جس میں ہیش میچنگ اور مشین لرننگ کلاسیفائرز شامل ہیں۔
  • دستی جائزہ: ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم انسانی جائزے کے ذریعے خودکار شناخت کی تکمیل کرتی ہے اور پیچیدہ کیسز کو سنبھالتی ہے۔

گوگل انڈسٹری ہیش ڈیٹا بیس کے ساتھ لاکھوں CSAM ہیشز کا اشتراک کرتا ہے، تاکہ دوسرے فراہم کنندگان بھی ان ہیشز تک رسائی حاصل کر سکیں۔ کمپنی نے پراجیکٹ لالٹین پر بھی دستخط کیے ہیں، ایک ایسا پروگرام جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن جنسی استحصال کا مقابلہ کرنے کے لیے متعلقہ بدسلوکی کے سگنلز کا اشتراک کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ اجتماعی کوششیں آن لائن بچوں کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

بھارت میں گوگل کے مخصوص اقدامات اور شراکتیں

گوگل عالمی سطح پر اپنی کوششوں کو بھارت کے مخصوص چیلنجز اور قانونی فریم ورک کے مطابق ڈھالتا ہے۔ گوگل سیفٹی سینٹر انڈیا بچوں اور والدین کے لیے آن لائن محفوظ رہنے کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے، بشمول آن لائن ہراسانی اور سائبر بدمعاشی سے نمٹنے کے بارے میں معلومات۔ یہ اقدامات بھارت میں بچوں کو بااختیار بنانے اور انہیں آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے اہم ہیں۔

گوگل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے تاکہ CSAM سے متعلق کیسز کی تفتیش اور کارروائی میں مدد مل سکے۔ بھارت میں، یہ تعاون IT Rules 2021 کے تحت مزید مضبوط ہوتا ہے، جو بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایک چیف کمپلائنس آفیسر اور ایک نوڈل رابطہ افسر مقرر کرنے کا پابند کرتا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ 24/7 ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فریم ورک رپورٹنگ اور کارروائی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔

علاقائی پیش رفت

گوگل کے CSAM کے خلاف کلیدی اقدامات تفصیل
پلیٹ فارمز سے ہٹانا تمام گوگل پلیٹ فارمز سے CSAM مواد کی فوری شناخت اور ہٹانا۔
نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئیٹڈ چلڈرن (NCMEC) کو رپورٹنگ شناخت شدہ CSAM کے بارے میں NCMEC کو سائبر ٹِپ لائن رپورٹس بھیجنا۔
خودکار شناخت کے آلات ہیش میچنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے CSAM مواد کی بڑے پیمانے پر شناخت۔
صارف کی رپورٹس کا جائزہ تیسرے فریقوں اور صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
پراجیکٹ لالٹین میں شمولیت آن لائن جنسی استحصال کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ۔
تربیت یافتہ جائزہ کاروں کی ٹیمیں ماہرین کی ٹیمیں خودکار سسٹمز کے نتائج کی درستگی کو یقینی بناتی ہیں۔

قانونی فریم ورک اور ریگولیٹری تعاون

بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف لڑائی میں POCSO ایکٹ 2012 ایک اہم قانونی ہتھیار ہے، جسے 2019 میں مزید سخت سزاؤں، بشمول سزائے موت، کے لیے ترمیم کیا گیا۔ یہ قانون 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو بچے کے طور پر تعریف کرتا ہے اور رضامندی سے قطع نظر، نابالغوں کے ساتھ کسی بھی جنسی عمل کو جرم قرار دیتا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ کے لیے اس کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 (IT Rules 2021) نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اہم ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ ان قوانین کے تحت، اہم سوشل میڈیا انٹرمیڈیریز (50 لاکھ سے زیادہ صارفین والے) کو خودکار ٹولز کے ذریعے CSAM کی فعال شناخت کرنی ہوگی اور حکومتی ایجنسیوں سے موصول ہونے والے احکامات پر 72 گھنٹوں کے اندر معلومات فراہم کرنی ہوگی۔ حکومت نے صارفین کو انٹرمیڈیریز کے شکایتی افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کے قابل بنانے کے لیے گریوینس اپیلٹ کمیٹیاں (GACs) بھی قائم کی ہیں۔

بھارتی سیاست اور معاشرتی مسائل

یہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے مزید فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ گوگل ان قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور کارروائیوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے، تاکہ آن لائن خطرات سے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

آگہی، تعلیم اور کمیونٹی کی شمولیت

صرف تکنیکی اور قانونی اقدامات ہی کافی نہیں، بلکہ عوامی آگہی اور تعلیم بھی بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے POCSO ایکٹ 2012 کے بارے میں معلومات اور بیداری پھیلانے کے لیے معلوماتی، تعلیمی اور مواصلاتی (IEC) مواد تیار کیا ہے۔ یہ مواد NCPCR کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور اس میں انٹرنیٹ پر محفوظ رہنے کے طریقوں کے بارے میں بھی معلومات شامل ہیں۔

NCPCR نے مارچ 2020 سے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور POCSO ایکٹ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کئی آن لائن پروگرامز اور ویبینارز کا انعقاد کیا ہے۔ ان میں سائبر سیفٹی، آن لائن اسکولنگ کے دوران بچوں کی حفاظت، اور گھر میں سائبر سیفٹی جیسے موضوعات شامل تھے۔ یہ کوششیں والدین، اساتذہ اور