اس سال کے ایل نینو 2024 نے موسمیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس نے اپنے متوقع عروج سے کئی ماہ پہلے ہی ریکارڈ توڑ شدت اختیار کر لی ہے۔ بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ماضی کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ یہ موسمیاتی نظام عالمی درجہ حرارت کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے اور دنیا بھر میں شدید موسمیاتی واقعات کا سبب بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایل نینو 2023-2024 کے دوران رونما ہونے والی حالیہ لہر سے زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتا ہے، جس نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی غیر معمولی شدت کے اثرات سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ مل کر، ایل نینو کے یہ بڑھتے ہوئے رجحانات کرہ ارض کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
ایل نینو کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے خط استوائی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ سمندر اور فضا کے درمیان تعامل کا ایک پیچیدہ عمل ہے جو دنیا بھر کے موسمی نمونوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ عام طور پر ہر دو سے سات سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور کئی ماہ سے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
ایل نینو کے دوران، مشرقی بحرالکاہل میں گرم پانی مغرب سے مشرق کی طرف پھیلتا ہے، جس سے جیٹ سٹریم کی تیز ہوائیں جنوب اور مشرق کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مختلف خطوں میں بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے عالمی اثرات زراعت، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظام پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
2024 کا غیر معمولی ایل نینو: متوقع عروج سے قبل شدت
موجودہ ایل نینو کو غیر معمولی طور پر شدید قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اپنے عروج پر پہنچنے سے کئی ماہ پہلے ہی شدت اختیار کر لی ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ جون 2026 میں بننے والا یہ مضبوط ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ بحرالکاہل کے کچھ حصوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ زیر سمندر درجہ حرارت بعض مقامات پر معمول سے 8 ڈگری تک زائد رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بار کا ایل نینو ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے، جس کے واضح موسمی اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس کی ابتدائی پیشرفت نے حکام کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
- بحیرہ عرب میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
- عالمی سطح پر زمینی درجہ حرارت میں 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ کا اوسطاً اضافہ متوقع ہے۔
- شدید گرم دنوں کی تعداد میں 44 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے۔
ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور اس کے اثرات
ایل نینو کے باعث عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے، اور 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، 2026 کے اختتام پر بننے والا مضبوط ایل نینو 2027 کو دنیا کا گرم ترین سال بنا سکتا ہے، اور 2024 کا موجودہ عالمی درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان 86 فیصد ہے۔
شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی اور غیر متوقع بارشیں دنیا بھر میں معمول بن رہی ہیں۔ خاص طور پر یورپ جیسے خطے عالمی اوسط کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے گرم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
| علاقہ | متوقع اثر |
|---|---|
| جنوبی امریکہ، مشرقی افریقہ | شدید بارشیں اور سیلاب کا خطرہ۔ |
| جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، وسطی افریقہ، جنوبی ایشیا (بشمول پاکستان اور بھارت) | شدید خشک سالی، جنگلات میں آگ، بارشوں میں کمی۔ |
| دنیا بھر کے کئی خطے | ریکارڈ توڑ گرمی، ہیٹ ویوز۔ |
سمندری زندگی اور ماحولیاتی نظام پر تباہ کن اثرات
ایل نینو کے غیر معمولی گرم پانیوں کے اثرات سمندری زندگی پر تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ مرجان کی چٹانوں (coral reefs) کو سفید کرنے (coral bleaching) کا سبب بنتا ہے، جس سے سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ یہ نہ صرف مرجانوں کو ہلاک کرتا ہے بلکہ ان پر منحصر دیگر سمندری انواع کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
ماہی گیری کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوتا ہے کیونکہ گرم پانیوں کی وجہ سے مچھلیوں کے مسکن اور ان کی تولیدی سائیکل میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ اس کے طویل المدتی اثرات سمندری حیاتیاتی تنوع اور اس کے قدرتی ذرائع پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہ عالمی ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
سمندری حیات پر ایل نینو کے اثرات
زراعت اور عالمی غذائی تحفظ کو لاحق خطرات
ایل نینو کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں شدید خشک سالی اور غیر متوقع بارشیں زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ فصلوں کی ناکامی، آبی وسائل میں کمی اور مویشیوں کے لیے چارے کی قلت غذائی تحفظ کے سنگین بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ 2027 تک ایل نینو کی وجہ سے کم از کم 49 ملین مزید افراد بھوک کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا زیادہ شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مکئی، چاول اور بارش پر منحصر دیگر فصلوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور اقتصادی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا پر ممکنہ اثرات
پاکستان اور جنوبی ایشیا کے خطے میں بھی ایل نینو کے سنگین اثرات متوقع ہیں۔ سپارکو (SUPARCO) نے ایل نینو الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں رواں سال کے مون سون اور سردیوں میں موسمی پیٹرن متاثر ہونے کا امکان ہے۔ یہ کمزور مون سون بارشوں، بڑھتی ہوئی خشک سالی اور سردیوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور کم بارشیں زرعی شعبے اور آبی وسائل کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ ہیٹ ویوز کے امکانات میں اضافہ اور پانی کی قلت ملک کے مختلف حصوں میں انسانی صحت اور معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ بھارت میں بھی مانسون کی بارشیں اوسط سے 15 فیصد کم رہی ہیں۔
مستقبل کے موسمی رجحانات اور ایل نینو
موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایل نینو کے اثرات کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ 1950 کے بعد سے رونما ہونے والے ایل نینو کے واقعات کی شدت 1850 اور 1950 کے درمیان مشاہدہ کیے گئے واقعات سے زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں ایل نینو کے واقعات زیادہ شدید اور کثرت سے رونما ہو سکتے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی پیش گوئی کے مطابق، ستمبر سے نومبر 2026 کے دوران دنیا میں تقریباً ہر جگہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔ یہ رجحان موسمیاتی ماڈلز میں ایک نئی حقیقت کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
عالمی ردعمل اور تیاری کی ضرورت
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے ایل نینو کی شدت کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بروقت وارننگ، ہیٹ ایکشن پلان، کولنگ سینٹرز کا قیام اور طبی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی موافقت کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔
سائنسدان مسلسل اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس کے طویل المدتی نقصانات سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ عالمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ہی اس خطرناک موسمیاتی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی کلید ہے۔ مزید معلومات کے لیے، ڈان نیوز کی ایل نینو پر رپورٹ دیکھیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات
نتیجہ
اس سال کے ایل نینو 2024 کا خطرناک آغاز اور اس کی ریکارڈ توڑ شدت عالمی برادری کے لیے ایک فوری خطرے کی گھنٹی ہے۔ متوقع عروج سے قبل ہی اس کی بڑھتی ہوئی شدت نے ہمیں مستقبل کے مزید گرم اور غیر مستحکم موسموں کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، شدید موسمیاتی واقعات اور انسانی جانوں و معاش پر اس کے گہرے اثرات ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
