مقبول خبریں

ٹرمپ ایران پر بڑے حملے پر غور کررہے ہیں، اماراتی اخبار کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر ایک بڑے فوجی حملے پر غور کی خبریں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ دعویٰ ایک اماراتی اخبار کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اس ممکنہ اقدام کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں اور خطے کے استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہیں اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی جاری رہی ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جہاں کسی بھی فوجی محاذ آرائی سے خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران پر نئے امریکی حملے کا امکان

اماراتی اخبار کا دعویٰ اور اس کی تفصیلات

حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایک اماراتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر ایران کے جزیرہ خارگ پر تیل اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ الجزیرہ نے وال اسٹریٹ جنرل کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے اہم توانائی مراکز اور جوہری تنصیبات کو ہدف بنانے کے منصوبے تیار کیے تھے۔

یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے، اور اس پر کسی بھی حملے کے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اماراتی اخبار کی یہ خبر خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بنی ہے۔ امریکی حکام نے ایسی کارروائی کے ممکنہ وقت پر مشاورت کی تھی جو وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہو سکتی تھی۔

ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی کا جائزہ

ایگزیوس نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے تھے، جس کا انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی ذکر کیا۔ یہ تمام خبریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان ٹرمپ کے دور میں ایک حقیقی خطرہ تھا۔ متحدہ عرب امارات نے خود بھی ایران پر حملے کیے ہیں اور ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی سرزمین پر اسرائیلی فضائی دفاعی دستوں کی میزبانی بھی کی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کا پس منظر

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی نے امریکہ-ایران تعلقات کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ 2018 میں جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری کے بعد ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا اور اسے اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر حزب اللہ اور یمن کے حوثی گروپ کو مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے واضح کیا تھا کہ ایران کو جوہری معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ اسے تباہ کن فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی دباؤ ہمیشہ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔

امریکہ اور ایران: ایک دوسرے پر حملے اور ردعمل

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی کشیدگی

امریکہ اور ایران کے تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور یرغمالیوں کے واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو منقطع کر دیا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک متعدد براہ راست محاذ آرائیوں اور پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں۔

ایران نے ہمیشہ امریکی پالیسیوں کو خطے میں اپنی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ ان تاریخی بنیادوں پر ہی حالیہ کشیدگی کی عمارت کھڑی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں

اماراتی موقف اور علاقائی محرکات

متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک ایران کے جوہری عزائم اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے شدید خدشات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے اکثر ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی حمایت کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے جہاں ٹرمپ کو ایران پر بڑے حملے سے روکا، وہیں متحدہ عرب امارات نے ان پر “مزید فیصلہ کن کارروائی” کرنے کے لیے لابنگ کی۔

اماراتی اخبارات کی جانب سے ایسی خبروں کا سامنے آنا کوئی اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں ایران کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت موجود ہے۔ خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

اہم فریق ایران کے حوالے سے موقف ممکنہ اثرات
امریکہ (ٹرمپ انتظامیہ) زیادہ سے زیادہ دباؤ، جوہری پروگرام کا خاتمہ، علاقائی اثر و رسوخ کی تحدید، فوجی کارروائی کا امکان خطے میں مکمل جنگ، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی
متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی حمایت، علاقائی سلامتی کے خدشات ملک کو جوابی حملوں کا خطرہ، علاقائی عدم استحکام
ایران جوہری حق پر اصرار، امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت، جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی ملکی تنصیبات کو نقصان، معاشی مزید تنزلی، انسانی جانوں کا ضیاع
سعودی عرب بڑے حملے کے بجائے سفارتی حل کی حمایت، علاقائی استحکام پر زور جنگ کی صورت میں اہم تنصیبات کو نشانہ بننے کا خطرہ

ممکنہ فوجی کارروائی کے اہداف اور اثرات

اگر امریکہ ایران کے خلاف کوئی بڑا فوجی اقدام کرتا ہے تو اس کے ممکنہ اہداف کیا ہو سکتے ہیں اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے طاقتور ترین غیر جوہری بموں کے استعمال سمیت نئے حملوں کے منصوبوں پر غور کر چکا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو اہم ترین اہداف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ایران نے بھی واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق، اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایران کی فوجی کشیدگی: امریکہ کے خلاف بیانات

خطے میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور اس وقت تقریباً 30,000 امریکی فوجی پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ فوجی قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں قائم بڑے اڈوں پر تعینات ہیں۔ کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں یہ تمام علاقے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کے خلاف ردعمل

عالمی رد عمل اور سفارتی کوششیں

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم پر عالمی برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک نے اکثر اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ یورپی ممالک بھی کشیدگی میں کمی لانے اور جوہری معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو یورپ کی مدد درکار تھی، لیکن یورپی ممالک واشنگٹن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

گزشتہ برسوں میں، امریکہ اور ایران کے درمیان کئی مواقع پر مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، لیکن زیادہ تر ناکام رہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور قطر کی ثالثی سے 2026 میں ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت مقرر کی گئی تھی، جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے۔ عالمی سطح پر اب بھی سفارتی حل کی امیدیں موجود ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹرمپ ایران جنگ ہار گئے ہیں؟

ایران کے جوہری عزائم اور امریکہ کا موقف

امریکہ کا سب سے بڑا اعتراض ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جس کے بارے میں واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ نے ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابل تصدیق ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا جاری رکھیں گے۔

ایران نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے پرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے۔ تاہم، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس دعوے پر تشویش ہے، اور اسی بنا پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر روس اور چین کے ساتھ مذاکرات کا بھی ذکر کیا تھا۔

ایران پر دباؤ اور اس کے ممکنہ نتائج

اسرائیل، جو کہ خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے امریکہ سے سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ نیتن یاہو کا طیارہ ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جو ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران فوجی کارروائی کے خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل-ایران کشیدگی ایک کثیر الجہتی جنگ کا خطرہ پیدا کر چکی ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کثیر الجہتی جنگ کا خطرہ

ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی خدشات کو نظر انداز کیا ہے۔ امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ تہران فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے روایتی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ تیار کر رہا ہے، جبکہ اس کے جوہری عزائم برقرار ہیں۔ یہ صورتحال مزید پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ ایران کی فوجی صلاحیتیں کسی بھی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے ڈان نیوز کی رپورٹیں بھی قابل غور ہیں جو کہ علاقائی کشیدگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ ڈان نیوز کی رپورٹ

نتیجہ

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر بڑے حملے پر غور کی اماراتی اخبار کی دعوے جیسی خبریں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایک سنگین انتباہ ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، جوہری پروگرام پر اختلافات، اور علاقائی طاقتوں کے مختلف موقف نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا رکھا ہے۔ کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور خطے کا استحکام بھی شدید متاثر ہوگا۔ لہٰذا، سفارتی حل اور مذاکرات ہی اس تنازع سے بچنے کا واحد راستہ ہیں۔