نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی حالیہ منظوری نے پاکستان کی آٹو موبائل صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ کے حوالے سے اس میں کئی اہم اور شاندار فیصلے کیے گئے ہیں۔ یہ پالیسی ملک میں پائیدار نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے اور مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ ان انقلابی اقدامات کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کو عام عوام کے لیے زیادہ قابل رسائی بنایا جائے۔
یہ پالیسی نہ صرف ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ اس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ پیٹرول کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل میں کمی اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی اس پالیسی کے بنیادی اہداف میں شامل ہیں۔
پاکستان کو بیرونی کے دباؤ سے نکالنے میں پالیسی کا کردار
الیکٹرک وہیکل پالیسی کے اہم اہداف اور وژن
حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل (NEV) پالیسی 2025-30 کا باضابطہ آغاز کیا ہے، جسے حکام ملک کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں میں سے 30 فیصد کو الیکٹرک میں تبدیل کرنا ہے۔ اس اقدام سے ہر سال تقریباً 2.07 بلین لیٹر ایندھن کی بچت اور کاربن کے اخراج میں 4.5 ملین ٹن کی کمی متوقع ہے۔
اس وژن میں غیر ملکی زرمبادلہ میں تقریباً 1 بلین ڈالر کی سالانہ بچت اور صحت عامہ کے اخراجات میں 405 ملین ڈالر کی کمی شامل ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 9 ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور آٹوموبائل صنعت میں جدت
ٹیکس مراعات اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی
نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ انہیں صارفین کے لیے زیادہ سستا بنایا جا سکے۔ سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے، بیٹری الیکٹرک گاڑیوں (BEVs) پر سیلز ٹیکس 2026 سے 2031 تک صرف ایک فیصد رہے گا۔
رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں (REEVs) پر 6 فیصد اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں (PHEVs) پر 9 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ 75 ہزار ڈالر تک کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دی گئی ہے، اور مالی سال 2030-31 تک اسے مزید کم کرکے 15 فیصد تک لانے کا منصوبہ ہے۔ الیکٹرک ٹرک اور ڈمپر پر سیلز ٹیکس ایک فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ الیکٹرک بسوں پر ڈیوٹی 25 فیصد سے گھٹا کر صرف ایک فیصد کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور مقامی صنعت
| گاڑی کی قسم | سیلز ٹیکس کی شرح (2026-2031) | کسٹم ڈیوٹی (امپورٹڈ EVs) | دیگر مراعات |
|---|---|---|---|
| بیٹری الیکٹرک وہیکلز (BEVs) | 1% | 25% (موجودہ)؛ 15% (2030-31 تک) | FED, CVT, Withholding Tax ختم |
| رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (REEVs) | 6% | مخصوص شرح لاگو | – |
| پلگ ان ہائبرڈ وہیکلز (PHEVs) | 9% | مخصوص شرح لاگو | – |
| الیکٹرک بسیں | 1% | 1% | – |
الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ میں آسانیاں
نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو فروغ دینے کے لیے فنانسنگ کی حد اور مدت میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو مزید قابل رسائی بنائے گا، خاص طور پر مہنگی ماڈلز کے لیے۔
اس کے علاوہ، فنانسنگ کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال، اور بعض صورتوں میں 7 سال تک کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت بھی ای-ٹیکسی منصوبے کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 65 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ تبدیلیاں الیکٹرک گاڑیوں کو خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے مالی بوجھ کو کم کریں گی۔
جدید انفراسٹرکچر اور حکومتی اقدامات
چارجنگ انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی فوائد
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مضبوط چارجنگ انفراسٹرکچر کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔ نئی پالیسی میں موٹرویز کے ساتھ 40 نئے ای وی چارجنگ اسٹیشنز بنانے کا منصوبہ شامل ہے، جن کے درمیان تقریباً 105 کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک بھر میں 3,000 پبلک ای وی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں، اور اس سلسلے میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے 70 سے زائد لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
پالیسی میں نئے بلڈنگ کوڈز میں ای وی چارجنگ پوائنٹس کو لازمی قرار دینا بھی شامل ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ یہ اقدامات نہ صرف ای وی صارفین کے لیے سہولت فراہم کریں گے بلکہ کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد دیں گے۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہے، اور یہ پالیسی پیرس معاہدے کے تحت ملک کے ماحولیاتی وعدوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ٹیکنالوجی اور مستقبل کی گاڑیوں کی صنعت
مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا فروغ
نئی آٹو پالیسی کا ایک اہم پہلو مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت نے آئندہ 5 سال میں گاڑیوں کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے بھی 2030-31 تک 1.2 ارب ڈالر تک کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کیے جائیں گے، اور اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دیا جائے گا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات بھی دی جائیں گی۔ دوسری جانب، مسلسل دو سال تک اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
سائنسی اور صنعتی ترقی میں پیش رفت
آٹوموٹو ڈیولپمنٹ لیوی اور فنڈز کا استعمال
نئی پالیسی کے تحت آئندہ 5 سالوں میں 232 ارب روپے سے زائد آٹوموٹو ڈیولپمنٹ لیوی (ADL) وصول کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو برآمدی مراعات، صنعتی ترقی کے پروگراموں، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ فنڈز پاکستان آٹوموٹو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام اور آٹو سیکٹر میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے لیے بھی استعمال ہوں گے۔
یہ مالیاتی منصوبہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ صنعت و پیداوار کی وزارت نے ان اقدامات کے ذریعے ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم کیا ہے۔
قومی ترقی اور تکنیکی خود مختاری
صارفین کا تحفظ اور معیار
نئی آٹو پالیسی میں صارفین کے تحفظ اور گاڑیوں کے معیار کو یقینی بنانے پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ پالیسی میں مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ، آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شرائط شامل کی جائیں گی۔
