Table of Contents
آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) نے کرکٹ کے عالمی منظرنامے میں ایک نئی روح پھونکتے ہوئے ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے فارمیٹس میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ یہ تبدیلیاں عالمی کرکٹ کے دو سب سے بڑے ایونٹس، 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2028 کے ٹی 20 ورلڈ کپ، کو مزید سنسنی خیز اور مسابقتی بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔ آئی سی سی نے ایڈنبرا میں ہونے والی اپنی سالانہ جنرل میٹنگ میں ان اہم تبدیلیوں کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد کھیل کے ہر مرحلے میں دلچسپی اور اہمیت کو بڑھانا ہے۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہے کیونکہ ان نئے فارمیٹس کے تحت انہیں زیادہ کانٹے دار اور فیصلہ کن میچز دیکھنے کو ملیں گے۔ ان تبدیلیوں سے نہ صرف بڑی ٹیموں کے درمیان مقابلوں کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ ایسوسی ایٹ ممالک کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو عالمی کرکٹ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کا نیا فارمیٹ: تفصیلات اور مراحل
2027 کے آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر کریں گے، جس میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی۔ فائنل تک رسائی کے لیے اب ٹیموں کو تین مراحل پر مشتمل ایک نئے اور پیچیدہ نظام سے گزرنا ہوگا۔ یہ نیا فارمیٹ ٹورنامنٹ کے ہر میچ کو فیصلہ کن بنانے اور کھیل کے سنسنی کو آخری لمحات تک برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پہلا مرحلہ: سپر سیریز (پری کوالیفائنگ راؤنڈ)
نئے نظام کے تحت، ابتدائی طور پر کوالیفائی کرنے والی 14 ٹیموں میں سے، جو رینکنگ میں نچلی ترین تین ٹیمیں ہوں گی، وہ ایک ‘راؤنڈ رابن سپر سیریز’ کھیلیں گی۔ اس سیریز کی فاتح ٹیم اگلے مرحلے میں اپنی جگہ بنائے گی۔ یہ مرحلہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی سخت مقابلے دیکھنے کو ملیں اور کم رینکنگ والی ٹیموں کو بھی مرکزی مرحلے میں شامل ہونے کا ایک واضح راستہ ملے۔ اس اقدام سے ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی ٹیموں کے لیے ایک ابتدائی چیلنج پیدا ہوگا، جہاں انہیں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
دوسرا مرحلہ: چھ چھ ٹیموں کے دو گروپس
سپر سیریز کی فاتح ٹیم کے شامل ہونے کے بعد، باقی 12 ٹیموں کو چھ، چھ ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ میں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت میچز کھیلیں گی۔ اس مرحلے میں کل 30 میچز کھیلے جائیں گے، جو ٹیموں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا گہرائی سے اندازہ لگانے کا موقع فراہم کریں گے۔ دونوں گروپس سے ٹاپ تین، تین ٹیمیں (یعنی کل 6 ٹیمیں) اور ایک اضافی بہترین پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم (چوتھے نمبر کی ٹیموں میں سے) اگلے مرحلے ‘سپر 7’ کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ یہ فارمیٹ گروپ مرحلے کے ہر میچ کو اہم بنا دے گا کیونکہ ہر پوائنٹ سپر 7 مرحلے میں رسائی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسرا مرحلہ: سپر 7 اور ناک آؤٹ
سپر 7 مرحلے میں کوالیفائی کرنے والی سات ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف راؤنڈ رابن فارمیٹ میں کھیلیں گی، جس میں کل 21 میچز ہوں گے۔ یہ مرحلہ ٹیموں کے لیے انتہائی مشکل اور تھکا دینے والا ہوگا، جہاں انہیں مسلسل اپنی بہترین کارکردگی دکھانی ہوگی۔ سپر 7 کے اختتام پر، پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ سیمی فائنل اور فائنل پرانے فارمیٹ کے مطابق ہی کھیلے جائیں گے، جس میں ٹاپ ٹیم کا مقابلہ چوتھی پوزیشن والی ٹیم سے جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر کی ٹیمیں دوسرے سیمی فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔ اس نئے فارمیٹ کا مقصد مقابلے کو زیادہ دلچسپ اور غیر متوقع بنانا ہے، اور شائقین کو ہر میچ میں سنسنی خیز لمحات فراہم کرنا ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اب ‘سپر سکس’ مرحلے کی جگہ ‘سپر سیون’ متعارف کرایا گیا ہے جبکہ اس بار کوارٹر فائنل مرحلہ نہیں ہوگا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کا تبدیل شدہ فارمیٹ: سپر 10 اور ایلیمینیٹر کا اضافہ
2028 کے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کریں گے، اور اس میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی۔ ٹی 20 فارمیٹ کو مزید تیز اور ڈرامائی بنانے کے لیے، خاص طور پر ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلے میں، فارمیٹ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ابتدائی گروپ مرحلہ
پہلے مرحلے میں، 20 ٹیموں کو چار، چار ٹیموں پر مشتمل پانچ گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے مختلف ہے، جہاں چار ٹیموں کے چار گروپس تھے۔ ہر گروپ سے ٹاپ دو ٹیمیں اگلے راؤنڈ یعنی ‘سپر 10’ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ یہ تبدیلی گروپ مرحلے کو بھی مزید مسابقتی بنا دے گی، کیونکہ ہر ٹیم کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے سخت محنت کرنی پڑے گی۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 30 میچز کھیلے جائیں گے۔
سپر 10 مرحلہ
سپر 10 مرحلے میں، کوالیفائی کرنے والی 10 ٹیموں کو پانچ، پانچ ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ مرحلہ ‘سپر ایٹ’ کی جگہ لے گا، جو پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ میں رائج تھا۔ ہر گروپ کی سرفہرست ٹیم براہ راست سیمی فائنل میں پہنچے گی۔ یہ نظام سیمی فائنل کی دوڑ کو مزید دلچسپ بنا دے گا اور ٹیموں کو گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب دے گا۔
ایلیمینیٹر میچز: سیمی فائنل کی نئی راہ
ٹی 20 ورلڈ کپ کے نئے فارمیٹ کی سب سے بڑی تبدیلی ‘ایلیمینیٹر’ مرحلے کا تعارف ہے۔ سپر 10 مرحلے میں دونوں گروپس کی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کے درمیان ایلیمینیٹر میچز کھیلے جائیں گے۔ یہ میچز کراس اوور ہوں گے، یعنی ایک گروپ کی دوسرے نمبر کی ٹیم کا مقابلہ دوسرے گروپ کی تیسرے نمبر کی ٹیم سے ہوگا، اور اسی طرح دوسرے سیمی فائنلسٹ کا فیصلہ ہوگا۔ ان ایلیمینیٹر میچز کی فاتح ٹیمیں سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنائیں گی۔ اس نئے نظام کا مقصد ٹورنامنٹ کے آخری مراحل تک مقابلوں کی سنسنی کو برقرار رکھنا اور شائقین کو ہر میچ میں ایک نیا جوش و خروش فراہم کرنا ہے۔
تبدیلیوں کے پیچھے محرکات: کرکٹ کو مزید پرکشش بنانا
آئی سی سی کی جانب سے ان فارمیٹ تبدیلیوں کے پیچھے کئی اہم محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے بنیادی مقصد عالمی ایونٹس کو مزید سنسنی خیز، مسابقتی اور پرکشش بنانا ہے۔ ماضی میں کچھ ورلڈ کپ فارمیٹس پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ ابتدائی مراحل میں بڑے ٹیموں کے درمیان مقابلوں کی کمی ہوتی تھی یا کچھ میچز کی اہمیت کم محسوس ہوتی تھی۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے ہر میچ کو زیادہ اہم اور فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
- مقابلوں کی شدت میں اضافہ: نئے فارمیٹس اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ ٹیموں کو ہر مرحلے میں سخت ترین مقابلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ون ڈے ورلڈ کپ میں سپر سیریز اور سپر 7 جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر 10 اور ایلیمینیٹر راؤنڈز سے فائنل تک رسائی کے لیے اضافی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
- ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے مواقع: 14 ٹیموں پر مشتمل ون ڈے ورلڈ کپ اور 20 ٹیموں پر مشتمل ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایسوسی ایٹ ممالک کو عالمی سطح پر کھیلنے اور اپنی صلاحیتیں دکھانے کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔ یہ کرکٹ کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور نئے علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
- تجارتی اور شائقین کی دلچسپی: آئی سی سی کا یہ بھی ماننا ہے کہ نئے فارمیٹس کے نتیجے میں بڑے مقابلوں، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے، جس سے ٹورنامنٹ کی تجارتی اور شائقین کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ مالی نقطہ نظر سے بھی آئی سی سی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
- کھیل میں توازن: ان تبدیلیوں سے کھیل کے مختلف پہلوؤں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ نہ صرف بیٹنگ بلکہ باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں کو بھی زیادہ اہمیت حاصل ہو۔
سابقہ ورلڈ کپ فارمیٹس کا مختصر جائزہ اور حالیہ تبدیلیوں کا موازنہ
عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹس کا فارمیٹ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر رہا ہے۔ ابتدائی ورلڈ کپ 8 ٹیموں پر مشتمل تھے اور سیدھے سیمی فائنل اور فائنل کھیلے جاتے تھے۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں پہلی بار راؤنڈ رابن فارمیٹ متعارف کرایا گیا جہاں تمام ٹیمیں ایک دوسرے سے کھیلیں، جو کافی کامیاب رہا۔ تاہم، 2007 کا ورلڈ کپ فارمیٹ (16 ٹیمیں، گروپس، پھر سپر ایٹ) خاصا طویل اور پیچیدہ سمجھا گیا، جس میں کئی یکطرفہ میچز بھی شامل تھے۔ 2011 اور 2015 کے ورلڈ کپس میں 14 ٹیموں کے دو گروپس اور پھر کوارٹر فائنلز کا فارمیٹ استعمال ہوا، جبکہ 2019 کا ورلڈ کپ دوبارہ 10 ٹیموں کے راؤنڈ رابن فارمیٹ پر کھیلا گیا تاکہ ہر میچ کی اہمیت برقرار رہے۔
حالیہ ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے فارمیٹ میں 14 ٹیموں کے ساتھ تین مراحل کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو 2007 کے فارمیٹ سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ‘سپر 7’ اور ‘پری کوالیفائنگ سپر سیریز’ کا تصور شامل ہے۔ یہ فارمیٹ زیادہ ٹیموں کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ طویل لیگ مرحلے کی یکسانیت کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب، ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے، جس میں 2024 سے ہی 20 ٹیمیں شامل ہیں، ‘سپر ایٹ’ کو ‘سپر 10’ سے بدل دیا گیا ہے اور ‘ایلیمینیٹر’ میچز کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ خاص طور پر ٹی 20 کرکٹ کی تیز رفتاری اور سنسنی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ یہ تبدیلیاں کرکٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور شائقین کی بڑھتی ہوئی توقعات کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہیں۔
| ٹورنامنٹ | تبدیلی سے قبل | تبدیلی کے بعد | اہم خصوصیات |
|---|---|---|---|
| ون ڈے ورلڈ کپ 2027 | مختلف فارمیٹس (راؤنڈ رابن، گروپس + کوارٹر فائنل) | تین مراحل پر مشتمل نیا نظام | 14 ٹیمیں، پری کوالیفائنگ ‘سپر سیریز’، 2 گروپس (چھ چھ ٹیمیں)، ‘سپر 7’ مرحلہ (21 میچز)، ٹاپ 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں۔ کوارٹر فائنل ختم۔ |
| ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 | سپر ایٹ مرحلہ (2024 میں 20 ٹیمیں) | سپر 10 مرحلہ اور ایلیمینیٹر میچز | 20 ٹیمیں، 5 گروپس (چار چار ٹیمیں)، ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیمیں ‘سپر 10’ میں، سپر 10 سے ٹاپ ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں، دوسری اور تیسری پوزیشن والی ٹیموں کے درمیان ‘ایلیمینیٹر’ میچز۔ |
ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے نئے مواقع اور چیلنجز
آئی سی سی کی ان تبدیلیوں سے ابھرتی ہوئی اور ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ون ڈے ورلڈ کپ میں 14 ٹیموں کی شمولیت اور ٹی 20 ورلڈ کپ میں 20 ٹیموں کا برقرار رہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئی سی سی کرکٹ کو عالمی سطح پر پھیلانا چاہتی ہے۔ ون ڈے ورلڈ کپ میں ‘سپر سیریز’ کا مرحلہ، جو نچلی رینکنگ والی تین ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا، انہیں مرکزی مرحلے میں جگہ بنانے کا ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ٹی 20 ورلڈ کپ میں ‘سپر 10’ مرحلے میں ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ایسوسی ایٹ ممالک کی نمائندگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
یہ نئے فارمیٹس ایسوسی ایٹ ممالک کو بڑے کرکٹنگ ممالک کے خلاف زیادہ میچز کھیلنے کا موقع دیں گے، جس سے انہیں تجربہ حاصل ہوگا اور ان کے کھیل کے معیار میں بہتری آئے گی۔ تاہم، یہ تبدیلیاں کچھ چیلنجز بھی لے کر آئیں گی:
- کوالیفکیشن کا دباؤ: نئے نظام کے تحت، ہر میچ کی اہمیت بڑھنے کے باعث، ایسوسی ایٹ ٹیموں پر کوالیفکیشن کے لیے زیادہ دباؤ ہوگا۔ انہیں اپنے ہر میچ میں بہترین کارکردگی دکھانی ہوگی۔
- مالی اور لاجسٹک چیلنجز: ٹورنامنٹ کے طویل اور کثیر مرحلہ فارمیٹس میں شرکت کرنے کے لیے چھوٹی ٹیموں کو مالی اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جیسے زیادہ سفر، طویل قیام اور زیادہ وسائل کی ضرورت۔
- بینچ کی گہرائی: ایک طویل ٹورنامنٹ میں کامیابی کے لیے صرف چند بہترین کھلاڑیوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا، بلکہ ٹیم کو مضبوط بینچ کی گہرائی کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ انجری یا فارم میں کمی کی صورت میں متبادل کھلاڑی دستیاب ہوں۔
اس کے باوجود، یہ تبدیلیاں مجموعی طور پر کرکٹ کی ترقی کے لیے مثبت سمجھی جا رہی ہیں اور امید ہے کہ یہ ابھرتی ہوئی ٹیموں کو عالمی اسٹیج پر چمکنے کا موقع فراہم کریں گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی نے ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے 16 ٹیموں پر مشتمل ایک نئے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کی تجویز بھی دی ہے، جو ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل کھیلا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے اعلیٰ معیار کا عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جس کی حتمی منظوری نومبر میں آئی سی سی بورڈ اجلاس میں متوقع ہے۔
کرکٹ کی دنیا میں ان اہم فیصلوں اور ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔
آئی سی سی کے دیگر اہم فیصلے اور مستقبل کے امکانات
فارمیٹ کی تبدیلیوں کے علاوہ، آئی سی سی نے کرکٹ کے کھیل کو بہتر بنانے اور اس کے عالمی دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے کچھ دیگر اہم فیصلے بھی کیے ہیں۔ ان میں سے ایک لاس اینجلس اولمپکس 2028 میں کرکٹ کی شمولیت اور اس کے لیے کوالیفائنگ نظام کا اعلان ہے۔ اولمپکس میں مردوں اور خواتین کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں چھ، چھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ کوالیفکیشن آئی سی سی کے موجودہ ایونٹس اور ٹی 20 رینکنگ کی بنیاد پر ہوگی، جبکہ ایک نیا آئی سی سی اولمپکس کوالیفائر ٹورنامنٹ 2027 میں کھیلا جائے گا جو آخری نشست کا فیصلہ کرے گا۔
اس کے علاوہ، آئی سی سی نے کرکٹ کے قوانین میں بھی چند اہم تبدیلیاں کی ہیں، جو کرکٹ کے کھیل میں توازن قائم کرنے کے لیے اہم ہیں۔ جولائی 2025 میں نافذ ہونے والی ان تبدیلیوں میں ون ڈے میچز میں گیند کے استعمال کے اصول میں ترمیم شامل ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، اننگز کے آغاز سے لے کر 34ویں اوور کے اختتام تک دونوں اینڈز سے 2 نئی گیندیں استعمال کی جائیں گی۔ تاہم، 34ویں اوور کے بعد، بولنگ ٹیم ان دونوں گیندوں میں سے صرف ایک کا انتخاب کرے گی جو پھر 35ویں سے 50ویں اوور تک استعمال کی جائے گی۔ اس تبدیلی کا مقصد بالرز کو، خاص طور پر اختتامی اوورز میں، ریورس سوئنگ کا فائدہ دلانا ہے جو نئی گیندوں کے مسلسل استعمال کی وجہ سے کم ہو چکا تھا۔
ایک اور اہم تبدیلی ‘کنکشن سبسٹیٹیوٹ’ پالیسی سے متعلق ہے، جس کے تحت اب ٹیموں کو ہر انٹرنیشنل میچ شروع ہونے سے پہلے 5 متبادل کھلاڑی نامزد کرنے ہوں گے، جن میں ایک وکٹ کیپر، ایک بیٹر، ایک فاسٹ بولر، ایک اسپن بولر اور ایک آل راؤنڈر شامل ہوگا۔ یہ تبدیلیاں کھلاڑیوں کی حفاظت اور کھیل کی حکمت عملی میں مزید لچک پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ اکتوبر 2026 سے ‘بنی ہاپ’ اسٹائل کا باؤنڈری کیچ بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد فیلڈنگ کے قوانین میں مزید وضاحت لانا ہے۔
نتیجہ: کرکٹ کا مستقبل کیا رنگ لائے گا؟
آئی سی سی نے ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے فارمیٹس میں یہ بڑی تبدیلیاں کرکے کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کیا ہے۔ یہ فیصلے کھیل کو مزید دلچسپ، مسابقتی اور عالمی سطح پر قابل رسائی بنانے کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نئے فارمیٹس یقینی طور پر شائقین کو زیادہ سنسنی خیز اور یادگار میچز دیکھنے کا موقع فراہم کریں گے۔ جہاں ایک طرف یہ بڑی ٹیموں کے لیے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کا چیلنج ہوگا، وہیں دوسری طرف ایسوسی ایٹ ممالک کے


