Table of Contents
دیہی خواتین کو بااختیار بنانا کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کی دو تہائی آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ دیہی خواتین زراعت، لائیو سٹاک، ماہی گیری اور دستکاری جیسے اہم معاشی سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج بھی وہ معاشرتی اور اقتصادی سطح پر بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان چیلنجز میں تعلیم تک محدود رسائی، صحت کی ناکافی سہولیات، معاشی ناہمواری، اور فیصلہ سازی کے عمل میں عدم شمولیت شامل ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر، دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک مربوط، جامع اور عملی درخواست کی اشد ضرورت ہے جو ان کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرے۔
دیہی خواتین کو بااختیار بنانا: ایک قومی ضرورت
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی معیشت میں دیہی علاقوں کا کلیدی کردار ہے۔ دیہی خواتین اس معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر زرعی شعبے میں ان کی محنت و مشقت قابل تعریف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 75 فیصد خواتین اور لڑکیاں زرعی شعبے میں کام کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے کام کو اکثر بلامعاوضہ خاندانی مزدوری سمجھا جاتا ہے، اور ان کی محنت کو سرکاری اعدادوشمار میں شمار نہیں کیا جاتا۔ یہ صورتحال نہ صرف دیہی خواتین کی معاشی حیثیت کو کمزور کرتی ہے بلکہ قومی ترقی کے عمل میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ خواتین کی ترقی کو نظر انداز کرنے والی اقوام اپنی نسلوں کی مثالی تربیت سے محروم رہتی ہیں اور ملکی پیداواری وسائل سے بھی پوری طرح استفادہ نہیں کر پاتیں۔ لہٰذا، دیہی خواتین کو بااختیار بنانا محض ایک سماجی فلاحی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کی اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے ایک بنیادی قومی ضرورت ہے۔
دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں تعلیم، صحت، روزگار، اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ ان کے خاندان، معاشرے اور بالآخر ملک بھی مضبوط اور خوشحال ہوگا۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) کے مطابق، پاکستان صنفی عدم مساوات پر قابو پانے کے معاملے میں عالمی معیشتوں سے بہت پیچھے ہے، جہاں خواتین کی معاشی شمولیت اور مواقع کے حوالے سے 146 ممالک کی فہرست میں پاکستان 143 ویں درجے پر ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو ہراسانی سے محفوظ، باوقار ماحول میں اور مساوی معاوضے کے ساتھ کام کرنے کے مواقع مل سکیں۔
دیہی خواتین کو درپیش چیلنجز
دیہی خواتین کو کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے جو ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے پہلے غربت اور اقتصادی محرومی ہے۔ روایتی طور پر زمین کی ملکیت اور کنٹرول مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے خواتین کے پاس وسائل پر اختیار نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ زرعی شعبے میں بھرپور کام کرتی ہیں، لیکن انہیں اکثر کم اجرت ملتی ہے یا بلامعاوضہ کام کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات تو ان کی اجرت بھی مرد رشتہ دار کو دے دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات بھی دیہی خواتین پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔
دوسرا بڑا چیلنج تعلیم اور صحت تک محدود رسائی ہے۔ پاکستان میں دیہی خواتین میں خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے؛ 10 سال اور اس سے زائد عمر کی دیہی خواتین میں خواندگی کی شرح محض 38 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 17 فیصد اور سندھ میں 24 فیصد ہے۔ پرائمری سکول جانے کی عمر کی 32 فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں۔ صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ غربت زدہ دیہی گھرانوں کی 98.8 فیصد خواتین تعلیم سے محروم ہیں، اور بنیادی حقائق تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔
تیسرا اہم چیلنج سماجی و ثقافتی رکاوٹیں اور صنفی امتیاز ہے۔ پدرشاہی نظام کے تحت خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں بہت کم یا کوئی شرکت حاصل نہیں ہوتی اور جائیداد کے حقوق بھی اکثر چیلنج کیے جاتے ہیں۔ دیہی خواتین دوہرے بوجھ کا شکار ہیں؛ وہ غیر رسمی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں جیسے پانی اور ایندھن لانا، بچوں کی نگہداشت اور گھر کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود، انہیں سماجی تحفظ اور عوامی خدمات تک ناکافی رسائی حاصل ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق 41 فیصد دیہی خواتین تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں، 36 فیصد کو شادی کے لیے غیر مناسب رشتے ملتے ہیں اور 30 فیصد کو آمدنی کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔
بااختیار بنانے کے لیے اہم شعبے
تعلیم اور ہنر مندی کا فروغ
دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم اور ہنر مندی کا فروغ ایک بنیادی شرط ہے۔ تعلیم خواتین میں شعور بیدار کرتی ہے اور انہیں اپنے حقوق سے آگاہ کرتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں کئی اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، ‘شی تھریڈز’ (She Threads) پروگرام ٹیکسٹائل سیکٹر میں دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے ایک منفرد منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت 18 سے 45 سال کی مڈل پاس خواتین کو 10 مختلف ٹیکسٹائل تربیتی کورسز فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں انڈسٹریل اسٹیچنگ مشین آپریٹر، فیبرک کوالٹی انسپکٹر، پیٹرن میکنگ، اور دیگر مہارتیں شامل ہیں۔ تربیت کے دوران خواتین کو ماہانہ 15,000 روپے وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ اب تک ہزاروں خواتین اس پروگرام سے تربیت حاصل کر چکی ہیں اور ان میں سے کئی کو ملازمتیں بھی مل چکی ہیں۔
اسی طرح، پنجاب حکومت نے ‘چیف منسٹر مریم نواز آئی ٹی ٹریننگ اور ڈیجیٹل سکلز’ پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 27 ہزار دیہی خواتین کو جدید ڈیجیٹل اور آئی ٹی کی تربیت دی جائے گی۔ اس آن لائن ٹریننگ کے دوران انہیں اسکالرشپ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، اور مفت وائی فائی ڈیوائسز بھی فراہم کی جائیں گی۔ یہ پروگرام ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، سوشل میڈیا مینجمنٹ، گرافک ڈیزائن، فری لانسنگ، ریموٹ ورک اور سائبر سیکیورٹی جیسی مہارتیں سکھا کر خواتین کو گھر بیٹھے روزگار کمانے کے قابل بنائے گا۔ بینظیر ہنرمند پروگرام بھی بی آئی ایس پی مستحقین کو مفت تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے جس میں آئی ٹی، ہیلتھ، ہوٹل مینجمنٹ اور بیوٹی سروسز جیسے کورسز شامل ہیں۔ یہ پروگرام ماہانہ وظیفہ، گریجویشن بونس اور سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرتا ہے۔ خوشحالی مائیکرو فنانس بینک بھی دیہی خواتین کو ہنرمندی کی تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے میں مصروف ہے، جیسے کہ ساہیوال میں ٹیلرنگ کا کورس۔
اقتصادی خود مختاری اور مالی معاونت
اقتصادی خود مختاری دیہی خواتین کی مکمل بااختیاری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مالی وسائل تک رسائی حاصل ہو، جس سے وہ کاروبار شروع کر سکیں یا اپنے موجودہ کاروبار کو ترقی دے سکیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف سکیمیں شروع کی گئی ہیں، جیسے کہ پنجاب میں مفت مویشی پروگرام جس کے تحت بیوہ یا مطلقہ خواتین کو بھینسیں اور گائیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ گھریلو سطح پر دودھ کی پیداوار سے ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔ یہ پروگرام خاص طور پر جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں نافذ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں خود امدادی گروپ (Self-Help Groups) کے قیام اور مائیکرو فنانس کے ذریعے خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرنا بھی ان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مالیاتی اداروں کی جانب سے خواتین کو بلاسود قرضے اور کاروباری تربیت فراہم کرنا انہیں چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرنے میں مدد دے گا۔ UN Women کے مطابق، خواتین کی ملکیتی نچلے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مزید 1.7 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کا کاروبار کرنے والی خواتین کو قرضوں کے حصول میں درپیش مشکلات دور کر کے 2030 تک سالانہ آمدنی میں 12 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
| مسائل کی نوعیت | پیش کردہ حل | حکومتی اقدامات/پروگرام |
|---|---|---|
| محدود تعلیمی رسائی | تعلیمی وظائف، آن لائن تربیت، تعلیمی مراکز کا قیام | پنجاب ہنرمند نوجوان پروگرام، “میں ڈیجیٹل” پروگرام، شی تھریڈز پروگرام |
| اقتصادی محرومی و کم اجرت | مہارتوں کی تربیت، چھوٹے کاروبار کے لیے قرضے، وسائل پر مالکانہ حقوق | بینظیر ہنرمند پروگرام، مفت مویشی پروگرام، کسان کارڈ، بلاسود قرضے |
| صحت کی سہولیات کی کمی | بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، آگاہی مہم، موبائل کلینکس | بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، طبی سہولیات تک رسائی کے لیے اقدامات |
| فیصلہ سازی میں عدم شمولیت | خواتین کو سیاسی و سماجی پلیٹ فارمز پر نمائندگی، آگاہی و تربیت | حکومتی پالیسیوں میں خواتین کی شمولیت، حقوق نسواں پر قانون سازی |
| جسمانی تشدد اور ہراسمنٹ | تحفظ نسواں قانون کا نفاذ، ہیلپ لائنز کا قیام، ورچوئل پولیس سٹیشن | تحفظ نسواں قانون 2006، ہیلپ لائن 1043، ورچوئل پولیس سٹیشنز |
حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کا کردار
دیہی خواتین کو بااختیار بنانے میں حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کئی قوانین اور پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں۔ 2006 میں ‘تحفظ نسواں قانون’ کا نفاذ ایک اہم سنگ میل تھا۔ صوبائی حکومتیں، خاص طور پر پنجاب، نے دیہی خواتین کی ترقی کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن جیسے ادارے خواتین کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں، اور ان کی ہیلپ لائن 1043 پر دیہی خواتین بھی بڑی تعداد میں رابطہ کرتی ہیں۔
پنجاب حکومت کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دیہی خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ ان میں کسان کارڈ، لائیو سٹاک کارڈ اور ہمت کارڈ جیسے منصوبے شامل ہیں، جن سے ہزاروں خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ورچوئل پولیس سٹیشنز کا قیام بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت دیہی خواتین کو صرف فارمر نہیں بلکہ معاشی طور پر بااختیار اور فیصلہ سازی کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔

غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) بھی دیہی خواتین کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تنظیمیں آگاہی مہمات چلاتی ہیں، تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت فراہم کرتی ہیں، اور خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرتی ہیں۔ 1948 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ویمن والینٹیئر سروس اور ‘اپوا’ کی بنیاد رکھی تھی، جس کا مقصد بے سہارا لوگوں کی آبادکاری، ابتدائی طبی امداد اور خوراک کی فراہمی تھا۔ آج بھی کئی این جی اوز صحت، تعلیم، اور معاشی خودمختاری کے شعبوں میں دیہی خواتین کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں خواتین میں شعور اور اعلیٰ صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے سیمینارز، کانفرنسیں اور ورکشاپس کا اہتمام کرتی ہیں۔ تاہم، ان تنظیموں کو موثر کام کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تعاون اور پالیسی سازی میں شمولیت کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں عورت فاؤنڈیشن جیسی غیر سرکاری تنظیمیں خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹس مرتب کرتی ہیں، جو خواتین کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آرہی، جو قوانین کے موثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے مرکز (HEW) جیسے عالمی پلیٹ فارمز بھی خواتین کی سیفٹی، تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
بااختیار بنانے کے طویل مدتی اثرات
دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے طویل مدتی اثرات کسی بھی معاشرے کے لیے گہرے اور مثبت ہوتے ہیں۔ جب خواتین کو تعلیم، صحت اور معاشی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں ان کے خاندانوں کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ دیتی ہیں، جس سے نسل در نسل بہتری آتی ہے۔ بچوں کی غذائیت، صحت اور تعلیم پر خواتین کی آمدن کا مثبت اثر پڑتا ہے۔
اقتصادی طور پر خودمختار خواتین نہ صرف اپنے گھرانوں کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ وہ نئے کاروبار شروع کرتی ہیں، مقامی معیشت کو مضبوط کرتی ہیں اور غربت کے خاتمے میں مدد دیتی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کوئی ملک اپنی نصف آبادی کو عوامی زندگی سے خارج کر کے سیاسی، معاشی یا سماجی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔ خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں اور صنفی عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
سماجی سطح پر، بااختیار خواتین معاشرتی فیصلوں میں زیادہ شرکت کرتی ہیں اور صنفی امتیاز پر مبنی رویوں کو چیلنج کرتی ہیں۔ یہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔ موبائل فون جیسی ٹیکنالوجی تک رسائی نے بھی دیہی خواتین کو معلومات اور ٹیکنالوجی تک رسائی کے مواقع فراہم کیے ہیں، جس سے ان کی آگاہی اور رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب خواتین کو سماج میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے تو غربت میں کمی آتی ہے اور ایک مستحکم و مضبوط معاشرے کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ دیہی خواتین کی ڈیجیٹل ٹریننگ سے تعلیم، صنفی مساوات، باوقار روزگار اور معاشی عدم مساوات میں کمی جیسے اہداف حاصل ہوں گے۔
حکومت پنجاب کے اقدامات جیسے ‘شی تھریڈز’ اور ‘ڈیجیٹل سکلز’ پروگرامز دیہی خواتین کو ہنر مند بنا کر روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام خواتین کو گھر بیٹھے آن لائن ذریعہ معاش کمانے کا سنہری موقع فراہم کرتے ہیں، اور انہیں بین الاقوامی آئی ٹی مارکیٹ میں مسابقت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ نہ صرف انفرادی طور پر خواتین کو خودمختار بناتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بننے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
نتیجہ
دیہی خواتین کو بااختیار بنانا پاکستان کی ترقی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کی تعلیم، صحت، اقتصادی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت کو یقینی بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اور معاشرتی سطح پر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ دیہی خواتین کو درپیش چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے اور انہیں زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ پنجاب حکومت کے ‘شی تھریڈز’ اور ‘ڈیجیٹل سکلز’ جیسے پروگرام امید کی ایک کرن ہیں جو دیہی خواتین کو جدید ہنر اور معاشی آزادی فراہم کر رہے ہیں۔ خواتین کی اس بااختیاری سے نہ صرف انفرادی زندگیاں بہتر ہوں گی بلکہ ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔ اس سمت میں مزید قانون سازی اور عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ دیہی خواتین کی آواز کو سنا جائے، ان کی ضروریات کو سمجھا جائے اور انہیں پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ دیہی خواتین کی ترقی دراصل پورے پاکستان کی ترقی ہے، اور اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ مزید معلومات کے لیے، پنجاب میں خواتین کے روزگار کے منصوبوں کے بارے میں ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے: مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ.


