Table of Contents
پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت ایک جامع اور فعال حکمت عملی کے تحت اہم اقدامات کر رہی ہے، جس کا مقصد اس موذی مرض کو 2030 تک ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، جو کہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہیں، اور ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں اس بیماری کی نذر ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے، وفاقی حکومت نے “وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی” کا آغاز کیا ہے تاکہ بیماری کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہیپاٹائٹس کا قومی چیلنج اور اس کی سنگینی
ہیپاٹائٹس، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی، پاکستان میں ایک بڑے طبی چیلنج کے طور پر ابھرا ہے جو آبادی کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے 91 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 38 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار تشویشناک ہیں کیونکہ ہر سال ہیپاٹائٹس کے باعث 48 ہزار سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں، اور ہر 11 منٹ بعد ایک شخص اس موذی بیماری کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ سال 2024 میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بیماری نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج نہ ملنے کی صورت میں جگر کا سرطان (لیور کینسر) یا جگر کی ناکامی (لیور سروسس) جیسے مہلک مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں ہر 10 میں سے صرف 3 مریضوں کو ہی مناسب علاج کی سہولیات میسر ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد علاج سے محروم ہیں۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشنز کا استعمال، خون کی غیر محفوظ منتقلی، اور طبی آلات کی ناکافی صفائی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل ہیپاٹائٹس کو ایک خاموش قاتل بناتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
وفاقی حکومت کا وژن اور عزم
ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وفاقی حکومت نے اسے ایک قومی ایمرجنسی قرار دیا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ایک واضح وژن اور پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں نے اس مرض کے خاتمے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے اور 2030 تک پاکستان کو ہیپاٹائٹس سے پاک کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کوئی معمولی طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال ہے جس کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔
حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر شہری کو ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ، بروقت تشخیص اور معیاری علاج تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، وفاقی حکومت نے “وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی” کا آغاز کیا ہے، جو ملک میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عوامی صحت کا پروگرام ہے۔ اس پروگرام کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے اور اس پر 67 ارب روپے کی خطیر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف علاج پر توجہ دے گا بلکہ بیماری کی روک تھام اور عوامی آگاہی کو بھی اپنا مرکز بنائے گا تاکہ ایک صحت مند اور ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ مصر کے کامیاب ماڈل سے استفادہ کیا جائے گا، جہاں چند سالوں میں پوری آبادی کی اسکریننگ کر کے ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ پر مؤثر قابو پایا گیا۔
“وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی”: اہم خصوصیات و اقدامات
“وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی” وفاقی حکومت کی جانب سے ایک جامع اور کثیر جہتی منصوبہ ہے جو پاکستان سے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام کئی اہم خصوصیات اور اقدامات پر مشتمل ہے تاکہ مرض کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے تمام پہلوؤں کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے:
- مرحلہ وار نفاذ: یہ پروگرام مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر، پائلٹ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں مفت ٹیسٹ اور علاج کی سہولیات کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے بعد، پروگرام کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک وسعت دی جائے گی، اور بالآخر اسے ملک بھر کے تمام صوبوں میں پھیلایا جائے گا۔
- بڑے پیمانے پر اسکریننگ: پروگرام کا ایک اہم ستون بڑے پیمانے پر اسکریننگ ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں 16 لاکھ افراد کو چھ ماہ کے اندر اسکرین کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے ملک گیر اسکریننگ کی جائے گی تاکہ شفافیت اور زیادہ سے زیادہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق اب تک 21 ہزار شہریوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے جن میں سے 1700 افراد میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوئی۔
- مفت تشخیص اور علاج: اس پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو مفت اسکریننگ، تشخیصی ٹیسٹ، اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مریضوں کو تقریباً 68 ہزار روپے مالیت کی ادویات اور 60 ہزار روپے تک کے ضروری ٹیسٹ مکمل طور پر مفت دیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا ریلیف ہے کیونکہ ہیپاٹائٹس کا علاج مہنگا ہو سکتا ہے اور بہت سے لوگ مالی بوجھ کی وجہ سے اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔
- جدید ادویات کی فراہمی: جدید اینٹی وائرل ادویات کے ذریعے ہیپاٹائٹس سی کا علاج اب 95 فیصد سے زائد کامیابی کی شرح کے ساتھ ممکن ہے۔ یہ ادویات پروگرام کے تحت مفت فراہم کی جا رہی ہیں، جو کہ مرض کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
- موبائل ہسپتالوں کا استعمال: مختلف علاقوں میں عوام کی دہلیز تک اسکریننگ کی سہولیات پہنچانے کے لیے موبائل ہسپتالوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مؤثر حکمت عملی ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے لوگ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
- “لوکل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن اینڈ پریونشن پروگرام” (LHEAP): جون 2023 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام گھر گھر جا کر ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ، علاج اور ویکسینیشن کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اب یہ قومی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا حصہ بن چکا ہے۔
تشخیص، اسکریننگ اور علاج تک رسائی
ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے بروقت تشخیص اور علاج تک آسان رسائی انتہائی اہم ہے۔ وفاقی حکومت نے اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں:
- لازمی ٹیسٹنگ کے لیے قانون سازی: حکومت ایک نیا قانون متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت 12 سال یا اس سے زائد عمر کے ہر ایسے فرد کے لیے، جس کا آپریشن یا کوئی بھی ایسا طبی عمل ہو جس میں جلد کو کاٹا جائے، ایچ آئی وی (HIV)، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کے ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں گے۔ اس اقدام سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
- اسکریننگ مراکز کا قیام: اسلام آباد کے وفاقی ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس سی کے لیے 12 اسکریننگ کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ مستقبل میں، ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اسکریننگ کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
- علاج کی آسان فراہمی: چونکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج جدید ادویات کے ذریعے 8 سے 12 ہفتوں میں ممکن ہے، حکومت مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنا کر علاج کی شرح میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا افراد کو جلد از جلد شناخت کیا جا سکے اور انہیں مفت اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے تاکہ مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
| خصوصیت | وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کی تفصیل |
|---|---|
| ہدف | 2030 تک پاکستان سے ہیپاٹائٹس کا خاتمہ |
| کل متاثرین (پاکستان) | تقریباً 1 کروڑ 29 لاکھ افراد (ہیپاٹائٹس بی اور سی) |
| سالانہ اموات | 48 ہزار سے زائد |
| سالانہ نئے کیسز (ہیپاٹائٹس سی) | تقریباً 88 ہزار (2024 میں) |
| پروگرام کی تخمینی لاگت | 67 ارب روپے |
| اسکریننگ کا ہدف | 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد ملک بھر میں |
| مفت ادویات کی مالیت | 68 ہزار روپے فی مریض |
| مفت تشخیصی ٹیسٹ کی مالیت | 60 ہزار روپے تک فی مریض |
| علاج کی کامیابی کی شرح (جدید ادویات) | 95 فیصد سے زائد |
| اہم روک تھام | غیر محفوظ انجیکشنز اور خون کی منتقلی پر کنٹرول |
احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی مہمات
ہیپاٹائٹس کے خاتمے میں صرف علاج ہی کافی نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے:
- غیر معیاری سرنجوں پر پابندی: ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری اور دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجیں ہیں۔ حکومت نے غیر معیاری سرنجوں کی تیاری، تقسیم اور دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، جعلی آٹو ڈس ایبل سرنجز کے استعمال پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے جو محفوظ ہونے کا غلط تاثر دیتی ہیں۔
- ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول: سرکاری ہسپتالوں میں صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
- عوامی آگاہی مہمات: صدر اور وزیراعظم دونوں نے عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ شہریوں کو بروقت ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کروانے، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں کو بھی اس مہم میں شامل کیا جا رہا ہے۔
- بنیادی صحت کی سہولیات پر زور: وفاقی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ صرف ہسپتالوں سے نہیں بنتا بلکہ صحت مند گھر، صاف ماحول، معیاری بنیادی صحت کی سہولیات اور مؤثر احتیاطی نظام مل کر ایک صحت مند قوم تشکیل دیتے ہیں۔ حکومت ماں اور بچے کی صحت، بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن، خاندانی منصوبہ بندی، صاف پانی اور غذائیت پر بھی کام کر رہی ہے۔
عالمی تعاون اور آئندہ کے امکانات

پاکستان ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اس مقصد کے حصول میں پاکستان کی مکمل حمایت کر رہا ہے اور وزیراعظم کے قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ تعاون 2030 تک ہیپاٹائٹس کو ایک عوامی صحت کا مسئلہ ختم کرنے کے عالمی ہدف کے حصول میں اہم ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان ہیپاٹائٹس ڈیلٹا (Hepatitis Delta) وائرس سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے، جو کہ ایک سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین کی معروف دوا ساز کمپنی ہواہوئی ہیلتھ کے نمائندگان نے شرکت کی، جہاں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی (HH-003) کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت ہواہوئی ہیلتھ اور پاکستان کی مقامی دوا ساز کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ جدید حیاتیاتی ادویات کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بین الاقوامی اور مقامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت ہیپاٹائٹس کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ مستقبل کی نسلوں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان اس قابل ہو گا کہ وہ 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے سے روک سکے۔
چیلنجز اور پائیدار حل کی ضرورت
ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے حکومتی عزم کے باوجود، اس راہ میں کئی چیلنجز حائل ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان میں ہر 10 میں سے صرف 3 مریضوں کو ہی علاج کی سہولیات میسر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد اب بھی علاج سے محروم ہیں۔ مزید برآں، ہیپاٹائٹس کو پالیسی سازوں کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہیں ملی ہے اور اسے ترجیحی بیماری کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ اس کی ایک وجہ مؤثر اور حکمت عملی پر مبنی وکالت کی کمی ہو سکتی ہے۔
غیر محفوظ انجیکشنز اور خون کی غیر محفوظ منتقلی اب بھی ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگرچہ حکومت نے غیر معیاری سرنجوں پر پابندی عائد کی ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور عوام میں بیداری پیدا کرنا ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ پبلک ہسپتالوں پر شدید بیماریوں کے علاج کا بوجھ بہت زیادہ ہے، اور ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرامز کی خامیوں کی وجہ سے جگر کی بیماریوں کا بوجھ اور متعلقہ علاج کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم چیلنج یہ ہے کہ ملک میں پالیسیوں کے عدم تسلسل نے ترقی کا سفر بار بار متاثر کیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سیکرٹریز کی بار بار تبدیلی کے بجائے انہیں کم از کم 2 سے 3 سال تک ایک ہی عہدے پر کام کرنے دیا جانا چاہیے تاکہ صحت کے شعبے کی پالیسیوں اور منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں دنیا میں پہلے اور پولیو کے کیسز میں دوسرے نمبر پر ہے، جو ایک قومی ہنگامی صورتحال کا متقاضی ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، ایک جامع قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے جو بیماری کے تمام پہلوؤں کو ہالسٹک انداز میں حل کرے اور دستیاب وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرے۔ پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے لیے وکندریقرت نگہداشت کا ایک ماڈل اپنایا گیا تھا، اور اسی طرح کے بڑے پیمانے پر وکندریقرت اور گھر گھر جا کر اسکریننگ کے ماڈلز کو قومی سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ عوامی صحت اور طبی خدمات کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے کے لیے پروگرام میں اوور ہال کی ضرورت ہے ہیلتھ پالیسی واچ کی رپورٹ کے مطابق۔ ان تمام چیلنجز پر قابو پانا ہی پاکستان کو 2030 تک ہیپاٹائٹس سے پاک کرنے کے ہدف کے حصول میں مدد دے گا۔
نتیجہ
پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کے اقدامات ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ “وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی” کے تحت مفت اسکریننگ، تشخیص اور علاج کی فراہمی، لازمی ٹیسٹنگ کے لیے قانون سازی، اور عوامی آگاہی مہمات جیسے اقدامات اس موذی مرض کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی معاونت اور ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج کے لیے بین الاقوامی تعاون بھی اس قومی کوشش کو مزید تقویت بخش رہا ہے۔
تاہم، اعداد و شمار کی سنگینی اور ہر 10 میں سے 7 مریضوں کی علاج تک رسائی کی کمی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔ غیر محفوظ طبی طریقوں پر مکمل کنٹرول، نچلی سطح پر آگاہی اور رسائی میں اضافہ، اور پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان کا خواب صرف حکومتی اقدامات سے پورا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عوام، طبی برادری، سول سوسائٹی اور تمام متعلقہ اداروں کے مابین مشترکہ عزم اور عملی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تو 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا قومی ہدف یقینی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے، جس سے پاکستان ایک صحت مند اور خوشحال قوم کے طور پر ابھرے گا۔


