مقبول خبریں

پاکستان میں پہلی بار کار ٹی سیل تھراپی کامیاب، جدید علاج میں اہم پیش رفت

پاکستان میں پہلی بار کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی نے ملک کے طبی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ یہ جدید علاج، جو پہلے صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود تھا، اب پاکستان میں بھی دستیاب ہو چکا ہے، جس سے کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن روشن ہوئی ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کی مسلح افواج کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر (AFBMTC) کے ماہرین کی برسوں کی تحقیق اور لگن کا ثمر ہے، جنہوں نے ایک 21 سالہ مریض کا کامیابی سے علاج کیا۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو جدید کینسر کے علاج کی ٹیکنالوجی اپنانے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

کار ٹی سیل تھراپی کیا ہے؟ ایک انقلابی طریقہ علاج

کار ٹی سیل (Chimeric Antigen Receptor T-cell) تھراپی کینسر کے علاج میں ایک انقلابی امیونو تھراپی ہے، جو مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات سے لڑنے کے لیے دوبارہ پروگرام کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں مریض کے ٹی لمفوسائٹس کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات یا رسولیوں کو مؤثر طریقے سے شناخت کر سکیں اور ان پر حملہ آور ہو سکیں۔ یہ علاج خاص طور پر خون کے کینسر کی مخصوص اقسام جیسے کہ شدید لیمفوپلاسٹک لیوکیمیا (ALL) اور پھیلاؤ والے بڑے بی سیل لیمفوما (DLBCL) کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے، جن کا روایتی علاج سے علاج مشکل رہا ہے۔

یہ ذاتی نوعیت کی دوا کینسر کے خلیات کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے لیے جسم کے اپنے مدافعتی خلیوں کی طاقت کو بروئے کار لاتی ہے۔ روایتی علاج کے برعکس، جیسے کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی جو مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں، کار ٹی سیل تھراپی مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے تاکہ کینسر کے خلاف ایک طویل اور زیادہ ہدف شدہ ردعمل پیدا کیا جا سکے۔ اس عمل میں، مریض کے خون سے ٹی خلیات جمع کیے جاتے ہیں، لیبارٹری میں انہیں جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ ان پر کیمریک اینٹیجن ریسیپٹرز (CARs) لگائے جا سکیں، جو کینسر کے خلیات کی سطح پر موجود مخصوص پروٹینز کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان تبدیل شدہ ٹی خلیات کو پھر لیبارٹری میں بڑھایا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں مریض کے جسم میں واپس داخل کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ کینسر کے خلیات کو تلاش کرکے انہیں ختم کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار کینسر سے طویل مدتی نجات فراہم کرنے اور اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان میں کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی کا تاریخی سفر

پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کہ ملک نے پہلی بار کار ٹی سیل تھراپی کامیابی سے مکمل کی ہے۔ یہ کامیابی مسلح افواج کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر (AFBMTC) نے حاصل کی، جہاں آرمی میڈیکل کور کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور تیاری کے بعد اس پیچیدہ اور جدید علاج کو انجام دیا۔ اس کامیابی کا اعلان 4 جولائی 2026 کو کیا گیا، جب ایک 21 سالہ مریض، جو شدید کینسر کا شکار تھا، اس تھراپی کے بعد مکمل صحت یاب ہو گیا۔

اس سے قبل، پاکستانی مریضوں کو اس طرح کے جدید علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا تھا، جو نہ صرف انتہائی مہنگا ہوتا تھا بلکہ اس میں سفری اور رہائشی اخراجات بھی شامل تھے، جس کی وجہ سے یہ علاج عام آدمی کی پہنچ سے دور تھا۔ AFBMTC کی یہ کامیابی طبی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف قیمتی غیر ملکی زر مبادلہ بچائے گی بلکہ کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی امید بھی فراہم کرے گی۔ یہ سنگ میل پاکستان کے طبی شعبے کی صلاحیتوں اور عالمی معیار کے جدید طبی طریقہ کار کو اپنانے کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین نے اس کامیابی کو کینسر کے علاج میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا ہے اور اس کے بعد پاکستان کینسر کے علاج کی جدید ٹیکنالوجی اپنانے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔

جدید علاج میں اہم پیش رفت: پاکستانی مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن

پاکستان میں کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی نے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک نئی امید جگائی ہے۔ بہت سے مریض ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے روایتی علاج، جیسے کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور بون میرو ٹرانسپلانٹ، مؤثر ثابت نہیں ہوتے یا کینسر دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے کار ٹی سیل تھراپی ایک آخری اور مؤثر آپشن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تھراپی کی دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان میں ایسے مریضوں کو مقامی طور پر علاج کی سہولت میسر ہو گی، جس سے انہیں بیرون ملک سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ اپنے اہل خانہ کے قریب رہتے ہوئے علاج کروا سکیں گے۔

یہ پیش رفت نہ صرف مریضوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گی بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جدید ترین علاج کی دستیابی صحت کے شعبے کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ کامیابی قومی اعتماد کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا طبی شعبہ مشکل ترین بیماریوں کا علاج آسانی سے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف مریضوں کے لیے بلکہ طبی ماہرین اور محققین کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جو مزید تحقیق اور ترقی کے لیے ترغیب فراہم کرے گا تاکہ اس علاج کو مزید قابل رسائی اور سستا بنایا جا سکے اور کینسر کی دیگر اقسام کے لیے بھی اسے استعمال کیا جا سکے۔

پاکستان میں پہلی بار جدید CAR-T سیل تھراپی کامیاب کینسر کے علاج میں تاریخی پیش رفت
روایتی کینسر کے علاج اور کار ٹی سیل تھراپی کا موازنہ
خصوصیت روایتی کیموتھراپی/ریڈی ایشن کار ٹی سیل تھراپی
نشانہ بنانا (Targeting) غیر مخصوص، کینسر کے خلیات کے ساتھ صحت مند خلیات کو بھی متاثر کرتی ہے کینسر کے خلیات کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتی ہے
طریقہ کار کیمیائی ادویات یا شعاعوں کا استعمال مریض کے اپنے مدافعتی خلیوں کو جینیاتی طور پر تبدیل کرنا
افادیت عارضی یا بعض صورتوں میں مکمل افاقہ کینسر سے طویل مدتی نجات اور بعض کینسروں کا مکمل علاج
مدافعتی نظام پر اثر اکثر کمزور کرتی ہے مدافعتی نظام کو کینسر سے لڑنے کے لیے مضبوط کرتی ہے
ضمنی اثرات متلی، بال گرنا، تھکاوٹ، انفیکشن کا زیادہ خطرہ سائٹوکائن ریلیز سنڈروم (CRS) اور نیوروٹاکسیسٹی
دوبارہ ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے طویل مدتی قوت مدافعت فراہم کرتی ہے، دوبارہ ہونے کا امکان کم

کار ٹی سیل تھراپی کا طریقہ کار اور اس کے نمایاں فوائد

کار ٹی سیل تھراپی ایک پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل عمل ہے۔ اس طریقہ کار کے بنیادی مراحل درج ذیل ہیں:

  • لیوکافیریسس (Leukapheresis): سب سے پہلے، مریض کے خون سے T-خلیات (ایک قسم کے سفید خون کے خلیے) جمع کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں مریض سے خون نکالا جاتا ہے، T-خلیات کو الگ کیا جاتا ہے، اور خون کے باقی اجزاء مریض کو واپس کر دیے جاتے ہیں۔
  • جینیاتی تبدیلی (Genetic Modification): جمع شدہ T-خلیات کو ایک خصوصی لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے، جہاں انہیں جینیاتی طور پر انجینئر کیا جاتا ہے۔ ان میں ایک کیمریک اینٹیجن ریسیپٹر (CAR) داخل کیا جاتا ہے، جو کینسر کے خلیات کی سطح پر پائے جانے والے مخصوص پروٹینز (اینٹیجنز) کو پہچاننے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
  • خلیوں کی افزائش (Cell Expansion): ترمیم شدہ T-خلیات کو لیبارٹری میں لاکھوں کی تعداد میں بڑھایا جاتا ہے۔ اس مرحلے کو مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
  • کیمو تھراپی (Conditioning Chemotherapy): CAR T-خلیات کو جسم میں داخل کرنے سے پہلے، مریض کو کم شدت والی کیموتھراپی دی جاتی ہے۔ یہ کیموتھراپی جسم میں موجود دیگر مدافعتی خلیوں کو کم کرتی ہے تاکہ نئے شامل کیے گئے CAR T-خلیات کو بڑھنے اور مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے جگہ مل سکے۔
  • ری انفویژن (Reinfusion): آخر میں، تیار شدہ CAR T-خلیات کو مریض کے خون کے دھارے میں واپس داخل کر دیا جاتا ہے۔ یہ خلیات اب کینسر کے خلیات کو شناخت کرنے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ایک طویل مدتی مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔

اس علاج کے کئی نمایاں فوائد ہیں:

  • کینسر سے طویل مدتی نجات: کار ٹی سیل تھراپی کینسر سے طویل مدتی ریلیف فراہم کرتی ہے اور بعض کینسروں میں مکمل علاج کا باعث بن سکتی ہے۔
  • ہدف شدہ علاج: یہ علاج صرف کینسر کے خلیات کو نشانہ بناتا ہے، جس سے صحت مند خلیات کو کم نقصان پہنچتا ہے، برخلاف روایتی علاج کے۔
  • بہتر معیار زندگی: چونکہ یہ علاج زیادہ ہدف شدہ ہے، اس کے مضر اثرات روایتی علاج کی نسبت کم ہو سکتے ہیں، جس سے مریض کی زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
  • مدافعتی نظام کی طاقت: یہ مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر سے لڑنے کے لیے مضبوط اور متحرک کرتا ہے، جس سے ایک پائیدار دفاعی میکانزم تیار ہوتا ہے۔
  • طویل بقا کی شرح: اس تھراپی نے ان مریضوں میں بقا کی شرح کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے جن کے لیے دیگر علاج کے اختیارات ناکام ہو چکے تھے۔

علاج کے چیلنجز اور مستقبل کے وسیع امکانات

پاکستان میں کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے اہم علاج کی لاگت ہے۔ یہ ایک انتہائی مہنگا علاج ہے، جس کی وجہ سے اسے عام آدمی کے لیے قابل رسائی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاج کے لیے خصوصی انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ طبی عملہ، اور لیبارٹری کی جدید سہولیات درکار ہوتی ہیں، جو ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتیں۔

ضمنی اثرات بھی ایک اہم تشویش ہیں، جن میں سائٹوکائن ریلیز سنڈروم (CRS) اور نیوروٹاکسیسٹی شامل ہیں۔ ان اثرات کا انتظام کرنے کے لیے ہنر مند طبی ٹیم اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحت کے بجٹ پر پہلے ہی دباؤ ہے، ان چیلنجز سے نمٹنا ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔

تاہم، ان چیلنجز کے باوجود، کار ٹی سیل تھراپی کے مستقبل کے امکانات روشن ہیں۔ پاکستان میں مقامی طور پر اس تھراپی کی پیداوار کی جانب کوششیں جاری ہیں، جیسے کہ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کراچی، جو مقامی CAR-T سیلز کی پیداواری صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے بنیادی کام کر رہا ہے۔ یہ مقامی پیداوار علاج کی لاگت کو کم کرنے اور اسے مزید قابل رسائی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مستقبل میں، یہ امید کی جاتی ہے کہ کار ٹی سیل تھراپی کو خون کے کینسر کی دیگر اقسام اور ٹھوس رسولیوں (solid tumors) کے علاج کے لیے بھی وسعت دی جائے گی۔ مقامی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق اس علاج کو مزید بہتر بنا سکے اور اس کی دستیابی کو وسیع کر سکے۔ پاکستان کا طبی شعبہ اس سنگ میل کی بدولت عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہا ہے، اور مزید سرمایہ کاری اور حکومتی حمایت سے یہ شعبہ ملک کے اندر اور عالمی سطح پر مزید اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو کر جدید کینسر کے علاج میں اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔

پاکستان میں طبی تحقیق اور ترقی کا فروغ

پاکستان میں کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی نے مقامی طبی تحقیق اور ترقی کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ماہرین اور ادارے بین الاقوامی سطح کے جدید طبی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کامیابی سے ملک میں تحقیق و ترقی کے کلچر کو مزید تقویت ملے گی اور سائنسدانوں کو نئے طریقوں اور علاج کی تلاش کے لیے تحریک ملے گی۔

حکومت کو اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے طبی تحقیق کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز اور ہسپتالوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ علم اور مہارت کا تبادلہ ہو سکے اور ایک جامع تحقیقی ماحولیاتی نظام (ecosystem) تشکیل پا سکے۔ جدید ترین لیبارٹریز کا قیام اور عالمی معیار کے تحقیقی پروٹوکولز کو اپنانا ضروری ہے تاکہ مزید جدید علاج کی دریافت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور لیبارٹری ٹیکنیشنز کو خصوصی تربیت فراہم کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ وہ اس طرح کے جدید علاج کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں۔ یہ اقدامات نہ صرف کینسر کے علاج میں بلکہ صحت کے دیگر شعبوں میں بھی پاکستان کی خود انحصاری کو بڑھائیں گے۔ پاکستان میں سائنسی تحقیق و تخلیقی عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مقامی طور پر خام مال کی پیداوار کے بجائے ری فلنگ پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، تاہم یہ کامیابی ایک نیا رخ دے سکتی ہے۔

عالمی سطح پر کار ٹی سیل تھراپی کی اہمیت اور پاکستان کا کردار

کار ٹی سیل تھراپی نے عالمی سطح پر کینسر کے علاج میں ایک اہم تبدیلی لائی ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے ایک نئی امید ہے جن کے پاس روایتی علاج کے بعد کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اس تھراپی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں اور اس پر مزید تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اسے مزید مؤثر اور سستا بنایا جا سکے۔ پاکستان کا اس میدان میں داخل ہونا عالمی صحت کے منظر نامے پر ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ نہ صرف ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ جدید ترین طبی ٹیکنالوجی اب ترقی پذیر ممالک میں بھی دستیاب ہو رہی ہے۔

پاکستان اب عالمی برادری کا حصہ بن چکا ہے جو کینسر کے خلاف جنگ میں جدید ترین ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ اس سے بین الاقوامی تعاون اور شراکت داری کے نئے دروازے کھلیں گے، جس سے پاکستانی ماہرین کو دنیا کے دیگر بہترین طبی مراکز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ عالمی سطح پر کینسر کے علاج میں پاکستان کا یہ کردار ملک کی ساکھ کو بہتر بنائے گا اور اسے طبی سیاحت کے لیے ایک ممکنہ مرکز کے طور پر بھی ابھار سکتا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کو اس پوزیشن پر لاتی ہے کہ وہ عالمی طبی تحقیق میں فعال کردار ادا کرے اور کینسر کے علاج میں مزید جدت لائے۔

نتیجہ

پاکستان میں پہلی بار کار ٹی سیل تھراپی کی کامیابی ایک تاریخی سنگ میل ہے جو ملک کے طبی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے۔ مسلح افواج کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کی یہ کوشش پاکستان کی طبی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے اور کینسر کے ان مریضوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے جن کے لیے دیگر تمام علاج کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ یہ کامیابی نہ صرف مریضوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گی بلکہ طبی تحقیق و ترقی کو بھی فروغ دے گی اور پاکستان کو عالمی طبی نقشے پر ایک اہم مقام دلائے گی۔ اگرچہ اس علاج کی لاگت اور انفراسٹرکچر کے چیلنجز موجود ہیں، لیکن مقامی پیداوار اور حکومتی حمایت سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور مستقبل میں یہ علاج مزید قابل رسائی اور عام ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے جدید طبی سائنس میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کا طبی شعبہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔