مقبول خبریں

ہر کام کیلئے گاڑی کیوں؟ روبینہ اشرف نے شہریوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دے دیا

ہر کام کیلئے گاڑی کیوں؟ یہ سوال آج کے مصروف اور مشین زدہ دور میں بہت اہم ہو چکا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور آلودگی نے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینئر اداکارہ روبینہ اشرف نے شہریوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دے کر ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو نہ صرف ہماری انفرادی صحت بلکہ مجموعی ماحولیاتی صورتحال کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ روبینہ اشرف، جو خود اپنی فٹنس اور صحت کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، کا یہ پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ہم نے سہولت کی تلاش میں اپنی بنیادی انسانی ضرورت، یعنی چلنے پھرنے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ان کا یہ مشورہ دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم نے کس طرح پیدل چلنے کے فوائد سے منہ موڑ لیا ہے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے گاڑی کا بے تحاشا استعمال ہماری صحت، ماحول اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

BOL News Urdu: Latest Pakistan and World News

جدید طرزِ زندگی اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں پر انحصار

آج کے دور میں ہم نے آرام کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیا ہے۔ ایک گلی سے دوسری گلی تک جانا ہو یا قریبی دکان سے سودا خریدنا ہو، گاڑی کا استعمال ایک عام سی بات بن چکا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے شہری علاقوں میں، جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، نجی گاڑیوں کا بے پناہ استعمال معمول بن چکا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں نجی گاڑیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے جس سے وقت کی بچت تو ہوتی ہے لیکن طرز زندگی سست ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی اور شہری منصوبہ بندی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شہروں میں سستے اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، اور فٹ پاتھوں کی ناقص حالت بھی شہریوں کو گاڑیوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کئی شہروں میں تو پیدل چلنے کے راستے یا تو موجود ہی نہیں ہیں، یا اگر ہیں تو ان کی حالت اتنی ابتر ہے کہ ان پر چلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا جسمانی طور پر متحرک رہنے کا عمل شدید متاثر ہوا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

پیدل چلنے کے حیرت انگیز صحت بخش فوائد

پیدل چلنا ایک ایسی آسان اور مؤثر ورزش ہے جسے ہر عمر کا شخص آسانی سے اپنا سکتا ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، روزانہ صرف 20 سے 30 منٹ کی تیز چہل قدمی آپ کی صحت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ذیل میں پیدل چلنے کے چند اہم فوائد بیان کیے جا رہے ہیں:

  • دل کی صحت اور بہتر دوران خون: باقاعدگی سے پیدل چلنا دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے، بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتا ہے، اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، روزانہ 30 منٹ پیدل چلنے سے امراض قلب کے خطرات میں 35 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
  • وزن کا انتظام: پیدل چلنا کیلوریز جلانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جو وزن کو کنٹرول کرنے اور موٹاپے سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ جب آپ کھانے سے حاصل شدہ کیلوریز سے زیادہ استعمال کرتے ہیں تو خود بخود وزن میں کمی آنے لگتی ہے۔
  • بہتر ذہنی صحت: چہل قدمی کے دوران جسم میں اینڈورفنز نامی ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو موڈ کو خوشگوار بناتے ہیں، ذہنی دباؤ (اسٹریس)، بے چینی، اور ڈپریشن کو کم کرتے ہیں۔
  • مضبوط ہڈیاں اور پٹھے: پیدل چلنا ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے، اوسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) اور فریکچر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ یہ جوڑوں کی لچک کو بھی بہتر بناتا ہے۔
  • قوت مدافعت میں اضافہ: باقاعدگی سے چہل قدمی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے، جس سے قوت مدافعت بڑھانے والے خلیات جسم میں آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں۔ یہ سوزش کو کم کرتی ہے اور قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے۔
  • ذیابیطس کا کنٹرول: پیدل چلنا خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
  • توانائی میں اضافہ: صبح سویرے تیز رفتاری سے پیدل چلنے سے انسان اپنے اندر تازگی اور ایک نئی جوانی محسوس کرتا ہے، اور جسم میں توانائی کی سطح بلند ہوتی ہے۔

ماحولیات پر گاڑیوں کے بے جا استعمال کے اثرات

پاکستان کے بڑے شہروں میں گاڑیوں کا بے تحاشا استعمال نہ صرف صحت کے مسائل کا باعث بن رہا ہے بلکہ ماحولیات پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے۔ فضائی آلودگی، شور کی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی اس کے چند بڑے نتائج ہیں۔

  • فضائی آلودگی: گاڑیوں سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں فضائی آلودگی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ لاہور، کراچی، اور اسلام آباد جیسے شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث اسموگ اور مختلف سانس کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ یہ آلودگی پھیپڑوں، دل اور آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور فالج کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کے باعث سالانہ تقریباً 1 لاکھ 35 ہزار افراد قبل از وقت موت کا شکار ہو رہے ہیں، اور پاکستانیوں کی اوسط عمر میں 2 سال 7 ماہ تک کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
  • شور کی آلودگی: ٹریفک کا شور پاکستان کے بڑے شہروں میں صوتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں اور رکشوں کی وجہ سے ہونے والا یہ شور شہری زندگی کے معیار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور نفسیاتی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
  • موسمیاتی تبدیلی اور کاربن کا اخراج: گاڑیوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیسز موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں، جو پاکستان کو سیلاب اور شدید بارشوں جیسے قدرتی آفات کی زد میں لے رہی ہیں۔

شہری منصوبہ بندی اور پیدل چلنے کے راستوں کی اہمیت

پاکستان میں پیدل چلنے کے رجحان میں کمی کی ایک بڑی وجہ ناقص شہری منصوبہ بندی اور پیدل چلنے کے لیے محفوظ اور مناسب راستوں کی عدم دستیابی ہے۔ اکثر شہروں میں فٹ پاتھ یا تو ہیں نہیں، یا اگر ہیں تو ان پر تجاوزات قائم ہیں، یا وہ اتنے خستہ حال ہیں کہ پیدل چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال بچوں اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر چیلنجنگ ہے۔

ایک فعال اور صحت مند شہری ماحول کے لیے یہ ضروری ہے کہ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے۔ اس میں مناسب چوڑائی کے فٹ پاتھ، پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ کراسنگ، سڑکوں پر روشنی کا انتظام، اور عوامی مقامات پر بینچوں کی فراہمی شامل ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں پیدل چلنے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ انہیں نہ صرف صحت مند رہنے کا موقع ملے بلکہ وہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بھی بنیں۔ پاکستان میں سڑکوں کی حفاظت بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے آپ پِلڈّٹ (PILDAT) کی روڈ سیفٹی رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں، جو اس شعبے میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

پہلوگاڑی کا استعمالپیدل چلنا
صحت پر اثراتجسمانی سستی، موٹاپا، دل کی بیماریاں، سانس کے مسائلبہتر دل کی صحت، وزن کا انتظام، ذہنی سکون، مضبوط ہڈیاں
ماحولیاتی اثراتفضائی آلودگی، شور کی آلودگی، کاربن کا اخراج، اسموگصفر آلودگی، صحت مند ماحول، موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی
معاشی اثراتایندھن کا خرچ، گاڑی کی دیکھ بھال، ٹریفک جام سے وقت کا ضیاعصفر خرچ، توانائی کی بچت، پیداواری صلاحیت میں اضافہ
سماجی اثراتٹریفک جام، حادثات کا خطرہ، شہروں میں رشبہتر سماجی تعلقات (چلتے ہوئے بات چیت)، عوامی مقامات کا فعال استعمال

سماجی اور معاشی فوائد: ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل

پیدل چلنے کو فروغ دینے سے نہ صرف افراد کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ جب لوگ زیادہ پیدل چلتے ہیں تو شہروں میں ٹریفک کا بوجھ کم ہوتا ہے، جس سے ایندھن کی بچت ہوتی ہے اور فضائی آلودگی میں کمی آتی ہے۔ یہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔

  • بہتر عوامی صحت اور پیداواری صلاحیت: ایک صحت مند آبادی زیادہ پیداواری ہوتی ہے۔ جب لوگ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں تو کام پر ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور صحت کے اخراجات میں کمی آتی ہے۔
  • ٹریفک میں کمی اور ایندھن کی بچت: زیادہ پیدل چلنے سے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک جام میں کمی آتی ہے اور ایندھن پر ہونے والے قومی اخراجات میں بھی بچت ہوتی ہے۔
  • مضبوط سماجی تعلقات: پیدل چلنے سے لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور کمیونٹی کا احساس پروان چڑھتا ہے۔ پارکس اور پیدل چلنے کے راستے سماجی تعامل کا مرکز بن سکتے ہیں۔
  • ماحول دوست شہر: پیدل چلنے کو فروغ دے کر ہم اپنے شہروں کو زیادہ سبز اور صاف ستھرا بنا سکتے ہیں، جو پائیدار شہری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
سینئر اداکارہ روبینہ اشرف نے علیزے شاہ کو صفر نمبر کیوں دیے؟ - Life & Style - AAJ

روبینہ اشرف کا پیغام: ایک عملی حل کی جانب پہلا قدم

روبینہ اشرف کا یہ مشورہ کہ “ہر کام کے لیے گاڑی کیوں؟” محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک طرز زندگی کی تبدیلی کی دعوت ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معمولات پر غور کریں اور دیکھیں کہ کہاں ہم غیر ضروری طور پر گاڑی کا استعمال کر رہے ہیں۔ چھوٹے فاصلوں کے لیے پیدل چلنے کو اپنا معمول بنانا، بچوں کو پیدل اسکول بھیجنا (اگر محفوظ راستے موجود ہوں)، اور سیڑھیوں کا استعمال کرنا لفٹ کے بجائے، یہ سب چھوٹی لیکن مؤثر عادات ہیں جو بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔

حکومت اور شہری منصوبہ سازوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے لیے محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کریں۔ فٹ پاتھوں کی تعمیر اور دیکھ بھال، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا، اور گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے پالیسیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس سمت میں کام کریں تو ہم ایک صحت مند، صاف ستھرے اور زیادہ فعال معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

نتیجہ

ہر کام کے لیے گاڑی کے بے تحاشا استعمال کا رجحان ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن پاکستان میں اس کے اثرات خاص طور پر گہرے ہیں۔ روبینہ اشرف کا شہریوں کو پیدل چلنے کا مشورہ ایک بروقت اور اہم یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنی صحت اور ماحول کی فکر کرنی ہوگی۔ پیدل چلنا صرف ایک ورزش نہیں ہے بلکہ یہ ایک طرز زندگی ہے جو ہمیں جسمانی، ذہنی اور ماحولیاتی طور پر لاتعداد فوائد فراہم کرتا ہے۔ ایک صحت مند زندگی اور ایک پائیدار مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہم گاڑیوں پر اپنا انحصار کم کریں اور پیدل چلنے کی عادت کو اپنائیں۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی ہمارے شہروں کو رہنے کے لیے بہتر بنائے گی اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ورثہ چھوڑے گی۔