مقبول خبریں

برص کے علاج میں اہم پیش رفت، جلد کی رنگت بحال کرنے کی نئی امید پیدا 2026

برص، جسے عام طور پر پھلبہری بھی کہا جاتا ہے، جلد کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں جلد کے مخصوص حصوں کی قدرتی رنگت ختم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سفید دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری جسمانی طور پر نقصان دہ نہیں ہوتی، لیکن جذباتی اور نفسیاتی طور پر مریض پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک سے دو فیصد آبادی اس مرض کا شکار ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس مرض کے بارے میں درست معلومات اور بروقت علاج کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ خوش قسمتی سے، حالیہ تحقیق اور طبی پیش رفت نے برص کے علاج میں نئی امید پیدا کی ہے، جس سے جلد کی رنگت کی بحالی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

برص کیا ہے؟ ایک مختصر تعارف

برص ایک غیر متعدی مرض ہے۔ اس بیماری میں جلد کے وہ خلیے جو رنگ پیدا کرتے ہیں (میلانوسائٹس)، ختم ہو جاتے ہیں یا اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے جلد پر سفید دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ دھبے ابتدا میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ بڑھ بھی سکتے ہیں۔ برص جسم کے کسی بھی حصے پر ظاہر ہو سکتا ہے، تاہم چہرے، ہاتھوں، بازوؤں، پیروں، اور ہونٹوں کے اطراف زیادہ عام ہے۔ برص کے مریضوں کو صرف جسمانی علامات ہی نہیں جھیلنی پڑتیں بلکہ وہ گہرے ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، تنہائی اور خودکشی کے خیالات سے بھی گزر سکتے ہیں۔

برص کی وجوہات اور اقسام

جلد کے رنگ بنانے والے خلیوں (میلانوسائٹس) کا ختم ہو جانا ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ برص کی سب سے عام وجہ جسم کا اپنا مدافعتی نظام ہے، جسے خودکار مدافعتی (آٹو امیون) خرابی کہا جاتا ہے۔ جب مدافعتی نظام غلطی سے جلد کے رنگ بنانے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے تو یہ خلیے ختم ہو جاتے ہیں اور وہاں سفید دھبے نظر آنے لگتے ہیں۔ دیگر وجوہات میں شامل ہیں:

  • وراثت: اگر خاندان میں کسی قریبی فرد کو برص ہو تو اس کے اگلی نسل میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
  • ذہنی دباؤ: شدید ذہنی دباؤ اور جذباتی تناؤ بھی برص کے ظاہر ہونے یا بڑھنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
  • جلد کی چوٹ: کسی حادثے، جلنے یا رگڑ کی وجہ سے جلد کے متاثرہ حصے میں سفید دھبہ پیدا ہو سکتا ہے۔
  • ہارمونز اور دیگر بیماریاں: تھائرائیڈ کے مسائل، شوگر، اور بعض خودکار مدافعتی بیماریاں بھی برص کے امکانات بڑھا سکتی ہیں۔

برص کی عام طور پر دو اہم اقسام ہوتی ہیں:

  • غیر قطعاتی برص (Non-segmental Vitiligo): یہ سب سے عام قسم ہے اور جسم کے دونوں اطراف کو متاثر کرتی ہے، جہاں دھبے وقت کے ساتھ پھیل سکتے ہیں۔
  • قطعاتی برص (Segmental Vitiligo): اس قسم میں عام طور پر جسم کا ایک حصہ متاثر ہوتا ہے اور یہ عموماً بچپن میں شروع ہوتی ہے۔

روایتی اور موجودہ علاج کے طریقے

اگرچہ برص کا مکمل علاج ہر مریض میں ممکن نہیں ہوتا، لیکن جدید طبی سہولیات سے بیماری کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور رنگت کی بحالی بھی ممکن ہے۔ برص کا علاج مریض کی حالت، بیماری کی شدت اور دھبوں کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ روایتی اور موجودہ علاج کے طریقوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • مقامی کریمیں: جسمانی ہارمونز کو متوازن کرنے والی اور جلد میں رنگت کی پیداوار کو دوبارہ بڑھانے والی کریمیں ابتدائی علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ Topical corticosteroids اور Topical Calcineurin Inhibitors جلد کی رنگت کو بحال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
  • روشنی کا علاج (Phototherapy): خاص شعاعوں کے ذریعے جلد کو متحرک کیا جاتا ہے اور رنگ بنانے والے خلیوں کی فعالیت بڑھائی جاتی ہے۔ UVB فوٹو تھراپی روغن کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • مشترکہ علاج: کچھ مریضوں کے لیے ادویات اور روشنی کا مشترکہ استعمال بہترین نتائج دیتا ہے۔
  • سرجری اور پیوندکاری: اگر برص ایک جگہ رک جائے اور مزید نہ پھیلے، تو متاثرہ حصے پر رنگت کی بحالی کے لیے پیوندکاری سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
  • کیموفلاج: طبی میک اپ یا خصوصی کریمیں استعمال کرکے سفید دھبوں کو وقتی طور پر چھپایا جا سکتا ہے۔

بعض اوقات، قدرتی علاج جیسے زنک والی غذائیں، ایلو ویرا، وٹامن ڈی اور بی 12، فولک ایسڈ، ہلدی اور سرسوں کا تیل بھی تجویز کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے سائنسی ثبوت محدود ہیں اور کسی بھی نئے علاج کو شروع کرنے سے پہلے ماہر امراض جلد سے مشورہ ضروری ہے۔

علاج میں حالیہ اہم پیش رفت

برص کے علاج میں حالیہ برسوں میں کئی اہم پیش رفت ہوئی ہیں، جس سے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محققین نے ایک اہم دریافت کی ہے کہ برص سے متاثرہ جلد میں میلانوسائٹس (رنگت پیدا کرنے والے خلیات) مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک غیر فعال یا “غیر پختہ” حالت میں چلے جاتے ہیں۔ یہ خلیات اپنی بنیادی خصوصیات، خصوصاً جلد کو رنگ دینے کی صلاحیت، عارضی طور پر کھو دیتے ہیں۔ محققین کے مطابق، جلد میں موجود ایک باریک تہہ جسے بیسمنٹ میمبرین کہا جاتا ہے، میلانوسائٹس کو صحت مند رہنے اور میلانین بنانے کے لیے ضروری سگنلز فراہم کرتی ہے، لیکن برص کے مریضوں میں اس تہہ کی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں میلانوسائٹس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے تعلق بدل جاتا ہے اور وہ اپنی معمول کی کارکردگی کھو کر غیر فعال حالت میں چلے جاتے ہیں۔

اس دریافت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان غیر فعال خلیات کو دوبارہ فعال کیا جا سکے، تو جلد کی رنگت بحال کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ میلانوسائٹس مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں، لیکن یہ نئی تحقیق ایک مختلف راستہ دکھاتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی ماہرین نے چوہوں پر ایک نئے طریقہ علاج کا تجربہ کیا ہے جس میں محض 2 ہفتوں میں اینٹی باڈی دوا کی مدد سے سفید نشانات کے مکمل خاتمے اور قدرتی رنگت کی بحالی میں کامیابی حاصل کی گئی۔ اس تحقیقی ٹیم نے انسانوں پر اس اینٹی باڈی طریقہ علاج کی آزمائش کی تیاری بھی کر رکھی ہے۔ یہ پیش رفت برص کے لیے ایک مستقل اور تیز رفتار علاج کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

روکسولیتینیب اور JAK انہیبیٹرز: ایک نئی راہیں

برص کے علاج میں ایک اور اہم پیش رفت جانوس کینیس (JAK) انہیبیٹرز کا استعمال ہے، جن میں روکسولیتینیب (Ruxolitinib) سرفہرست ہے۔ روکسولیتینیب ایک ایسی دوا ہے جو بنیادی طور پر میلوفائبروسس اور پولیسیٹھیمیا ویرا جیسے خون کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ JAK1 اور JAK2 نامی انزائمز کو روک کر کام کرتی ہے جو سگنلنگ کے راستوں میں شامل ہوتے ہیں جو خون کے خلیوں کی پیداوار اور مدافعتی ردعمل کو منظم کرتے ہیں۔

روکسولیتینیب کو موضعی شکل (جیسے اوپزلورا) میں ڈرمیٹائٹس ایٹوپک جیسی جلد کی بیماریوں کے لیے بھی منظور کیا گیا ہے۔ برص کے تناظر میں، JAK انہیبیٹرز مدافعتی نظام کے ان خلیوں کی سرگرمی کو روکنے میں مدد کرتے ہیں جو میلانوسائٹس پر حملہ کرتے ہیں، اس طرح رنگت کی بحالی کو فروغ دیتے ہیں۔ کلینیکل ٹرائلز میں روکسولیتینیب نے برص کے مریضوں میں جلد کی رنگت کو نمایاں طور پر بہتر دکھایا ہے، خاص طور پر چہرے کے متاثرہ حصوں پر۔

علاج کا طریقہعمل کا طریقہ کارممکنہ فوائدممکنہ چیلنجز/محدودات
مقامی کریمیں (Topical Creams)ہارمونز کو متوازن کرنا، میلانین کی پیداوار بڑھانا، سوزش کم کرناآسان استعمال، ابتدائی مراحل میں مؤثرمحدود اثر، وقت طلب نتائج، جلد کی حساسیت
فوٹو تھراپی (Phototherapy)جلد کے خلیات کو خاص شعاعوں سے متحرک کرنا، میلانین کی پیداوار بڑھاناوسیع دھبوں کے لیے مؤثر، دیگر علاج کے ساتھ مشترکہ استعمالضمنی اثرات کا خطرہ (جلد کا کینسر)، وقت طلب
سرجیکل پیوندکاری (Surgical Grafting)متاثرہ حصے پر صحت مند جلد کی پیوندکاریمستقل نتائج اگر بیماری نہ پھیلےمحدود کیسز کے لیے، ماہرین کی ضرورت، زخم کا نشان
JAK انہیبیٹرز (مثلاً Ruxolitinib)مدافعتی نظام کے انزائمز (JAK1/JAK2) کو روکنارنگت کی بحالی میں تیزی، جدید پیش رفتضمنی اثرات (جیسے خون کے مسائل، انفیکشن، جلدی کینسر), طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے
نان-سیگمنٹل وٹیلگو (Vitiligo)خودکار مدافعتی ردعمل کو روکناجلد کی رنگت کی بحالیضمنی اثرات، علاج کا طریقہ کار ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے

چیلنجز اور مستقبل کی امیدیں

برص کے علاج میں اہم پیش رفت کے باوجود، ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں علاج کی دستیابی، لاگت، اور طویل مدتی ضمنی اثرات شامل ہیں۔ JAK انہیبیٹرز جیسے جدید علاج مؤثر ثابت ہو رہے ہیں، لیکن ان کے استعمال سے کچھ ضمنی اثرات جیسے خون کے خلیوں میں کمی، انفیکشن کا بڑھتا ہوا خطرہ، اور جلد کے کینسر کی ایک قسم کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے، مریضوں کو ان ادویات کے استعمال کے دوران محتاط طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مستقبل میں، تحقیق کا مرکز ان نئے طریقہ کاروں کو بہتر بنانے پر ہے جو میلانوسائٹس کو دوبارہ فعال کر سکیں یا مدافعتی نظام کے حملے کو مخصوص طریقے سے روک سکیں۔ اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی تحقیق، جس میں غیر فعال میلانوسائٹس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، ایک نئی راہ فراہم کرتی ہے۔ اگر ان خلیات کو مؤثر طریقے سے دوبارہ متحرک کیا جا سکے تو یہ برص کے علاج میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، Dawn News Urdu کی ایک رپورٹ کے مطابق، سائنسدان انسانوں پر اینٹی باڈی طریقہ علاج کی آزمائش کی تیاری کر رہے ہیں جو چوہوں پر 2 ہفتوں میں سفید دھبوں کے خاتمے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے علاج کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نہ صرف مؤثر ہو گا بلکہ اس کے نتائج بھی تیزی سے سامنے آئیں گے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، برص کے مریضوں کو صرف جلدی بیماری نہیں بلکہ ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا جامع علاج کے طریقوں کی ضرورت ہے جو جسمانی اور نفسیاتی دونوں پہلوؤں پر توجہ دیں۔

برص کا نفسیاتی اثر اور معاونت

برص کی بیماری جسمانی تکلیف کا باعث نہ بھی بنے تو اس کے نفسیاتی اور جذباتی اثرات بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں جلد کی رنگت کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا ہے، برص کے مریضوں کو شرمندگی، تنہائی، اور سماجی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، برص کے مریضوں میں ڈپریشن، اضطراب اور خود اعتمادی میں کمی عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مدد اور مشاورت بھی انتہائی ضروری ہے۔ مریض کو یہ سمجھانا ضروری ہوتا ہے کہ یہ بیماری نقصان دہ نہیں اور اس کا بہتر علاج موجود ہے۔ سماجی آگاہی اور ہمدردی کو فروغ دینا بھی مریضوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین امراض جلد اور نفسیاتی مشیروں کے درمیان تعاون ایسے مریضوں کے لیے جامع دیکھ بھال کو یقینی بنا سکتا ہے۔

نتیجہ

برص کے علاج میں حالیہ پیش رفت نے جلد کی رنگت بحال کرنے کی ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ خاص طور پر JAK انہیبیٹرز اور میلانوسائٹس کی غیر فعال حالت کے بارے میں نئی دریافتیں مستقبل کے لیے روشن امکانات فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جن میں علاج کی دستیابی، لاگت اور ضمنی اثرات شامل ہیں، جاری تحقیق اور طبی جدت طرازی برص کے مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر اور محفوظ علاج کے طریقوں کی امید دلاتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مریضوں کو طبی علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی معاونت بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ اس بیماری کے سماجی اور جذباتی اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹ سکیں۔ عالمی سطح پر برص کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور اس مرض میں مبتلا افراد کو معاشرتی حمایت فراہم کرنا بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کرے گا۔