مقبول خبریں

مردوں میں کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اہم ہارمون سے متعلق نئی تحقیق

مردوں میں کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اور حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم ہارمون سے متعلق نئی تحقیق نے اس موضوع پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ تحقیق مردوں کی صحت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک عالمی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ایک وسیع بین الاقوامی سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح بہت کم ہوتی ہے، ان میں کینسر ہونے اور اس سے ہونے والی موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق نہ صرف مردانہ صحت کے حوالے سے ہارمونز کے کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ کینسر کی روک تھام اور جلد تشخیص کے لیے نئی راہیں بھی کھولتی ہے۔

کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کی وجوہات اکثر کثیر الجہتی ہوتی ہیں۔ ہارمونز، جو جسم کے اندر کیمیائی قاصد کے طور پر کام کرتے ہیں، متعدد جسمانی افعال کو منظم کرتے ہیں، جن میں میٹابولزم، نشوونما، موڈ اور تولیدی عمل شامل ہیں۔ جب ان ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے، تو یہ صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اور حالیہ تحقیقات نے خاص طور پر مردوں میں کینسر کے خطرے میں اضافے کے ساتھ اس عدم توازن کا گہرا تعلق ظاہر کیا ہے۔ یہ مضمون اس نئی تحقیق کے انکشافات، متعلقہ ہارمونز، کینسر کی اقسام اور اس کے ممکنہ مضمرات پر تفصیلی روشنی ڈالے گا۔

ٹیسٹوسٹیرون: مردانہ صحت کا اہم ستون اور اس کی اہمیت

ٹیسٹوسٹیرون مردوں میں بنیادی جنسی ہارمون ہے، جو بنیادی طور پر خصیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون نوعمری اور ابتدائی جوانی کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی سطح بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس کے فوائد کی فہرست کافی طویل ہے۔ یہ ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنے، چربی کی تقسیم کو منظم کرنے، پٹھوں کی طاقت اور حجم کو برقرار رکھنے، چہرے اور جسم پر بالوں کی نشوونما کو کنٹرول کرنے اور سرخ خون کے خلیات کی پیداوار میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جنسی تحریک (لیبیڈو)، عضو تناسل اور عمومی توانائی کی سطح میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

جب جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو جاتی ہے، جسے ہائپوگونادیزم بھی کہتے ہیں، تو مردوں کو کئی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں توانائی میں کمی، جنسی خواہش میں کمی، عضو تناسل میں دشواری، پٹھوں کا کم ہونا، موڈ میں تبدیلی اور ڈپریشن شامل ہیں۔ ان علامات کا مجموعی طور پر مردانہ معیار زندگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کو مردانہ صحت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے، اور اس کی سطح میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی صحت کے بڑے مسائل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

کن افراد میں کینسر کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے؟

نئی تحقیق کے انکشافات: کم ٹیسٹوسٹیرون اور کینسر سے موت کا بڑھتا ہوا خطرہ

حال ہی میں جریدے “دی لینسیٹ ہیلدی لونگیوٹی” میں شائع ہونے والی ایک وسیع بین الاقوامی سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس تحقیق میں مختلف عمروں کے 26 ہزار سے زائد مردوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور شرکاء کی کم از کم پانچ سال تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے نتائج انتہائی اہم اور تشویشناک ہیں: جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح بہت کم ہوتی ہے، ان میں کینسر ہونے اور کینسر سے ہونے والی موت کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کینسر سے موت کا خطرہ ان مردوں میں بڑھنا شروع ہوا جن کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح 8.6 نینومول فی لیٹر سے کم ہو گئی تھی۔ مزید برآں، یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح سب سے کم 20 فیصد کے اندر تھی، ان میں کینسر سے موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ تھا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی صرف جنسی صحت یا پٹھوں کی کمزوری کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ طبی انتباہ ہو سکتی ہے جو جان لیوا بیماریوں جیسے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔

تاہم، محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی براہ راست کینسر کا سبب بنتی ہے یا یہ بیماری سے بچاؤ کے لیے ٹیسٹوسٹیرون سپلیمنٹس لینے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ بلکہ، ان کا خیال ہے کہ اس ہارمون کی کمی ایک “خطرنے کی گھنٹی” (وارننگ سائن) ہو سکتی ہے جو صحت کے دیگر مسائل یا خطرے کے عوامل کو ظاہر کرتی ہے، جن کے لیے طبی معائنے اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ایک اہم محقق بوئی ییب کے مطابق، تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا خون میں مردانہ ہارمونز کی سطح کا مستقبل میں کینسر ہونے یا اس سے موت کے خطرے کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج صحت کے پیشہ ور افراد اور مردوں دونوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں کہ ہارمونل صحت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

پروسٹیٹ کینسر اور ہارمونز کا پیچیدہ تعلق

پروسٹیٹ کینسر مردوں کو متاثر کرنے والا سب سے عام کینسر ہے۔ یہ مردانہ تولیدی نظام میں ایک اخروٹ کی شکل کے غدود، پروسٹیٹ، میں خلیوں کی بے قابو نشوونما کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ کا کام نطفے کو پرورش اور نقل و حمل کے لیے سیال پیدا کرنا ہے۔ اس کینسر کی کچھ اقسام آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور انہیں کم سے کم علاج کی ضرورت پڑسکتی ہے، جبکہ دیگر شدید ہوسکتی ہیں اور تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔

ہارمونز، خاص طور پر اینڈروسینز (جیسے ٹیسٹوسٹیرون)، پروسٹیٹ کینسر کی نشوونما اور پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ پروسٹیٹ کے خلیے اینڈروسینز پر انحصار کرتے ہیں تاکہ وہ بڑھ سکیں اور تقسیم ہو سکیں، اور اسی وجہ سے ہارمون تھراپی پروسٹیٹ کینسر کے علاج کا ایک عام حصہ ہے، جس کا مقصد اینڈروسینز کی سطح کو کم کرنا یا ان کے اثرات کو روکنا ہے۔

یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: endogenous testosterone (جو جسم قدرتی طور پر پیدا کرتا ہے) اور exogenous testosterone (جو سپلیمنٹس یا تھراپی کے ذریعے باہر سے لیا جاتا ہے)۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جسم میں قدرتی طور پر بلند ٹیسٹوسٹیرون کی سطح پروسٹیٹ کینسر کی نشوونما کو فروغ نہیں دیتی ہے۔ تاہم، ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی (TRT) کے استعمال سے متعلق خدشات موجود ہیں، خاص طور پر پروسٹیٹ کینسر کے فروغ کے حوالے سے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور مزید بڑے، بے ترتیب، کنٹرول شدہ ٹرائلز کی ضرورت ہے تاکہ TRT کے طویل مدتی اثرات کو پروسٹیٹ کینسر کے خطرے پر مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ اس کے باوجود، ٹیسٹوسٹیرون کی گولیاں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر بوڑھے مردوں میں۔

کینسر کے خطرے کے اہم ہارمونل عوامل (مردوں میں)متعلقہ ہارموناثر
کم ٹیسٹوسٹیرون کی سطحٹیسٹوسٹیرونکینسر سے متعلقہ موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے وابستہ (نئی تحقیق)
پروسٹیٹ کینسر کی نشوونمااینڈروسینز (ٹیسٹوسٹیرون سمیت)کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو فروغ دے سکتا ہے
مردوں میں چھاتی کا کینسرایسٹروجن (بلند سطح)چھاتی کے خلیوں کی نشوونما اور تقسیم میں حصہ ڈال سکتا ہے
ہارمونل عدم توازنمختلف ہارمونز (ٹیسٹوسٹیرون، ایسٹروجن، کورٹیسول وغیرہ)صحت کے مختلف مسائل اور بالواسطہ طور پر کینسر کے خطرے میں اضافہ

دیگر ہارمونز اور مردوں میں کینسر کا خطرہ

جب ہارمونز اور مردوں میں کینسر کے خطرے کی بات آتی ہے تو صرف ٹیسٹوسٹیرون ہی واحد ہارمون نہیں ہے جس پر غور کیا جائے۔ اگرچہ یہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، دیگر ہارمونز بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔


  • ایسٹروجن اور مردوں میں چھاتی کا کینسر: ایسٹروجن کو عام طور پر خواتین کا ہارمون سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ مردوں میں بھی پایا جاتا ہے اور بعض حالات میں اس کی بلند سطح مردوں میں چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ کچھ بیماریاں یا حالات، جیسے کلائن فیلٹر سنڈروم (ایک جینیاتی حالت جس میں مردوں میں اضافی X کروموسوم ہوتا ہے اور ایسٹروجن کی سطح بلند ہوتی ہے)، جگر کی سروسس، یا پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے ہارمون تھراپی (جس میں ایسٹروجن شامل ہو سکتا ہے) مردوں میں ایسٹروجن کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں اور اس طرح چھاتی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  • عمومی ہارمونل عدم توازن: ہارمونل عدم توازن ایک ایسی حالت ہے جو مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے، اور یہ متعدد عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ قدرتی طور پر ہارمون کی سطح میں کمی آتی ہے۔ طرز زندگی کے عوامل جیسے کہ ناقص خوراک، ورزش کی کمی، ضرورت سے زیادہ تناؤ، اور موٹاپا ہارمون کی پیداوار میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ خاص طور پر، جسم کی زیادہ چربی ایسٹروجن کی سطح میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ دائمی بیماریاں، بعض ادویات، اور ماحولیاتی زہریلے مادوں (جیسے پلاسٹک اور کیڑے مار ادویات میں پائے جانے والے اینڈوکرائن میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز) کی نمائش بھی ہارمونل ریگولیشن میں مداخلت کر سکتی ہے اور عدم توازن کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ہارمونل عدم توازن اگرچہ براہ راست کینسر کا سبب نہیں بنتے، لیکن یہ جسم کے مجموعی صحت کے توازن کو بگاڑ کر بالواسطہ طور پر کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

کینسر کے خطرے کی تشخیص اور روک تھام

مردوں میں کینسر کے خطرے، خاص طور پر ہارمون سے متعلقہ کینسر کی جلد تشخیص اور روک تھام کے لیے کئی اقدامات اہم ہیں۔ نئی تحقیق کے تناظر میں، ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی نگرانی اور اس سے متعلقہ علامات پر توجہ دینا مزید اہم ہو گیا ہے۔


  • باقاعدہ طبی معائنہ: مردوں کو اپنی عمر اور خطرے کے عوامل کے مطابق باقاعدگی سے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ پروسٹیٹ کینسر کے لیے، ڈاکٹر ڈیجیٹل ریکٹل ایگزامینیشن (DRE) اور پروسٹیٹ سپیسیفک اینٹیجن (PSA) ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ PSA ٹیسٹ خون میں PSA کی سطح کی پیمائش کرتا ہے، جو پروسٹیٹ کے مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

  • ہارمون کی سطح کی نگرانی: اگر کسی مرد کو کم ٹیسٹوسٹیرون کی علامات محسوس ہوں جیسے تھکاوٹ، جنسی خواہش میں کمی، یا موڈ میں تبدیلی، تو انہیں اپنے ڈاکٹر سے خون میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی جانچ کروانی چاہیے۔ نئی تحقیق کے مطابق، ٹیسٹوسٹیرون کی کم سطح کینسر کے خطرے کی ایک ممکنہ ‘خطرنے کی گھنٹی’ ہو سکتی ہے۔
  • صحت مند طرز زندگی: کینسر سمیت کئی دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک صحت مند طرز زندگی انتہائی ضروری ہے۔

    • متوازن غذا: پھلوں، سبزیوں، دبلی پتلی پروٹین اور صحت مند چکنائی سے بھرپور غذا کا استعمال ہارمون کی پیداوار میں مدد کر سکتا ہے۔

    • باقاعدہ ورزش: صحت مند وزن کو برقرار رکھنے اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بڑھانے کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی میں مشغول رہنا چاہیے۔

    • تناؤ کا انتظام: دائمی تناؤ ہارمونل توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ مراقبہ، یوگا یا گہری سانس لینے کی تکنیکوں کے ذریعے تناؤ کو کم کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    • معیاری نیند: ہارمونل توازن اور مجموعی صحت کے لیے کافی اور معیاری نیند بہت ضروری ہے۔

    • موٹاپے پر قابو: موٹاپا ہارمونل عدم توازن کا ایک بڑا سبب ہے اور کینسر کے کئی اقسام کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

  • ماحولیاتی عوامل سے بچاؤ: اینڈوکرائن کو متاثر کرنے والے کیمیکلز سے پرہیز کرنا جو ہارمونل ریگولیشن میں مداخلت کر سکتے ہیں، بھی اہم ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطرے کو کم کرنا ہے، کینسر کو مکمل طور پر روکنا نہیں۔ تاہم، یہ مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور کینسر کی جلد تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے، العربیہ پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے: ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی کمی کے خطرات کے بارے میں سائنسی انتباہ

ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی (TRT) اور محتاط رویہ

جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح نمایاں طور پر کم ہوتی ہے اور وہ ہائپوگونادیزم کی علامات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، انہیں بعض اوقات ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی (TRT) تجویز کی جاتی ہے۔ یہ تھراپی ہارمون کی سطح کو معمول پر لانے اور توانائی، جنسی خواہش، اور پٹھوں کی طاقت جیسی علامات کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔

تاہم، TRT کے ساتھ کچھ ممکنہ خطرات اور ضمنی اثرات بھی وابستہ ہیں جن پر محتاط غور کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم خدشات میں سے ایک پروسٹیٹ کینسر کے فروغ کا امکان ہے۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر تحقیق اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ endogenous (قدرتی طور پر پیدا ہونے والا) ٹیسٹوسٹیرون پروسٹیٹ کینسر کا سبب بنتا ہے، لیکن TRT، خاص طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی گولیاں، بوڑھے مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں یا موجودہ کینسر کی ترقی کو تیز کر سکتی ہیں۔

TRT کے دیگر ممکنہ ضمنی اثرات میں مہاسے، بالوں کا گرنا، موڈ میں تبدیلی، نیند کی کمی اور خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، TRT کا فیصلہ کسی مستند ڈاکٹر کی زیر نگرانی ہی کیا جانا چاہیے، جو مریض کی مکمل طبی تاریخ، موجودہ ہارمون کی سطح، اور ممکنہ خطرات اور فوائد کا بغور جائزہ لے۔ علاج کے دوران باقاعدگی سے چیک اپ اور خون کے تجزیے ضروری ہیں تاکہ پیش رفت اور ممکنہ مسائل کی نگرانی کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ذاتی نوعیت کا طبی مشورہ اور احتیاط انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

نتیجہ

مردوں میں کینسر کا خطرہ اور ہارمونز کا باہمی تعلق ایک پیچیدہ اور ترقی پذیر شعبہ ہے جس میں نئی تحقیق ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اہم معلومات فراہم کر رہی ہے۔ حالیہ بین الاقوامی مطالعہ جس میں کم ٹیسٹوسٹیرون کی سطح اور کینسر سے موت کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ایک مضبوط تعلق ظاہر کیا گیا ہے، مردانہ صحت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں کمی کو صرف عمر بڑھنے کے ایک عام حصے کے طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ممکنہ طور پر ایک وارننگ سائن کے طور پر دیکھنا چاہیے جو گہری طبی تشخیص کا متقاضی ہو۔

پروسٹیٹ کینسر اور ٹیسٹوسٹیرون کے درمیان تعلق دیرینہ بحث کا موضوع رہا ہے، اور نئی تحقیقات اس بحث کو ایک نیا موڑ دے رہی ہیں۔ جبکہ جسم میں قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح پروسٹیٹ کینسر کا سبب نہیں بنتی، ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی کے استعمال کے ممکنہ خطرات، خاص طور پر پروسٹیٹ کینسر کے تناظر میں، محتاط طبی نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسٹروجن جیسے دیگر ہارمونز بھی مردوں میں چھاتی کے کینسر جیسے غیر معمولی کینسر میں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہارمونل توازن کا دائرہ کافی وسیع ہے۔

مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ہارمونل صحت کے بارے میں باخبر رہیں، اپنی جسمانی علامات پر توجہ دیں، اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں۔ ایک صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، تناؤ کا انتظام، اور اچھی نیند کینسر سمیت کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ہارمونل عدم توازن کو ابتدائی مراحل میں پہچاننا اور مناسب طبی مشورہ حاصل کرنا، صحت کے بہتر نتائج کو یقینی بنانے کی کلید ہے۔ اس حوالے سے، ہر فرد کے لیے ذاتی نوعیت کا طبی مشورہ ہی بہترین راستہ ہے تاکہ کینسر کے خطرے کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔