بچوں کے بگاڑ کا ذمہ دار یوٹیوبرز کو قرار دینے پر ڈکی بھائی نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے بچوں پر یوٹیوبرز کے مبینہ منفی اثرات سے متعلق تنقید کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تربیت اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے رویوں میں آنے والی کسی بھی خرابی کا مکمل الزام یوٹیوبرز پر عائد کرنا بے بنیاد اور غیر منصفانہ ہے۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بچوں پر اس کے اثرات پر سماجی اور تعلیمی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ڈکی بھائی کے اس بیان نے والدین، مواد تخلیق کاروں اور بچوں کی تربیت سے وابستہ اداروں کے لیے غور و فکر کے نئے در کھول دیے ہیں۔
ڈکی بھائی کا دوٹوک موقف: ذمہ داری کس کی؟
پاکستان کے صف اول کے یوٹیوبرز میں شمار ہونے والے ڈکی بھائی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس تصور کو سختی سے رد کیا ہے کہ بچوں کے بگڑتے اخلاق اور رویوں کی واحد وجہ یوٹیوبرز ہیں۔ ان کے مطابق، یہ مؤقف بالکل بے بنیاد ہے کہ بچوں کے بگاڑ کی وجہ یوٹیوبرز ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بچے مبینہ طور پر منفی اثرات کا شکار ہو رہے ہیں تو ان کے والدین کہاں ہیں؟ ڈکی بھائی نے واضح کیا کہ وہ اپنی ویڈیوز کو ہر ممکن حد تک صاف ستھرا اور مناسب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ کسی بھی عمر کا فرد اسے دیکھ سکے، تاہم وہ ہر بچے کے والد نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو کیا دیکھنا چاہیے اور وہ آن لائن کن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اس پر نظر رکھنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوٹیوبرز خود بھی اپنے مواد کی اخلاقی حدود سے آگاہ ہیں، لیکن وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کا بوجھ صرف ان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
اس تنقید کے پس پردہ ایک وسیع تر سماجی بحث ہے جو پاکستان میں سوشل میڈیا کے عروج کے ساتھ ابھری ہے۔ والدین کی بڑھتی ہوئی شکایت ہے کہ یوٹیوب پر موجود مواد، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے، بعض اوقات نامناسب ہوتا ہے اور بچوں کے رویوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ تاہم، ڈکی بھائی نے اس بحث کا رخ والدین کی جانب موڑتے ہوئے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار یوٹیوبرز کو قرار دینے کے بجائے والدین کو اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں بچوں کی آن لائن موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے، وہاں والدین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکرین کے منفی اثرات سے کیسے بچائیں۔
والدین کی بنیادی ذمہ داری: آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی
ڈکی بھائی کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بچوں کی تربیت اور ان کے انٹرنیٹ استعمال کی نگرانی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اگر والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے بچے کسی آن لائن مواد سے منفی طور پر متاثر ہو رہے ہیں تو انہیں بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ صرف بچوں کو غلط مواد سے بچانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ان کی اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی نشوونما کو یقینی بنانے کا بھی ایک اہم جزو ہے۔ جدید دور میں، جہاں سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ ہر گھر میں دستیاب ہیں، بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر دور رکھنا ناممکن ہے۔ اس لیے، والدین کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ فعال کردار ادا کریں اور بچوں کو ڈیجیٹل شہریت کے اصول سکھائیں۔
- مواد کی جانچ پڑتال: والدین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں اور کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ مل کر مواد کا انتخاب کریں اور انہیں معیاری اور تعمیری مواد کی طرف راغب کریں۔
- اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا: ماہرین نفسیات کا مشورہ ہے کہ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی ایک مقررہ حد ہونی چاہیے تاکہ وہ جسمانی سرگرمیوں اور سماجی تعلقات کے لیے بھی وقت نکال سکیں۔
- حفاظتی نظام کا استعمال: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر حفاظتی نظام (Parental Controls) نصب کریں تاکہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے اور انہیں نامناسب مواد تک رسائی سے روکا جا سکے۔
- کھلی گفتگو: بچوں کے ساتھ آن لائن دنیا کے خطرات اور فوائد کے بارے میں کھلی گفتگو کرنا بہت ضروری ہے۔ انہیں اعتماد میں لے کر یہ سمجھایا جائے کہ وہ آن لائن کن چیزوں سے بچیں اور ضرورت پڑنے پر والدین سے رہنمائی طلب کریں۔
ڈکی بھائی کا ذاتی تجربہ اور والدین کے لیے مثال
اپنے موقف کی تائید میں، ڈکی بھائی نے اپنے بچپن کا ایک دلچسپ حوالہ دیا، جو والدین کے لیے ایک بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد انہیں پڑھائی پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے تھے اور اچھی کارکردگی پر پلے اسٹیشن دینے کا وعدہ کرتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کے والد نے ان کے کمپیوٹر پر ایک حفاظتی نظام (Parental Controls) لگا رکھا تھا، جس کے ذریعے انہیں ڈکی بھائی کی ہر آن لائن سرگرمی کا علم ہوتا تھا اور وہ مکمل نگرانی کرتے تھے۔
یہ ذاتی تجربہ اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر خود نظر رکھیں اور ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف یوٹیوبرز کو قرار دینے کے بجائے اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں۔ ڈکی بھائی کے والد کا طریقہ کار آج کے دور میں بھی اتنا ہی مؤثر ہے جتنا پہلے تھا، جہاں والدین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ڈیجیٹل خطرات سے بچا سکتے ہیں اور ان کی درست سمت میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ یہ محض نگرانی نہیں بلکہ بچوں کے ساتھ ایک ایسا رشتہ قائم کرنا بھی ہے جس میں وہ محسوس کریں کہ ان کے والدین ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند ہیں اور ان کے ساتھ ہر معاملے میں کھڑے ہیں۔
| والدین کی ذمہ داریاں | یوٹیوبرز کی ذمہ داریاں |
|---|---|
| بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنا۔ | معیاری، صاف ستھرا اور مناسب مواد تخلیق کرنا۔ |
| اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا۔ | عمر کی مناسبت سے مواد کی درجہ بندی کرنا۔ |
| بچوں کے لیے رول ماڈل بننا۔ | اخلاقی حدود کا خیال رکھنا اور منفی پیغامات سے گریز کرنا۔ |
| ڈیجیٹل حفاظتی نظام (Parental Controls) کا استعمال۔ | اپنے پلیٹ فارم پر موجود مواد کی نگرانی کرنا۔ |
| بچوں کے ساتھ کھلی گفتگو اور رہنمائی۔ | کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل کرنا۔ |
سوشل میڈیا اور بچوں کی ذہنی صحت پر اثرات
سوشل میڈیا کا بچوں کی زندگی پر اثر صرف ان کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی ذہنی صحت، نفسیاتی حالت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جو بچے روزانہ تین سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں توجہ کی کمی، اضطراب، بے چینی اور خود اعتمادی میں کمی کے مسائل پچیس سے تیس فیصد زیادہ پائے گئے ہیں۔ اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ مسلسل اسکرولنگ، نوٹیفکیشن چیک کرنا اور آن لائن سرگرمیوں میں حصہ لینا دماغ کے اُن حصوں پر اثر انداز ہوتا ہے جو فیصلہ سازی، زبان اور یادداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایکسپریس اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا کے مستقل استعمال کے نفسیاتی اثرات واضح اور خطرناک ہیں۔ بچوں میں سوشل میڈیا کی لت بڑھتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ حقیقی دنیا کے تعلقات اور جسمانی سرگرمیوں سے دور ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا الگورتھم کی وجہ سے بچوں کی ذہنی دنیا پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان کی سماجی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی رپورٹس بھی یہ کہتی ہیں کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، دنیا کے کئی ممالک نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ مثال کے طور پر، دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ والدین کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
عصری چیلنجز اور والدین کا کردار: ایک جامع نقطہ نظر
آج کے دور میں بچوں کی تربیت ایک کثیر جہتی چیلنج بن چکی ہے، جہاں والدین کو روایتی اقدار کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کو بھی سمجھنا اور ان کا سامنا کرنا ہے۔ ڈکی بھائی کا بیان اس بات کا صرف ایک پہلو اجاگر کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے رویوں اور شخصیت کی تشکیل میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی ایک تحریر کے مطابق، اولاد اللہ کی طرف سے انمول تحفہ ہے جس کی حفاظت اور بہترین تعلیم و تربیت والدین کی ذمہ داری ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں، ان کی روزمرہ کی مصروفیات، دوستوں کی صحبت اور تعلیمی سرگرمیوں سے واقفیت رکھیں۔ ماں اور باپ دونوں کو مل کر بچوں کی تربیت کا فریضہ انجام دینا چاہیے، نہ کہ یہ بوجھ صرف ماں پر ڈال دیا جائے۔ بچوں کے سامنے اچھے رول ماڈل بنیں، کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ ایمانداری، مہذب رویہ اور اخلاقی اقدار کی پاسداری والدین کے عمل سے بچوں تک پہنچتی ہے۔
علاوہ ازیں، بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے ایک مضمون کے مطابق، شریعت مطہرہ کی رو سے والدین پر اولاد کے سلسلہ میں جو حقوق عائد ہوتے ہیں، ان میں سب سے اہم اور مقدم حق ان کی دینی تعلیم و تربیت ہے۔ بچوں کو اسلامی تعلیمات اور اقدار و آداب دینا والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں بڑوں کا باہمی احترام ہو اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جائے۔ بچوں کو فیصلہ لینے کا موقع دیں اور انہیں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینا سکھائیں تاکہ وہ کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے خود احتسابی کا رویہ اپنائیں۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو سوشل میڈیا کے بچوں پر اثرات سے متعلق ہے۔
یوٹیوبرز کی اخلاقی ذمہ داری اور مواد کی پیشکش
اگرچہ ڈکی بھائی نے بچوں کے بگاڑ کی مکمل ذمہ داری یوٹیوبرز پر عائد کرنے کو مسترد کیا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مواد تخلیق کاروں کی بھی ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جب ان کے لاکھوں فالوورز، جن میں بڑی تعداد میں بچے اور نوجوان بھی شامل ہوتے ہیں، ان کے مواد کو دیکھتے ہیں، تو ان کے الفاظ اور اعمال کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ یوٹیوبرز کو چاہیے کہ وہ اپنے مواد کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات پر غور کریں، خاص طور پر جب وہ ایسے موضوعات پر بات کر رہے ہوں جو بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ایسا مواد پیش نہ کریں جو تشدد، غیر اخلاقی رویوں، یا غلط معلومات کو فروغ دے۔
پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ مواد کو ترجیح دیں اور نامناسب مواد کو ہٹانے کے لیے موثر میکانزم استعمال کریں۔ ڈکی بھائی نے خود کہا ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز کو صاف اور مناسب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ مشہور یوٹیوبرز اپنی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کو ترجیح دیں جو تعمیری ہو اور ان کے بچوں کی اچھی تربیت میں معاون ہو۔ مواد تخلیق کاروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کی رہنمائی کے لیے مواد میں اخلاقی اقدار اور مثبت پیغامات کو شامل کریں، تاکہ وہ صرف تفریح نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ بھی بنیں۔
نتیجہ
بچوں کے بگاڑ کا ذمہ دار یوٹیوبرز کو قرار دینے پر ڈکی بھائی کا موقف ایک اہم بحث کا آغاز ہے جو ڈیجیٹل دور میں والدین اور مواد تخلیق کاروں دونوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے۔ ڈکی بھائی نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کی تربیت اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، یوٹیوبرز صرف تفریح فراہم کرتے ہیں، اور وہ ہر بچے کے والد نہیں بن سکتے۔ ان کے بچپن کا ذاتی تجربہ، جہاں ان کے والد نے ان کی کمپیوٹر سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی، اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ والدین کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ حقیقت کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی صحت اور رویوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، والدین کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں، حفاظتی نظام استعمال کریں، اور بچوں کے ساتھ آن لائن دنیا کے بارے میں کھلی گفتگو کریں۔ دوسری جانب، یوٹیوبرز کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا مواد تخلیق کریں جو معاشرتی اقدار کے مطابق ہو اور بچوں کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ بالآخر، ایک صحت مند اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے والدین، اساتذہ، مواد تخلیق کاروں اور حکومتی اداروں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچے ڈیجیٹل دنیا کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھا سکیں اور منفی اثرات سے محفوظ رہیں۔ صرف الزام تراشی کے بجائے، ایک تعمیری اور باہمی تعاون کا ماحول ہی ہماری نئی نسل کو بہتر مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔


