مقبول خبریں

پاکستان میں روایتی سرنجز کی درآمد، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کا فیصلہ: ایک اہم عوامی صحت کا اقدام

پاکستان میں روایتی سرنجز کی درآمد، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کا فیصلہ ایک انقلابی اقدام ہے جو ملک میں عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنانے اور متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے وزیراعظم کی ہدایات پر کیا ہے، جس کا مقصد ہیپاٹائٹس، ایڈز (ایچ آئی وی) اور دیگر خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انجیکشن کا استعمال سب سے زیادہ ہے، اور ہر سال تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب سرنجز ملک بھر میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس بھاری استعمال کے پیش نظر، روایتی سرنجوں کا دوبارہ استعمال اکثر و بیشتر مہلک بیماریوں کا باعث بنتا رہا ہے۔ اس جامع پابندی کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہو گا اور اس کا ہدف محفوظ طبی طریقوں کو فروغ دینا اور شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔ یہ مضمون اس اہم فیصلے کے مختلف پہلوؤں، اس کی ضرورت، دائرہ کار، ممکنہ اثرات اور مستقبل کے امکانات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔

روایتی سرنجوں پر پابندی کا پس منظر: ایک قومی صحت کا بحران

پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے شعبے کو طویل عرصے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں سے ایک اہم مسئلہ غیر محفوظ انجیکشن کے طریقوں کا رواج ہے، جس کی وجہ سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے متعدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 13 لاکھ افراد سرنج کے بار بار استعمال کی وجہ سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے باعث ہلاک ہوتے ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال تشویشناک رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ملک میں تقریباً 10 ملین (ایک کروڑ) پاکستانی ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں اور ہر سال تقریباً 110,000 نئے مریض سامنے آتے ہیں، جن میں سے 62 فیصد انجیکشن لگانے میں اختیار کی جانے والی بے احتیاطی کی وجہ سے بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔۔ ایڈز کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی اسی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

ان حالات کے پیش نظر، وفاقی حکومت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر روایتی سرنجوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور ڈریپ میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے بھی اس کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں ایک اہم اصلاحات کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد ملک کے شہریوں کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

روایتی سرنجوں پر پابندی کی ضرورت: متعدی امراض کا بڑھتا خطرہ

روایتی سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والے متعدی امراض پاکستان میں ایک بڑا عوامی صحت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں اور چھوٹے کلینکس میں، جہاں صحت کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد کی نگرانی کمزور ہوتی ہے، ایک ہی سرنج کا کئی مریضوں پر استعمال عام رہا ہے۔ اس سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسی جان لیوا بیماریاں بڑی تعداد میں پھیلتی ہیں جو نہ صرف انفرادی صحت بلکہ پورے سماج کے لیے ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں۔ یہ بیماریاں طویل مدتی علاج اور دیکھ بھال کا تقاضا کرتی ہیں، جس سے مریضوں اور ان کے خاندانوں پر شدید مالی اور جذباتی دباؤ پڑتا ہے۔

ڈریپ حکام کے مطابق، روایتی سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والے امراض کی روک تھام کے لیے یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔ اس پابندی کا مقصد ان غیر محفوظ طریقوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے جو سالہا سال سے پاکستان میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ پابندی کے نفاذ سے صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ صرف محفوظ اور ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں کا استعمال یقینی بنائیں۔

پابندی کا دائرہ کار اور اس کے مراحل

پابندی کا یہ فیصلہ مرحلہ وار نہیں بلکہ ایک مکمل اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر یکم جولائی 2026 کو 3 اور 10 سی سی کی روایتی سرنجوں پر جزوی پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم، اب وفاقی حکومت نے روایتی (مینول) سرنجز پر “مکمل پابندی” عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، ایک سے 10 سی سی حجم کی تمام روایتی سرنجز کی درآمد، تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یکم جولائی کے جزوی حکم نامے کو منسوخ کر دیا جائے گا۔

یہ پابندی یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہو گی۔ 31 دسمبر 2026 کے بعد، روایتی غیر انسولین ڈسپوزیبل سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت غیر قانونی قرار پائے گی۔ خاص طور پر، انسولین سرنجز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، کیونکہ ان کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے اور ان کا دوبارہ استعمال عموماً مریض خود نہیں کرتے بلکہ ان کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

سابقہ طور پر، بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے لیے 10 سی سی روایتی سرنجز کے مشروط استعمال کی چھوٹ دی گئی تھی، جس میں خریدار کا نام پیکنگ پر درج کرنا اور ڈریپ کے ڈیجیٹل پورٹل پر استعمال کا ریکارڈ اپ لوڈ کرنا شامل تھا۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، اس مخصوص رعایت کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ پابندی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کے غیر محفوظ استعمال کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔

آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجز: محفوظ متبادل اور ان کی افادیت

روایتی سرنجوں پر پابندی کے ساتھ ہی، ان کے محفوظ متبادل، یعنی آٹو ڈس ایبل (AD) یا سیفٹی انجینیئرڈ سرنجوں کا استعمال لازمی قرار دیا جائے گا۔ یہ سرنجیں جدید ٹیکنالوجی کی حامل ہوتی ہیں جو ایک بار استعمال ہونے کے بعد خود بخود ناکارہ ہو جاتی ہیں، جس سے ان کے دوبارہ استعمال کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی خصوصیات اور فوائد:

  • ایک بار استعمال کی ضمانت: ان سرنجوں کا ڈیزائن ایسا ہوتا ہے کہ پلنجر کو ایک بار مکمل دھکیلنے کے بعد وہ خود بخود لاک ہو جاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، جس سے سرنج دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتی۔
  • متعدی امراض کی روک تھام: یہ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے خون سے منتقل ہونے والے امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں انتہائی مؤثر ہیں۔
  • صحت کے عملے کا تحفظ: یہ سرنجیں نادانستہ سوئی لگنے (needle-stick injuries) کے خطرے کو بھی کم کرتی ہیں، جس سے صحت کے عملے کو انفیکشن سے تحفظ ملتا ہے۔
  • عوامی اعتماد میں اضافہ: مریضوں اور عام عوام کا طبی نظام پر اعتماد بحال ہو گا کہ انہیں محفوظ طریقے سے علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ آٹو ڈس ایبل سرنجز روایتی سرنجوں کے مقابلے میں قدرے مہنگی ہو سکتی ہیں، لیکن طویل مدتی صحت فوائد اور متعدی امراض کی روک تھام کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک سرمایہ کاری ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، “مہنگی تو ہیں لیکن محفوظ ہیں”۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے آٹو ڈس ایبل سرنجز کی دستیابی اور استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا بڑا فیصلہ آ گیا

پالیسی سازی اور نفاذ: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کردار

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اس پابندی کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈریپ ملک میں ادویات اور طبی آلات کی درآمد، تیاری، فروخت اور معیار کو کنٹرول کرنے والا وفاقی ادارہ ہے۔ ڈریپ نے روایتی سرنجز پر پابندی کے لیے مکمل ورکنگ کر لی ہے۔

اس فیصلے کی اہم خصوصیات میں درج ذیل شامل ہیں:

  • وزیراعظم کی ہدایات: یہ فیصلہ وزیراعظم کی براہ راست ہدایات پر کیا گیا ہے تاکہ متعدی امراض کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔
  • اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت: پابندی کا فیصلہ تمام متعلقہ فریقین سے طویل مشاورت کے بعد کیا گیا، اگرچہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔
  • ڈیجیٹل نگرانی: ڈریپ روایتی سرنجوں کے محدود استعمال (بمطابق پرانے حکم نامے میں دی گئی رعایت) کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک ڈیجیٹل پورٹل قائم کرے گا اور ثانوی و ثالثی نگہداشت کے اسپتالوں کو ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کا پابند کیا جائے گا۔ تاہم، نئے فیصلے میں اس رعایت کو ختم کیا جا چکا ہے۔
  • قانونی کارروائی: وزیراعظم نے خلافِ ضابطہ سرنجوں کے استعمال میں ملوث افراد، کلینکس اور اسپتالوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

ڈریپ نے میڈیکل ڈیوائسز کے ضوابط (Medical Devices Rules, 2017) تیار کیے ہیں جو طبی آلات کی حفاظت اور افادیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت، طبی آلات تیار کرنے والی صنعت سے مشاورت کے بعد ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں گی جو سرنجوں کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو مستقل طور پر روکا جا سکے۔

پہلوروایتی (مینول) سرنجآٹو ڈس ایبل (AD) سرنج
دوبارہ استعمال کا امکانزیادہصفر (ایک بار استعمال کے بعد ناکارہ)
بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ (ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس)بہت زیادہانتہائی کم/صفر
صحت کے عملے کے لیے خطرہسوئی لگنے کے حادثات کا زیادہ امکانسوئی لگنے کے حادثات کا کم امکان
لاگتکمنسبتاً زیادہ (تاہم طویل مدتی فوائد کے ساتھ)
قانونی حیثیت (یکم جنوری 2027 سے)پابندی عائدلازمی استعمال کی اجازت

طبی صنعت اور مارکیٹ پر ممکنہ اثرات

پاکستان میں روایتی سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت پر مکمل پابندی کا فیصلہ طبی صنعت اور مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ یہ تبدیلی ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔

  • مقامی مینوفیکچررز کے لیے چیلنجز: روایتی سرنجیں تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی پیداواری لائنوں کو آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی تیاری کی طرف منتقل کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجی، مشینری کی اپ گریڈیشن اور عملے کی تربیت کی ضرورت ہوگی، جس میں وقت اور سرمایہ دونوں درکار ہوں گے۔
  • نئی سرمایہ کاری اور مواقع: یہ پابندی مقامی مینوفیکچررز کے لیے آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی پیداوار میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرے گی۔ حکومت کو ان کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ، سبسڈی یا آسان قرضوں کے ذریعے سہولت فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ اس تبدیلی کو آسانی سے اپنا سکیں۔ ڈریپ ادویات اور میڈیکل آلات کی برآمدات میں اضافے کے لیے سرٹیفیکیشن کے اجراء کو تیز کر رہا ہے، جو اس شعبے میں ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • درآمدات پر اثرات: روایتی سرنجوں کی درآمد پر پابندی سے ان درآمد کنندگان پر اثر پڑے گا جو اب تک ان سرنجوں کو ملک میں لا رہے تھے۔ انہیں اب آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی درآمد پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
  • قیمتوں میں ممکنہ اضافہ: مختصر مدت میں، آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی لاگت روایتی سرنجوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نئی سرنجیں عام عوام کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔
  • صحت کے مراکز کے لیے چیلنجز: چھوٹے کلینکس اور نجی پریکٹیشنرز کو بھی نئی سرنجوں کی خریداری اور ان کے مناسب انتظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہیں تربیت اور آگاہی فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ وہ اس تبدیلی کو مؤثر طریقے سے اپنا سکیں۔

اس فیصلے کے تناظر میں، حکومت کو صنعت اور صحت کے شعبے سے وابستہ تمام فریقین کے ساتھ مسلسل مشاورت اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ اس تبدیلی کو ہموار اور کامیاب بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں، اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ڈریپ نے سرنج ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو مراسلے بھجوا دیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی ادارے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے فعال ہیں۔

عوامی صحت پر مثبت اثرات اور مستقبل کے امکانات

روایتی سرنجوں پر مکمل پابندی کے فیصلے کے پاکستان میں عوامی صحت پر دور رس اور انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اقدام نہ صرف بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکے گا بلکہ صحت کے نظام میں ایک پائیدار تبدیلی کی بنیاد بھی رکھے گا۔

  • متعدی امراض کی شرح میں کمی: یہ پابندی ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے متعدی امراض کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جو سالانہ لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہیں۔
  • بہتر عوامی صحت: جب بیماریوں کا پھیلاؤ کم ہوگا تو عوامی صحت کا مجموعی معیار بہتر ہوگا۔ اسپتالوں اور صحت کے مراکز پر دباؤ کم ہوگا اور صحت کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
  • صحت کے نظام پر اعتماد: اس فیصلے سے عوام کا صحت کے نظام پر اعتماد بحال ہوگا، کیونکہ انہیں یہ یقین ہوگا کہ انہیں محفوظ اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
  • بین الاقوامی ساکھ میں بہتری: یہ اقدام پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنائے گا اور اسے ان ممالک کی صف میں کھڑا کرے گا جو عالمی صحت کے معیار کو اپنا رہے ہیں۔
  • صحت کے عملے کی حفاظت: آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے استعمال سے صحت کے عملے کو بھی نادانستہ سوئی لگنے کے حادثات سے تحفظ ملے گا، جو ایک اہم پیشہ ورانہ خطرہ ہے۔

مستقبل میں، اس پالیسی کی کامیابی کے لیے عوامی آگاہی مہمات، صحت کے عملے کی تربیت اور مانیٹرنگ کے مضبوط نظام کا قیام انتہائی ضروری ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی آسان دستیابی اور معقول قیمتوں کو یقینی بنائے تاکہ یہ اہم اقدام اپنی افادیت کو مکمل طور پر حاصل کر سکے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون بھی اس جنگ میں انتہائی اہم ہے، خاص طور پر طبی آلات کی مقامی تیاری اور صحت کے شعبے سے وابستہ عملے کی عالمی معیار کے مطابق تربیت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

نتیجہ

پاکستان میں روایتی سرنجز کی درآمد، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کا فیصلہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک جرأت مندانہ اور بروقت قدم ہے۔ یہ فیصلہ ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسے مہلک متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جو غیر محفوظ انجیکشن کے طریقوں کی وجہ سے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ یکم جنوری 2027 سے آٹو ڈس ایبل سرنجوں کا لازمی استعمال نہ صرف مریضوں کو تحفظ فراہم کرے گا بلکہ صحت کے عملے کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے گا۔ اگرچہ اس فیصلے سے طبی صنعت اور مارکیٹ کو ابتدائی طور پر کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم طویل مدتی فوائد ان چیلنجز پر بھاری ہیں۔ حکومت، ڈریپ، طبی برادری اور عوام کے مشترکہ تعاون سے یہ اقدام پاکستان کے صحت کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے، جہاں ہر شہری کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہو گی۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھے گا۔