مقبول خبریں

امریکہ خوش فہمی میں نہ رہے: عمان معاہدے کے بعد بھی آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، ایران

امریکہ خوش فہمی میں نہ رہے، ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ خلیج عمان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر نہیں کھلے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مجوزہ معاہدے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ یہ معاہدہ محض بحری راستے کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق ہے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا انحصار امریکہ کے رویے میں تبدیلی اور اس کی “جارحانہ کارروائیوں” کے خاتمے پر ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ کی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ ایران اس آبنائے کو اپنے دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے، اور عالمی طاقتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کے استعمال سے گریزاں نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز ایک قدرتی سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں سلطنت عمان کا مسندم علاقہ اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ تقریباً 167 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ اس کی چوڑائی تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر تک رہ جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس کے ذریعے گزرنے والی توانائی کی ترسیل کے باعث غیر معمولی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ برسوں میں یہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی رہی ہیں، جو عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔

اس آبی گزرگاہ کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اور شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بحری مال برداری کے کرایوں میں بڑھوتری، اور انشورنس پریمیئم میں اضافہ پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات کو بڑھا دیتا ہے، جس کا بالآخر بوجھ صارفین پر پڑتا ہے اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ایران، امریکہ کشیدگی کا پس منظر

امریکہ اور ایران کے تعلقات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ہی کشیدہ رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں یہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچا جب امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں اور جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ایران نے ان اقدامات کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو عدم استحکام کی وجہ قرار دیا ہے۔

ایران نے بارہا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے تاکہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالا جا سکے اور امریکی پابندیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کو عالمی منڈیوں سے تیل برآمد کرنے سے روکا گیا تو کوئی دوسرا ملک بھی اس راستے سے تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔ 2025 میں امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری بھی دی تھی، جسے ایران ایک “ٹرمپ کارڈ” کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

عمان کا مصالحانہ کردار اور حالیہ پیش رفت

عمان نے تاریخی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی، عمان نے اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ ان مذاکرات میں قطر، پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک نے بھی کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا۔

5 اگست 2026 کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر متفق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم، بقائی نے واضح کیا کہ اس اتفاق رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی، کیونکہ خطے کی مجموعی سلامتی کا انحصار دیگر سیاسی اور فوجی عوامل پر بھی ہے۔

مجوزہ عمان-ایران معاہدے کی تفصیلات

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد اور روانگی کے لیے الگ الگ بحری راستے متعین کیے جا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی والے راستے سے گزریں گے، جبکہ خلیج سے باہر جانے والے جہاز عمان کے زیر انتظام راستہ استعمال کریں گے۔ اس انتظام کا مقصد بحری ٹریفک کو منظم کرنا اور تصادم یا فوجی کشیدگی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

اس معاہدے میں ایک 60 روزہ عارضی انتظام طے پایا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکے گی۔ اس عبوری مدت کے دوران جہازوں سے کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، فریقین کے مابین یہ بھی طے پایا ہے کہ 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کی جائیں گی۔ درمیانی لین صاف ہونے کے بعد اسے دونوں ممالک کے مستقل انتظامات کے تحت دو طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

تفصیل آبنائے ہرمز کی صورتحال (قبل از کشیدگی) مجوزہ عمان-ایران معاہدہ (عارضی)
سالانہ عالمی تجارت تقریباً 600 ارب ڈالر کا سامان بندش سے عالمی تجارت بری طرح متاثر
روزانہ تیل کی ترسیل تقریباً 20-21 ملین بیرل شدید متاثر
چوڑائی (تنگ ترین مقام) تقریباً 33 کلومیٹر بحری راستوں کی جغرافیائی حدود پر اتفاق
ملحقہ ممالک ایران، عمان، متحدہ عرب امارات ایران اور عمان کے درمیان انتظام
فی یوم بحری جہاز تقریباً 90 اور سالانہ 33 ہزار جنگ کے دوران 8 جہازوں تک محدود
متوقع ٹول/فیس کوئی لازمی فیس نہیں (امریکی مؤقف) عارضی مدت میں کوئی فیس نہیں

ایران کی شرائط: امریکی جارحیت کا خاتمہ

ایرانی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ عمان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھل جائے گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اگر ایران اور عمان کسی نئے بحری راستے یا مشترکہ انتظام پر متفق بھی ہو جائیں، تب بھی آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایران کے بقول امریکہ اپنی خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکہ کے رویے میں تبدیلی اور اس کی مبینہ جارحانہ کارروائیوں کے خاتمے پر ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے 15 جولائی 2026 کو بیان جاری کیا تھا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ‘جارحانہ کارروائیاں’ بند نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ خطے سے تیل برآمد کرنے کے دیگر راستے بھی نشانہ بن سکتے ہیں، اور کہا کہ “خطے سے تیل اور گیس کی برآمد یا تو سب کے لیے ممکن ہوگی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔” امریکہ نے ایران پر بحری ناکہ بندی اور اس کے مفادات کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

علاقائی سلامتی اور عالمی ردعمل

آبنائے ہرمز کی بندش کے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی ترسیل میں تعطل عالمی توانائی کی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور عالمی سطح پر مہنگائی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش سے 12 اہم اشیا کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات میں 95 فیصد جبکہ یوریا کھاد کی برآمدات میں 83 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس صورتحال میں عالمی طاقتیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ بحری آمدورفت کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور ایرانی تعاون کے بغیر بھی شپنگ روٹس محفوظ رہیں گے۔ تاہم، ایران نے علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جو ممالک امریکی افواج کے لیے دفاعی ڈھال بنیں گے، وہ بالآخر جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایران نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی صرف خطے کے ممالک ہی یقینی بنا سکتے ہیں اور بیرونی طاقتوں کی موجودگی عدم استحکام میں اضافہ کرتی ہے۔ اس حوالے سے ایران نے نیٹو کی طرز پر مسلم ممالک پر مشتمل ایک علاقائی سیکیورٹی اتحاد کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

مستقبل کے امکانات اور سفارتی چیلنجز

عمان کے ساتھ ایران کے معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے ابھی کئی چیلنجز باقی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، جن میں عمان اور قطر جیسے ممالک سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر مثبت مذاکرات کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں مجوزہ معاہدے پر اصولی اتفاق کر لیا تھا، اور ایرانی قیادت نے منگل کے روز اس کی حتمی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس کے باوجود، ایران کا مؤقف واضح ہے کہ بحری راستے کے انتظامی طریقہ کار پر اتفاق رائے ایک الگ معاملہ ہے، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ امریکی رویے میں تبدیلی سے مشروط ہے۔

عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والی امید ہے۔ سرمایہ کار یہ توقع کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ پر ایران کے مکمل کنٹرول کو تسلیم کریں گے۔

اس تمام صورتحال میں، عالمی برادری کو اس بات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور کس طرح آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستوں کی مکمل اور پائیدار بحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی امن اور معاشی استحکام کا ایک بڑا حصہ اس خطے کی سلامتی اور تعاون پر منحصر ہے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ چھوٹا سا آبی راستہ صدیوں سے عالمی تجارت کی شہ رگ رہا ہے اور آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔

نتیجہ

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے انتظامی طریقہ کار پر اتفاق رائے کر لیا ہے، لیکن یہ امریکہ کے لیے کوئی “خوش فہمی” نہیں ہونی چاہیے کہ یہ آبی گزرگاہ عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھل جائے گی۔ ایران کا واضح مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا انحصار امریکہ کی “جارحانہ کارروائیوں” کے خاتمے اور اس کے رویے میں ٹھوس تبدیلی پر ہے۔ یہ محض ایک انتظامی معاہدہ ہے، جو ایران کے اسٹریٹیجک لیوریج کو کم نہیں کرے گا۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت، امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی، اور عمان کا مصالحانہ کردار اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ عالمی امن اور توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور طویل المدتی سفارتی حل کی طرف بڑھیں۔