روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران، ایران کے جوہری پروگرام اور دو طرفہ تعلقات سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مقدمہ
روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی مضبوط رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سلامتی شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صدر پوتن اور صدر محمد بن زاید کے درمیان یہ ٹیلیفونک رابطہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں دونوں رہنما باقاعدگی سے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔
ٹیلیفون گفتگو کی تفصیلات
دونوں صدور کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر، انہوں نے شام، یمن، لیبیا اور فلسطین کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی۔ دونوں رہنماؤں نے ان بحرانوں کے سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی دونوں رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا۔ صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ روس ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ صدر محمد بن زاید نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران
مشرقِ وسطیٰ ایک طویل عرصے سے عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ شام، یمن، لیبیا اور فلسطین میں جاری تنازعات نے خطے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ان تنازعات کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور خطے میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ روس اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی ان تنازعات کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ روس شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مداخلت کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ان تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ان کا حل ممکن ہے۔
شامی بحران کا حل
شام میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ روس نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کی ہے اور اسے فوجی اور مالی امداد فراہم کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی شام میں انسانی امداد فراہم کی ہے، لیکن وہ بشار الاسد کی حکومت کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ روس اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی شام میں سیاسی حل کے لیے کوشاں ہیں، لیکن ان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ اس حل کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔
یمن میں جنگ
یمن میں 2015 سے جاری جنگ میں بھی لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مداخلت کا حصہ ہے، جس کا مقصد حوثی باغیوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ روس نے یمن میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے خیالات مختلف ہونے کے باوجود یمن میں امن کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے۔
ایران کا معاملہ
ایران کا جوہری پروگرام ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ روس ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ صدر پوتن نے اس ٹیلیفونک گفتگو میں اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جوہری معاہدے کی بحالی
2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک جوہری معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، 2018 میں امریکہ نے اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے جواب میں، ایران نے بھی معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد روک دیا۔ روس اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی اس معاہدے کی بحالی کے حامی ہیں، لیکن ان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ اس بحالی کی شرائط کیا ہونی چاہییں۔ عالمی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دو طرفہ تعلقات پر گفتگو
مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور ایران کے معاملے کے علاوہ، دونوں صدور نے دو طرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں ممالک نے 2025 تک اس تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات روس میں سرمایہ کاری کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اور دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں بھی کئی مشترکہ منصوبے شروع کیے ہیں۔ سلامتی کے شعبے میں، دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہے ہیں۔
اقتصادی تعاون کی اہمیت
روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روس دنیا کا ایک بڑا توانائی پیدا کرنے والا ملک ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات ایک بڑا مالیاتی مرکز ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ
دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روس متحدہ عرب امارات کو تیل، گیس اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات روس کو مشینری، آلات اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات روس میں توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اقتصادی تعاون سے متعلق مزید معلومات حاصل کریں۔
سیاسی اور سفارتی تعاون
اقتصادی تعاون کے علاوہ، روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہیں۔ روس شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مداخلت کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ان تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ان کا حل ممکن ہے۔
عالمی سطح پر ہم آہنگی
دونوں ممالک مختلف عالمی فورمز پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ روس اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
عالمی मंच پر مشترکہ रुख
روس اور متحدہ عرب امارات عالمی मंच پر کئی امور پر مشترکہ रुख اختیار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا عزم کیا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات میں بھی مزید اضافہ ہونے کی امید ہے۔
مزید تعاون کے امکانات
دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات موجود ہیں۔ روس ایک بڑا سیاحتی مقام ہے، اور متحدہ عرب امارات سے بہت سے سیاح روس کا دورہ کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح، تعلیم کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے طلباء کو ایک دوسرے کے تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔
گفتگو کے نتائج
روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
مختصر یہ کہ روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو انتہائی اہمیت کی حامل تھی جس میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ اور محاذ آرائی
مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے روس اور متحدہ عرب امارات کا باہمی تعاون ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، ان مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔
| معاملہ | روس کا موقف | متحدہ عرب امارات کا موقف |
|---|---|---|
| شام | بشار الاسد کی حمایت | سیاسی حل کی حمایت |
| یمن | جنگ بندی کی حمایت | سعودی عرب کی حمایت |
| ایران | جوہری ہتھیاروں کی مخالفت | سفارتی حل کی حمایت |
| تجارت | تعاون میں اضافہ | تعاون میں اضافہ |
