Table of Contents
ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں اضافہ ایک بار پھر پاکستان کے عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست 2026 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس تازہ اضافے سے مہنگائی کے مارے عوام پر مزید بوجھ پڑا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور لوگ کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ اوگرا کے اس اعلان کے بعد ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں تقریباً 13 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل سلنڈر کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔
ایل پی جی قیمتوں میں حالیہ اضافہ: ایک جامع جائزہ
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم اگست 2026 سے ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق، ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 12 روپے 88 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 254 روپے 32 پیسے فی کلوگرام مقرر ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور پریشانی کا باعث ہے، کیونکہ ایل پی جی ایک اہم گھریلو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، بالخصوص قدرتی گیس کی قلت والے علاقوں میں۔
اس اضافے سے نہ صرف عام گھریلو صارفین متاثر ہوں گے بلکہ کمرشل استعمال کنندگان جیسے ریستوراں، بیکریاں اور رکشہ ڈرائیورز بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 152 روپے 01 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3,000 روپے 92 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل جولائی میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 2,849 روپے تھی۔ اسی طرح، کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 585 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 11,546 روپے ہو گئی ہے۔ یہ قیمتیں ایک ماہ کے لیے نافذ العمل ہوں گی اور ماہ کے آغاز پر اوگرا کی جانب سے بین الاقوامی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی کی جاتی ہے۔
اوگرا کا نوٹیفکیشن اور اگست کی نئی قیمتوں کی تفصیلات
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اگست 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔ یہ نوٹیفکیشن 31 جولائی 2026 کو جاری کیا گیا اور یکم اگست سے اس کا اطلاق عمل میں آیا۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، فی کلو ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 12.89 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اور نئی قیمت 254.32 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے، جولائی کے مہینے میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 241 روپے 43 پیسے تھی۔
قیمتوں میں اس اضافے کا براہ راست اثر صارفین کی جیبوں پر پڑے گا۔ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت اب 3,000 روپے 92 پیسے ہے، جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت 11,546 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر ایسے گھرانوں کے لیے مشکل کا باعث بنے گا جو پہلے ہی بلند افراط زر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نبرد آزما ہیں۔ اوگرا کی جانب سے ہر ماہ کے آغاز پر قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ نظرثانی شدہ قیمتیں پورے مہینے کے لیے نافذ رہتی ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات: عالمی اور مقامی عوامل
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات عالمی منڈی میں خام تیل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر ہے۔ اوگرا کے ترجمان کے مطابق، ایل پی جی کی پیداواری قیمت کا تعلق سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس (سی پی) اور امریکی ڈالر کی شرح مبادلہ سے ہے۔ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں سعودی آرامکو سی پی میں 6.75 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ڈالر کی اوسط شرح مبادلہ میں 0.12 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ غیر یقینی صورتحال، بھی ایل پی جی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
مقامی سطح پر، پاکستان کا ایل پی جی کی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد درآمدات پر منحصر ہے۔ درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ لاگت، اور حکومتی ٹیکسز بھی مقامی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ملک میں قدرتی گیس کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کی وجہ سے ایل پی جی کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور یہ بھی قیمتوں پر دباؤ کا ایک سبب ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایل پی جی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر رہے ہیں۔
| تفصیل | جولائی 2026 (روپے) | اگست 2026 (روپے) | اضافہ (روپے) |
|---|---|---|---|
| فی کلو ایل پی جی قیمت | 241.43 | 254.32 | 12.89 |
| 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر | 2849 | 3000.92 | 152.01 |
| کمرشل سلنڈر (تخمینی) | 10961 | 11546 | 585 |
صارفین پر بڑھتا مالی بوجھ اور عوامی ردعمل
ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے کمر توڑ مہنگائی کا باعث بن رہا ہے۔ جن علاقوں میں قدرتی گیس کی سہولت یا تو بالکل نہیں ہے یا اس کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہے، وہاں کے مکینوں کو مجبورا ایل پی جی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ رکشہ، ہوٹل، اور دیگر چھوٹے کاروبار جو ایل پی جی پر چلتے ہیں، ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
عوام کی جانب سے اس اضافے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اور عوامی اجتماعات میں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگائی سے ستائی غریب عوام کو ریلیف فراہم کرے اور سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ صنعت مزید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
سپلائی اور ڈیمانڈ کا مسئلہ: بحران میں اضافہ؟
پاکستان میں قدرتی گیس کے بڑھتے ہوئے بحران نے ایل پی جی پر انحصار میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ سردیوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر جاتا ہے، جب گھریلو صارفین کو قدرتی گیس کی شدید قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں ایل پی جی واحد سستا ایندھن بن جاتا ہے جو اس کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور مارکیٹ میں اس کی دستیابی میں اتار چڑھاؤ صارفین کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔
ملکی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد ایل پی جی درآمد کیا جاتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں تبدیلی اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ براہ راست مقامی سپلائی اور قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایل پی جی انڈسٹری کے نمائندوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایل پی جی سیکٹر کے مسائل حل نہ ہوئے تو ملک میں اس کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایل پی جی پر عائد ٹیکسوں میں کمی اور ایل پی جی پالیسی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب عوام کو سستی گیس فراہم کی جا سکے۔ یہ صورتحال حکومتی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ کس طرح پائیدار بنیادوں پر توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جائے اور عوام کو مالی بوجھ سے بچایا جائے۔ ایکسپریس نیوز کی ایک پرانی رپورٹ کے مطابق، مارکیٹ میں سپلائی کی کمی اور ڈسٹری بیوٹرز کو مہنگا مال ملنا بھی زائد قیمت پر فروخت کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ایل پی جی مارکیٹ میں سرکاری کنٹرول اور زمینی حقائق
اگرچہ اوگرا ہر ماہ ایل پی جی کے سرکاری نرخ جاری کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں مقامی ڈیلرز سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر ایل پی جی فروخت کرتے ہیں، جس سے سرکاری اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان ایک بڑا فرق برقرار رہتا ہے۔ یہ صورتحال بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کو فروغ دیتی ہے، جس سے غریب صارفین کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
اوگرا کے پاس خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ کرنے اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے دکانیں سیل کرنے کا اختیار موجود ہے، اور ماضی میں ایسے اقدامات کیے بھی گئے ہیں، جہاں پنجاب اور سندھ میں اوور چارجنگ پر ایل پی جی کے پلانٹس کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، اس کے باوجود یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو پایا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوگرا اور متعلقہ امپورٹرز ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر ہونے والی فروخت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکے ہیں جس سے بحران بڑھ رہا ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر بھی تنقید کی ہے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت سے توقعات اور آئندہ کا لائحہ عمل
ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ایل پی جی کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، ایل پی جی پر عائد ٹیکسوں اور لیویز میں کمی لائی جا سکتی ہے تاکہ صارفین پر مالی بوجھ کم ہو سکے۔ ایل پی جی انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایل پی جی کی پالیسی کو مزید بہتر بنائے اور سرکاری ایل پی جی کمپنیوں کو ہدایت جاری کرے کہ وہ اوگرا کے لائسنس یافتہ مارکیٹنگ کمپنیوں میں ایل پی جی کو مساوی طور پر تقسیم کریں تاکہ بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کو روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ، قدرتی گیس کے متبادل کے طور پر ایل پی جی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ اس میں مقامی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی ذرائع کو متنوع بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ طویل مدتی حکمت عملی کے تحت، حکومت کو توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کے منصوبوں پر کام کرنا چاہیے اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا چاہیے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ ان اقدامات سے نہ صرف ایل پی جی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو بھی بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔
نتیجہ
اگست 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک اور مشکل کا پیش خیمہ ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور بڑھتی ہوئی قیمتیں، عالمی منڈی کے رجحانات اور مقامی اقتصادی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں پر پڑنے والا یہ مالی بوجھ اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ ایل پی جی کی پیداواری قیمتوں کو مستحکم کرنے، مقامی ڈیلرز کی منافع خوری کو روکنے، اور توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز کرنے سے ہی اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے دائرے کو مزید وسیع کرتی رہیں گی اور عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گی۔


