بچوں کی حفاظت میں ناکامی پر سوشل میڈیا کمپنی میٹا (Meta Platforms) کو امریکی عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نیو میکسیکو کی ایک امریکی عدالت نے حال ہی میں میٹا کو بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور انہیں آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے میں ناکامی پر 567 ملین ڈالر (تقریباً 4700 کروڑ روپے) کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ آن لائن بچوں کی حفاظت سے متعلق اب تک کے سب سے اہم عدالتی فیصلوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔ یہ مقدمہ، جو کہ دو مراحل میں چلا، اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور فیچرز کے ذریعے کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
تعارف: میٹا اور بچوں کی آن لائن حفاظت کا مسئلہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر فیس بک اور انسٹاگرام جو میٹا کی ملکیت ہیں، بچوں اور نوعمروں کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ جہاں یہ پلیٹ فارمز معلومات تک رسائی اور سماجی روابط کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں ان کے منفی اثرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ طویل عرصے سے والدین، ماہرین نفسیات اور حکومتی ادارے ان پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان خدشات میں آن لائن ہراسانی، جنسی استحصال، نامناسب مواد تک رسائی، اور ذہنی صحت پر منفی اثرات جیسے مسائل شامل ہیں۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت کا حالیہ فیصلہ انہی خدشات کی تائید کرتا ہے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ قانونی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے 2023 میں میٹا اور اس کے سربراہ مارک زکربرگ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ میٹا نے اپنے کاروباری مفادات کو بچوں کی حفاظت پر ترجیح دی، جس کے باعث نوجوانوں کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔ مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ کمپنی نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا ان کے والدین کی رضامندی کے بغیر جمع کیا، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے نے دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال قائم کی ہے، کیونکہ مختلف ممالک میں بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
عدالتی فیصلہ اور جرمانے کی تفصیلات
نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ میٹا نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے اور عوام کو ان خطرات سے مؤثر طور پر آگاہ کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ جج برائن بیڈشائیڈ نے اپنے ریمارکس میں میٹا کو “عوامی سطح پر نقصان کا باعث” قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ فضائی آلودگی سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کسی فیکٹری سے نکلنے والا زہریلا دھواں اور آلودگی لوگوں کی صحت اور صاف ہوا کے حق پر اثر انداز ہوتی ہے، اسی طرح میٹا کے پلیٹ فارمز سے پیدا ہونے والے خطرات بھی معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، اس مقدمے میں میٹا کو پہلے ہی مجموعی طور پر 942 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں، مارچ 2026 میں ایک جیوری نے کمپنی کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور جنسی استحصال کے معاملات کی روک تھام میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس پر 375 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ اب دوسرے مرحلے میں، عدالت نے مزید 567 ملین ڈالر کا اضافی جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ کل 942 ملین ڈالر کا جرمانہ میٹا کے خلاف بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سب سے بڑا عدالتی فیصلہ ہے۔
جرمانے کی رقم کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 420 ملین ڈالر، نیو میکسیکو میں نوجوانوں کو طبی اور معاون خدمات فراہم کرنے، ان کی دیکھ بھال کی سہولیات پر خرچ کرنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔ باقی رقم اگلے پانچ سالوں کے دوران بیماریوں سے بچاؤ، آگاہی مہمات، اسکریننگ سروسز اور دیگر حفاظتی اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔
لَت اور ذہنی صحت پر منفی اثرات
عدالت نے قرار دیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے ڈیزائن اور بعض فیچرز نوجوان صارفین میں ضرورت سے زیادہ استعمال، ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کو بڑھانے کا باعث بنے۔ مقدمے میں کہا گیا کہ میٹا نے جان بوجھ کر ایسے فیچرز متعارف کرائے ہیں جنہیں استعمال کرنے کے نوجوان اور بچے عادی ہو گئے ہیں۔ میٹا کی اپنی اندرونی تحقیق نے بھی 2021 میں یہ انکشاف کیا تھا کہ انسٹاگرام نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ انسٹاگرام استعمال کرنے والی ہر تین میں سے ایک نوجوان لڑکی کو باڈی امیج کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اور نوجوانوں نے ذہنی بے چینی اور ڈپریشن میں اضافے کی بھی شکایت کی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز پر نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔ ان میں کم عمر صارفین کے لیے اسکرین ٹائم محدود کرنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز پر پابندی، عمر کی بہتر تصدیق، اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی حفاظتی نظام شامل ہیں۔ کمپنی کو اپنی پیش رفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹیں بھی عدالت میں جمع کرانی ہوں گی۔
آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ میٹا بچوں کو آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی۔ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز بچوں کو جنسی شکاریوں کے رابطوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنے۔ فروری 2026 میں سامنے آنے والی اندرونی دستاویزات سے انکشاف ہوا تھا کہ میٹا کے ملازمین ہر سال تقریباً 75 لاکھ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق رپورٹس پر بات کر رہے تھے۔ انہیں تشویش تھی کہ مارک زکربرگ کے 2019 کے فیصلے کے بعد، جس کے تحت فیس بک میسنجر میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نافذ کی گئی، یہ رپورٹس ظاہر نہیں ہو سکیں۔
عدالت نے میٹا کو حساس اور قابل اعتراض تصاویر کو خودکار طریقے سے دھندلا کرنے کے اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، کمپنی کو 13 سال سے کم عمر صارفین کے تمام اکاؤنٹس تلاش کرکے حذف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ آن لائن بلیک میلنگ اور سیکس ٹورشن کی روک تھام کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
| مسئلہ کی نوعیت | میٹا پر الزام | عدالتی حکم (اصلاحات) | جرمانہ (ڈالرز میں) |
|---|---|---|---|
| ذہنی صحت پر منفی اثرات | نشہ آور ڈیزائن، ذہنی دباؤ، اضطراب میں اضافہ | اسکرین ٹائم محدود کرنا، نوٹیفکیشنز پر پابندی | 567 ملین (اضافی) |
| آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد | کمزور نگرانی، جنسی شکاریوں تک رسائی | 13 سال سے کم عمر اکاؤنٹس حذف کرنا، حساس مواد کو دھندلا کرنا | 375 ملین (پہلے) |
| عمر کی تصدیق میں ناکامی | 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنا | عمر کی بہتر تصدیق کا نظام | شامل |
| شفافیت کا فقدان | صارفین کو خطرات سے آگاہ نہ کرنا | آگاہی مہمات، حفاظتی فیچرز کی واضح معلومات | شامل |
| مجموعی مالی بوجھ | بچوں کی حفاظت میں مسلسل ناکامی | خصوصی فنڈ کا قیام | 942 ملین (کل) |
میٹا کا ردعمل اور مستقبل کے اقدامات
دوسری جانب، میٹا نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ برسوں میں نوجوانوں کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی فیچرز متعارف کرائے ہیں اور وہ صارفین کی سلامتی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔ میٹا کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور نقصان دہ مواد اور منفی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
میٹا نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز ہی نوجوانوں کے استعمال کا واحد ذریعہ نہیں، اس لیے صرف کمپنی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم، عدالتی احکامات کے تحت میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز پر نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔ ان میں اسکرین ٹائم محدود کرنے، غیر ضروری نوٹیفکیشنز پر پابندی، عمر کی بہتر تصدیق، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی حفاظتی نظام اور نقصان دہ یا نامناسب مواد کی نگرانی مزید سخت کرنا ہوگی۔ کمپنی کو اپنی پیش رفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹیں بھی عدالت میں جمع کرانی ہوں گی۔
اس کے علاوہ، میٹا نے حال ہی میں کم عمر صارفین کے لیے انسٹاگرام پر کئی نئے فیچرز بھی متعارف کرائے ہیں، جیسے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے لائیو سٹریمنگ پر پابندی اور “ٹیک اے بریک” جیسے آپشنز۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور میٹا کے مابین بھی نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم تعاون پر مبنی فریم ورک کے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان میں ڈیجیٹل خواندگی کو بہتر بنانے اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ آپ اس حوالے سے مزید تفصیلات جیو نیوز کی رپورٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔
ٹیک کمپنیوں کے لیے وسیع تر مضمرات
ماہرین کے مطابق، نیو میکسیکو کی عدالت کا یہ فیصلہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔ اس طرح کے عدالتی فیصلے مستقبل میں دنیا بھر کی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے مزید سخت قوانین اور نگرانی کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی کئی دیگر ریاستوں نے بھی میٹا کے خلاف اسی نوعیت کے مقدمات دائر کر رکھے ہیں، جن میں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی شامل ہیں۔ ان مقدمات میں بھی یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے نشہ آور نوعیت کی مصنوعات بنا کر ریاستی صارف تحفظ قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قانونی چارہ جوئی محض میٹا تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ بائیٹ ڈانس کی ٹک ٹاک اور گوگل کی یوٹیوب جیسی دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کے الزامات پر مقدمات کا سامنا ہے۔ اگر مختلف عدالتوں میں بھی اسی نوعیت کے فیصلے آتے رہے تو مستقبل میں دنیا بھر کی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے مزید سخت قوانین اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے کاروباری ماڈلز اور مصنوعات کے ڈیزائن میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینے پر مجبور کرے گی۔
نتیجہ
بچوں کی حفاظت میں ناکامی پر امریکی عدالت کا میٹا پر بھاری جرمانہ ایک اہم پیش رفت ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف میٹا کے لیے مالی اور عملی چیلنجز کا باعث بنے گا بلکہ دنیا بھر میں دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ میٹا کس حد تک عدالتی احکامات پر عمل کرتی ہے اور یہ فیصلہ عالمی سطح پر آن لائن بچوں کی حفاظت کے قوانین کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ بہرحال، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ منافع سے زیادہ صارفین، خاص طور پر کم عمر صارفین، کی فلاح و بہبود اور حفاظت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔


