مقبول خبریں

ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کیلئے سندھ حکومت کا بڑا اعلان، والدین کی مالی معاونت کریں گے

ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کیلئے سندھ حکومت کا بڑا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں اس موذی مرض کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ سندھ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں ایک اہم قدم بھی ہے تاکہ ایسے بچوں اور ان کے والدین کو درپیش مالی اور سماجیایچ آئی وی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے حال ہی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کو ماہانہ بنیادوں پر مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ان کے علاج معالجے اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے صحت کے بحران کے پیش نظر انتہائی ضروری تھا جس نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔

اعلان کا پس منظر: ایک قومی بحران کی صورتحال

پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں مسلسل اضافہ ایک سنگین قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 84,421 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جن میں پنجاب اور سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہیں۔ ایچ آئی وی کے 62,000 زیر علاج مریضوں میں تقریباً 12 فیصد بچے شامل ہیں، جو کہ تقریباً 7,500 بچوں کی تعداد بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک بڑھتی ہوئی تشویش کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر بچوں میں وائرس کا پھیلاؤ، جو مستقبل کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

سندھ اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ایچ آئی وی کے تقریباً 4,200 رجسٹرڈ بچے موجود ہیں۔ رواں سال 2026 کے ابتدائی تین ماہ (جنوری تا مارچ) کے دوران ہی سندھ میں 894 نئے ایچ آئی وی کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 14 سال سے کم عمر کے 329 بچے بھی شامل تھے۔ جنوری سے مئی 2026 تک، سندھ میں 1300 سے زائد نئے کیسز سامنے آئے، جن میں سے 10 سے 15 فیصد بچے تھے۔ یہ اعداد و شمار صحت کے نظام میں موجود خامیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمزوری کو واضح کرتے ہیں، خصوصاً کراچی، لاڑکانہ، حیدرآباد اور میرپورخاص جیسے بڑے شہروں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف طبی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سماجی تفریق، بدنامی اور شدید مالی بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ بہت سے خاندان بچوں کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے اور انہیں بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں، سندھ حکومت کا یہ اعلان متاثرین کے لیے ایک بڑی ڈھارس ثابت ہو سکتا ہے۔

سندھ حکومت کا تاریخی اعلان: مالی معاونت اور فلاحی فنڈ کا قیام

3 اگست 2026 کو، سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ، سعید غنی نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک اہم مالی امداد پیکج کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے تحت، ایچ آئی وی کی تشخیص والے بچوں کے خاندانوں کو ماہانہ 40,000 سے 80,000 روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جائے گی، جس کا انحصار متاثرہ بچوں کی تعداد پر ہوگا۔ وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت ان بچوں اور ان کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس مالی معاونت کے ساتھ ساتھ، سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) نے ان بچوں کی طویل مدتی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کا ایک اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ اس فنڈ کے شفاف انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک خود مختار بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ مزید برآں، متاثرہ بچوں کے علاج کی نگرانی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ملک کے معروف طبی ماہرین اور بڑے ہسپتالوں کے سربراہان پر مشتمل ایک علیحدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔ اس وقت تک 120 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 81 بچے SESSI کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور 39 غیر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تمام بچے کراچی کے خصوصی صحت مراکز بشمول آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور انڈس ہسپتال میں علاج حاصل کر رہے ہیں۔

سندھ میں ایچ آئی وی کی موجودہ صورتحال اور تشویشناک اعداد و شمار

سندھ صوبہ پاکستان میں ایچ آئی وی کی وبا کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں بچوں میں اس مرض کا پھیلاؤ خاص طور پر تشویشناک ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار صحت کی صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کا ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے ماہانہ مالی معاونت اور مفت علاج کا اعلان - The Pakistan Times
تفصیلاعداد و شمارماخذ
پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضتقریباً 84,421وفاقی وزیر صحت، مارچ 2026
پاکستان میں زیر علاج ایچ آئی وی مریض62,000وفاقی وزارت صحت، اگست 2026
پاکستان میں ایچ آئی وی متاثرہ بچے (زیر علاج مریضوں کا 12%)تقریباً 7,500وفاقی وزارت صحت، اگست 2026
سندھ میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی متاثرہ بچےتقریباً 4,200وفاقی وزارت صحت، اگست 2026
سندھ میں 2026 کے پہلے 3 ماہ میں نئے ایچ آئی وی کیسز894محکمہ صحت سندھ، اپریل 2026
ان میں سے بچے (14 سال سے کم عمر)329محکمہ صحت سندھ، اپریل 2026
جنوری تا مئی 2026 میں سندھ میں نئے ایچ آئی وی کیسز1300 سے زائدحکام، جولائی 2026
موجودہ والیکا ہسپتال کیسز میں متاثرہ بچے (تصدیق شدہ)120سعید غنی، اگست 2026
SESSI میں رجسٹرڈ متاثرہ بچے81سعید غنی، اگست 2026
غیر رجسٹرڈ متاثرہ بچے39سعید غنی، اگست 2026

یہ اعداد و شمار سندھ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ہوشربا تصویر پیش کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں میں وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ تشویش کا باعث ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، کیسز میں یہ اضافہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ 2019 میں رتوڈیرو میں سامنے آنے والے “ایچ آئی وی اسکینڈل” کے سات سال بعد بھی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے طبی نظام میں بنیادی خامیاں اب بھی موجود ہیں۔

ولیکا ہسپتال سانحہ اور ذمہ داروں کا تعین

ایچ آئی وی کے حالیہ کیسز کا ایک بڑا حصہ کراچی کے سائٹ ایریا میں واقع کلثوم بائی ولیکا ہسپتال سے منسلک ہے۔ اکتوبر 2025 میں اس ہسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کا پتہ چلنے کے بعد سندھ حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی تحقیقات نے بچوں میں انفیکشن کی تصدیق کی، جب کہ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں کئی حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

فروری 2026 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا تھا کہ ولیکا ہسپتال میں آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ہوا، جس کے نتیجے میں 84 بچے اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے۔ جولائی 2026 میں، سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے بتایا کہ صوبائی محتسب کو پیش کی گئی دوسری تحقیقاتی رپورٹ میں 78 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے اور 6 بچوں کی موت کی تصدیق کی گئی۔

ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائیاں، بشمول شوکاز نوٹسز کا اجراء، جاری ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان کے سرکاری نظام صحت پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے اور انفیکشن کنٹرول کے قواعد پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اس سے قبل 2019 میں رتوڈیرو میں بھی سینکڑوں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے، جس کی بنیادی وجہ غیر محفوظ انجیکشن کے طریقۂ کار کو قرار دیا گیا تھا۔ ان واقعات کا بار بار ہونا صحت کے نظام میں اصلاحات اور نگرانی کے سخت نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔

متاثرہ بچوں کے لیے علاج معالجہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی

سندھ حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کو جامع طبی علاج کی سہولیات مسلسل فراہم کی جائیں گی۔ کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور انڈس ہسپتال جیسے معروف خصوصی صحت کے اداروں میں ان بچوں کا علاج جاری ہے۔ یہ ہسپتال بچوں کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) اور دیگر ضروری طبی نگہداشت فراہم کر رہے ہیں جو ایچ آئی وی کے انتظام کے لیے ضروری ہے۔

مالی امداد اور اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کے ساتھ ساتھ، بچوں کے علاج کے لیے ملک کے ممتاز ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو علاج کے معیار اور مریضوں کی دیکھ بھال کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ، وفاقی حکومت نے یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، اور نیوٹریشن انٹرنیشنل جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے غذائی معاونت بھی طلب کی ہے تاکہ متاثرہ بچوں کی صحت اور علاج کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ ایک جامع نقطہ نظر ہے جو طبی، مالی اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سندھ حکومت ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے بھی موثر اقدامات کر رہی ہے۔ جون 2022 میں، سندھ حکومت نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے جدید میڈیسن “کمیونٹی بیسڈ اورل پری ایکسپوژر پروفیلیکسز (PrEP)” متعارف کروائی تھی۔ یہ دوا ان افراد کے لیے ہے جو ایچ آئی وی کے زیادہ خطرے میں ہیں اور یہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کے لیے اسکریننگ کا عمل بھی مزید تیز کیا گیا ہے تاکہ نئے کیسز کو جلد از جلد شناخت کیا جا سکے اور ان کا علاج شروع کیا جا سکے۔

معاشرتی چیلنجز اور آگاہی کی ضرورت

ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو صرف طبی اور مالی چیلنجز کا ہی سامنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں معاشرتی سطح پر بھی شدید مشکلات اور تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کراچی میں ایچ آئی وی کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے بچے باہر کھیلنے نکلتے ہیں تو پڑوسی اپنے بچوں کو ان سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال متاثرہ خاندانوں کے لیے نہ صرف ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے بلکہ بچوں کی نفسیاتی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

معاشرتی تفریق اور بدنامی کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ عوام کو ایچ آئی وی کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا، اس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور روک تھام کے طریقوں سے آگاہ کرنا انتہائی اہم ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی روزمرہ کے میل جول، ہاتھ ملانے، گلے ملنے یا ایک ساتھ کھانے پینے سے نہیں پھیلتا۔ تعلیم اور آگاہی کے ذریعے ہی معاشرے میں موجود غلط فہمیوں اور خوف کو دور کیا جا سکتا ہے۔

سندھ حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اسکولوں، کمیونٹی مراکز اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات چلائیں تاکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بننے میں مدد مل سکے اور انہیں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ اس ضمن میں غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کا کردار بھی انتہائی اہم ہے جو زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی مدد اور آگاہی فراہم کرتی ہیں۔ ایچ آئی وی کے بارے میں مزید معلومات اور بچاؤ کے طریقوں کے لیے، عوام ڈان نیوز کی رپورٹس اور دیگر مستند ذرائع سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے لیے سندھ حکومت کا مالی معاونت کا اعلان ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے جو ہزاروں خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔ 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام، ماہرین کی کمیٹیوں کی تشکیل، اور ماہانہ مالی امداد کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم، یہ صرف آغاز ہے۔ سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز، خاص طور پر بچوں میں، صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ولیکا ہسپتال جیسے سانحات کی روک تھام کے لیے طبی عملے کی تربیت، آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر سخت پابندی، اور انفیکشن کنٹرول کے قواعد پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، معاشرتی آگاہی اور تعلیم کے ذریعے ایچ آئی وی سے متعلق بدنامی اور تفریق کو ختم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک تمام سٹیک ہولڈرز – حکومت، طبی برادری، سول سوسائٹی اور عوام – مل کر کام نہیں کریں گے، اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ سندھ حکومت کا یہ اعلان ایک مثبت قدم ہے جو متاثرہ خاندانوں کی مدد اور اس بیماری کے خلاف جنگ میں ایک نئی امید پیدا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اعلانات کو عملی جامہ پہنایا جائے اور ایک پائیدار نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔