مقبول خبریں

بیجنگ میں دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا آغاز، 2 ہزار سے زائد روبوٹس شریک

بیجنگ میں دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور انسان نما روبوٹس (ہیومنائیڈ روبوٹس) اپنی صلاحیتوں کے ساتھ انسانی دنیا میں نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ پانچ روزہ عالمی ایونٹ، جو 22 سے 26 اگست 2026 تک بیجنگ کے نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں منعقد کیا گیا، روبوٹکس کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفتوں کا مظاہرہ تھا اور اس میں دنیا بھر سے 2 ہزار سے زائد جدید ترین روبوٹس نے حصہ لیا۔ ان گیمز کا مقصد نہ صرف روبوٹس کی تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان لینا تھا بلکہ انہیں حقیقی دنیا کے عملی مسائل حل کرنے کے قابل بنانا بھی تھا، جس سے یہ ٹیکنالوجی صرف “مظاہرے کے آلات” سے “عملی پیداواری قوت” میں تبدیل ہو سکے۔ یہ ایونٹ 16 ممالک کی 666 ٹیموں کی شرکت کے ساتھ، روبوٹکس کے شعبے میں عالمی تعاون اور تیکنیکی تبادلے کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان گیمز نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ روبوٹکس کا مستقبل اب محض سائنسی فکشن نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، اور یہ مشینیں انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا ایک مختصر جائزہ

بیجنگ میں دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا افتتاح 22 اگست کی شام بیجنگ کے نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول، جسے “دی آئس ربن” بھی کہا جاتا ہے، میں کیا گیا۔ یہ پانچ روزہ میلہ 26 اگست تک جاری رہا اور اسے بیجنگ میونسپل پیپلز گورنمنٹ، چائنا میڈیا گروپ، ورلڈ روبوٹ کوآپریشن آرگنائزیشن اور ایشیا پیسیفک روبوٹ ورلڈ کپ انٹرنیشنل کونسل نے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ اس عالمی ایونٹ میں دنیا کے 16 مختلف ممالک سے 666 ٹیموں کے 2056 ہیومنائیڈ روبوٹس نے شرکت کی۔ شریک ٹیموں کی تعداد میں گزشتہ گیمز کے مقابلے میں 138 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ حصہ لینے والے روبوٹس کی تعداد چار گنا بڑھ گئی۔ یہ اعداد و شمار روبوٹکس کے میدان میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی اور سرمایہ کاری کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان گیمز میں کل 51 مختلف ایونٹس شامل تھے، جن میں نہ صرف روایتی کھیلوں کے مقابلے شامل تھے بلکہ ایسے منظر نامہ پر مبنی عملی کام بھی شامل تھے جو روبوٹس کی حقیقی دنیا میں افادیت کو جانچنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ ان مقابلوں نے جدید روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں ہونے والی اہم پیش رفتوں کو اجاگر کیا، خاص طور پر مجسم مصنوعی ذہانت (embodied AI)، خود مختار نقل و حرکت (autonomous mobility)، اور نفیس موٹر مہارتوں (fine motor skills) کے شعبوں میں۔ نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول، جو 2022 کے سرمائی اولمپکس کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، نے ان روبوٹس کے حیرت انگیز کارناموں کا مشاہدہ کیا۔ افتتاحی تقریب میں 100 میٹر دوڑ اور اسٹینڈنگ ہائی جمپ جیسے مقابلے پہلے دو ایونٹس تھے جنہوں نے حاضرین کی توجہ خوب سمیٹی۔

مقاصد اور اہمیت: روبوٹکس کے ارتقاء میں سنگ میل

ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا بنیادی مقصد محض ایک تفریحی مقابلہ منعقد کرنا نہیں ہے بلکہ روبوٹکس کی صنعت میں جدت، ترقی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان گیمز کا ایک اہم ہدف ہیومنائیڈ روبوٹس کو “مظاہرے کے آلات” سے “عملی پیداواری قوت” میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ مقصد اس بات پر زور دیتا ہے کہ روبوٹس کو صرف نمائشوں میں پیش کرنے کے بجائے انہیں حقیقی دنیا کے کاموں میں استعمال کیا جائے تاکہ وہ معیشت اور معاشرت کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

یہ گیمز تکنیکی تبادلے اور صنعتی تعاون کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے ماہرین، محققین اور کمپنیاں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتی ہیں، نئی ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کرتی ہیں اور مستقبل کے لیے شراکت داری قائم کرتی ہیں۔ یہ مقابلے مصنوعی ذہانت اور مکینیکل انجینئرنگ کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں، جس سے آنے والے وقتوں میں گھریلو اور دفتری کاموں میں روبوٹس کا استعمال عام ہو سکتا ہے۔ چین کی حکومت اور صنعت دونوں ہی ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور پالیسی سازوں کے ساتھ کمپنیاں بھی اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ یہ روبوٹس مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں تیزی سے استعمال کیے جا سکیں گے۔ یہ گیمز اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت چین روبوٹکس کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

قابل ذکر کامیابیاں اور انسانی ریکارڈ کی توڑ پھوڑ

اس سال کے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی سب سے حیران کن بات روبوٹس کی جانب سے انسانی ریکارڈز کی توڑ پھوڑ تھی۔ خاص طور پر 100 میٹر دوڑ میں روبوٹس نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو انسانی صلاحیتوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ سائنسی دنیا میں یہ خبر تہلکہ مچا چکی ہے کہ ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ میں انسانی عالمی ریکارڈ سے بھی بہتر وقت حاصل کر لیا۔ ابتدائی مقابلوں میں “لائٹننگ” نامی ایک روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.32 سیکنڈ میں طے کیا، جس سے ایک نیا معیار قائم ہوا۔ بعد میں، تیان ژو ٹیم کے تیار کردہ ایک اور چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 9.39 سیکنڈ میں مکمل کی۔ یہ گزشتہ سال کے اسی مقابلے کے بہترین وقت 21.50 سیکنڈ کے مقابلے میں غیر معمولی بہتری تھی۔

تاہم، ان سب سے بڑھ کر حیران کن کارکردگی اس وقت سامنے آئی جب ایک چینی ہیومنائیڈ روبوٹ نے منگل کے روز 100 میٹر کی دوڑ محض 8.86 سیکنڈز میں مکمل کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ ریکارڈ جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کے 100 میٹر کے عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ کو پیچھے چھوڑ گیا۔ یہ نہ صرف روبوٹکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت تھی بلکہ اس نے مصنوعی ذہانت اور مکینیکل انجینئرنگ کے امتزاج کی بے پناہ صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ، یونی ٹری روبوٹکس نے “سپر مین” نامی ایک نیا روبوٹ بھی متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کھڑے ہونے کی حالت میں 2 میٹر کی چھلانگ لگا سکتا ہے اور 12.66 میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔

دیگر قابل ذکر کامیابیوں میں ہائی جمپ اور ویٹ لفٹنگ جیسے مقابلے شامل تھے، جہاں روبوٹس کی کارکردگی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس اب محض خیالی ایجادات نہیں رہے بلکہ عملی دنیا میں انسانی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔

مقابلہتفصیلاہمیت
100 میٹر دوڑروبوٹس کا تیز ترین دوڑنے کا مقابلہ، انسانی عالمی ریکارڈ کو توڑا گیاتیز رفتاری، توازن اور خود مختار نقل و حرکت کی صلاحیت
ویٹ لفٹنگروبوٹس کا زیادہ سے زیادہ وزن اٹھانے کا مقابلہطاقت، استحکام اور صنعتی افادیت
رسہ کشیٹیموں میں روبوٹس کی قوت اور توازن کا امتحانہم آہنگی، طاقت اور مستحکم قدم
فٹ بال (7-ا-سائیڈ)روبوٹس کا ٹیم ورک اور گیند کنٹرول کا مظاہرہحرکت پذیری، فیصلہ سازی اور میدان میں ردعمل
آگ بجھانا (ہنگامی صورتحال)خاص ماحول میں آگ بجھانے اور ریسکیو کا عملی مظاہرہمشکل ماحول میں عملی صلاحیت اور خود مختاری
ہوٹل سروسمہمانوں کو کھانا پیش کرنا، اشیا منتقل کرنانفیس موٹر مہارتیں، صارفین کے ساتھ تعامل اور خدمت
فیکٹری کام (اسمبلنگ)صنعتی ماحول میں اشیا کو جوڑنے کا کامبار بار کام کی انجام دہی، درستگی اور پیداواری صلاحیت

ہیومنائیڈ روبوٹس کے مقابلے: روایتی اور حقیقی دنیا کے چیلنجز

دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں روبوٹس کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے مقابلوں کی ایک وسیع رینج شامل تھی، جسے دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: روایتی کھیلوں پر مبنی مقابلے اور حقیقی دنیا کے منظر نامہ پر مبنی عملی چیلنجز۔

  • روایتی کھیلوں کے مقابلے: ان میں 100 میٹر اسپرنٹ ریس، اسٹینڈنگ ہائی جمپ، لانگ جمپ، ویٹ لفٹنگ، رسہ کشی، ٹیبل ٹینس، اور 7-ا-سائیڈ فٹ بال جیسے ایونٹس شامل تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد روبوٹس کی جسمانی قوت، رفتار، توازن، اور چستی کو پرکھنا تھا۔ مثال کے طور پر، 100 میٹر دوڑ روبوٹس کی برق رفتاری اور استحکام کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ فٹ بال جیسے ٹیم گیمز ان کی فیصلہ سازی اور ساتھی روبوٹس کے ساتھ ہم آہنگی کو جانچتے ہیں۔ ان مقابلوں میں روبوٹس نے حیرت انگیز طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بعض نے انسانی کارکردگی کے مقررہ پیمانوں کو بھی عبور کیا۔
  • حقیقی دنیا کے منظر نامہ پر مبنی چیلنجز: یہ مقابلے روبوٹس کو فیکٹریوں، ہوٹلوں، گھروں اور لاجسٹکس مراکز جیسے حقیقی ماحول میں مختلف کام انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ ان میں اشیا کی اسمبلنگ، گھریلو صفائی، ہنگامی ریسکیو کے دوران آگ بجھانا، لائبریری میں کتابیں ترتیب دینا، دفتری خدمات، الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ اور کیبلز جوڑنے جیسے عملی کام شامل تھے۔ ان چیلنجز کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ روبوٹس کتنی حد تک غیر مانوس اشیا کی شناخت، بار بار کام کی انجام دہی، غلطیوں سے خود نمٹنے اور انسانی نگرانی کے بغیر کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ مقابلے ہیومنائیڈ روبوٹس کو “مظاہرے کے آلات” سے “عملی پیداواری قوت” کی جانب لے جانے کے ہدف کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ان گیمز میں روبوٹس کی جانب سے کیبل اسمبلی، ریستوران سروس، ویٹ لفٹنگ اور طویل چھلانگ جیسی سرگرمیوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، مقابلوں کے دوران روبوٹس کو بعض اوقات توازن برقرار رکھنے میں مشکل اور تکنیکی خرابیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں کچھ روبوٹس گرتے ہوئے اور ریس کے اختتام پر شعلوں کی زد میں آتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ فائر فائٹرز اور عملے کو موقع پر موجود ہو کر آگ پر قابو پانا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تاحال ان پیچیدہ مشینوں کو عملی میدان میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

چین کا روبوٹکس میں قائدانہ کردار

عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا بیجنگ میں انعقاد اس بات کی واضح علامت ہے کہ چین روبوٹکس کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ چین اس وقت عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اور آئی ڈی سی کے مطابق دنیا بھر میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی شپمنٹس میں چین کا حصہ 82 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار چینی روبوٹکس کمپنیوں کی تیز رفتار ترقی اور جدت طرازی کی عکاسی کرتے ہیں۔

چین کی حکومت نے روبوٹکس کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ چینی حکومت نے اپنے حالیہ 5 سالہ منصوبے (2026-2030) میں ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کو ملک کی اولین 10 سٹریٹجک انڈسٹریز میں شامل کیا ہے۔ اس حکومتی حمایت نے روبوٹکس کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور سرمایہ کاری کو بے پناہ فروغ دیا ہے۔ چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہ گیمز ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اپنی مصنوعات کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں اور حقیقی صنعتی کاموں میں ان کی افادیت کو ثابت کر سکیں۔ بیجنگ میں ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں 300 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جہاں 2 ہزار سے زیادہ نمائشیں اور 150 سے زائد نئی مصنوعات پیش کی گئیں۔

چین کی سائنسی اور تکنیکی اختراعات کے فروغ کی بنیادی حکمتِ عملی ہمیشہ کھلا پن اور تعاون رہی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے اس بات پر زور دیا کہ چین مصنوعی ذہانت اور ایمبائیڈڈ انٹیلی جنس جیسے جدید شعبوں میں تبادلے اور تعاون جاری رکھنے کے لیے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ “چین میں تخلیق” اور “چین میں ذہانت” حقیقی معنوں میں مشترکہ ترقی کے محرکات میں تبدیل ہوں اور سائنسی و تکنیکی جدت کے ثمرات سے پوری انسانیت زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے۔ اس طرح، چین نہ صرف اپنی اندرونی ترقی پر توجہ دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر روبوٹکس کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

آلات سے عملی قوت تک: مستقبل کے امکانات

بیجنگ میں دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز نے ہیومنائیڈ روبوٹس کے مستقبل کے لیے روشن امکانات کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان گیمز میں منظر نامہ پر مبنی مقابلوں پر زیادہ توجہ دی گئی، جس کا مقصد روبوٹس کو محض مظاہرے کے آلات کے بجائے حقیقی دنیا میں عملی کام انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔ صنعتکاروں اور ماہرین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ یہ روبوٹس کس حد تک معاشی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

مستقبل میں، ہیومنائیڈ روبوٹس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، اور خدمات کے شعبوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مثال کے طور پر، یہ روبوٹس کارخانوں میں پیچیدہ اسمبلنگ کے کام انجام دے سکتے ہیں، گوداموں میں سامان کی منتقلی کر سکتے ہیں، اور ہوٹلوں میں مہمانوں کو خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں انسانوں کے لیے خطرناک اور بار بار کیے جانے والے کاموں کو بھی سنبھال سکتی ہیں۔ ایک ہیومنائیڈ روبوٹ جیسے اوپولو نے گاڑی کے انجن کے حصے جوڑ کر انسانوں کی مدد کی اور ثابت کیا کہ وہ مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ مرسڈیز بینز جیسی کمپنیاں اپنی فیکٹریوں میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی آزمائش کر رہی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ انسانی کارکنوں کے ساتھ مل کر کس طرح مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔

تاہم، روبوٹکس کی ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ روبوٹس کو توازن برقرار رکھنے میں دشواری، تکنیکی خرابیوں اور حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور مکینیکل انجینئرنگ کے درمیان مزید ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ روبوٹس زیادہ قابل اعتماد اور محفوظ بن سکیں۔ ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ روبوٹس اب دماغی اشاروں سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں، جس سے معذور افراد کے لیے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور مشکل، خطرناک اور جان لیوا ماحول میں ریسکیو اور دیگر اہم ذمہ داریاں نبھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ چینی روبوٹکس کمپنیاں نئے اے آئی روبوٹس بھی متعارف کرا رہی ہیں جن کا مقصد تنہا رہنے والے افراد اور بزرگوں کو جذباتی رفاقت فراہم کرنا ہے، جس سے انسانی زندگی کے سماجی پہلوؤں میں بھی روبوٹس کا کردار بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ روبوٹس جدید لارج لینگویج ماڈلز، آواز کی پہچان، چہرے کی شناخت اور قدرتی انداز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان تمام پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کا مستقبل بہت روشن ہے اور وہ جلد ہی ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن جائیں گے۔ روبوٹکس کے مستقبل اور اس کے انسانیت پر اثرات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔

نتیجہ

بیجنگ میں دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز نے عالمی سطح پر روبوٹکس کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی کو اجاگر کیا ہے۔ 2 ہزار سے زائد روبوٹس کی شرکت، 51 مختلف مقابلوں، اور انسانی ریکارڈز کو توڑنے والی کارکردگی نے ثابت کیا ہے کہ ہم ایک نئے تکنیکی انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ گیمز نہ صرف تکنیکی مہارتوں کا مظاہرہ تھیں بلکہ روبوٹس کو حقیقی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی ایک کوشش بھی تھیں۔ چین نے اس میدان میں اپنی قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے، اور اس کی حکومت کی جانب سے روبوٹکس کو ایک سٹریٹجک صنعت قرار دینا اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔ اگرچہ ابھی کچھ چیلنجز باقی ہیں جیسے کہ روبوٹس کے توازن اور پائیداری کو مزید بہتر بنانا، لیکن ان گیمز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس اب محض مظاہرے کے آلات نہیں رہے بلکہ وہ مستقبل کی عملی پیداواری قوت بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ روبوٹس جلد ہی ہماری فیکٹریوں، گھروں اور خدمات کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے، اور انسانیت کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھولیں گے۔