مقبول خبریں

پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز کے انعقاد کا شیڈول منظور کر لیا گیا

پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز (سیف گیمز) کے انعقاد کا شیڈول بالآخر منظور کر لیا گیا ہے، جو ملک میں کھیلوں کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 23 اگست 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں باضابطہ طور پر اس میگا ایونٹ کی میزبانی اور شیڈول کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، چودہویں ساؤتھ ایشین گیمز اگلے سال یعنی 3 سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان کے تین بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے۔ یہ ایک ایسا ایونٹ ہے جس کا جنوبی ایشیا کے کھیلوں کے شائقین کو طویل عرصے سے انتظار تھا، اور اس کی میزبانی پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے انتہائی اہم ہے۔

ساؤتھ ایشین گیمز: ایک علاقائی تعارف

ساؤتھ ایشین گیمز، جسے پہلے سیف گیمز (SAF Games) کے نام سے جانا جاتا تھا، جنوبی ایشیا کے ممالک کا سب سے بڑا کثیر کھیلوں کا ایونٹ ہے۔ یہ مقابلے ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد خطے کے ممالک کے درمیان کھیلوں کے ذریعے دوستی، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ 1984 میں اپنے آغاز کے بعد سے، یہ گیمز جنوبی ایشیا کے ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر پہچان بنانے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس ایونٹ میں روایتی طور پر سات سے آٹھ جنوبی ایشیائی ممالک حصہ لیتے ہیں، جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ شامل ہیں۔ افغانستان بھی بعض اوقات اس کا حصہ رہا ہے۔ یہ گیمز نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک مرکز ہوتے ہیں بلکہ ثقافتی تبادلے اور باہمی افہام و تفہیم کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ 2019 میں تیرہویں ساؤتھ ایشین گیمز نیپال میں منعقد ہوئے تھے، جہاں نیپال کی مردوں کی فٹبال ٹیم نے گولڈ میڈل جیتا تھا جبکہ خواتین کی فٹبال ٹیم نے سلور میڈل حاصل کیا تھا۔

پاکستان میں میزبانی کی طویل جدوجہد اور حتمی منظوری

چودہویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو بہت پہلے مل چکا تھا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے انعقاد میں کئی بار تاخیر ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان گیمز کو مارچ 2023 میں منعقد ہونا تھا، تاہم عالمی وبائی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے انہیں ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے بعد مارچ 2024 کی تاریخ مقرر کی گئی، لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔ 2025 میں جنوبی ایشیا اولمپک کونسل نے جنوری 2026 کی تاریخوں کا اعلان کیا، مگر یہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ جنوری 2026 میں ایک بار پھر تاریخ کو 23 سے 31 مارچ 2027 تک کے لیے ملتوی کیا گیا۔

یہاں تک کہ حالیہ تاریخیں بھی بارہا تبدیلیوں کی زد میں رہیں۔ بالآخر، جنوبی ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 23 اگست 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید کی زیر صدارت اہم فیصلے کیے گئے۔ اس اجلاس میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے وفود نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ بھارتی وفد نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ اس اجلاس میں گیمز کے باضابطہ شیڈول اور پاکستان کی میزبانی کی حتمی منظوری دی گئی، جس کے تحت یہ مقابلے اب 3 سے 11 اپریل 2027 تک منعقد ہوں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے، جو طویل عرصے سے ان گیمز کی میزبانی کے لیے کوشاں تھا۔

منظور شدہ شیڈول اور اہم تفصیلات

جنوبی ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے 3 سے 11 اپریل 2027 کی تاریخوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس میگا ایونٹ کا مرکزی نعرہ “جنوبی ایشیا میں اتحاد، کھیلوں میں طاقت” (Unity in South Asia, Strength in Sports) ہوگا، جو خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو اجاگر کرے گا۔ یہ گیمز نو دن تک جاری رہیں گے، جس میں ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا۔ ایونٹ کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ یہ شیڈول کئی بار کی تاخیر اور التوا کے بعد طے پایا ہے، اور اب امید کی جا رہی ہے کہ اس پر باقاعدہ عمل درآمد ہوگا۔

مقابلوں کے میزبان شہر اور سہولیات

چودہویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے پاکستان کے تین بڑے شہروں کا انتخاب کیا گیا ہے: اسلام آباد، لاہور اور پشاور۔ اسلام آباد کو گیمز کا مرکزی مرکز قرار دیا گیا ہے اور افتتاحی تقریب بھی اسی شہر میں منعقد ہوگی۔ لاہور میں مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے اور اختتامی تقریب کی میزبانی بھی لاہور ہی کرے گا۔ پشاور بھی متعدد مقابلوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرے گا، جس سے خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی بین الاقوامی کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندوں کو پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں، انتظامات اور مختلف مقامات پر ہونے والے مقابلوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ غیر ملکی وفود نے اسلام آباد کے مقامات کا معائنہ بھی کیا اور انہیں لاہور کے مقامات کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان ان گیمز کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومت گیمز کے کامیاب انعقاد کے لیے بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ اس میزبانی سے شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانے کا موقع ملے گا اور کھیلوں کی جدید سہولیات کو مزید ترقی دی جائے گی۔

کھیلوں کی اقسام، مقابلوں کا دائرہ کار اور تمغوں کی تعداد

14ویں ساؤتھ ایشین گیمز ایک بڑا کثیر کھیلوں کا ایونٹ ہوگا جس میں مجموعی طور پر 28 مردوں کے اور 25 خواتین کے کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے۔ ان مقابلوں میں کل 346 گولڈ میڈلز کے لیے کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ توقع ہے کہ خطے کے سات رکن ممالک سے 4,200 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز ان گیمز میں شرکت کریں گے۔

جن کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا ان میں فٹبال، کرکٹ، آرچری، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، باکسنگ، فینسنگ، گالف، ہاکی، جوڈو، کبڈی، کراٹے، رگبی، شوٹنگ، سوئمنگ، تائیکوانڈو، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ شامل ہیں۔ یہ متنوع کھیلوں کی فہرست یقینی بنائے گی کہ مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کو اپنی مخصوص مہارتوں کا مظاہرہ کرنے کا بھرپور موقع ملے۔ یہ بڑے پیمانے پر شرکت اور کھیلوں کی وسیع رینج ساؤتھ ایشین گیمز کو ایک حقیقی علاقائی کھیلوں کا تہوار بنا دے گی۔

شہرمیزبانی کا کرداراہم ایونٹس
اسلام آبادمرکزی میزبان شہرافتتاحی تقریب، متعدد کھیلوں کے مقابلے
لاہورثانوی میزبان شہراختتامی تقریب، فٹبال، کرکٹ، دیگر کھیلوں کے مقابلے
پشاورثانوی میزبان شہرمتعدد کھیلوں کے مقابلے

حکومتی حمایت اور مالی وسائل کی فراہمی

ساؤتھ ایشین گیمز جیسے بڑے ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے حکومتی حمایت اور مالی وسائل کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے گیمز کے انعقاد کے لیے ضروری فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم نے 11 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی ہے تاکہ تیاریوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔ اس مالی معاونت سے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، نئے مقامات کی تعمیر یا موجودہ کو اپ گریڈ کرنے، ایتھلیٹس کی تربیت اور لاجسٹک انتظامات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید نے حکومتی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومت گیمز کے کامیاب انعقاد کے لیے بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے بھی تیاریوں کا جائزہ لیا اور مالیاتی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ایتھلیٹس کی تربیت کے لیے ذیلی کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کی۔ ان حکومتی اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس ایونٹ کو ایک شاندار اور یادگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کے لیے میزبانی کے ممکنہ فوائد

ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے:

  • سیاحت کا فروغ: ہزاروں ایتھلیٹس، آفیشلز اور کھیلوں کے شائقین کی آمد سے ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر ابھرے گا، جس سے مستقبل میں مزید سیاحوں کی آمد کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
  • بنیادی ڈھانچے کی ترقی: گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں شہروں میں سڑکوں، ہوٹلوں اور دیگر شہری سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔ کھیلوں کے مقامات کی تعمیر و مرمت سے ملک میں جدید کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ ملے گا، جس سے مقامی کھلاڑیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
  • نوجوانوں میں کھیلوں کا رجحان: ایسے بڑے ایونٹس نوجوانوں میں کھیلوں کے تئیں دلچسپی پیدا کرتے ہیں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ مستقبل کے ایتھلیٹس کی نسل تیار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
  • بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ: ایک کامیاب اور منظم ایونٹ کی میزبانی سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ بہتر ہوگی اور یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس کی میزبانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • علاقائی ہم آہنگی: کھیلوں کے ذریعے جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوطی ملے گی اور باہمی افہام و تفہیم بڑھے گی، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔

تیاریوں کا جائزہ اور درپیش چیلنجز

میزبانی کی منظوری کے بعد پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ حکام نے تیاریوں کو تیز کر دیا ہے۔ ان تیاریوں میں مقابلوں کے مقامات کی حتمی شکل دینا، لاجسٹک انتظامات کو بہتر بنانا، اور کھلاڑیوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ تاہم، متعدد بار التوا کا شکار ہونے کی وجہ سے کچھ چیلنجز بھی درپیش ہو سکتے ہیں۔

ان چیلنجز میں وقت کی کمی، مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دینا، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تمام سہولیات کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی کے فول پروف انتظامات بھی ایک اہم چیلنج ہوں گے تاکہ شریک ممالک کے ایتھلیٹس اور آفیشلز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان نے ماضی میں 1989 اور 2004 میں بھی ساؤتھ ایشین گیمز کی کامیاب میزبانی کی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایسے ایونٹس کو منظم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں، پاکستان موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور ایک شاندار ایونٹ کا انعقاد کر سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ایکسپریس نیوز کی رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی تعاون اور رکن ممالک کی شرکت

ساؤتھ ایشین گیمز کا اصل حسن رکن ممالک کا جوش و خروش سے بھرپور تعاون اور شرکت ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں، جیسا کہ ذکر کیا گیا، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے وفود نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ بھارت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا حصہ ڈالا۔ یہ تمام ممالک اس ایونٹ کی کامیابی کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون پر رضامند نظر آتے ہیں۔ خطے کے تمام سات ممالک کی شرکت سے ایونٹ کی رونق میں اضافہ ہوگا اور مقابلہ مزید دلچسپ بنے گا۔

جنوبی ایشیا اولمپک کونسل کا کردار اس ایونٹ کے انتظامات اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں کلیدی رہا ہے۔ مسلسل رابطے اور مشاورت کے ذریعے ہی اس ایونٹ کو اس مقام تک پہنچایا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اسپورٹس کے فورمز پر پاکستان کی موجودگی اور کردار بھی اہم ہے، جو اس کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے کہ کھیلوں کے ذریعے خطے میں مثبت پیغام دیا جائے۔

نتیجہ

پاکستان میں چودہویں ساؤتھ ایشین گیمز کے انعقاد کے شیڈول کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے جو ملک میں کھیلوں کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ طویل عرصے تک التوا کا شکار رہنے کے بعد، اب 3 سے 11 اپریل 2027 تک کے لیے طے شدہ یہ ایونٹ پاکستان کو دنیا کے سامنے اپنی بہترین تصویر پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ حکومتی حمایت، مالی وسائل کی فراہمی، اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی انتھک کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اس میگا ایونٹ کو ایک شاندار اور یادگار تقریب بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ امید ہے کہ یہ گیمز نہ صرف ایتھلیٹس کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوں گے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کے رشتے کو بھی مزید مستحکم کریں گے۔ اس ایونٹ کی کامیابی پاکستان کو مستقبل میں مزید بڑے بین الاقوامی کھیلوں کی میزبانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جو ملک کے لیے باعث فخر ہوگا۔