مقبول خبریں

سونے اور چاندی کی قیمت میں دوسرے دن بھی اضافہ ریکارڈ 2026

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے دن بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے مقامی اور عالمی دونوں مارکیٹوں میں خریداروں اور سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ پاکستانی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، جہاں افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی پہلے ہی عوام کی قوت خرید کو متاثر کر چکی ہے۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں 20 اور 21 جولائی 2026 کو لگاتار دوسرے دن بھی اضافہ دیکھا گیا۔ 21 جولائی 2026 کو، پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونا 4700 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے پر پہنچ گیا۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت میں 4029 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 3 لاکھ 69 ہزار روپے ہوگئی۔ عالمی مارکیٹ میں بھی فی اونس سونا 47 ڈالر اضافے کے بعد 4068 ڈالر کا ہو گیا۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا۔ 21 جولائی 2026 کو، پاکستان میں فی تولہ چاندی 219 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 396 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 188 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 483 روپے کی سطح پر آگئی۔

اس سے ایک دن قبل، یعنی 20 جولائی 2026 کو بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق، 20 جولائی کو 24 قیراط فی تولہ سونا 300 روپے اضافے سے 4 لاکھ 24 ہزار 536 روپے کی سطح پر پہنچا تھا، جبکہ 10 گرام سونا 258 روپے اضافے سے 3 لاکھ 63 ہزار 971 روپے میں ٹریڈ کیا جا رہا تھا۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ چاندی 107 روپے اضافے سے 6 ہزار 177 روپے جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 91 روپے بڑھ کر 5 ہزار 295 روپے ہوگئی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں بھی فی اونس سونا 3 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 21 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار قیمتی دھاتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔

اضافے کی بنیادی وجوہات: عالمی اور مقامی عوامل

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی متعدد وجوہات ہیں جو عالمی اور مقامی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب عالمی معیشت میں استحکام نہیں ہوتا تو سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

  • جغرافیائی و سیاسی تناؤ: عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں، سرمایہ کاروں کو غیر محفوظ محسوس کرواتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے اور چاندی کی خریداری میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
  • امریکی ڈالر میں اتار چڑھاؤ: امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونا دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
  • مرکزی بینکوں کی خریداری: دنیا بھر کے مرکزی بینک بھی سونے کو اپنے ذخائر میں شامل کر رہے ہیں، جو سونے کی عالمی طلب میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
  • چاندی کی صنعتی مانگ: چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ اس کی بڑھتی ہوئی صنعتی مانگ ہے۔ الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی، سولر پینلز، الیکٹرانکس اور دیگر گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چاندی کا وسیع استعمال اس کی طلب کو مسلسل بڑھا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
  • پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور افراط زر: مقامی سطح پر، پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور بلند افراط زر بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ روپے کی قدر گرنے سے درآمدی سونا مہنگا ہو جاتا ہے، اور افراط زر کے دباؤ میں لوگ اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے قیمتی دھاتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار: پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت سونے کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔ یہ بھی مقامی قیمتوں میں اضافے کا ایک عنصر ہے۔

عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کے رجحانات

عالمی بلین مارکیٹ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور پاکستان میں سونے اور چاندی کے نرخ براہ راست عالمی رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں۔ 21 جولائی 2026 کو عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 47 ڈالر کے بڑے اضافے کے بعد 4068 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس سے قبل 20 جولائی کو بھی عالمی مارکیٹ میں سونا 3 ڈالر اضافے کے بعد 4021 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ یہ اضافہ عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھنے اور موجودہ معاشی غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کے لیے خریداری کی عکاسی کرتا ہے۔

چاندی کی عالمی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حال ہی میں، ایک اونس چاندی کی قیمت 46 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی تھی، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی کی صنعتی اہمیت، خاص طور پر سبز ٹیکنالوجیز جیسے سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں میں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عالمی طلب میں اضافہ کیا ہے۔ یہ عوامل عالمی مارکیٹ میں چاندی کو سونے کی طرح ہی ایک پرکشش سرمایہ کاری بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر پڑتا ہے، کیونکہ مقامی ڈیلر عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نرخ مقرر کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کے امکانات بھی سونے کی قیمتوں کو سہارا دے سکتے ہیں۔ کم شرح سود کی صورت میں سونے میں سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ پرکشش ہو جاتی ہے، کیونکہ اس پر کوئی سود نہیں ملتا اور کم شرح سود کا مطلب ہے کہ متبادل سرمایہ کاری پر بھی کم منافع ملے گا۔ عالمی مالیاتی پالیسیوں میں یہ تبدیلیاں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کے آئندہ رجحانات پر اثر انداز ہوں گی۔

تفصیل20 جولائی 2026 (قیمت)20 جولائی 2026 (اضافہ)21 جولائی 2026 (قیمت)21 جولائی 2026 (اضافہ)
فی تولہ سونا (24 قیراط)4,24,536 روپے300 روپے4,29,236 روپے4,700 روپے
10 گرام سونا3,63,971 روپے258 روپے3,69,000 روپے4,029 روپے
فی تولہ چاندی6,177 روپے107 روپے6,396 روپے219 روپے
10 گرام چاندی5,295 روپے91 روپے5,483 روپے188 روپے
فی اونس سونا (عالمی مارکیٹ)4,021 ڈالر3 ڈالر4,068 ڈالر47 ڈالر

پاکستانی معیشت اور قیمتی دھاتوں کی قیمتیں

پاکستان کی معیشت کا قیمتی دھاتوں کی قیمتوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخی طور پر، سونا اور چاندی کو پاکستانی معاشرے میں دولت کے تحفظ اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ملکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہوتی ہے، افراط زر بڑھتا ہے، اور روپے کی قدر میں کمی آتی ہے، تو لوگ بینکوں میں رقم رکھنے یا دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے سونے اور چاندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے قیمتی دھاتوں کی مقامی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر ان کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں، پاکستان نے بلند افراط زر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی کا سامنا کیا ہے، جس کی وجہ سے سونے کی قیمتوں نے تاریخی بلندیوں کو چھوا ہے۔ 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت ایک تولہ سونا تقریباً 57 روپے میں دستیاب تھا، جو اپریل 2025 میں 3 لاکھ 65 ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گیا، اور اب 2026 میں یہ 4 لاکھ 29 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف سونے کی قدر میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کی حالت اور روپے کی قوت خرید میں کمی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

صرف سونا ہی نہیں، بلکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی پاکستان میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں، کراچی سوسائٹی جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، فی تولہ چاندی کا ریٹ 5337 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا، جو جنوری 2025 میں 3350 روپے فی تولہ تھا۔ حالیہ مہینوں میں چاندی کی قیمتوں میں مزید تیزی آئی ہے، خاص طور پر صنعتی طلب اور سونے کے مہنگا ہونے کی وجہ سے اسے ایک متبادل سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔

سرمایہ کاروں اور عام صارفین پر اثرات

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

  • سرمایہ کاروں کے لیے: ان قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے یہ اضافہ خوش آئند ہے، کیونکہ ان کے اثاثوں کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں، سونا اور چاندی ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، جو انہیں افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی بچت کو محفوظ رکھنے اور منافع کمانے کے لیے ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
  • عام صارفین کے لیے: دوسری جانب، عام صارفین، خصوصاً جو لوگ شادی بیاہ کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ شادی بیاہ جیسی تقریبات میں زیورات ایک لازمی جزو سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں خاندانی بجٹ پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ اس سے زیورات کی خریداری کم ہو سکتی ہے یا لوگ کم وزن اور کم قیمت والے زیورات خریدنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
  • صرافہ اور جیولری صنعت پر: صرافہ اور جیولری کی صنعت بھی ان قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ زیادہ قیمتوں سے منافع بڑھ سکتا ہے، لیکن مانگ میں کمی کا خدشہ بھی موجود ہے، خاص طور پر اگر صارفین کی قوت خرید مزید کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سونے اور چاندی کی سمگلنگ جیسے غیر قانونی سرگرمیاں بھی ان قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہیں۔

مستقبل کے امکانات اور ماہرین کی آراء

سونے اور چاندی کی قیمتوں کے مستقبل کے رجحانات کا انحصار عالمی اور مقامی معاشی و سیاسی صورتحال پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سیاسی کشیدگی اور معاشی خدشات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں مزید بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر، اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات بڑھتے ہیں، تو سونے کی قیمتوں کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔

دوسری جانب، اگر عالمی معاشی حالات میں بہتری آتی ہے، جغرافیائی کشیدگیاں کم ہوتی ہیں، یا ڈالر کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے، تو قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں استحکام یا کمی بھی آ سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال کے پیش نظر، زیادہ تر ماہرین سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ چاندی کی بڑھتی ہوئی صنعتی طلب بھی اس کی قیمتوں کو مستقبل میں بلند رکھنے کا ایک اہم عنصر ہے، خاص طور پر جب دنیا سبز توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں مقامی سطح پر بھی قیمتوں کا انحصار روپے کی قدر، افراط زر کی شرح، اور ملکی اقتصادی استحکام پر ہوگا۔ جب تک پاکستان میں معاشی استحکام نہیں آتا اور روپے کی قدر میں بہتری نہیں آتی، قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔ مزید معلومات اور روزانہ کی تازہ ترین قیمتوں کے لیے آپ ایکسپریس نیوز پر سونے کے نرخ دیکھ سکتے ہیں، جہاں آپ کو مقامی مارکیٹ کے رجحانات اور عالمی اثرات کے بارے میں تازہ ترین اپڈیٹس ملتی رہیں گی۔

نتیجہ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک پیچیدہ عالمی اور مقامی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی و سیاسی تناؤ، امریکی ڈالر کا اتار چڑھاؤ، اور چاندی کی بڑھتی ہوئی صنعتی مانگ یہ سب عوامل قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو نئی بلندیوں پر لے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں، روپے کی قدر میں کمی اور بلند افراط زر نے سونے اور چاندی کو ایک محفوظ سرمایہ کاری بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ عام صارفین کے لیے خریداری کو مشکل بنا رہا ہے۔ جب تک عالمی اور مقامی معاشی استحکام نہیں آتا، قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان حالات میں، سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو محتاط رہنا ہوگا اور مارکیٹ کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا۔