Table of Contents
شہید آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں عوامی دیدار کے لیے رکھ دی گئیں ہیں۔ ایران میں سوگ کا ماحول ہے جہاں لاکھوں افراد اپنے عظیم رہنما اور ان کے خاندان کے شہداء کو الوداع کہنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ ایک ایسا دلخراش لمحہ ہے جس نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش اور ہمدردی کی لہر دوڑا دی ہے۔ تہران کے مرکزی مقامات پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے شہداء کے تابوتوں کا دیدار کر رہی ہے اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔ یہ عوامی دیدار کئی دنوں تک جاری رہے گا، جس کے بعد وسیع تر تدفین کی رسومات ادا کی جائیں گی۔
ایک المناک سانحہ: شہادت کے پس پردہ حقائق
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ ان حملوں نے تہران میں ان کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں یہ المناک سانحہ پیش آیا۔ ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی قرار دیا اور ملک بھر میں چالیس روزہ سوگ اور سات روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ اس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ، ان کی بیٹی، نواسی اور ایک داماد بھی شہید ہوئے۔ یہ حملہ ایران اور خطے کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا، جس نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ اس شہادت نے عالمی برادری میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس حملے کے بارے میں تفصیلات واضح نہیں تھیں، تاہم بعد میں ایران نے تصدیق کی کہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ اس حملے میں جان سے گئے۔
ایرانی میڈیا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای اپنے مشیروں سے ملاقات کے دوران اپنے دفتر میں موجود تھے۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے اس اجلاس کی معلومات حاصل کر لی تھیں، جس کے باعث حملے کا وقت بدلا گیا تاکہ اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس واقعے نے ایران کے دفاعی نظام اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، اگرچہ ایرانی حکام نے اس حملے کو ‘ظالم قوتوں کے خلاف جدوجہد میں ایک نئی بیداری اور تحریک کا آغاز’ قرار دیا ہے۔ اس حادثے کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل بھی تیزی سے مکمل کیا گیا، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے 8 مارچ 2026 کو منصب سنبھالا۔ تاہم، مجتبیٰ خامنہ ای بھی اس حملے میں زخمی ہوئے اور تب سے وہ عوامی منظر سے غائب ہیں، جس سے ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
تاریخی عوامی دیدار: تہران سے کربلا تک
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتوں کو عوامی دیدار کے لیے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ہفتہ طویل سوگ کی تقریبات کا حصہ ہے جو ایران کے مختلف شہروں اور عراق کے مقدس مقامات پر بھی منعقد کی جائیں گی۔ ان تقریبات میں لاکھوں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے جو اپنے شہید رہنما کو آخری بار دیکھنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، شہداء کے تابوتوں کو شیشے کے خصوصی حصار میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام ان کا دیدار کر سکیں۔ تہران کے مصلیٰ سینٹر میں موجود لاکھوں افراد غمگین ہیں اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔
جمعہ 3 جولائی کو، عالمی وفود نے میتوں کا دیدار کیا، فاتحہ خوانی کی اور تعزیتی کلمات پیش کیے۔ ہفتہ 4 جولائی کو، ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگواران سارا دن فاتحہ خوانی کرتے رہے، اور یہ سلسلہ آج اتوار 5 جولائی کو بھی جاری ہے۔ مرکزی نماز جنازہ آج اتوار 5 جولائی کو فجر کے وقت ادا کی گئی، جس میں ایک کروڑ سے زائد افراد اور 100 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع تھی۔ نماز جنازہ کے بعد، میت کو جلوس کی صورت میں تہران سے قم لے جایا جائے گا، جو شیعہ مسلمانوں کا ایک اور اہم مذہبی مرکز ہے۔ اگلے روز، یعنی پیر 6 جولائی کو، میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا جہاں مزید نماز جنازہ ادا کی جائیں گی۔ یہ رسومات تشیع جنازہ کے بین الاقوامی راستے کا حصہ ہیں، جو اس المناک واقعے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ آخر کار، میت کو 9 جولائی کو مشہد واپس لایا جائے گا اور امام رضا کے مزار میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
غم اور عقیدت کا بے مثال اظہار
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر ایرانی قوم کا ردعمل انتہائی جذباتی اور متاثر کن ہے۔ تہران کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کا ہجوم امڈ آیا ہے، جو اپنے رہنما کی شہادت پر ماتم کر رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوگواران “امریکہ مردہ باد” اور “انتقام! انتقام!” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ خواتین اپنے سر پیٹ رہی ہیں اور مرد سینہ کوبی کر رہے ہیں، جو شیعہ جنازوں کی ایک روایتی رسم ہے۔ شہر بھر میں آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر والے بل بورڈز اور بینرز نصب ہیں، جن پر ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں جو انتقام کی علامت ہیں، جبکہ کچھ لبنانی حزب اللہ کے پیلے جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔
سوگواروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ان کے دل، ان کے والد اور سب کچھ تھے اور وہ ان کی شہادت پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایک سوگوار، معصومہ محمدی نے کہا، “امام خامنہ ای ہمارے دل، ہمارے والد، ہمارے سب کچھ تھے۔ میں اب بھی یقین نہیں کر سکتی کہ انہوں نے انہیں شہید کر دیا۔ ہم ان کی موت کا بدلہ لیے بغیر آرام نہیں کریں گے”۔ یہ عوامی غم و غصہ محض ایک رہنما کی موت پر نہیں، بلکہ ایک قومی شناخت، مزاحمت کے عزم اور اپنے اصولوں پر ثابت قدمی کے اظہار کا مظہر ہے۔ ایران کے نظام نے اس عوامی اظہار کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنی طاقت اور استحکام کا مظاہرہ کرے، خاص طور پر جنگ کے بعد کے اس مشکل دور میں۔
| واقعہ | تاریخ | مقام | اہمیت |
|---|---|---|---|
| آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت | 28 فروری 2026 | تہران، ایران | امریکہ-اسرائیل حملے میں ہلاکت |
| مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب بطور سپریم لیڈر | 8 مارچ 2026 | تہران، ایران | نئے رہنما کا تقرر |
| عوامی دیدار کا آغاز | 3 جولائی 2026 | گرینڈ مصلیٰ، تہران | شہداء کو خراج عقیدت |
| مرکزی نماز جنازہ | 5 جولائی 2026 | گرینڈ مصلیٰ، تہران | لاکھوں افراد کی شرکت |
| تدفین | 9 جولائی 2026 | امام رضا مزار، مشہد | آخری رسومات کی تکمیل |
بین الاقوامی تعزیت اور یکجہتی
آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت کے بعد عالمی برادری کی جانب سے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف ممالک سے وفود تہران پہنچ رہے ہیں تاکہ تعزیتی تقاریب میں شرکت کر سکیں اور ایرانی قوم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔ جمعہ 3 جولائی کو ہونے والی تعزیتی تقریب میں روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی شامل تھے۔ دیگر غیر ملکی شرکاء میں عراق کے صدر، افغان وزیر خارجہ اور حماس کا ایک وفد بھی شامل تھا۔ یہ بین الاقوامی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم مذہبی اور سیاسی رہنما کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کو ایک عظیم عالم اور رہنما قرار دیا اور ان کی ثابت قدمی، جرات، صبر اور دور اندیشی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شہید سپریم لیڈر نے انتہائی خلوص اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ایران کی خدمت کی اور ایران ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان انہیں ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ “ہم ایران کی ان کی شہادت پر اپنی دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے آئے ہیں”۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران برادر اسلامی ممالک ہیں، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، اور ہم ہر حال میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ یہ تعزیتی پیغامات اور عالمی وفود کی آمد ایران کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام بھی ہے کہ اس مشکل وقت میں عالمی برادری کا ایک حصہ اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس ضمن میں مزید تفصیلات ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
نئے سپریم لیڈر اور آئندہ کے چیلنجز
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو 8 مارچ 2026 کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب ‘مجلس خبرگان’ نے کیا، جو ایران کے لیے ایک اہم فیصلہ تھا تاکہ قیادت کے خلا کو پر کیا جا سکے۔ تاہم، مجتبیٰ خامنہ ای بھی اس حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے اور تب سے وہ عوامی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں، جہاں کچھ رپورٹس ان کی سنگین چوٹوں کا ذکر کرتی ہیں جبکہ ایرانی حکام ان کی اچھی صحت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی طرف سے تحریری بیانات جاری کیے ہیں اور حکومتی شخصیات سے ان کی ملاقاتوں کی خبریں بھی دی ہیں، لیکن کوئی نئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی ایران میں ایک نئی سیاسی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ علی خامنہ ای، عوامی اجتماعات میں باقاعدگی سے نظر آتے تھے، جبکہ نئے سپریم لیڈر کی عوامی عدم موجودگی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ان کے چہرے اور ہونٹوں پر شدید چوٹیں لگنے کی اطلاعات بھی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ نئے سپریم لیڈر کو ایک ایسے وقت میں قیادت سنبھالنی پڑی ہے جب ایران کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی، معاشی دباؤ، اور علاقائی تنازعات جیسے مسائل نئے رہنما کے لیے امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایرانی حکام ان افواہوں کو رد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نئے سپریم لیڈر مکمل طور پر معاملات پر قابو رکھتے ہیں۔
شہداء کی قربانی: مزاحمت کا ایک نیا باب
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو ایران میں ‘مزاحمت کے جغرافیہ’ کی ایک نئی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی قیادت میں ایران کے اثر و رسوخ کو خطے میں وسعت دی اور مختلف مزاحمتی گروہوں کی حمایت کی، جس نے انہیں مغربی طاقتوں کا ایک بڑا حریف بنا دیا۔ ان کی شہادت نے ایرانی قوم کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ وہ ‘ظالم قوتوں’ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ‘ظالم قوتوں کے خلاف جدوجہد میں ایک نئی بیداری اور تحریک کا آغاز ثابت ہوگی’۔
اس المناک واقعے کے بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی شہید رہنما کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایرانی حکومت اس وقت عالمی سطح پر بھی اپنے موقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور امریکہ و اسرائیل کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ تدفین کی یہ وسیع تقریبات، جو کئی شہروں اور ممالک پر محیط ہیں، ایرانی حکومت کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ داخلی طور پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور عالمی سطح پر اپنے پیغام کو پھیلائیں۔ شہداء کی قربانی کو ملک کی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر شامل کیا جائے گا، جو آئندہ نسلوں کے لیے استقامت اور مزاحمت کا ذریعہ بنے گا۔ ایران کی فوجی قیادت نے بھی اس حملے کا سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے اگر جنازے پر کوئی حملہ کیا گیا۔
نتیجہ
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتوں کے عوامی دیدار اور جاری تدفین کی رسومات نے ایران کو گہرے سوگ اور عزم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک قوم کا اپنے عظیم رہنما سے آخری الوداع ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اس کی مزاحمت کا ایک واضح اظہار بھی ہے۔ لاکھوں افراد کا سڑکوں پر نکلنا، ماتم کرنا اور انتقام کے نعرے لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی قربانی نے ایرانی قوم کے جذبات کو گہرا اثر دیا ہے۔ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک مشکل وقت میں قیادت سنبھالنی پڑی ہے، اور انہیں اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، ان شہادتوں نے ایرانی قوم کے عزم کو مضبوط کیا ہے اور اسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جہاں مزاحمت کا پرچم مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے تعزیتی پیغامات اور وفود کی آمد بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس واقعے کے عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
