صحت کارڈ پلس پروگرام، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کے شہریوں کو مالی تحفظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا تھا، اب پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار کی ایک اور سنگین واردات کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس پروگرام میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں، کرپشن اور عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کے الزامات نے اس کے بنیادی مقصد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کے فقدان کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
حالیہ آڈٹ رپورٹس اور نیب کی تحقیقات نے اس پروگرام کی گہرائیوں میں چھپی بدعنوانیوں کا پردہ فاش کیا ہے، جس میں اربوں روپے کی ہیر پھیر اور غیر مستحق افراد کو فائدہ پہنچانے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک فلاحی منصوبے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا براہ راست اثر عام اور غریب عوام پر پڑا۔
طالبان رجیم میں بدترین سکیورٹی صورتحال
پروگرام کا تعارف اور اس کے بنیادی مقاصد
صحت کارڈ پلس پروگرام کو 2015 میں خیبرپختونخوا کے چار اضلاع میں شروع کیا گیا تھا، اور 2020 تک اسے پورے صوبے میں توسیع دے دی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد صوبے کے تمام شہریوں کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرکے مالی تحفظ دینا تھا۔ اس پروگرام کے تحت، خاندانوں کو ایک مخصوص رقم تک کے علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرا سکیں۔
اس پروگرام کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا گیا تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ یہ غریب اور متوسط طبقے کو صحت کی بہترین سہولیات تک رسائی فراہم کرے گا۔ ابتدائی طور پر اسے عوامی سطح پر خوب پذیرائی ملی کیونکہ یہ ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا تھا۔
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اسمارٹ فونز میں 35 فیصد اضافہ
ابتدائی کامیابیوں کے دعوے اور حقیقت
پی ٹی آئی حکومت نے صحت کارڈ پلس کو اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا، اور دعویٰ کیا کہ اس نے لاکھوں لوگوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے مارچ 2024 میں صحت کارڈ کی خدمات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن تھا۔ ان کے مطابق، 118 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں 1800 مختلف بیماریوں کا مفت علاج شروع ہو چکا ہے۔
تاہم، ان دعوؤں کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی تھی، جس میں بے ضابطگیاں اور مالی بدعنوانیاں شامل تھیں۔ پروگرام کے اخراجات میں کمی کے نام پر مریضوں سے اضافی رقم وصول کرنے اور علاج کی سہولیات محدود کرنے کی تجاویز سامنے آئیں، جس سے پروگرام کے فلاحی مقصد پر سوالات اٹھنے لگے۔
- غریب مریضوں کو 20 فیصد اخراجات خود برداشت کرنے کی تجویز۔
- مہنگے اور غیر ہنگامی علاج کو صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کرنے کی کوشش۔
- متعدد طبی سہولیات کو پروگرام سے خارج کرنے کی تجاویز بھی زیر غور رہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر بیان: علاقائی حدود اور عالمی سمندری حقوق
واردات کا پس منظر: بے ضابطگیاں اور کرپشن کے الزامات
صحت کارڈ پلس پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) نے خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اکتوبر 2026 میں، نیب نے سابق سی ای او ڈاکٹر ریاض تنولی کو طلب کیا اور ان سے 2023-24 اور 2025-26 کے دوران 21 ارب روپے کے فنڈز کی تفصیلات طلب کیں۔
انکوائری میں غیر تصدیق شدہ اخراجات، دوہرے کارڈز کا اجرا، اور ہسپتالوں کی جانب سے جمع کرائے گئے بلند دعووں کی جانچ پڑتال شامل ہے۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2018 سے 2021 کے درمیان صحت کارڈ پروگرام میں 28.61 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، غیر رجسٹرڈ نجی ہسپتالوں کو پینل میں شامل کیا گیا اور اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں سوات کے دو ہسپتالوں کو ایک ارب روپے سے زائد کی ادائیگی بھی شامل ہے۔
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کی تنصیبات پر سائبر حملے
ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کا کردار: ملی بھگت کے شواہد
تحقیقات میں ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ پشاور کے ایک ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کا منظم طریقے سے استحصال کیا، جس کے نتیجے میں 500 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ یہ انکشاف ہوا کہ مریضوں سے نقد رقم وصول کی جاتی تھی جبکہ صحت کارڈ پر بھی اسی علاج کے دعوے دائر کیے جاتے تھے۔ صبح کی سرجریوں کو شام کے طریقہ کار کے طور پر غلط طریقے سے ریکارڈ کیا جاتا تھا تاکہ ذاتی مالی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
یہ سکینڈل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ذاتی منافع کا ذریعہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، 32 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو 824 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
ایف پی ایس سی جابز 2026 اشتہار: وفاقی پبلک سروس کمیشن میں نئی آسامیاں
| بے ضابطگی کا نوعیت | مبینہ نقصان (اندازاً) |
|---|---|
| غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کو ادائیگی | اربوں روپے |
| ہسپتالوں میں “ڈبل ڈپ” سرجری سکینڈل | 500 ملین روپے |
| ضرورت سے زیادہ بھرتیاں (32 DHQ ہسپتال) | 824 ملین روپے |
| غیر تصدیق شدہ اخراجات اور جعلی دعوے | متعدد ارب روپے |
| مریضوں سے اضافی 20% وصولی کی تجویز | 9 ارب روپے کا تخمینہ |
عوام پر سنگین اثرات: عدم اعتماد اور سہولیات کا فقدان
ان مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات نے صحت کارڈ پلس پروگرام کی افادیت اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب ایک ایسا پروگرام، جو غریب عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہو، بدعنوانی کا شکار ہو جائے تو یہ عوام میں حکومتی منصوبوں پر عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔ مریضوں کو علاج سے محروم ہونا پڑا، اور انہیں شدید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔
عوام کے ٹیکس کا پیسہ جو ان کی صحت پر خرچ ہونا چاہیے تھا، وہ بے ضابطگیوں کی نذر ہوگیا۔ یہ صورتحال نہ صرف موجودہ صحت کے نظام پر منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ مستقبل میں شروع کیے جانے والے فلاحی منصوبوں کی کامیابی کے امکانات کو بھی متاثر کرتی ہے۔
زمین کے قریب آنے والی خلائی چٹان سے نمٹنے کے لیے چین کے اہم اقدامات
پی ٹی آئی دور اقتدار میں احتساب کا فقدان
پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں ان بے ضابطگیوں پر بروقت اور موثر احتساب کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگرچہ یہ پروگرام عوامی فلاح کے لیے تھا، لیکن اس کی نگرانی اور مالی انتظام میں سنجیدہ کمزوریاں سامنے آئیں۔ صحت کارڈ پلس پروگرام میں تقریباً 125 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جن میں سے رواں مالی سال کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس بڑی رقم کے باوجود، شفافیت اور جوابدہی کے فقدان نے کرپشن کی راہ ہموار کی۔
نیب کی تحقیقات اور محکمہ صحت کی انکوائری اب حقائق کو سامنے لا رہی ہیں، لیکن یہ سوال بدستور موجود ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران ان بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ عوامی مفادات کے منصوبوں میں احتساب کو یقینی بنانا کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔
یہ عبادت کی جگہ، میدان جنگ نہیں: کیلیفورنیا میں امن کی اپیل
موجودہ حکومت کی تحقیقات اور مستقبل کے چیلنجز
موجودہ حکومت نے صحت کارڈ پلس پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور محکمہ صحت نے ایک بڑی انکوائری شروع کی ہے۔ اس انکوائری کے تحت 2019 سے 2026 تک کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جس میں نجی اور سرکاری ہسپتالوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز بھی بہت زیادہ ہیں۔
صحت کارڈ پلس جیسے وسیع پروگرام کو دوبارہ قابل اعتماد بنانا ایک بڑا کام ہے، جس کے لیے نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین ضروری ہے بلکہ ایک ایسا میکانزم بھی وضع کرنا ہوگا جو شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنا سکے۔ اس میں ڈیجیٹل اصلاحات اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مضبوط کرنا شامل ہے۔
2025-26: صارفین ملکی تاریخ کا مہنگا پیٹرول اور بجلی استعمال کرنے پر مجبور
متبادل حل اور شفافیت کی ضرورت
صحت کارڈ پلس پروگرام کی خامیوں کو دور کرنے اور اسے حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کا منصوبہ بنانے کے لیے کئی اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، ایک مضبوط نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جو مالی لین دین اور علاج کے دعووں کی مکمل جانچ پڑتال کرے۔ دوسرا، غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کو پینل سے فوری طور پر خارج کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تیسرا، ایک مرکزی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (CMIS) کو مکمل طور پر فعال کیا جائے تاکہ مریضوں کا ڈیٹا مکمل اور شفاف طریقے سے دستیاب ہو۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام شکایات پر انکوائری ہوتی ہے اور قصوروار ہسپتالوں کو پہلی بار انتباہ اور دوسری بار شکایت پر معطلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جو عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی بجائے انہیں مزید ریلیف فراہم کریں۔ مثال کے طور پر، خیبرپختونخوا حکومت نے گردے، جگر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کا علاج صحت کارڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ شفافیت اور عوامی شراکت داری کو یقینی بنا کر ہی اس پروگرام کی ساکھ بحال کی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب ای بائیک اسکیم 2026
صحت کارڈ پلس میں پائے جانے والی بے ضابطگیوں نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ کس طرح عوامی فلاحی منصوبوں میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ ان واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے، حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرے بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور عوام دوست نظام بھی قائم کرے۔ اس حوالے سے ڈان نیوز کی ایک رپورٹ مزید تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے کہ نیب نے کس طرح اس سکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کیا۔
نتیجہ
صحت کارڈ پلس پروگرام، جو خیبرپختونخوا میں عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک امید افزا منصوبہ تھا، مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ایک سنگین واردات میں بدل گیا۔ پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں سامنے آنے والی یہ بدعنوانیاں حکمرانی میں احتساب کے فقدان کی عکاسی کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات اور اصلاحات اس پروگرام کو دوبارہ عوامی اعتماد کے قابل بنانے کے لیے اہم ہیں۔
