مقبول خبریں

فیفا میں وی اے آر ٹیکنالوجی تنازعات کا مرکز بن گئی، فیصلوں پر شدید تنقید

فیفا میں وی اے آر ٹیکنالوجی، جسے ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے نام سے جانا جاتا ہے، فٹبال کے کھیل میں شفافیت اور درست فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، لیکن حال ہی میں یہ ٹیکنالوجی خود تنازعات کا مرکز بن گئی ہے، جس کے فیصلوں پر دنیا بھر سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پیش آنے والے متعدد واقعات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا وی اے آر واقعی کھیل کو بہتر بنا رہا ہے یا اسے مزید پیچیدہ کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی، جو ابتداء میں واضح اور سنگین غلطیوں کو درست کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب اس کی وسعت اور استعمال پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وی اے آر: تعارف اور اس کا مقصد

وی اے آر ٹیکنالوجی کو فٹبال میں 2018 کے ورلڈ کپ میں باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد انسانی غلطیوں کی وجہ سے ہونے والے اہم اور واضح فیصلوں کی غلطیوں کو کم کرنا تھا۔ ان فیصلوں میں گول، پنالٹی، ریڈ کارڈ اور کھلاڑی کی شناخت کی غلطیاں شامل تھیں۔ انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) کی جانب سے بنائے گئے قوانین کے تحت، وی اے آر کو صرف چار مخصوص صورتحال میں مداخلت کی اجازت ہوتی ہے تاکہ کھیل کی روانی متاثر نہ ہو۔ یہ ٹیکنالوجی ریفری کو میدان میں ہونے والے کسی بھی اہم واقعے کا ویڈیو ری پلے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جس سے انہیں درست فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے۔ بہت سے لوگ اس امید میں تھے کہ وی اے آر کے آنے سے کھیل میں غیر منصفانہ فیصلوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور فٹبال اپنی شفافیت کی نئی بلندیوں کو چھو لے گا۔ تاہم، حالیہ ورلڈ کپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ امیدیں شاید حقیقت سے کوسوں دور تھیں۔

حالیہ ورلڈ کپ میں متنازع فیصلے

فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں وی اے آر کے فیصلوں نے کئی میچز کے نتائج پر گہرا اثر ڈالا ہے اور شائقین، کھلاڑیوں اور ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی اہم میچوں میں وی اے آر کے متنازع فیصلوں کی وجہ سے ہارنے والی ٹیموں نے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا ہے بلکہ فیفا کی غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان تنازعات میں سب سے نمایاں وہ فیصلے ہیں جہاں گول منسوخ کیے گئے یا پنالٹی کی اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا، جس نے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ خاص طور پر، مصر اور ارجنٹینا کے درمیان پری کوارٹر فائنل میچ میں وی اے آر کے فیصلوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس میچ کے بعد، ٹورنامنٹ کی شفافیت اور ریفریز کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مصر بمقابلہ ارجنٹینا: ایک غیر منصفانہ جنگ؟

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں ارجنٹینا نے مصر کو 2-3 سے شکست دی، لیکن اس میچ کے بعد وی اے آر کے فیصلے ایک سنگین تنازع کی وجہ بن گئے۔ میچ کے دوران جب مصر کو 0-1 کی برتری حاصل تھی، محمد صلاح کے ایک بہترین پاس پر مصری کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے گول کرکے اپنی ٹیم کی برتری دگنی کر دی۔ تاہم، ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر نے وی اے آر کے اشارے پر اس گول کو منسوخ کر دیا۔ ری پلے کے مطابق، مصر کے کاؤنٹر اٹیک شروع کرنے سے پہلے ارجنٹینا کے پنالٹی ایریا کے باہر مروان عطیہ کا پاؤں ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑی مارٹنیز کے پاؤں پر آیا تھا اور انہوں نے شرٹ بھی کھینچی تھی۔ اسی وجہ سے گول منسوخ کیا گیا۔

اس فیصلے پر مصری کوچ حسام حسن نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے “ناانصافی” قرار دیا اور کہا کہ ان کے ساتھ جانبداری برتی گئی۔ مصطفیٰ زیکو نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ ورلڈ کپ پہلے ہی ارجنٹینا کو دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے ریفری کے فیصلوں کو سراسر ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے فیفا کو “ظالم” کہا۔ سوشل میڈیا پر بھی شائقین نے ریفری اور وی اے آر پر جانبداری کے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ مصر کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور ٹیکنالوجی کا استعمال یکساں انداز میں نہیں کیا گیا۔ مصری فٹبال فیڈریشن نے اس معاملے پر فیفا میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے اور ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر اور دیگر کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریفری اور وی اے آر نے سنگین غلطیاں اور دوہرا معیار اپنایا۔

مراکش بمقابلہ فرانس: ہینڈبال کا تنازع

مصر کے تنازع کے بعد، فرانس اور مراکش کے کوارٹر فائنل میں بھی وی اے آر نئی بحث کا مرکز بن گیا۔ مراکش کے کوچ محمد وہبی نے دعویٰ کیا کہ کائلیان ایمباپے کے پہلے گول سے قبل واضح ہینڈبال ہوئی تھی، جس پر ان کے کھلاڑی فاؤل کی توقع میں رک گئے، مگر وی اے آر نے مداخلت نہیں کی۔ اگرچہ قوانین کے ماہرین کے مطابق یہ ہینڈبال غیر ارادی تھی اور گیند کا قبضہ تبدیل ہونے کے باعث قوانین کے تحت گول منسوخ نہیں کیا جا سکتا تھا، تاہم اس فیصلے نے ایک بار پھر وی اے آر کی متضاد تشریح اور اطلاق پر سوالات کھڑے کر دیے۔

تنازع کا مرکز متعلقہ میچ فیصلہ اہم اعتراض
مصر کا گول منسوخ ارجنٹینا بمقابلہ مصر وی اے آر نے 100 گز دور ہونے والے فاؤل کی بنیاد پر گول مسترد کیا غیر یکساں اطلاق، جانبداری کے الزامات، کھیل کی روح کے خلاف
محمد صلاح پر مبینہ فاؤل ارجنٹینا بمقابلہ مصر پنالٹی نہیں دی گئی ریفری کی جانب سے نظرانداز، دہرا معیار
ایمباپے کے گول سے قبل ہینڈبال فرانس بمقابلہ مراکش وی اے آر نے مداخلت نہیں کی وی اے آر کی متضاد تشریح، مداخلت نہ کرنے پر سوال
امریکی فارورڈ فولارن بالوگن کا ریڈ کارڈ امریکہ بمقابلہ بیلجیئم ریڈ کارڈ دکھایا گیا، بعد میں معطلی ختم کر دی گئی سیاسی دباؤ کے الزامات، فیصلے میں شفافیت کا فقدان

ماہرین اور کھلاڑیوں کی شدید تنقید

وی اے آر کے فیصلوں پر صرف متاثرہ ٹیموں اور ان کے کوچز نے ہی نہیں بلکہ فٹبال کے ماہرین، سابق کھلاڑیوں اور مبصرین نے بھی شدید تنقید کی ہے۔ سابق برطانوی گول کیپر اور فاکس اسپورٹس کے تجزیہ کار روب گرین نے مصر کے گول کو منسوخ کرنے پر سخت الفاظ میں کہا کہ “100 گز دور کسی کے پیر پر انگلی آ جانے کی وجہ سے وی اے آر کو فٹبال میں شامل نہیں کیا گیا تھا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریفری نے خود اس ٹکر کو دیکھا تھا اور فاؤل نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ایک شاندار جوابی حملے پر ہونے والے گول کو اس طرح رد کرنا کھیل کی روح کے خلاف ہے۔ مشہور کمنٹیٹر اور سابق کھلاڑی جیمی کیراگھر نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ میچ پریمیئر لیگ یا لا لیگا کا ہوتا تو وی اے آر کے بعد بھی اسے گول ہی برقرار رکھا جاتا۔

فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ وی اے آر کا اطلاق اکثر غیر مستقل اور غیر متوقع ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کھیل میں مزید ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی فارورڈ فولارن بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کیا تھا تاکہ بالوگن کی ایک میچ کی پابندی ختم کرائی جا سکے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وی اے آر کے فیصلے بعض اوقات کھیل کے علاوہ دیگر عوامل سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جو کھیل کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ شنگھائی میں ایملیون بزنس اسکول کے کھیلوں کے ماہر پروفیسر سائمن چیڈوک نے بھی ان تنازعات کے بعد سوال اٹھایا ہے کہ کون سے فیصلے واقعی غیر جانبدار ہیں اور کن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وی اے آر نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ شائقین اور ناظرین کو ریفری اور وی اے آر حکام کی سوچ اور فیصلہ سازی کا طریقہ بھی سننے کا موقع دیا جائے تاکہ ہر فیصلے کی بنیاد واضح ہو سکے۔

فیفا کا مؤقف اور وی اے آر کا دفاع

ان شدید تنقیدوں کے باوجود، فیفا اور اس کے ریفریز کے سربراہ وی اے آر کے استعمال کا دفاع کر رہے ہیں۔ فیفا کے چیف ریفری آفیسر پیئرلوئیجی کولینا نے مصر بمقابلہ ارجنٹینا میچ میں وی اے آر کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریفریز پر کسی کا اثر نہیں ہوتا اور فیفا صدر جیانی انفانٹینو بھی ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق، مروان عطیہ کا لیساندرو مارٹینیز کے پاؤں پر قدم رکھنا واضح فاؤل تھا اور وی اے آر کا فیصلہ درست تھا۔ کولینا نے زور دیا کہ گول سے پہلے ہونے والے فاؤل پر وی اے آر کسی بھی مرحلے کا جائزہ لے سکتا ہے اور وقت یا فاصلے کی کوئی حد مقرر نہیں۔ انہوں نے ریفریز کی دیانتداری پر سوالات مسترد کر دیے۔

فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے بھی ارجنٹینا بمقابلہ مصر میچ میں وی اے آر تنازعہ کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وی اے آر کو فٹبال میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ “واضح اور سنگین غلطیوں کو محدود کیا جا سکے، نہ کہ تمام تنازعات کو ختم کرنے کے لیے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وی اے آر تمام اختلافی آراء کو نہیں مٹا سکتا کیونکہ فٹبال میں موضوعی حالات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ یہ کھیل کا حصہ ہے”۔ انفانٹینو نے مصری شائقین کی مایوسی کو قابل فہم قرار دیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ شفافیت، مستقل مزاجی اور جوابدہی پر ہی شائقین کا اعتماد قائم کیا جا سکتا ہے، افواہوں یا مفروضوں پر نہیں۔ فیفا کے ریفری کے شعبے کے حکام اب فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر کی کارکردگی، میچ رپورٹس اور متنازع ویڈیو مناظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

وی اے آر کے دائرہ اختیار میں توسیع

رپورٹس کے مطابق، وی اے آر کو ابتدا میں صرف واضح اور سنگین ریفری غلطیوں کی اصلاح کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم 2026 کے ورلڈ کپ میں اس کا دائرہ اختیار مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ فیفا نے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ کے تعاون سے مزید چار نئی صورتحال میں بھی وی اے آر کو مداخلت کا اختیار دیا ہے، جبکہ ٹیلی ویژن آپریشن روم میں 4 آفیشلز تعینات کیے گئے ہیں۔ وی اے آر کے وسیع ہوتے دائرہ اختیار نے بھی تنازعات کو جنم دیا ہے، کیونکہ اب یہ صرف “واضح اور سنگین” غلطیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بہت باریک بینی سے ہونے والے واقعات پر بھی فیصلے سنا رہا ہے جو کھیل کی فطری روانی اور رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔ اس توسیع کا مقصد کھیل کو مزید شفاف بنانا تھا، لیکن کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے مزید ابہام اور فیصلوں میں غیر مستقل مزاجی پیدا ہو رہی ہے، جس کے اثرات کھلاڑیوں کی کارکردگی اور شائقین کے جوش و جذبے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس ضمن میں مزید معلومات کے لیے ڈان نیوز کی یہ رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

نتیجہ

وی اے آر ٹیکنالوجی کا فٹبال میں شامل کیا جانا ایک اچھے مقصد کے تحت تھا، تاکہ کھیل میں انصاف اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم، حالیہ ورلڈ کپ میں اس کے اطلاق نے شدید تنازعات کو جنم دیا ہے، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں اور کوچز بلکہ دنیا بھر کے شائقین کے درمیان بھی مایوسی اور بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ وی اے آر کے فیصلوں میں غیر مستقل مزاجی، اس کے دائرہ اختیار میں توسیع، اور بعض اوقات اس کے سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات نے کھیل کی روح کو مجروح کیا ہے۔ جب تک فیفا اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح، مستقل اور غیر جانبدارانہ ہدایات وضع نہیں کرتا اور اس کے اطلاق کو مزید شفاف نہیں بناتا، وی اے آر تنازعات کا مرکز بنا رہے گا اور فٹبال کے مداحوں کا اعتماد بحال ہونا مشکل ہو گا۔