Table of Contents
لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) کی قیمتوں میں من مانا اضافہ صارفین کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومتی سطح پر قیمتیں مقرر کیے جانے کے باوجود، مارکیٹ میں دکاندار اپنی من مرضی کے نرخوں پر ایل پی جی فروخت کر رہے ہیں، جس سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ سرکاری قیمت 308 سے 309 روپے فی کلوگرام مقرر ہونے کے باوجود، لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ایل پی جی 480 سے 500 روپے فی کلوگرام تک فروخت کی جا رہی ہے، اور بعض مقامات پر تو یہ 600 روپے فی کلوگرام تک بھی پہنچ چکی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق، دکاندار روزانہ کی بنیاد پر 10 سے 20 روپے فی کلوگرام تک کا اضافہ کر رہے ہیں، جس کا براہ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی سنگینی
پاکستان میں، خصوصاً پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی یا تو موجود نہیں یا اس کا پریشر انتہائی کم ہے، ایل پی جی گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے ایک لازمی ایندھن بن چکا ہے۔ لیکن، حالیہ عرصے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اور غیر قانونی اضافہ نے لاکھوں صارفین کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ اضافہ صرف چند روپے کا نہیں بلکہ سرکاری قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کر چکا ہے۔ سرکاری سطح پر اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت مقرر کی جاتی ہے، مگر عملی طور پر اس کا کوئی پاس نہیں رکھا جاتا۔ مارکیٹ میں دکاندار اور ڈسٹری بیوٹرز اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرتے ہیں اور صارفین کو اضافی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پنجاب بھر میں صارفین کو سرکاری نرخ سے تقریباً 170 سے 190 روپے فی کلوگرام زائد قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، جو کہ ان کے مالی بوجھ میں کئی گنا اضافہ ہے۔ اس بے لگام اضافے کی وجہ سے بہت سے گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ وہ اس مہنگے ایندھن کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور بلیک مارکیٹنگ
ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کی سب سے بڑی وجہ سرکاری نرخنامے کی کھلی خلاف ورزی اور بلیک مارکیٹنگ ہے۔ اوگرا ہر ماہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت کا اعلان کرتا ہے، جس کا مقصد صارفین کو ایک مستحکم اور مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ تاہم، پنجاب، خصوصاً لاہور کے بازاروں میں یہ سرکاری نرخ نامے محض کاغذ کے ٹکڑوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دکاندار اور ایل پی جی ڈیلرز سرکاری قیمت کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ صارفین کے حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بلیک مارکیٹنگ کا یہ سلسلہ سپلائی چین کے مختلف مراحل پر جاری ہے، جہاں بڑے ڈسٹری بیوٹرز سے لے کر چھوٹے ریٹیلرز تک، ہر کوئی اپنا منافع بڑھانے کے لیے صارفین کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے، جن کی ذمہ داری سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کروانا ہے، اس صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ اس ناکامی کا خمیازہ غریب اور متوسط طبقہ بھگت رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات
ایل پی جی کی قیمتوں میں اس بے قابو اضافے کے پیچھے کئی بنیادی وجوہات کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، سپلائی چین میں خلل، ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات، موسمی طلب میں اضافہ، اور مقامی مارکیٹ کے حالات ایل پی جی کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سردیوں میں جب قدرتی گیس کی قلت ہوتی ہے تو ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیا قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیتا ہے۔ دوسرا اہم عامل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار ہے۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے مہنگے داموں ملتی ہے، جس کے باعث وہ سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کر سکتے۔ یہ کمپنیوں سے لے کر ریٹیلرز تک، منافع خوری کا ایک منظم سلسلہ نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی ایک مسئلہ ہے۔ اوگرا قیمتیں تو مقرر کرتا ہے، لیکن ان پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہے، اور اس عملدرآمد میں موجود کمزوریاں مافیا کو کھلی چھوٹ دیتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھی پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ پر پڑتا ہے، تاہم اس کا فائدہ ناجائز منافع خور اٹھاتے ہیں۔
عوام پر بڑھتا مالی بوجھ اور سماجی اثرات
ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اور غیر قانونی اضافہ نے عام پاکستانی شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ مالی بوجھ صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔
گھریلو صارفین کی مشکلات
گھریلو صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے خاندان جو قدرتی گیس کی عدم دستیابی یا کم پریشر کے باعث ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایل پی جی کی ہوشربا قیمتوں نے ان کے گھریلو بجٹ کا توازن مکمل طور پر بگاڑ دیا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے اب گیس سلنڈر بھرانا ایک مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، یا پھر انہیں کھانا پکانے کے روایتی اور کم صحت بخش طریقوں پر واپس جانا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صنعتی اور تجارتی شعبے پر اثرات

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ اس سے صنعتی اور تجارتی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں (SMEs) جو اپنی پیداوار کے لیے ایل پی جی کا استعمال کرتی ہیں، ان کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح، ریستوران، ہوٹل اور بیکریاں جیسی تجارتی ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں جو کھانا پکانے اور گرم کرنے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، بالخصوص رکشہ ڈرائیورز، جو اپنی گاڑیوں میں ایل پی جی بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں، کے لیے بھی بڑھتی ہوئی قیمتیں روزی روٹی کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مہنگی ایل پی جی خرید کر پرانے کرایوں پر مسافروں کو سفر نہیں کروا سکتے، جس کی وجہ سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
| تفصیل | قیمت (روپے فی کلو) |
|---|---|
| اوگرا کی سرکاری مقررہ قیمت | 308-309 |
| لاہور میں مارکیٹ قیمت (اوسطاً) | 480-500 |
| بعض علاقوں میں زیادہ سے زیادہ قیمت | 600 |
| یومیہ اضافہ (اوسطاً) | 10-20 |
حکومتی رول، پالیسی اور عملدرآمد کے چیلنجز
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے پیش نظر حکومت کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ اداروں کو سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم، عمل درآمد کے چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ اوگرا اگرچہ قیمتیں مقرر کرتا ہے، لیکن عملی طور پر ان قیمتوں کو مارکیٹ میں نافذ کرانے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہے۔ اوگرا نے اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کو تفصیلی ہدایات بھی جاری کی ہیں، لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں استحکام نہیں آ سکا ہے۔ اس خلا کو مافیا اور منافع خور عناصر بخوبی استعمال کرتے ہیں، جس سے حکومتی اقدامات غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گہرے تعاون اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس صورتحال پر مزید تفصیلات ایکسپریس اردو کی ایک رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں، جس میں ایل پی جی مافیا کی سرگرمیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
ایل پی جی مافیا کا گٹھ جوڑ اور منافع خوری
پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں کے اس بحران کے پیچھے “ایل پی جی مافیا” کا ایک مضبوط گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ یہ مافیا، جس میں بڑے ڈسٹری بیوٹرز، مارکیٹنگ کمپنیاں اور بعض اوقات ریٹیلرز بھی شامل ہوتے ہیں، منظم طریقے سے مصنوعی قلت پیدا کر کے اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے کئی بار یہ الزام عائد کیا ہے کہ اوگرا اور دیگر متعلقہ حکومتی ادارے سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت یقینی بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زائد نرخوں کے باعث روزانہ عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوائے جا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ایل پی جی مافیا نے عوام کی جیبوں سے 60 سے 70 ارب روپے اضافی نکال لیے ہیں۔ یہ مافیا سپلائی کے ہر مرحلے پر اپنی من مانی قیمتیں وصول کرتا ہے، اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں پلانٹ سے ہی ایل پی جی مہنگی ملتی ہے تو وہ سستی کیسے فروخت کریں۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں سب سے زیادہ پسنے والا عام صارف ہے۔ انتظامیہ کی کمزور نگرانی اور سست کارروائی اس مافیا کو مزید تقویت دیتی ہے، اور شہری بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی اور ممکنہ حل
ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کو روکنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، صوبائی حکومتوں کو ایل پی جی کی قیمتوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے نگرانی کے نظام کو انتہائی مضبوط کرنا ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ صرف دکانداروں کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر، یعنی امپورٹرز، مارکیٹنگ کمپنیوں اور بڑے ڈسٹری بیوٹرز کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ دوم، ایل پی جی کی سپلائی کو یقینی بنانے اور طلب و رسد کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے طویل مدتی پالیسیاں وضع کی جانی چاہیئں۔ اس میں متبادل ذرائع سے ایل پی جی کی درآمد کو آسان بنانا اور مقامی پیداوار میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم کے اس بیان پر عملدرآمد ضروری ہے کہ حکومت ایران سے سستا تیل اور گیس خریدنے پر غور کر رہی ہے، جو ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ سوم، صارفین کو سرکاری نرخوں سے آگاہی فراہم کی جائے اور شکایات درج کرانے کے لیے آسان اور مؤثر میکانزم مہیا کیے جائیں، تاکہ وہ بلا جھجک ناجائز منافع خوری کی رپورٹ کر سکیں۔ چہارم، حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی طرح ایل پی جی کی قیمتوں کو بھی موثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
نتیجہ
لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو لاکھوں پاکستانی خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ حکومتی نرخنامے کو نظرانداز کرتے ہوئے دکانداروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ مافیا کے گٹھ جوڑ اور ریگولیٹری اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر حکومتی مداخلت ناگزیر ہے۔ سخت قوانین کا نفاذ، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور سپلائی چین کو مستحکم کرنا ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ جب تک حکومت اور متعلقہ ادارے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتے، اس وقت تک ایل پی جی کا یہ بحران عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بناتا رہے گا۔
