مقبول خبریں

لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ، ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کی بیٹی بھی گرفتار

لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ان دلخراش واقعات نے جہاں محکمہ پولیس کو سوگوار کیا وہیں شہریوں میں خوف و ہراس بھی پیدا ہوا۔ حالیہ تفتیش میں اس کیس کے مرکزی کرداروں میں سے ایک، ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کی بیٹی، ماہ نور شہزادی کی گرفتاری نے معاملے کو مزید پیچیدہ اور اہم بنا دیا ہے۔ پولیس حکام اس ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے چھپے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اس سلسلے میں اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔ لاہور میں دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ، جس میں پولیس اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اب ایک نئے موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں سہولت کاروں اور معاونین کے کردار پر بھی تفصیلی چھان بین جاری ہے۔

لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کا بڑھتا رجحان: ایک تاریخی جائزہ

لاہور، جو کہ پاکستان کا ثقافتی مرکز ہے، پچھلے کچھ عرصے سے ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی زد میں ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے حملوں نے اس رجحان کو مزید نمایاں کیا ہے۔ شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کی صورتحال برقرار ہے اور پولیس حکام امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ 2024 میں بھی لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے جہاں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا تھا اور لاش ڈیڑھ گھنٹے تک سڑک پر پڑی رہی تھی۔ ان واقعات کی کڑیاں اکثر کالعدم تنظیموں سے جا ملتی ہیں جو ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ماضی میں بھی محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا جو لاہور، بہاولپور اور شیخوپورہ میں کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شہر طویل عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری ہے۔

حالیہ واقعات میں 14 اگست 2026 کو لاہور کے بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں دو مختلف حملوں میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے جن میں سب انسپکٹر عدیل، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور اہلکار حارث شامل تھے۔ یہ حملے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل ان خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان واقعات نے پولیس کے حوصلوں کو مزید بلند کیا ہے تاہم ان حملوں کے پیچھے کی وجوہات اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

ٹارگٹ کلر فیاض بٹ اور ریحان بٹ کون تھے؟

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعات میں مرکزی ملزمان کی شناخت ریحان بٹ اور اس کے والد فیاض بٹ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق، ان دونوں ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔ یہ باپ بیٹا کئی سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کا شمار خطرناک ٹارگٹ کلرز میں ہوتا تھا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، ریحان بٹ کے بھائی فیضان بٹ کو بھی تقریباً دو سال قبل لاہور میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ مزید برآں، یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ فیضان بٹ کو افغانستان سے لاہور میں پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس سے اس خاندان کے پس پردہ موجود دہشت گردانہ نیٹ ورک کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔

حالیہ حملوں کے بعد پولیس نے ملزمان کا تعاقب کیا اور 14 اگست 2026 کو شیخوپورہ کے علاقے راوی ریان کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ریحان بٹ اور فیاض بٹ دونوں مارے گئے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان لاہور میں فائرنگ کے بعد ایک سرکاری گاڑی چھین کر فرار ہوئے تھے۔ جب انہیں سرکاری گاڑی میں ٹریکر کا علم ہوا تو انہوں نے مریدکے کے قریب گاڑی اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا اور ایک گھر میں پناہ لی جہاں انہوں نے گھر والوں کو یرغمال بنا لیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے انہوں نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی میں دونوں ہلاک ہو گئے۔ اس مقابلے کے دوران ان کا تیسرا ساتھی طارق، جس کا تعلق کشمیر کے علاقے باغ سے ہے، فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی تلاش جاری ہے۔

حیران کن انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیاض بٹ نے خود پولیس کو فون کر کے سب انسپکٹر عدیل کو اطلاع دی تھی کہ اس کا مطلوب بیٹا ریحان بٹ گھر واپس آگیا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ریحان بٹ نے اس سے قبل عدیل کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی جس کا مقدمہ تھانہ شفیق آباد میں درج تھا۔ مصری شاہ میں ریحان بٹ کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد ہوئے ہیں جو ان کی خطرناک عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماہ نور شہزادی کی گرفتاری اور نئے انکشافات

اس سنگین کیس میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کی 21 سالہ بیٹی ماہ نور شہزادی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ماہ نور کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک کروایا جا رہا ہے تاکہ اس کے کردار کا پتا چلایا جا سکے۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ماہ نور شہزادی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہی جہاں اس کا بھائی فیضان بٹ پڑھتا تھا، جسے 2024 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

پولیس حکام اس بات پر حیران ہیں کہ ایک ہی خاندان کے کئی افراد ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس معاملے کو “کیس اسٹڈی” قرار دیا جا رہا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ایسے خاندان کس طرح انتہا پسندی کی طرف راغب ہوتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ماہ نور کی گرفتاری سے اس نیٹ ورک کے مزید اہم راز افشا ہونے کی امید ہے اور پولیس ٹارگٹ کلنگ کے پس پردہ پورے نیٹ ورک کے قریب پہنچ چکی ہے۔

تحقیقاتی پیشرفت اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری

لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس میں کئی اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ٹارگٹ کلرز کے گینگ کا سراغ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کی سرکاری گاڑی میں نصب ٹریکر کے ذریعے لگایا گیا۔ ملزمان نے لوکیشن ٹریس ہونے سے بچنے کے لیے اپنے موبائل فون بھی بند کر دیے تھے، لیکن گاڑی کا ٹریکر ان کے تعاقب میں اہم ثابت ہوا۔

صرف مرکزی ملزمان ہی نہیں، بلکہ ان کے سہولت کاروں پر بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے ٹارگٹ کلرز کی سہولت کاری کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے، جن میں مناواں کا رہائشی ایک رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے۔ شبہ ہے کہ اس رکشہ ڈرائیور نے ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک پہنچایا تھا۔ تفتیشی حکام زیر حراست افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے تمام پرزے بے نقاب کیے جا سکیں۔

اہم حقائق اور پیشرفت
واقعہ/شخصیت تفصیل تاریخ
شہید پولیس اہلکار سب انسپکٹر عدیل، ہیڈ کانسٹیبل اسد، اہلکار حارث 14 اگست 2026
مرکزی ملزمان ریحان بٹ اور فیاض بٹ (باپ بیٹا) ہلاک 14 اگست 2026
فیاض بٹ کی بیٹی کی گرفتاری 21 سالہ ماہ نور شہزادی زیر حراست 15-16 اگست 2026
فرار ہونے والا تیسرا ملزم طارق (باغ، کشمیر سے تعلق) تلاش جاری
گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی جمشید، کانسٹیبل غلام فرید (مشتبہ روابط) 14 اگست 2026
برآمد شدہ اشیاء ہینڈ گرینیڈ (ریحان بٹ کے گھر سے) تفتیش کے دوران
تحقیقات کی بنیاد LWMC گاڑی کا ٹریکر تفتیش کے دوران
فیاض بٹ کا دھوکہ سب انسپکٹر عدیل کو فون کر کے گھر بلایا حملے سے قبل

پولیس اہلکاروں کا مشتبہ کردار اور اندرونی روابط

اس کیس کی تفتیش میں ایک اور انتہائی حساس پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دو پولیس اہلکاروں کو دہشت گردوں سے رابطوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اے ایس آئی جمشید اور کانسٹیبل غلام فرید کے ریحان بٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر موجود ہیں، جو ان کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تھانہ لوئرمال میں تعینات ایک کانسٹیبل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں سے رابطے میں تھا۔

یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اندر سے ہی ایسے عناصر نکل رہے ہیں جو دہشت گردوں کے ساتھ سہولت کاری میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ ان کے کردار اور ممکنہ سہولت کاری کے بارے میں مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ اس قسم کے اندرونی روابط نہ صرف محکمہ پولیس کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ دہشت گردوں کو مزید تقویت بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ تحقیقات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانا کتنا ضروری ہے۔

عوامی ردعمل اور امن و امان کے چیلنجز

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیوں پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف پولیس کی جانب سے ٹارگٹ کلرز کی ہلاکت اور ان کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف شہریوں میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ لاہور میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر میں سیکیورٹی بڑھانے اور پٹرولنگ میں اضافہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ کاروباری مراکز اور مصروف شاہراہوں پر بھی سیکیورٹی سخت کی گئی ہے۔

پولیس حکام مسلسل اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم، ایسے واقعات، خاص طور پر جب پولیس اہلکاروں کو ہی نشانہ بنایا جائے، عوام کے اعتماد کو متزلزل کر سکتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے نیٹ ورکس کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں اور شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔ ان حملوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیمیں کس قدر منظم اور خطرناک ہو چکی ہیں اور ان کے خلاف جامع اور بھرپور کارروائی ناگزیر ہے۔

نتیجہ

لاہور میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، جن میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے، ایک گہرے اور منظم دہشت گرد نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مرکزی ملزمان فیاض بٹ اور ریحان بٹ کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان، خاص طور پر فیاض بٹ کی بیٹی ماہ نور شہزادی کی گرفتاری، اس کیس میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس کے علاوہ، دو پولیس اہلکاروں اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری نے اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے روابط قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر تک پھیلے ہو سکتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری تفتیش، جس میں ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی کے ٹریکر اور برآمد ہونے والے ہینڈ گرینیڈ جیسے شواہد شامل ہیں، اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کرنے کی امید پیدا کرتی ہے۔ یہ کیس “کیس اسٹڈی” کے طور پر لیا جا رہا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کس طرح ایک ہی خاندان کے افراد انتہا پسندی کی راہ پر گامزن ہو کر ریاست کے خلاف سرگرم ہو سکتے ہیں۔ لاہور پولیس کو نہ صرف بیرونی خطرات کا سامنا ہے بلکہ اسے اندرونی صفوں میں بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کرنی ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ سہولت کاری میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کے لیے امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پائیدار کامیابی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس نیٹ ورک کے تمام پرزے بے نقاب کیے جائیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔