Table of Contents
واٹس ایپ، جو دنیا بھر میں اربوں صارفین کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کا سب سے مقبول ذریعہ ہے، نے ہمیشہ صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں جہاں آن لائن فراڈ اور سائبر حملوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، وہیں واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک نیا اور انقلابی سیکیورٹی فیچر متعارف کرایا ہے: پاس کیز (Passkeys)۔ یہ فیچر صارفین کی ایک بڑی مشکل کو آسان کرتے ہوئے، اکاؤنٹ کی سیکیورٹی کو نہ صرف مضبوط بناتا ہے بلکہ لاگ ان کے عمل کو بھی انتہائی آسان اور تیز رفتار بنا دیتا ہے۔ پاس کیز کا تعارف واٹس ایپ کے سیکیورٹی لینڈ اسکیپ میں ایک اہم پیشرفت ہے، جو روایتی SMS پر مبنی تصدیق کے طریقوں کو جدید کرپٹوگرافک حل کے ساتھ بدل دیتا ہے۔
واٹس ایپ کے سیکیورٹی چیلنجز اور نئے فیچر کی ضرورت
آج کے ڈیجیٹل دور میں، آن لائن پلیٹ فارمز پر سیکیورٹی کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ واٹس ایپ جیسے مقبول میسجنگ ایپس پر صارفین کو فشنگ (Phishing) حملوں، سم سواپنگ (SIM Swapping) اور غیر مجاز رسائی جیسے سنگین خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ روایتی طور پر، واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے SMS پر بھیجے جانے والے 6 ہندسوں کے کوڈ پر انحصار کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ طریقہ کار کچھ حد تک مؤثر تھا، لیکن یہ کئی کمزوریوں کا حامل بھی تھا جو ہیکرز کو صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتے تھے۔
مثال کے طور پر، سم سواپنگ ایک ایسا فراڈ ہے جس میں ہیکرز ٹیلی کام آپریٹر کو دھوکہ دے کر کسی صارف کے نمبر کی سم اپنے نام منتقل کروا لیتے ہیں، اور پھر اس نمبر پر آنے والے SMS کوڈز کو استعمال کر کے واٹس ایپ سمیت دیگر اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح، فشنگ حملوں کے ذریعے جعلی ویب سائٹس یا پیغامات کے ذریعے صارفین سے ان کی ذاتی معلومات اور تصدیقی کوڈز حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان چیلنجز کے پیش نظر، واٹس ایپ کو ایک ایسے سیکیورٹی حل کی ضرورت تھی جو نہ صرف ان خطرات سے نمٹ سکے بلکہ صارفین کے لیے استعمال میں بھی آسان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ نے پاس کیز کا فیچر متعارف کرایا ہے، جو ان تمام مشکلات کا ایک جامع حل پیش کرتا ہے۔
پاس کیز کیا ہیں؟ ایک انقلابی سیکیورٹی حل
پاس کیز (Passkeys) ایک جدید سیکیورٹی فیچر ہے جو آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو روایتی پاس ورڈز یا SMS پر مبنی تصدیقی کوڈز سے کہیں زیادہ محفوظ بناتا ہے۔ یہ فیچر جدید کرپٹوگرافی اور آپ کے آلے کی بلٹ ان سیکیورٹی خصوصیات کو استعمال کرتا ہے، جیسے کہ آپ کا فنگر پرنٹ، چہرہ، یا سکرین لاک، تاکہ آپ کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف آپ، اپنے فزیکل آلے اور ذاتی بائیو میٹرک ڈیٹا کے ساتھ، اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاس کیز کا مقصد لاگ ان کے عمل کو نہ صرف انتہائی محفوظ بنانا ہے بلکہ اسے صارفین کے لیے مزید آسان اور تیز رفتار بھی بنانا ہے۔
پاس کیز بنیادی طور پر کرپٹوگرافک کیز کے جوڑوں پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں سے ایک پبلک کی (Public Key) واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ ہوتی ہے اور دوسری پرائیویٹ کی (Private Key) آپ کے آلے پر۔ یہ پرائیویٹ کی کبھی بھی آپ کے آلے سے باہر نہیں جاتی، جس سے سیکیورٹی کی ایک اضافی تہہ شامل ہو جاتی ہے۔ پاس کیز کی یہ خصوصیت انہیں فشنگ اور دیگر سائبر حملوں کے خلاف انتہائی مزاحم بناتی ہے، کیونکہ ہیکرز کو آپ کے فزیکل ڈیوائس اور بائیو میٹرک معلومات تک رسائی حاصل کیے بغیر آپ کے اکاؤنٹ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
پاس کیز کیسے کام کرتی ہیں؟
جب آپ واٹس ایپ پر پاس کی (Passkey) سیٹ اپ کرتے ہیں، تو آپ کا اکاؤنٹ آپ کے ڈیوائس کے سیکیورٹی سسٹم سے منسلک ہو جاتا ہے، جس میں فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت، یا سکرین لاک شامل ہیں۔ جب آپ کو اپنی شناخت کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، مثلاً جب آپ اپنا فون نمبر دوبارہ رجسٹر کرتے ہیں یا اپنا اکاؤنٹ بحال کرتے ہیں، تو آپ SMS کوڈ کے بجائے اپنی پاس کی استعمال کر سکتے ہیں۔
تکنیکی طور پر، جب آپ پاس کی کے ذریعے لاگ ان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو واٹس ایپ کا سرور آپ کے آلے کو ایک چیلنج بھیجتا ہے۔ آپ کا آلہ، آپ کے بائیو میٹرک ڈیٹا یا سکرین لاک کا استعمال کرتے ہوئے، اس چیلنج کو آپ کی پرائیویٹ کی سے سائن کرتا ہے اور ایک ڈیجیٹل دستخط واپس سرور کو بھیجتا ہے۔ سرور اس دستخط کو آپ کی پبلک کی سے تصدیق کرتا ہے، اور اگر دونوں کیز آپس میں مماثل ہوتی ہیں، تو آپ کا لاگ ان کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ تمام عمل انتہائی تیز رفتاری سے ہوتا ہے اور صارف کو اس کی تکنیکی پیچیدگیوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ صرف آپ کے ذریعے ہی قابل رسائی ہو، کیونکہ پرائیویٹ کی آپ کے آلے سے کبھی باہر نہیں جاتی۔
صارفین کے لیے پاس کیز کے فوائد
پاس کیز کا فیچر واٹس ایپ صارفین کے لیے متعدد اہم فوائد کا حامل ہے، جو ان کی سیکیورٹی اور سہولت کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے:
- مضبوط سیکیورٹی: پاس کیز روایتی پاس ورڈز یا SMS کوڈز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں۔ وہ آپ کے اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مدد کرتی ہیں۔ فشنگ اور سم سواپنگ جیسے حملوں کے خلاف پاس کیز بہت زیادہ مزاحم ہیں، کیونکہ ان میں آپ کے فزیکل ڈیوائس اور بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔
- آسانی: لاگ ان کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور آسان ہو گیا ہے۔ آپ کو کسی پاس ورڈ کو یاد رکھنے یا SMS کوڈ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اپنے ڈیوائس کی سیکیورٹی فیچر، جیسے فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت، استعمال کریں جیسے آپ اپنا فون ان لاک کرتے ہیں۔
- بہتر پرائیویسی: آپ کا بائیو میٹرک ڈیٹا (جیسے آپ کا فنگر پرنٹ یا چہرہ) کبھی بھی آپ کے آلے کو نہیں چھوڑتا۔ یہ صرف آپ کے آلے پر تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور واٹس ایپ تک اس ڈیٹا کی رسائی نہیں ہوتی۔
- غیر متوقع خطرات سے تحفظ: پاس کیز آپ کے اکاؤنٹ کو اس وقت بھی محفوظ رکھتی ہیں جب آپ کا فون کسی میلویئر کا شکار ہو، کیونکہ تصدیق کا عمل ڈیوائس کی ہارڈویئر سیکیورٹی پر منحصر ہوتا ہے۔
- کلاؤڈ بیک اپ سپورٹ: پاس کیز کو گوگل پاس ورڈ مینیجر یا آئی کلاؤڈ کی چین جیسے کلاؤڈ سروسز میں محفوظ کیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ اپنا ڈیوائس کھو دیتے ہیں یا تبدیل کرتے ہیں تو بھی آپ اپنی پاس کی کو آسانی سے بحال کر سکتے ہیں۔

روایتی تصدیقی طریقوں پر برتری
پاس کیز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ سیکیورٹی کے پرانے طریقوں، جیسے کہ صرف پاس ورڈز یا SMS کوڈز پر مبنی ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن (2FA)، پر کئی گنا زیادہ برتری رکھتی ہیں۔ روایتی 2FA اگرچہ ایک اضافی حفاظتی تہہ فراہم کرتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ہیک پروف نہیں ہوتا۔ SMS کوڈز کو فشنگ اور سم سواپنگ کے ذریعے روکا یا استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاس ورڈز اکثر کمزور ہوتے ہیں، انہیں ہیک کیا جا سکتا ہے، یا صارف انہیں بھول جاتے ہیں۔
اس کے برعکس، پاس کیز جدید کرپٹوگرافک اصولوں پر مبنی ہیں جو انہیں ان کمزوریوں سے بچاتی ہیں۔ چونکہ پرائیویٹ کی آپ کے ڈیوائس پر ہی رہتی ہے اور کبھی بھی آن لائن شیئر نہیں ہوتی، اس لیے ہیکرز کے لیے اسے چوری کرنا یا اس تک رسائی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ، پاس کیز ڈیوائس کی بلٹ اِن سیکیورٹی (جیسے فنگر پرنٹ یا فیس سکین) کو استعمال کرتی ہیں، جو صارف کے لیے سیکیورٹی کو نہ صرف انتہائی مضبوط بناتی ہے بلکہ اسے بغیر کسی پیچیدگی کے قابل استعمال بھی بناتی ہے۔ اس طرح، پاس کیز ایک ایسا مضبوط حل پیش کرتی ہیں جو سیکیورٹی اور استعمال میں آسانی دونوں کو یکجا کرتا ہے، جو پرانے طریقوں کی نسبت نمایاں طور پر بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے۔
| فیچر | پاس کیز (Passkeys) | SMS ویریفیکیشن (پرانے طریقے) |
|---|---|---|
| سیکیورٹی کی سطح | بہت زیادہ (کرپٹوگرافک، فشنگ/سم سواپ مزاحم) | اوسط (فشنگ/سم سواپ کے ذریعے ہیک ہو سکتی ہے) |
| استعمال میں آسانی | بہت آسان (بائیو میٹرکس/سکرین لاک سے تصدیق) | درمیانی (SMS کوڈ کا انتظار کرنا اور درج کرنا پڑتا ہے) |
| پاس ورڈ کی ضرورت | نہیں (پاس ورڈ لیس تصدیق) | عام طور پر ہوتی ہے |
| ڈیٹا کی پرائیویسی | بائیو میٹرک ڈیٹا ڈیوائس پر رہتا ہے (واٹس ایپ تک رسائی نہیں) | SMS کوڈ نیٹ ورک پر منتقل ہوتا ہے (ہیکنگ کا خطرہ) |
| ہیکنگ مزاحمت | انتہائی زیادہ | کمزور |
پاس کیز سیٹ اپ کرنے کا طریقہ
واٹس ایپ پر پاس کیز کو سیٹ اپ کرنا ایک آسان اور سیدھا عمل ہے، جو چند مراحل میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے آپ کے پاس ایک جدید اینڈرائیڈ ڈیوائس (اینڈرائیڈ 9 یا اس سے نیا ورژن) یا آئی فون (آئی فون 8 یا اس سے نیا، iOS 16 یا اس سے نیا) اور سکرین لاک سیٹ اپ ہونا ضروری ہے۔ نیز، آپ کے پاس ایک پاس ورڈ مینیجر اکاؤنٹ (جیسے گوگل پاس ورڈ مینیجر یا سام سنگ پاس ورڈ مینیجر) کا سیٹ اپ ہونا بھی ضروری ہے جو آپ کے موبائل ڈیوائس سے منسلک ہو۔
پاس کی بنانے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کریں:
- واٹس ایپ کھولیں اور Settings (سیٹنگز) میں جائیں۔
- اکاؤنٹ (Account) پر ٹیپ کریں، پھر Passkeys (پاس کیز) کا انتخاب کریں۔
- Create passkey (پاس کی بنائیں) اور پھر Continue (جاری رکھیں) پر ٹیپ کریں۔
- آپ سے آپ کے ڈیوائس کا سکرین لاک استعمال کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے تاکہ آپ کی پاس کی بنائی جا سکے۔ تصدیق کے لیے سکرین پر دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
- ایک بار جب آپ تصدیق کر لیں گے، تو واٹس ایپ آپ کی پاس کی کو آپ کے ڈیفالٹ پاس ورڈ مینیجر ایپ میں محفوظ کر لے گا۔
اگر آپ واٹس ایپ دوبارہ انسٹال کر رہے ہیں اور پہلے پاس کی بنا چکے ہیں، تو رجسٹریشن کے وقت آپ سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا آپ اس پاس کی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اپنی پاس کی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی موجودہ پاس کی کو حذف کر کے ایک نئی پاس کی بنانی ہوگی۔

واٹس ایپ کی جانب سے دیگر اہم سیکیورٹی اپ ڈیٹس
پاس کیز کے تعارف کے علاوہ، واٹس ایپ صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل دیگر فیچرز بھی متعارف کر رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ ان میں سے کچھ اہم فیچرز درج ذیل ہیں:
- نامعلوم نمبرز سے انتباہ: واٹس ایپ نے ایک جدید حفاظتی فیچر متعارف کرایا ہے جو نامعلوم نمبرز سے آنے والے پیغامات کی حقیقت چیٹ کھولنے سے پہلے ہی آشکار کر دیتا ہے۔ یہ فیچر صارف کو بتاتا ہے کہ متعلقہ نمبر کس ملک میں رجسٹرڈ ہے، آیا اسے کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ کرنا مناسب ہے، اور کیا دونوں افراد پہلے سے کسی مشترکہ گروپ میں شامل ہیں۔ یہ صارفین کو ممکنہ فراڈ اور مالیاتی گھپلے کرنے والوں سے ہوشیار رہنے میں مدد کرتا ہے۔
- ایڈوانسڈ چیٹ پرائیویسی: یہ فیچر صارفین کو اپنی چیٹس کو ایکسپورٹ کرنے یا ان کی بھیجی گئی تصاویر اور ویڈیوز کو خودکار طور پر دوسروں کی گیلریوں میں محفوظ ہونے سے روکنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ خاص طور پر گروپ چیٹس میں کارآمد ہے جہاں ممبران ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے۔
- لنک شدہ ڈیوائسز کے لیے الرٹس: واٹس ایپ ایک نیا الرٹ میکانزم متعارف کرا رہا ہے جو اس وقت متحرک ہوتا ہے جب کسی صارف کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ایک ہی وقت میں مرکزی موبائل فون کے ساتھ کسی دوسری منسلک ڈیوائس پر استعمال کیا جا رہا ہو۔ اس سے صارفین کو کسی بھی غیر مجاز رسائی کے امکان سے بروقت آگاہی ملتی ہے۔
- تصویر کی تصدیق کا فیچر: صارفین اب موصول ہونے والی تصاویر کی گوگل پر جانچ کر سکیں گے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ آیا وہ جعلی ہیں یا اصلی۔ یہ فیچر غلط معلومات اور دھوکے بازی سے بچنے میں مدد دے گا۔
- یوزر نیم کا فیچر: واٹس ایپ جلد ہی ایک نیا ‘یوزر نیم’ فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے۔ یہ صارفین کی پرائیویسی کو مزید بہتر بنائے گا۔
- ‘ایک بار دیکھیں’ (View Once) صوتی پیغامات: تصاویر اور ویڈیوز کے لیے پہلے سے موجود ‘View Once’ فیچر کو اب صوتی پیغامات تک بھی وسعت دے دی گئی ہے۔ اس سے صارفین مزید خفیہ معلومات کو صوتی پیغام کے ذریعے بھیج سکیں گے جو صرف ایک بار سنا جا سکے گا۔
- ٹو سٹیپ ویریفیکیشن (Two-Step Verification): یہ ایک موجودہ اور اہم سیکیورٹی فیچر ہے جو آپ کے اکاؤنٹ میں ایک 6 ہندسوں کا پن کوڈ شامل کرتا ہے، جو سم کی چوری کی صورت میں بھی اکاؤنٹ تک رسائی کو روکتا ہے۔
یہ تمام فیچرز واٹس ایپ کے اس عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے صارفین کو ایک محفوظ، نجی اور قابل اعتماد پیغام رسانی کا تجربہ فراہم کرتا رہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔
نتیجہ
ڈیجیٹل دنیا میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اور واٹس ایپ نے اس چیلنج کو سمجھتے ہوئے اپنے صارفین کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ پاس کیز کا تعارف نہ صرف اکاؤنٹ کی سیکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ اسے استعمال میں بھی انتہائی آسان بنا دیتا ہے، جس سے صارفین کو روایتی پاس ورڈز اور SMS کوڈز کی پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ یہ فیچر فشنگ، سم سواپنگ اور غیر مجاز رسائی جیسے بڑے سیکیورٹی خطرات کے خلاف ایک مؤثر ڈھال کا کام کرتا ہے۔
پاس کیز کے علاوہ، نامعلوم نمبرز سے انتباہ، ایڈوانسڈ چیٹ پرائیویسی، ڈیوائس وریفکیشن الرٹس، اور یوزر نیم جیسے نئے فیچرز کا تعارف واٹس ایپ کی اس مسلسل کوشش کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ایک محفوظ ترین اور نجی پلیٹ فارم فراہم کرے۔ ان تمام اپ ڈیٹس کے ساتھ، واٹس ایپ اپنے صارفین کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے کہ ان کی گفتگو اور ذاتی معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ واٹس ایپ مستقبل میں بھی سیکیورٹی اور پرائیویسی کی جدت طرازی میں سب سے آگے رہے گا، تاکہ اربوں صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
