Table of Contents
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خطرناک عالمی وبا کے خاتمے کا اعلان کر دیا، جو کہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 5 مئی 2023 کو، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ کووڈ-19 اب عالمی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال (Public Health Emergency of International Concern – PHEIC) نہیں رہی۔ یہ اعلان دنیا بھر کی عوام کے لیے ایک بڑی راحت کا باعث بنا، جس نے تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی بے یقینی، خوف اور پابندیوں کے دور کا خاتمہ کیا۔ اس فیصلے کو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے عالمی صحت کے ماہرین کی ایک کمیٹی کی سفارش پر کیا، جس نے پایا کہ صورتحال اب PHEIC کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔
یہ فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی سطح پر آبادی میں ویکسینیشن اور انفیکشن کی وجہ سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بیماری کی شدت اور اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، ڈاکٹر ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس ختم ہو گیا ہے یا اب اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممالک کو اپنی چوکسی کم نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی یہ پیغام دینا چاہیے کہ کووڈ-19 کوئی تشویشناک بات نہیں۔ بلکہ، اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک ہنگامی موڈ سے نکل کر کووڈ-19 کو دیگر متعدی بیماریوں کے ساتھ منظم کرنے کی طرف بڑھیں۔ یہ مضمون عالمی ادارہ صحت کے اس اہم اعلان، اس کے مضمرات، اور عالمی صحت پر کووڈ-19 کے دیرپا اثرات کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔
عالمی وبا کا اعلان اور اس کے ابتدائی اثرات
کووڈ-19 کا عالمی وبا قرار دیا جانا 11 مارچ 2020 کو ہوا تھا، جب عالمی ادارہ صحت نے اس نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو، جو چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا تھا، ایک عالمی وبا (پینڈیمک) قرار دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن، سفری پابندیوں اور صحت کے نظام پر بے پناہ دباؤ کا آغاز کیا۔ وائرس کی تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت اور اس کے مہلک اثرات نے صحت کے شعبے کو ہی نہیں بلکہ معاشرتی، اقتصادی اور نفسیاتی سطح پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔
وبا کے ابتدائی مہینوں میں، دنیا بھر میں صحت کے نظام پر غیر معمولی بوجھ پڑا، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے اور طبی عملہ دباؤ کا شکار رہا۔ ماسک پہننا، سماجی دوری اختیار کرنا اور قرنطینہ کے قواعد و ضوابط زندگی کا حصہ بن گئے۔ اس عرصے کے دوران، عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا، کاروبار بند ہوئے، لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے اور تعلیم کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق، اس وبا کے نتیجے میں 7 ملین سے زیادہ افراد کی سرکاری طور پر موت ہوئی ہے، لیکن حقیقی اموات کی تعداد 20 ملین سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یورپ میں تقریباً 2.2 ملین افراد کووڈ-19 سے ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ، لاکھوں لوگ طویل المدتی کووڈ (Long COVID) کے اثرات سے دوچار ہوئے، جس نے ان کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر کی حکومتیں اور سائنس دان اس نامعلوم خطرے سے نمٹنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے تھے۔ ویکسین کی تیاری ایک ریکارڈ وقت میں کی گئی، جو سائنسی ترقی کا ایک عظیم کارنامہ تھا، اور ان ویکسینز نے عالمی آبادی کو وائرس کے بدترین اثرات سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عالمی ادارہ صحت کا کردار اور چیلنجز
عالمی ادارہ صحت (WHO)، اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر عوامی صحت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس کا قیام 7 اپریل 1948 کو عمل میں آیا تھا اور تب سے یہ ادارہ دنیا بھر میں صحت کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران، WHO نے ایک مرکزی کردار ادا کیا، جو معلومات کے تبادلے، رہنمائی فراہم کرنے، ویکسین کی ترقی کو مربوط کرنے اور عالمی ردعمل کو ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہا تھا۔
WHO نے جنوری 2020 میں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ہی ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن (PHEIC) کا اعلان کیا، جو بین الاقوامی صحت کے ضوابط (IHR) کے تحت ایک باضابطہ عہدہ ہے اور رکن ممالک کو مخصوص اقدامات کرنے اور سفارشات پر عمل کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے۔ اس کے بعد، WHO نے رکن ممالک کو تکنیکی مدد فراہم کی، بین الاقوامی صحت کے معیارات مرتب کیے، اور عالمی صحت کے مسائل پر ڈیٹا اکٹھا کیا۔
تاہم، WHO کو وبا کے دوران کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا۔ ان میں دنیا کے مختلف حصوں سے درست اور بروقت معلومات حاصل کرنے میں دشواری، سیاسی مداخلت، اور عالمی ردعمل میں ممالک کے درمیان عدم تعاون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، WHO پر ابتدائی طور پر وائرس کی شدت کو کم سمجھنے اور سفری پابندیوں کے حوالے سے متضاد بیانات دینے پر بھی تنقید کی گئی۔ ان چیلنجز کے باوجود، WHO نے ویکسین کی مساوی تقسیم کے لیے کوویکس (COVAX) جیسی پہل کو فروغ دیا اور دنیا کے کم آمدنی والے ممالک تک رسائی یقینی بنانے کی کوشش کی۔
وبا کے خاتمے کا اعلان: معنی اور مضمرات
5 مئی 2023 کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کووڈ-19 کو عالمی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کے طور پر ختم کرنے کا اعلان ایک اہم موڑ تھا۔ یہ فیصلہ ان عوامل پر مبنی تھا جن میں اموات، ہسپتال میں داخلوں اور آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی، اور آبادی میں ویکسینیشن اور قدرتی انفیکشن سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت میں اضافہ شامل ہیں۔ WHO کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا کہ “بڑے امید کے ساتھ، میں کووڈ-19 کے عالمی صحت ایمرجنسی کے طور پر ختم ہونے کا اعلان کرتا ہوں”۔
اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ کووڈ-19 کا وائرس مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے یا اب یہ عالمی صحت کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ بلکہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی صورتحال اب اتنی سنگین نہیں رہی کہ اسے “ہنگامی” سطح پر رکھا جائے۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے واضح طور پر کہا کہ “یہ اس بات کا اشارہ نہیں کہ ہم اپنی چوکسی کم کر دیں یا اپنے لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ کووڈ-19 کوئی تشویشناک بات نہیں ہے۔” اس کے برعکس، ممالک کو اب ہنگامی موڈ سے نکل کر کووڈ-19 کو دیگر متعدی بیماریوں کے ساتھ ساتھ منظم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
اس فیصلے کے کئی اہم مضمرات ہیں۔ ایک طرف، یہ عالمی سطح پر اعتماد اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی علامت ہے۔ سفری پابندیاں نرم ہوئی ہیں، کاروبار دوبارہ کھل گئے ہیں اور لوگ سماجی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، یہ اعلان بین الاقوامی تعاون اور فنڈنگ کی کوششوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جو ہنگامی حالت میں کیے جا رہے تھے۔
WHO نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ کووڈ-19 کے خلاف اپنی ویکسینیشن مہمات کو بہتر بنائیں، خاص طور پر کمزور آبادیوں کے لیے۔ وائرس ابھی بھی گردش میں ہے اور نئی اقسام ابھر سکتی ہیں۔ مئی 2026 میں، WHO نے خبردار کیا کہ دنیا 2030 تک تمام صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گی، اور کووڈ-19 کی وبا سے متعلق زیادہ اموات کا تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی اعداد و شمار سرکاری رپورٹوں سے کہیں زیادہ تھے۔
| واقعہ | تاریخ | اثرات / تفصیل |
|---|---|---|
| چین میں پہلے کیسز کی رپورٹ | دسمبر 2019 | ووہان، چین سے نئے کورونا وائرس (SARS-CoV-2) کا آغاز۔ |
| عالمی صحت عامہ کی ایمرجنسی کا اعلان (PHEIC) | 30 جنوری 2020 | WHO نے عالمی سطح پر تشویشناک صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا۔ |
| کووڈ-19 کو عالمی وبا قرار دیا گیا | 11 مارچ 2020 | WHO نے دنیا بھر میں وائرس کے پھیلاؤ کی شدت کے پیش نظر عالمی وبا کا اعلان کیا۔ |
| پہلی ویکسین کی منظوری اور تقسیم کا آغاز | دسمبر 2020 | متعدد ویکسینز کی منظوری اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات کا آغاز۔ |
| عالمی صحت عامہ کی ایمرجنسی کا خاتمہ | 5 مئی 2023 | WHO نے کووڈ-19 کو عالمی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کے طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔ |
| جاری تشویش | موجودہ وقت (جولائی 2026) | کووڈ-19 اب بھی عالمی صحت کے لیے خطرہ ہے، نئی اقسام کا ابھرنا اور طویل کووڈ کے اثرات۔ |
پاکستان پر عالمی وبا کے اثرات اور قومی ردعمل
کووڈ-19 کی عالمی وبا نے پاکستان کو بھی شدید متاثر کیا، جہاں پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا۔ پاکستان، دنیا کے پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر، صحت عامہ کے بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، اور یہ وبا ایک اضافی بوجھ بن گئی۔ ملک میں صحت کی دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچہ، جو پہلے ہی تیزی سے شہری کاری، اقتصادی تفاوت اور محدود وسائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا، کووڈ-19 کے دباؤ میں مزید آ گیا۔
پاکستان نے وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی، جس میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC) کا قیام شامل تھا۔ NCOC نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط فیصلہ سازی اور نفاذ کو یقینی بنایا، جس میں سیاسی، عسکری اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل تھے۔ اس ادارے نے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے حکمت عملی سے متعلق فیصلے کیے اور اقدامات کو لاگو کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا۔
وبا کے دوران، پاکستان نے لاک ڈاؤن، سماجی دوری، اور ماسک پہننے جیسے اقدامات نافذ کیے۔ اس کے علاوہ، ویکسینیشن مہمات کا آغاز کیا گیا تاکہ آبادی کو وائرس کے خلاف مدافعت فراہم کی جا سکے۔ پاکستان نے کووڈ-19 کی مختلف لہروں کا سامنا کیا، لیکن محدود وسائل کے باوجود، ملک نے مجموعی طور پر ایک قابل تعریف ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں اموات کی شرح نسبتاً کم رہی۔
تاہم، وبا کے اقتصادی اور سماجی اثرات گہرے تھے۔ کاروبار متاثر ہوئے، تعلیم کا نظام آن لائن منتقل ہوا، اور لاکھوں افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا اور دیگر بیماریوں کے علاج معالجے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ کووڈ-19 کے بعد بھی، پاکستان کو صحت عامہ کے کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں متعدی امراض جیسے تپ دق، ملیریا اور ہیپاٹائٹس، اور غیر متعدی امراض جیسے دل کی بیماریاں اور ذیابیطس شامل ہیں۔ ماں اور بچے کی صحت کے اشارے بھی خطے کے غریب ترین ممالک میں سے ہیں۔
اس ضمن میں پاکستان میں صحت عامہ کے چیلنجز اور انہیں حل کرنے کی کوششوں پر مزید معلومات کے لیے، آپ ڈان نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں، جس میں کووڈ-19 کے دوران پاکستان کی صورتحال پر تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا تھا۔
مستقبل کی وبائی امراض اور عالمی تیاری
کووڈ-19 کی وبا نے دنیا کو یہ سبق سکھایا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی وبائیں آ سکتی ہیں اور ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار رہنا ہو گا۔ عالمی ادارہ صحت نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ممالک کو اپنی چوکسی برقرار رکھنی چاہیے اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی وبائی بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر عالمی صحت کی تنظیمیں مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں:
- نگرانی اور ابتدائی انتباہی نظام (Surveillance and Early Warning Systems): عالمی سطح پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا تاکہ نئے وائرسز اور وبائی امراض کا جلد پتہ لگایا جا سکے اور ان کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
- تحقیق و ترقی (Research and Development): ویکسین، علاج اور تشخیصی ٹیسٹوں کی فوری ترقی کے لیے تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری جاری رکھنا۔ کووڈ-19 کی ویکسین کی ریکارڈ وقت میں تیاری ایک مثال ہے کہ جب وسائل اور ارادہ ہو تو کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
- مضبوط صحت کے نظام (Resilient Health Systems): ممالک کو اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں بھی صحت کی ضروری خدمات فراہم کر سکیں۔ اس میں طبی عملے کی تربیت، ہسپتالوں کی صلاحیت میں اضافہ، اور ضروری طبی سازوسامان کی دستیابی شامل ہے۔
- عالمی تعاون اور مساوات (Global Collaboration and Equity): وبائی امراض سرحدوں کو نہیں پہچانتیں، لہٰذا عالمی تعاون انتہائی اہم ہے۔ WHO ایک پینڈیمک ایکارڈ (Pandemic Accord) پر مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے جس کا مقصد عالمی صحت کے بحرانوں کے دوران بین الاقوامی رابطہ کاری اور مساوی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
- مالی معاونت (Financial Investment): عالمی ادارہ صحت نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ WHO کی مالی معاونت میں مسلسل اضافہ کریں تاکہ ادارہ مضبوط و خودمختار ہو اور مستقبل کے ہنگامی طبی حالات سے نمٹنے کے قابل ہو سکے۔
جیسا کہ 2026 کے ورلڈ ہیلتھ سٹیٹسٹکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے، دنیا 2030 تک صحت سے متعلق کسی بھی پائیدار ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ-19 کے خاتمے کے بعد بھی، عالمی صحت کے محاذ پر بہت سے چیلنجز باقی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔
نتیجہ
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کووڈ-19 کی عالمی صحت عامہ کی ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان بلاشبہ ایک تاریخی لمحہ تھا، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انسانیت نے ایک مہلک بحران پر قابو پانے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ یہ اعلان لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن لے کر آیا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ وائرس ابھی بھی موجود ہے اور عالمی صحت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
ماضی کی وباؤں سے سبق سیکھتے ہوئے، دنیا کو اب ایک زیادہ مضبوط، مربوط، اور منصفانہ عالمی صحت کے نظام کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے، یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں، بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنائیں، اور ویکسینیشن اور صحت کی تعلیم کو فروغ دیں۔ عالمی ادارہ صحت نے مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے جو لائحہ عمل پیش کیا ہے، اس پر عملدرآمد تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کووڈ-19 نے ہمیں سکھایا ہے کہ صحت کی ہنگامی صورتحال کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ ابھر سکتی ہے۔ اس لیے، مستقل چوکسی، سائنسی تحقیق، اور عالمی تعاون ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ “عالمی صحت ایمرجنسی ختم ہو گئی ہے، لیکن عالمی صحت کا خطرہ نہیں”۔ اس لیے، اجتماعی کوششوں اور پختہ عزم کے ساتھ ہی ہم آئندہ صحت کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہ سکتے ہیں۔
