ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد کا 169 تک پہنچ جانا ایک افسوسناک اور گہری تشویش کا باعث ہے۔ یہ صورتحال ملک میں صحت کے نظام اور طبی حفاظتی اقدامات کی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے، جس کا براہ راست اثر معصوم جانوں پر پڑ رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بحران نے والدین، حکومتی اداروں اور صحت کے ماہرین کو ایک بڑے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ مسئلہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کی گہرائی میں جاکر اس کی وجوہات اور حل تلاش کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
ولیکا اسپتال میں بڑھتے کیسز کی سنگین صورتحال
کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق، متاثرہ بچوں کی تعداد اب 169 ہو چکی ہے، جبکہ نو اموات کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اسپتال کے ریکارڈ میں درج صرف دو اموات سے نمایاں طور پر مختلف ہیں، جس سے اموات کی صحیح تعداد کے بارے میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔
ابتدائی طور پر حکومت نے 78 متاثرہ بچوں کی اطلاع دی تھی، لیکن اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 169 تک پہنچ گئی۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے بلکہ پورے صحت کے نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں سے 142 کو پانچ میڈیکل بورڈز کے ساتھ رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ ان کے کیسز، مالی امداد اور دیگر متعلقہ معاملات کی نگرانی کی جا سکے۔ تاہم، مالی امداد کی فراہمی میں تاخیر اور بے نظیر کارڈز سے متعلق مسائل متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
- ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے 169 تصدیق شدہ کیسز۔
- 9 اموات کی تصدیق، جبکہ ریکارڈ میں صرف 2 درج۔
- 142 بچوں کی میڈیکل بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن۔
- مالی امداد کی فراہمی میں تاخیر ایک اہم مسئلہ۔
ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات
پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقے ہیں۔ جن میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، آلودہ IV آلات اور غیر معیاری خون کی منتقلی شامل ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں انجیکشن کے استعمال کے اشاریوں میں حالیہ برسوں میں بہتری نہیں آئی ہے۔ یہ صورتحال طبی سہولیات میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتی ہے۔
رتوڈیرو (سندھ) میں 2019 میں ایچ آئی وی کے ایک بڑے پھیلاؤ میں 82 فیصد بچے متاثر ہوئے تھے، جس کی بنیادی وجہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح کے واقعات دیگر شہروں جیسے جیکب آباد، شکارپور، میرپورخاص اور ٹاؤنسا میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ والدین کی جانب سے بھی طبی مراکز میں ناقص انفیکشن کنٹرول طریقوں پر انگلی اٹھائی گئی ہے۔
غیر رجسٹرڈ کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کا بغیر کسی نگرانی کے کام کرنا بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ یہ عطائی ڈاکٹر اکثر اخراجات کم کرنے کے لیے آلات کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں، جس سے ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی منتقلی سے قبل مناسب اسکریننگ نہ ہونے کی وجہ سے بھی آلودہ خون مریضوں کو منتقل ہو رہا ہے۔
بچوں اور خاندانوں پر ایچ آئی وی کے اثرات
ایچ آئی وی کی تشخیص بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے تباہ کن نتائج لاتی ہے۔ یہ بیماری بچوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے اور علاج کے بغیر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو علاج، ادویات اور بار بار اسپتال کے دوروں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک بھی ایک بڑا چیلنج ہے جو متاثرہ خاندانوں کو درپیش ہوتا ہے۔ یہ بدنامی اکثر والدین کو ایچ آئی وی کے کیسز کو چھپانے پر مجبور کرتی ہے، جس سے بیماری کی تشخیص اور علاج میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو زندگی بھر علاج اور طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
| سال | پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد (اندازاً) | اہم واقعات |
|---|---|---|
| 2019 | 876 سے زائد (رتوڈیرو اؤٹ بریک) | رتوڈیرو میں غیر محفوظ طبی طریقوں سے ایچ آئی وی کا بڑا پھیلاؤ۔ |
| 2024-2025 | 330 سے زائد (ٹاؤنسا اؤٹ بریک) | ٹاؤنسا اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں غیر محفوظ انجیکشن کے طریقوں سے پھیلاؤ۔ |
| 2026 (ابتدائی 3 ماہ) | 329 (صرف سندھ میں) | سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں تیزی، ولیکا اسپتال بھی شامل۔ |
| 2026 (موجودہ) | 7,500 سے زائد (ملک گیر) | سندھ میں 4,200 سے زائد بچے رجسٹرڈ، ولیکا اسپتال میں 169 کیسز۔ |
حکومتی اقدامات اور چیلنجز
پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (NACP) 1986 میں قائم کیا گیا اور اس نے ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر توجہ دی ہے۔ ملک بھر میں 98 علاج مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) فراہم کی جا رہی ہے۔
تاہم، ان کوششوں کے باوجود چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ انفیکشن کنٹرول کے طریقوں میں کمزوریاں، خاص طور پر غیر معیاری سرنجوں کے استعمال پر پابندی کے باوجود عمل درآمد کا فقدان، مسئلے کی جڑ ہے۔ ایچ آئی وی کے علاج کے مراکز میں انفیکشن ڈیزیز کے ماہرین کی کمی اور پرائمری کیئر فراہم کرنے والوں کی تربیت کا فقدان بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔
2010 میں وزارت صحت کے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد سے ایچ آئی وی کے ردعمل میں کوآرڈینیشن کی کمی اور غلط رپورٹنگ جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔ فنڈز کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں حکومت کو اپنی 5 سالہ حکمت عملی کے لیے 201 ملین ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔
علاج اور بچاؤ میں رکاوٹیں
ایچ آئی وی کے علاج تک رسائی پاکستان میں اب بھی ایک چیلنج ہے۔ یونیسیف (UNICEF) کے مطابق، ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والے صرف 55 فیصد بچوں کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) ملتی ہے، جبکہ 620,000 بچے علاج سے محروم ہیں۔ یہ فرق بچوں میں ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
علاج کے علاوہ، ایچ آئی وی کی روک تھام کے طریقوں تک رسائی بھی محدود ہے۔ Pre-exposure Prophylaxis (PrEP) جیسی جدید روک تھام کی سہولیات صرف محدود پائلٹ منصوبوں کے ذریعے دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ، سماجی بدنامی اور ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کے بارے میں آگاہی کی کمی بھی بروقت تشخیص میں رکاوٹ بنتی ہے۔
آگاہی اور مستقبل کی حکمت عملی
ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آگاہی مہمات اور تعلیمی پروگرام بہت ضروری ہیں۔ حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں ایچ آئی وی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور بدنامی کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ کوششیں عام لوگوں کو ایچ آئی وی کی حقیقتوں، بچاؤ کے طریقوں اور علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
مستقبل میں، پاکستان کو انفیکشن کنٹرول کے طریقوں کو مزید مضبوط بنانے، طبی اہلکاروں کی تربیت کو بہتر بنانے اور غیر معیاری طبی آلات کے استعمال پر سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور علاج تک رسائی کو وسیع کرنا بھی اہم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طبی مراکز میں اسٹرلائزیشن کے اصولوں پر سختی سے عمل نہیں ہوتا، اس وائرس پر قابو پانا مشکل ہو گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی احتیاطی صحت اور مؤثر عوامی آگاہی مہمات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ انفیکشن کی روک تھام اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف اقدامات کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ یہ جامع نقطہ نظر ہی ایچ آئی وی کے خلاف کامیاب جنگ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایکسپریس نیوز رپورٹ
نتیجہ
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد کا 169 تک پہنچ جانا پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ غیر محفوظ طبی طریقوں کا خاتمہ، علاج تک مساوی رسائی، اور وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہمات اس بحران پر قابو پانے کی کلید ہیں۔ تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ معصوم جانوں کو اس مہلک وائرس سے بچایا جا سکے اور انہیں ایک صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
