پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ (بیک چینل) مذاکرات کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے، جس کا مقصد ایران کے جوہری عزائم اور علاقائی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے ان دعووں کو بے بنیاد اور جنگ میں شکست سے پیدا ہونے والے وہم کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان موجود گہری بداعتمادی اور پیچیدہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ اور اس کی تفصیلات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک امریکی خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے طاقتور فوجی ادارے، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ براہِ راست پسِ پردہ مذاکرات کر رہی ہے۔ ان کے بقول، امریکی حکام ایرانی سیاسی قیادت اور روایتی ثالثوں کو نظرانداز کرتے ہوئے IRGC کے عہدیداروں سے رابطے میں تھے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو “سفید جھنڈا لہرانا چاہیے” مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ امن کے لیے کسی جلدی میں نہیں ہیں اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
ان دعووں کی حمایت میں، امریکی نیوز ویب سائٹ “ایگزیوس” نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سے خفیہ رابطے قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس خفیہ بیک چینل رابطے کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کو رابطہ کار بنایا گیا تھا، کیونکہ ان کے واشنگٹن اور تہران دونوں میں اعلیٰ سطح کے روابط موجود ہیں۔ یہ کوشش مئی کے وسط میں اس وقت کی گئی جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششوں کا آغاز ہوا تھا۔ امریکی حکام کا خیال تھا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے پاس پاسدارانِ انقلاب کی مکمل حمایت نہیں ہے، اس لیے براہ راست IRGC کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی تک رسائی کی کوشش کی گئی۔ تاہم، عراق کے اربیل ایئربیس میں مجوزہ خفیہ ملاقات عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
پاسدارانِ انقلاب کا دو ٹوک مؤقف: تردید اور وضاحتیں
ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کے فوراً بعد، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک پختہ اور دو ٹوک بیان جاری کرتے ہوئے ان تمام دعووں کو مسترد کر دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے واضح کیا کہ امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو “جنگ میں ناکامی کے باعث پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ” قرار دیا۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے مزید کہا کہ سفارتی معاملات ایران کی سیاسی قیادت کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور ٹرمپ کا بیانیہ میدان میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، امریکی صدر اپنے بیانات کے ذریعے تیل اور توانائی کی قیمتوں کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان رابطوں کا تاثر پیدا کرنا موجودہ جنگی اور اقتصادی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اب ان کے پاس ایک ہی راستہ باقی ہے، وہ اپنی شکست اور ایران کی مقررہ شرائط کو تسلیم کریں۔
ایران اور امریکا کے تعلقات کا پیچیدہ پس منظر
امریکا اور ایران کے تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں۔ 2018 میں، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے کثیرالملکی جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کیا تھا اور بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔ معاہدے سے نکلنے کے بعد، امریکا نے ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، بالخصوص اس کی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا۔ ایران نے ان پابندیوں کو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس اقدام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ امریکا نے 28 فروری کو ایران کے خلاف “آپریشن ایپک فیوری” کا آغاز کیا تھا جس میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایران نے بھی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ واقعات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
مذاکراتی راستوں کی تلاش اور ایرانی شرائط
ایرانی حکام نے، بشمول وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی، بارہا اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ البتہ، ثالثوں، جیسے عمان اور پاکستان، کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ضرور جاری ہے، جس کا مقصد مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔
تاہم، ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی کڑی شرائط رکھی ہیں۔ ان مطالبات میں 300 ارب ڈالر کا معاوضہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو بھی انھی مطالبات کی منظوری سے مشروط کر رکھا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا مفاہمت کی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتا، تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی طرف نہیں لوٹے گا۔ اس کے علاوہ، ایران نے یورینیم کی افزودگی کی عارضی معطلی کو بھی کسی جوہری معاہدے کی شرط کے طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ دور میں امریکا-ایران تعلقات: اہم دعوے اور حقیقت
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران، امریکا اور ایران کے تعلقات کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، جہاں دعوے اور حقیقت میں اکثر فرق دیکھا گیا۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست کا مظہر ہے۔
| دعوے کا پہلو | امریکی صدر ٹرمپ کا مؤقف | ایرانی ردِعمل اور حقیقت |
|---|---|---|
| بیک چینل مذاکرات | پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست خفیہ رابطے جاری ہیں۔ | پاسدارانِ انقلاب نے دو ٹوک تردید کی، اسے بے بنیاد قرار دیا۔ |
| جنگ بندی/معاہدہ | ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ قریب ہے، فوجی حملے منسوخ کر دیے گئے۔ | ایران نے کسی بھی براہ راست معاہدے کی تردید کی۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کا اعلان کیا۔ |
| جوہری پروگرام | ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا۔ ایران پر سخت دباؤ برقرار۔ | جوہری پروگرام پر عارضی پابندی مسترد کی۔ پروگرام کو پرامن قرار دیا۔ |
| اقتصادی دباؤ | پابندیاں ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ | پابندیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، معاوضے اور اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ۔ |
| مذاکرات کی نوعیت | براہ راست مذاکرات بہتر ہوں گے، ثالثوں کی ضرورت نہیں۔ | ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، براہ راست مذاکرات کی تردید۔ ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے تک مذاکرات کا بائیکاٹ۔ |
خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کا تنازعہ
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے براہ راست اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے، مسلسل تنازع کا مرکز بنی رہی۔ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اقدامات کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان محدود نوعیت کے فوجی حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں۔ ایک موقع پر ٹرمپ نے عمان پر حملے کی دھمکی بھی دی تھی، اگر وہ آبنائے ہرمز میں امریکی کوششوں میں مداخلت کرتا۔ ان کشیدگیوں کے باوجود، ٹرمپ نے کئی بار یہ کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جب تک تہران براہِ راست امریکی فوجیوں کو ہلاک نہ کرے۔
اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پالیسی امریکا اور ایران کے درمیان اصل مسئلہ ہے، اور مستقبل قریب میں تہران کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔ یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ اس تناظر میں، بین الاقوامی برادری کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ کسی بڑے تصادم سے بچا جائے اور سفارتی حل تلاش کیے جائیں۔ مزید تفصیلات اور تجزیے کے لیے، قارئین ڈان نیوز کی متعلقہ رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
سفارتی کوششیں اور تعطل کی وجوہات
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے متعدد دعووں کے باوجود، براہ راست بات چیت میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایرانی حکام نے واضح طور پر کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت ختم ہونے تک واشنگٹن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کے مشیر ماجد شاکری نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ “ٹرمپ ہمارے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکتے، ہم ان کی صدارتی مدت ختم ہونے تک اسی روش کے ساتھ چلیں گے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کا راستہ نہ تو جنگ ہے اور نہ ہی کوئی ڈیل، بلکہ “انکار، ابہام اور اسٹریٹجک صبر” ایران کی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔
ایران کے مسلسل انکار اور امریکا کے دباؤ کی پالیسی نے مذاکراتی عمل کو ایک تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ امریکا نے ایران سے جوہری معاہدے کی امیدیں ظاہر کیں اور مذاکرات کو “مثبت سمت میں آگے بڑھتا ہوا” قرار دیا، لیکن پیش رفت کو ایران کے اقدامات پر منحصر قرار دیا۔ اس کے باوجود، ایران نے واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں اور دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات کو بے معنی قرار دیا، جب تک کہ امریکا اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائے۔
نتیجہ
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیک چینل مذاکرات کے دعوے کی تردید امریکا اور ایران کے درمیان گہرے اعتماد کے فقدان اور کشیدہ تعلقات کی واضح مثال ہے۔ ایک جانب امریکی صدر نے خفیہ رابطوں اور معاہدوں کی قیاس آرائیاں کیں، تو دوسری جانب ایرانی حکام نے ایسے تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سخت گیر پالیسی پر کاربند رہنے کا اعلان کیا۔ یہ صورتحال خطے میں غیر یقینی کو بڑھاتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب تک بنیادی مسائل جیسے کہ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، اور علاقائی سکیورٹی کے خدشات پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اور نتیجہ خیز مذاکرات کا امکان بہت کم ہے۔ مستقبل میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے اور ایک دوسرے کے مطالبات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہوگی، ورنہ کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔
