پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ، پاکستان میں عوام کے لیے ایک اور پریشان کن خبر بن کر سامنے آیا ہے۔ 11 جولائی 2026 کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے نوٹیفکیشن کے بعد مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 11 روپے 19 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 242 روپے 33 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس اضافے نے پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے مشکلات کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے کا اضافہ کر کے اسے 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے کا اضافہ کر کے 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب ملک پہلے ہی بلند افراط زر اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے۔ بالخصوص مٹی کا تیل، جو کہ دور دراز اور دیہی علاقوں میں توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس کی قیمت میں اضافہ غریب طبقے کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دے گا۔ اس مضمون میں ہم پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے اسباب، اس کے عوامی زندگی پر اثرات اور ممکنہ حل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور پاکستان پر اثرات
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا چیلنج پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست ملک کی اندرونی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرول کی 70 فیصد اور ڈیزل کی تقریباً 33 فیصد ضروریات درآمد سے پوری کرتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو پاکستان کو زیادہ زرمبادلہ ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف درآمدی بل بڑھتا ہے بلکہ روپے کی قدر پر بھی دباؤ آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے شپنگ کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر پاکستان پہنچنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وزارت خزانہ نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ عالمی قیمتوں میں 27-71 فیصد اضافے کے باوجود پاکستان میں صرف 22-24 فیصد اضافہ کیا گیا، تاکہ عوام پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں قیمتوں میں بڑا اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی عوامل کا دباؤ اب مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ ملک کی معاشی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتا ہے اور حکومت کو اکثر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد صارفین توقع رکھتے ہیں کہ اس کا بھرپور فائدہ انہیں منتقل کیا جائے گا، لیکن کئی بار ایسا نہیں ہو پاتا۔
حکومتی پالیسیاں، ٹیکس اور لیویز کا بڑھتا بوجھ
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم جزو حکومتی پالیسیاں اور ٹیکسیشن کا نظام ہے۔ پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، اور دیگر مقامی ٹیکسوں کی شکل میں حکومت ایندھن پر بھاری محصولات عائد کرتی ہے، جو صارفین کو ادا کرنا پڑتے ہیں۔ حالیہ اضافے میں پیٹرول پر عائد لیوی میں 9 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر کے اسے 80 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ پیٹرولیم لیوی براہ راست وفاقی خزانے میں جاتی ہے اور حکومت کے ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ یہ لیویز مالی استحکام برقرار رکھنے اور سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں بھاری ٹیکس وصولی عوام پر “جگا ٹیکس” کے مترادف ہے۔ مالی سال 2025 میں وفاقی حکومت نے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 130 کھرب روپے سے زائد رقم جمع کی، جو جی ڈی پی کا تقریباً 11.3 فیصد ہے۔
حکومت ایندھن کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور انہیں مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق لانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے تاکہ ملک میں یورو فائیو معیار کے ایندھن کی پیداوار ممکن ہو سکے اور صارفین پر غیر مؤثر کارکردگی کا بوجھ نہ پڑے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ماضی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان بھی کیا ہے، لیکن لیوی میں اضافے کے ذریعے صارفین کو ملنے والے ریلیف کو جزوی طور پر واپس لے لیا جاتا ہے۔ نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں۔
مٹی کے تیل کی اہمیت اور غریب طبقے پر براہ راست اثرات
مٹی کا تیل، جسے عام طور پر کیروسین کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان کے غریب اور پسماندہ طبقے کے لیے توانائی کا ایک انتہائی اہم اور سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تیل دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں گیس یا بجلی کی سہولت میسر نہیں، کھانا پکانے، روشنی کے حصول اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ ان گھرانوں کے ماہانہ بجٹ پر براہ راست اور شدید منفی اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ ان کے پاس متبادل ذرائع توانائی تک رسائی نہیں ہوتی۔
جب مٹی کے تیل کی قیمت بڑھتی ہے، تو سب سے پہلے غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے جو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ضروریات زندگی پر خرچ کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لیے کھانا پکانا، بچوں کو پڑھانے کے لیے رات کو روشنی کا انتظام کرنا اور سردیوں میں خود کو گرم رکھنا بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس سے ان کی زندگی کا معیار مزید گر جاتا ہے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، چھوٹے دکاندار اور ٹرانسپورٹرز بھی مٹی کے تیل کے مہنگا ہونے سے متاثر ہوتے ہیں، جس کا بالواسطہ بوجھ بھی عام صارفین پر ہی پڑتا ہے۔
ماضی میں بھی مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بارہا اضافہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، 4 جولائی 2026 کو مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 9 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد نئی قیمت 231 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔ 6 جون 2026 کو بھی اس کی قیمت میں 8 روپے 70 پیسے کا اضافہ ہوا تھا۔ یہ بار بار کے اضافے ظاہر کرتے ہیں کہ غریب طبقہ مسلسل اس مالی دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مٹی کے تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے یا ایسے متبادل ذرائع فراہم کرے جو غریب عوام کی دسترس میں ہوں۔
| پیٹرولیم مصنوعات | پچھلی قیمت (فی لیٹر) | اضافہ/کمی (فی لیٹر) | نئی قیمت (فی لیٹر) | تاریخِ اطلاق |
|---|---|---|---|---|
| پیٹرول | 297.53 روپے | +13.18 روپے | 310.71 روپے | 11 جولائی 2026 |
| ہائی اسپیڈ ڈیزل | 309.50 روپے (اندازاً) | +13.80 روپے | 323.30 روپے | 11 جولائی 2026 |
| مٹی کا تیل | 231.14 روپے | +11.19 روپے | 242.33 روپے | 11 جولائی 2026 |
مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ اور عوامی ردعمل
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے، جس سے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق، مئی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 11 سے 11.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان تھا، جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد کی شرح سے بڑھی تھی، جو 20 ماہ کی بلند ترین سطح تھی۔
حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت میں سالانہ 44.73 فیصد، ڈیزل میں 44.39 فیصد، اور بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ کتنا شدید ہو چکا ہے۔ عوام کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور پیٹرولیم لیوی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول پر لیوی کو “جگا ٹیکس” قرار دیا ہے اور عوامی حقوق کے لیے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
عوام کو اس بات پر تشویش ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود انہیں مکمل ریلیف نہیں دیا جاتا اور لیویز کے ذریعے اس کمی کا فائدہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ مہنگائی صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جہاں زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جو بالآخر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ حکومت کو اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو کچھ مالی ریلیف مل سکے۔
توانائی کے متبادل ذرائع اور پاکستان کے لیے چیلنجز
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کو کم کرنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش اور ان کے فروغ پر کام جاری ہے، تاہم اس میدان میں ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ شمسی توانائی، ہائیڈرو پاور، مقامی کوئلہ اور جوہری توانائی جیسے ذرائع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شمسی توانائی کا استعمال ملک میں نمایاں طور پر بڑھا ہے اور اب یہ مجموعی بجلی کی پیداوار کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔ اس سے تیل اور گیس کی درآمدات میں کمی لانے اور اربوں ڈالر کی بچت میں مدد ملی ہے۔ اسی طرح، تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بجلی کی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے۔
اس کے باوجود، پاکستان کا ٹرانسپورٹ کا شعبہ اب بھی بڑی حد تک درآمدی تیل پر منحصر ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ کے لیے پالیسیاں متعارف کروائی گئی ہیں، لیکن ان کا نفاذ اور عام آدمی تک رسائی ابھی ایک طویل سفر ہے۔ ایتھنول آمیزش شدہ پیٹرول جیسے پروگرام بھی زیر غور ہیں، جس کا مقصد خام تیل کی درآمد میں کمی لانا ہے۔ تاہم، ایتھنول کی قیمت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے یہ ہمیشہ سستا متبادل نہیں بنتا۔
مٹی کے تیل کے متبادل کے طور پر دیہی علاقوں میں ایل پی جی یا بائیو گیس جیسے سستے ایندھن کی فراہمی ایک حل ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے وسیع بنیادی ڈھانچے اور سبسڈی کی ضرورت ہے جو حکومتی وسائل پر مزید دباؤ ڈالے گی۔ توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں اور مؤثر توانائی کے استعمال کی کمی بھی موجودہ چیلنجز میں شامل ہیں۔
مستقبل کے خدشات اور پائیدار حل کی تلاش
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے شدید خدشات پیدا کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی استحکام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی عوامی بے چینی اور غربت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ مستقبل کے لیے پاکستان کو ایک جامع اور پائیدار توانائی پالیسی کی ضرورت ہے جو درآمدی انحصار کو کم کرے اور مقامی ذرائع پر زیادہ توجہ دے۔
- ری فائنریوں کی اپ گریڈیشن: ملک میں موجود ریفائنریوں کو جدید بنانا ضروری ہے تاکہ خام تیل سے زیادہ مؤثر طریقے سے پیٹرولیم مصنوعات تیار کی جا سکیں اور درآمدی ریفائنڈ مصنوعات پر انحصار کم ہو۔
- متبادل توانائی کا فروغ: شمسی، ہوا، ہائیڈرو اور جوہری توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا اور ان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا۔
- توانائی کی بچت: توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور توانائی بچت کے آلات اور ٹیکنالوجیز کو عام کرنا۔
- ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اصلاحات: الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا تاکہ انفرادی گاڑیوں میں ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
- ٹارگٹڈ سبسڈی: غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو مٹی کے تیل یا دیگر ضروری ایندھن پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنا تاکہ انہیں براہ راست ریلیف مل سکے اور ان کے گھرانوں پر مالی بوجھ کم ہو۔
حکومت کو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے ایک موثر حکمت عملی درکار ہے جو نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے بلکہ عوام کو بھی مہنگائی کے شدید اثرات سے بچا سکے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلی معلومات کے لیے ڈان نیوز کی معاشی رپورٹس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو ملک کی توانائی اور معاشی صورتحال پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہیں۔
نتیجہ
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ پاکستان کے عام آدمی کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، حکومتی ٹیکس اور لیویز، اور توانائی کے متبادل ذرائع کی محدود دستیابی جیسے عوامل مل کر اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مٹی کا تیل، جو کہ غریب طبقے کے لیے زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اس کی قیمت میں اضافہ لاکھوں گھرانوں کو براہ راست متاثر کر رہا ہے اور مہنگائی کی چکی میں انہیں مزید پیس رہا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں نوعیت کی حکمت عملی اپنائے۔ فوری طور پر غریب طبقے کو ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کیا جائے اور پیٹرولیم لیوی کے بوجھ کو کم کیا جائے۔ طویل مدت میں، ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا، ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنا ہوگا، اور توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔ ایک مستحکم اور پائیدار توانائی پالیسی ہی پاکستان کو اس بحران سے نکال سکتی ہے اور عوام کو مہنگائی کے مستقل دباؤ سے نجات دلا سکتی ہے۔


