پاکستان اور چین کا لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف پاکستان کی زرعی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ چین کی بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات اور اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت زرعی شعبے میں گہرے ہوتے تعاون کا عکاس ہے۔ حالیہ دنوں میں، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت چینی وفد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوشت کی برآمدات میں اضافے اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اہم فیصلوں پر اتفاق کیا گیا۔ اس تعاون کا مقصد پاکستان میں جدید سلاٹر ہاؤسز، میٹ پروسیسنگ سہولیات اور برآمدی انفراسٹرکچر کے قیام کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے وسیع لائیو اسٹاک اثاثوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اعلیٰ معیار کے حلال گوشت کی پیداوار اور اسے چین کی بڑی منڈی تک پہنچانے کی راہ ہموار کرے گا۔
پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کی وسیع صلاحیت
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت میں لائیو اسٹاک کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ زرعی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 60 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار میں 14 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ ملک میں مویشیوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے، جس میں تقریباً 24 ملین بھینسیں، 49 ملین گائیں، 92 ملین بکریاں، 42 ملین بھیڑیں اور 1.2 ملین اونٹ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس گوشت اور دودھ کی پیداوار کے لیے بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں۔ دیہی آبادی کا ایک بڑا حصہ براہ راست لائیو اسٹاک سے وابستہ ہے، اور یہ شعبہ لاکھوں خاندانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم، اس وسیع صلاحیت کے باوجود، پاکستان عالمی گوشت اور ڈیری مصنوعات کی تجارت میں اب تک ایک معمولی کردار ادا کر رہا ہے۔
لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لیے جدید اصلاحات، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری انتہائی ضروری ہے۔ حکومت پاکستان اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار کاروباری ماحول اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی زراعت اور لائیو اسٹاک میں جدت لانے کے لیے چین سے تعاون حاصل کرنے اور ایک ہزار طلبہ کو تربیت کے لیے چین بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس سے اس شعبے میں انسانی وسائل کی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
چین کی بڑھتی ہوئی گوشت کی طلب اور پاکستان کے لیے سنہری مواقع
چین دنیا میں گوشت استعمال کرنے اور درآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کی آبادی اور بڑھتے ہوئے معیار زندگی کے باعث گوشت کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ چین کی وسیع منڈی میں پاکستانی حلال گوشت کی مصنوعات کی کھپت کے بڑے امکانات موجود ہیں۔
چین نہ صرف بڑے گوشت بلکہ بعض غیر روایتی گوشت کی بھی درآمد میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، چین پاکستان سے گدھے کا گوشت درآمد کرنے کا خواہاں ہے، جو پاکستان کے لیے ایک نیا اور منافع بخش تجارتی راستہ کھول سکتا ہے۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں حلال گوشت کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔ چینی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت پاکستان کو اس ہدف کے حصول میں مدد دے سکتی ہے۔
تعاون کے اہم شعبے اور مشترکہ حکمت عملی
پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں تعاون کئی اہم شعبوں پر محیط ہو گا۔ اس میں شامل ہیں:
- جدید سلاٹر ہاؤسز کا قیام: پاکستان میں عالمی معیار کے جدید ترین سلاٹر ہاؤسز قائم کیے جائیں گے جو بین الاقوامی حفظانِ صحت کے معیارات اور حلال سرٹیفیکیشن کے تقاضوں کو پورا کریں۔
- گوشت پروسیسنگ کی سہولیات: میٹ پروسیسنگ کی جدید سہولیات کے فروغ سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کی جائیں گی جو چین کی منڈی میں بہتر قیمت حاصل کر سکیں۔
- کولڈ چین انفراسٹرکچر: گوشت کی نقل و حمل کے دوران اس کے معیار اور تازگی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط کولڈ چین انفراسٹرکچر کی تعمیر پر زور دیا جائے گا۔
- ٹیکنالوجی ٹرانسفر: چینی ماہرین اور کمپنیوں کے ذریعے پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں جدید بریڈنگ ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری اور میٹ پروسیسنگ کی تکنیکی معلومات منتقل کی جائے گی۔
- معیار کی یقین دہانی اور ٹریس ایبلٹی نظام: برآمدی گوشت کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر ٹریس ایبلٹی نظام قائم کیا جائے گا تاکہ مصنوعات کی ابتداء سے لے کر صارف تک مکمل نگرانی کی جا سکے۔
- تربیتی پروگرام: پاکستانی کسانوں، ویٹرنری ڈاکٹرز اور لائیو اسٹاک کے ماہرین کے لیے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ مشترکہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کو مضبوط کریں گے بلکہ اس کی برآمدی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کریں گے۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور عالمی معیارات کی پاسداری
پاکستان کو عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا اور عالمی معیارات پر پورا اترنا ناگزیر ہے۔ لائیو اسٹاک کے شعبے میں سائنسی طریقوں کو فروغ دینے سے جانوروں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں نئی نسلوں کی نشوونما، خوراک کی بہترین حکمت عملیاں، اور موثر انتظامی طریق کار شامل ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون سے پاکستان کو ان تمام شعبوں میں جدید مہارت اور وسائل تک رسائی حاصل ہو گی۔
حلال گوشت کی برآمدات کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حلال سرٹیفیکیشن کا حصول انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کا حلال گوشت تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور چینی منڈی میں اس کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے، معیاری پیداوار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، جانوروں کی صحت اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے جدید تشخیصی سہولیات اور حفاظتی ویکسینیشن پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی اس تعاون کا حصہ ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ایسی بیماری کی ویکسین کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو پاکستان میں دستیاب نہیں، یہ بھی لائیو اسٹاک کی صحت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
| تعاون کا شعبہ | پاکستان کے لیے فائدہ | چین کے لیے فائدہ |
|---|---|---|
| جدید سلاٹر ہاؤسز اور میٹ پروسیسنگ | گوشت کی پیداوار اور معیار میں بہتری، برآمدی صلاحیت میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن | اعلیٰ معیار اور حفظانِ صحت کے مطابق حلال گوشت کی فراہمی |
| ٹیکنالوجی ٹرانسفر | لائیو اسٹاک مینجمنٹ، بریڈنگ اور خوراک کی ٹیکنالوجیز میں ترقی | پائیدار اور محفوظ سپلائی چین کا قیام |
| کولڈ چین انفراسٹرکچر | برآمدی گوشت کی تازگی اور شیلف لائف میں اضافہ | گوشت کی درآمد کے دوران معیار کی برقراری |
| ٹریس ایبلٹی اور کوالٹی اشورنس | عالمی معیارات کی پاسداری، صارفین کا اعتماد | مصنوعات کی مکمل نگرانی اور حفاظت کا اطمینان |
| انسانی وسائل کی تربیت | لائیو اسٹاک سیکٹر میں ماہرین کی دستیابی، جدید طریقوں کا فروغ | معیاری پیداوار کو یقینی بنانے میں معاونت |
گدھے کے گوشت کی برآمدات: ایک غیر روایتی تجارتی موقع

پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون کا ایک غیر روایتی لیکن اہم پہلو گدھے کے گوشت کی برآمد ہے۔ چین میں گدھے کے گوشت اور اس کی کھال کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں گدھے کی کھال کو روایتی دوا “ای جیاؤ” کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کا گوشت بھی مختلف روایتی پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان کے لیے اس شعبے میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات پیدا کیے ہیں۔
رواں سال اپریل میں وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سے چین کو گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی باقاعدہ قانونی منظوری دی تھی، جس کی بعد میں وفاقی کابینہ نے بھی توثیق کی۔ اس پالیسی کے تحت چینی کمپنی ہان گینگ کو برآمدات کا لائسنس ملا ہے، جس نے گوادر کے مخصوص اقتصادی زون میں پانچ کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک جدید پروسیسنگ پلانٹ اور ذبح خانہ قائم کیا ہے۔ اس پلانٹ سے منجمد گوشت کی پہلی تجارتی کھیپ کامیابی سے چین روانہ ہو چکی ہے، جس میں 27 ٹن سے زائد گوشت شامل تھا۔ ہان گینگ ٹریڈ کے ڈپٹی جنرل منیجر عبدالرزاق بلوچ کے مطابق، کمپنی کا ہدف ہر ماہ اوسطاً 50 کنٹینرز گدھے کا گوشت چین برآمد کرنا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی غیر روایتی برآمدات میں اضافہ کرے گا اور گوادر فری زون کو بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
معاشی اثرات اور دیہی علاقوں میں خوشحالی
پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں تعاون کے پاکستان کی معیشت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے، گوشت کی برآمدات میں اضافے سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہو گا، جو کہ پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، گوشت کی برآمدات پہلے ہی 113 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، اور چین کی منڈی تک رسائی سے ان میں مزید کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔
دوسرا، اس تعاون سے دیہی علاقوں میں لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ لائیو اسٹاک کا شعبہ پاکستان کی دیہی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، اور جدید سلاٹر ہاؤسز، پروسیسنگ یونٹس اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی تعمیر سے ہزاروں لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار ملے گا۔ اس کے نتیجے میں، دیہی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
تیسرا، اس منصوبے سے لائیو اسٹاک سیکٹر میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ ملے گا۔ خام مال کی بجائے پروسیس شدہ اور اعلیٰ معیار کے گوشت کی برآمد سے بہتر قیمت حاصل ہو گی، جس سے کسانوں اور صنعت کاروں دونوں کو فائدہ ہو گا۔ یہ پاکستان کے زرعی شعبے میں جدت لانے اور اسے عالمی منڈیوں کے ساتھ منسلک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ لائیو اسٹاک سیکٹر میں ترقیاتی اقدامات پاکستان کی معاشی نمو، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومتِ پاکستان گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشی ایٹو (GCLI) جیسے اقدامات کے ذریعے لائیو اسٹاک سیکٹر کو جدید بنیادوں پر ترقی دے رہی ہے۔ اس میں جدید بریڈنگ ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری اور تربیتی پروگرام شامل ہیں، جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کلاؤڈ ایگری گروپ کے اشتراک سے امریکہ سے اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی درآمد جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ یہ سب مل کر ایک مضبوط اور پائیدار لائیو اسٹاک معیشت کی بنیاد رکھیں گے۔
چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل
پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں تعاون کے وسیع امکانات کے باوجود، کئی چیلنجز بھی موجود ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ سب سے بڑا چیلنج لائیو اسٹاک سیکٹر میں کم پیداواری صلاحیت، غیر معیاری نسلیں، جانوروں کی بیماریوں کا کمزور کنٹرول، چارے کی قلت اور ویٹرنری سہولیات کی کمی ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جامع پالیسیاں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل درج ذیل نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے:
- جانوروں کی صحت اور بیماریوں پر قابو: جانوروں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے قومی سطح پر ویٹرنری پروگراموں میں سرمایہ کاری کی جائے۔
- جینیاتی بہتری اور جدید بریڈنگ: جدید جینیاتی طریقوں جیسے مصنوعی بارآوری (AI) اور ایمبریو ٹرانسفر (ET) کو وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تاکہ جانوروں کی نسل اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
- چارے کی پیداوار میں اضافہ: جانوروں کے لیے معیاری چارے کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے سائلج جیسی جدید تکنیکوں کو فروغ دیا جائے۔
- سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: لائیو اسٹاک سیکٹر میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
- تربیت اور تحقیق: زرعی تحقیقاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور کسانوں اور لائیو اسٹاک سے وابستہ افراد کو جدید طریقوں کی تربیت فراہم کی جائے۔
- ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی: برآمدی معیارات اور سینیٹری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
- سیکیورٹی خدشات کا حل: پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے۔
چین کے ساتھ تکنیکی تعاون، کاروباری روابط کے فروغ اور ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانا گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کو عالمی میٹ مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بننے میں مدد فراہم کریں گے۔
نتیجہ
پاکستان اور چین کا لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ پاکستان کے پاس لائیو اسٹاک کے وسیع اثاثے اور اعلیٰ معیار کے حلال گوشت کی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ چین دنیا میں گوشت کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ اس شراکت داری سے پاکستان کو نہ صرف قیمتی زر مبادلہ حاصل ہو گا بلکہ دیہی روزگار میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن میں بہتری اور زرعی معیشت کی مجموعی ترقی بھی ممکن ہو گی۔
جدید سلاٹر ہاؤسز کی تعمیر، میٹ پروسیسنگ کی سہولیات کا فروغ، کولڈ چین انفراسٹرکچر کی مضبوطی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور معیار کی یقین دہانی کے ذریعے پاکستان عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتا ہے۔ گدھے کے گوشت کی برآمدات جیسے غیر روایتی شعبوں میں آغاز بھی نئی تجارتی راہیں کھول رہا ہے۔ تاہم، اس کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے لائیو اسٹاک سیکٹر کو درپیش چیلنجز، جیسے پیداواری صلاحیت میں کمی اور جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششوں اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان اور چین کا یہ تعاون ایک مشترکہ مستقبل کی بنیاد ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔


