مقبول خبریں

ہوائی جہاز کے عملے میں تابکاری سے متعلق کینسر کا خطرہ زیادہ، نئی تحقیق

ہوائی جہاز کے عملے، یعنی پائلٹس اور فضائی میزبانوں کو اپنے منفرد پیشہ ورانہ ماحول کی وجہ سے کئی غیر معمولی صحت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان خطرات میں سے ایک نمایاں خطرہ طویل مدتی پروازوں کے دوران تابکاری کی بڑھتی ہوئی سطح سے منسلک ہے، جو کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک اہم تحقیق نے اس مسئلے کو مزید اجاگر کیا ہے، جس سے فضائی صنعت سے وابستہ افراد کی صحت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ تحقیق ان ہزاروں افراد کے لیے تشویش کا باعث ہے جو روزانہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔

مقدمہ: فضائی سفر اور صحت کے چھپے خطرات

فضائی سفر جدید دنیا کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جو لوگوں کو تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، ہوائی جہاز کے عملے کے لیے، یہ محض ایک سفر نہیں بلکہ ان کا روزگار ہے، جو انہیں کئی غیر معمولی چیلنجز سے دوچار کرتا ہے۔ جہاں مسافروں کو ہوائی سفر کے دوران پانی کی کمی، جیٹ لیگ، اور کانوں میں دباؤ جیسی عارضی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں فضائی عملے کے لیے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہیں نہ صرف معمول کے سفری مسائل بلکہ ہوائی جہاز کی بلندیوں پر موجود خاص ماحولیاتی عوامل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سب سے اہم کائناتی تابکاری (Cosmic Radiation) ہے۔ اس تابکاری کی مسلسل نمائش کئی سنگین بیماریوں، خاص طور پر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

طویل عرصے سے فضائی عملے میں بعض مخصوص کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، اور اب سائنسی تحقیقات ان خدشات کی تصدیق کر رہی ہیں۔ ایک حالیہ ہارورڈ تحقیق نے اس مسئلے کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کیا ہے، جس کے نتائج فضائی صنعت میں صحت کی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فضائی عملے کو درپیش کائناتی تابکاری کیا ہے؟

تابکاری یا اشعاع کاری توانائی کی وہ لہریں یا ذرات ہیں جو کسی ماخذ سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ دو اقسام کی ہوتی ہے: آئنائزنگ (Ionizing) اور غیر آئنائزنگ (Non-ionizing) تابکاری۔ آئنائزنگ تابکاری میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ وہ ایٹموں سے الیکٹران نکال کر انہیں آئنوں میں تبدیل کر سکے، جو انسانی خلیوں کے ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

فضائی عملے کو جس تابکاری کا سامنا ہوتا ہے، اسے “کائناتی تابکاری” (Cosmic Radiation) کہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سورج اور کہکشاؤں سے آنے والے انتہائی توانائی والے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔ زمین کی فضا اور مقناطیسی میدان ہمیں اس تابکاری کے زیادہ تر حصے سے بچاتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ہوائی جہاز اونچائی پر پرواز کرتا ہے (مثلاً 30,000 سے 40,000 فٹ کی بلندی پر)، فضائی تہہ پتلی ہوتی جاتی ہے، اور اس تابکاری کی شدت بڑھ جاتی ہے। پائلٹس اور فضائی میزبانوں کو سالانہ تقریباً 3 سے 6 ملی سیورٹ کائناتی تابکاری مل سکتی ہے، جبکہ ایک مسافر جو سال میں 10 بار ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرتا ہے، اسے تقریباً 0.4 ملی سیورٹ تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ تابکاری، ایکس رے اور گاما شعاعوں کی طرح، انتہائی توانائی بخش ہوتی ہے اور انسانی جسم کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ ہوتی ہے۔ چونکہ فضائی عملے کی پرواز کے اوقات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں طویل عرصے تک اس بڑھتی ہوئی تابکاری کی سطح کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ہارورڈ تحقیق کے اہم انکشافات

حال ہی میں ‘JAMA Internal Medicine’ نامی ایک معروف طبی جریدے میں شائع ہونے والی ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق نے فضائی عملے میں تابکاری سے متعلق کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس تحقیق نے 2020 سے 2024 کے دوران امریکہ میں جاری کیے گئے 13 ملین سے زائد ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا گہرائی سے تجزیہ کیا، جس میں تقریباً 14 ہزار پائلٹس اور 7 ہزار فضائی میزبانوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔

تحقیق کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے تھے۔ اس مطالعے میں پائلٹس اور فضائی میزبانوں میں بعض تابکاری سے منسلک کینسرز سے ہونے والی اموات کی شرح دیگر پیشوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔ محققین نے 500 سے زائد پیشوں کے افراد کا موازنہ کیا، اور یہ پتہ چلا کہ فضائی میزبانوں کی مجموعی اموات میں 6.9 فیصد اور پائلٹس کی اموات میں 6.7 فیصد تابکاری سے منسلک سرطانوں سے ہوئیں، جو کہ ایک بلند ترین شرح تھی۔

اگرچہ محققین نے یہ واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے اور اس سے یہ براہ راست ثابت نہیں ہوتا کہ کائناتی تابکاری ہی کینسر کا واحد سبب ہے، اور دیگر پیشہ ورانہ یا طرز زندگی کے عوامل بھی نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم، یہ تحقیق اس بات کا واضح اشارہ دیتی ہے کہ فضائی عملے کو تابکاری کی بڑھتی ہوئی سطحوں سے لاحق خطرات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

تابکاری سے منسلک کینسر کی اقسام اور شرح

ہارورڈ تحقیق نے فضائی عملے میں کئی مخصوص کینسرز کی بڑھتی ہوئی شرح کی نشاندہی کی ہے۔ ان کینسرز کا براہ راست تعلق تابکاری کی نمائش سے جوڑا گیا ہے، جو فضائی عملے کی صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق، پائلٹس اور فضائی میزبانوں میں درج ذیل کینسرز سے منسلک اموات کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی:

  • چھاتی کا سرطان (Breast Cancer): خواتین فضائی میزبانوں میں اس کینسر کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔
  • مرکزی اعصابی نظام کا سرطان (Central Nervous System Cancer): دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کے کینسر بھی فضائی عملے میں زیادہ عام پائے گئے۔
  • پروسٹیٹ کینسر (Prostate Cancer): مرد پائلٹس اور فضائی میزبانوں میں پروسٹیٹ کینسر سے منسلک اموات کی شرح زیادہ تھی۔
  • میلانوما اور دیگر جلدی سرطانات (Melanoma and other Skin Cancers): فضائی عملے کو میلانوما (جلد کا ایک خطرناک کینسر) اور جلد کے دیگر سرطانوں کا بھی زیادہ سامنا تھا۔

    بول نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، فضائی آلودگی مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
  • لیوکیمیا (Leukemia): خاص طور پر پائلٹس میں لیوکیمیا سے موت کا امکان زیادہ پایا گیا۔

اس تحقیق میں دیگر کینسرز جیسے ملٹی پل مائیلوما، لمفوما، اور تھائرائیڈ کینسر کا بھی جائزہ لیا گیا، اگرچہ ان کی شرح اتنی نمایاں نہیں تھی جتنی اوپر ذکر کردہ کینسرز کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فضائی عملہ نہ صرف مجموعی طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کا شکار ہے بلکہ مخصوص اقسام کے کینسر انہیں زیادہ متاثر کر رہے ہیں۔

کینسر کی قسمفضائی عملے میں خطرہ (بمقابلہ دیگر پیشوں)اہمیت
چھاتی کا سرطانزیادہ نمایاںخواتین فضائی میزبانوں کے لیے تشویشناک
مرکزی اعصابی نظام کا سرطانزیادہ نمایاںدماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے کینسر
پروسٹیٹ کینسرزیادہ نمایاںمرد پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لیے تشویشناک
میلانوما (جلدی سرطان)زیادہ نمایاںجلد کے کینسر کی ایک خطرناک قسم
لیوکیمیاپائلٹس میں زیادہ امکانخون کا سرطان

فضائی عملے پر تابکاری کے مجموعی صحت پر اثرات

فضائی عملے کو صرف کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کا ہی سامنا نہیں ہوتا، بلکہ کائناتی تابکاری کی طویل مدتی نمائش ان کی مجموعی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ تابکاری کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ یہ سالوں کے دوران جمع ہوتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ خلیوں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مدافعتی نظام کمزور پڑ سکتا ہے، جو انہیں دیگر بیماریوں کے لیے زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔

فضائی عملے میں بے خوابی (Jet Lag کی وجہ سے)، دائمی تھکاوٹ، اور نفسیاتی دباؤ جیسے مسائل بھی عام ہیں، جو ان کی صحت کے مجموعی گراف کو مزید متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا براہ راست تعلق تابکاری سے نہیں ہے، لیکن یہ ایک ساتھ مل کر جسم پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور اسے بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لمبے ہوائی سفر کے دوران مسلسل بیٹھے رہنے سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے جس سے ٹانگوں میں سوجن اور درد ہو سکتا ہے۔

طیارے کے اندر کا خشک ماحول اور ہوا کا دباؤ بھی جسم پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ کیبن میں ہوا کا دباؤ عام دباؤ سے 75 فیصد زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے سر درد اور آکسیجن کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، 7 گھنٹے کی فلائٹ میں مسافر ایکس رے جتنی تابکار شعاعوں کی زد میں آتے ہیں، جو کہ فضائی عملے کے لیے کئی گنا زیادہ ہوگی۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، فضائی عملے کی صحت کی حفاظت کے لیے جامع حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جو تابکاری کی نمائش کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے طرز زندگی اور کام کے ماحول کو بہتر بنا سکیں۔

احتیاطی تدابیر اور ہوابازی کی صنعت کی ذمہ داریاں

فضائی عملے کو درپیش تابکاری سے متعلق کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، ان کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے۔ ان احتیاطی تدابیر اور اقدامات کو انفرادی سطح اور صنعتی سطح، دونوں پر لاگو کیا جانا چاہیے۔

انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر

  • تابکاری کی نگرانی: فضائی عملے کے لیے ذاتی ڈوسی میٹرز (Dosimeters) کا استعمال لازمی قرار دیا جائے تاکہ انفرادی تابکاری کی نمائش کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا سکے۔
  • طبی معائنہ: باقاعدہ اور جامع طبی معائنہ، جس میں کینسر کی اسکریننگ شامل ہو، ان کے معمول کا حصہ بنایا جائے تاکہ بیماری کی ابتدائی مراحل میں تشخیص ممکن ہو سکے۔
  • صحت مند طرز زندگی: صحت مند غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، تمباکو اور الکحل سے پرہیز، اور مناسب نیند لینا مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
  • پانی کا زیادہ استعمال: فضائی سفر کے دوران جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، اس لیے زیادہ پانی پینے سے کئی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

صنعتی اور بین الاقوامی سطح پر ذمہ داریاں

  • فلائٹ کے اوقات میں کمی: طویل فاصلے کی پروازوں میں فضائی عملے کے فلائٹ اوقات میں کمی کی جائے تاکہ تابکاری کی مجموعی نمائش کو کم کیا جا سکے۔
  • راستوں کی منصوبہ بندی: زیادہ تابکاری والی بلندیوں اور جغرافیائی علاقوں سے بچنے کے لیے پرواز کے راستوں کی منصوبہ بندی میں بہتری لائی جائے، خاص طور پر شمسی طوفانوں کے دوران।
  • طیاروں میں حفاظتی اقدامات: جدید طیاروں میں تابکاری سے بچاؤ کے لیے بہتر حفاظتی مواد اور ٹیکنالوجیز پر تحقیق اور عمل درآمد کیا جائے، اگرچہ فی الحال اس میدان میں چیلنجز موجود ہیں۔
  • عالمی رہنما اصول: عالمی ادارہ صحت (WHO) اور بین الاقوامی ہوابازی کی تنظیم (ICAO) کو فضائی عملے کے لیے تابکاری کی نمائش کے حوالے سے مزید سخت رہنما اصول وضع کرنے چاہیئں۔

    فضائی آلودگی، چاہے وہ گیسوں کی شکل میں ہو یا ذرات کی شکل میں، نہ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے بلکہ پھیپھڑوں کے کینسر کا بھی خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس لیے ہوابازی کی صنعت کو بھی فضائی آلودگی کے عالمی مسائل پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • تحقیق اور بیداری: فضائی عملے پر تابکاری کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیقات کی جائیں اور انہیں ان خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

پاکستان میں ہوابازی کی صنعت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ ان بین الاقوامی تحقیقات کے نتائج کو مدنظر رکھے اور اپنے فضائی عملے کی صحت کے تحفظ کو ترجیح دے۔ جیو نیوز کی صحت سے متعلق رپورٹس میں بھی کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات پر روشنی ڈالی جاتی ہے، جس سے اس مسئلے کی عالمی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

نتیجہ

فضائی جہاز کے عملے میں تابکاری سے متعلق کینسر کا بڑھتا ہوا خطرہ ایک عالمی مسئلہ ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق نے اس خدشے کو سائنسی اعتبار سے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے کہ پائلٹس اور فضائی میزبان کائناتی تابکاری کی وجہ سے چھاتی، پروسٹیٹ، مرکزی اعصابی نظام اور جلد کے سرطان جیسی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ صرف مشاہداتی مطالعہ ہونے کے باوجود، فضائی صنعت سے منسلک افراد کی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔

ہوابازی کی صنعت، حکومتی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ فلائٹ کے اوقات میں تبدیلی، تابکاری کی نگرانی کے بہتر نظام، اور حفاظتی ٹیکنالوجیز کی ترقی جیسے اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ، فضائی عملے کو اپنی صحت کی حفاظت کے لیے ذاتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور باقاعدہ طبی معائنہ کروانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ تب ہی ہم فضائی سفر کو سب کے لیے محفوظ بنا سکتے ہیں اور ان بہادر مرد و خواتین کی صحت کا تحفظ کر سکتے ہیں جو ہمیں آسمان کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔