مقبول خبریں

فراڈ سے کیسے بچا جائے؟ واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

فراڈ سے کیسے بچا جائے؟ یہ سوال آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر اس صارف کے ذہن میں گردش کرتا ہے جو انٹرنیٹ اور بالخصوص مقبول پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز جیسے واٹس ایپ کا استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں واٹس ایپ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، اور اسی وجہ سے یہ سائبر مجرموں کے لیے ایک آسان ہدف بھی بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اس صورتحال میں صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم، ایک اچھی خبر یہ ہے کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ اور اسکیمز سے محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ جدید فیچر صارفین کو مشکوک سرگرمیوں سے قبل از وقت آگاہ کرکے انہیں محفوظ رہنے میں مدد دے گا، جو آن لائن حفاظت کی جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ مضمون اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالے گا کہ واٹس ایپ پر فراڈ سے کیسے بچا جائے، واٹس ایپ میں متعارف کروائے گئے نئے حفاظتی فیچرز کیا ہیں، اور ایک صارف کے طور پر آپ کس طرح خود کو اور اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

تعارف: بڑھتا ہوا آن لائن فراڈ اور واٹس ایپ کا کردار

ڈیجیٹل انقلاب نے جہاں ہماری زندگیوں کو آسان اور تیز رفتار بنایا ہے، وہیں اس نے سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ کی نئی راہیں بھی کھول دی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں لاکھوں افراد اپنے روزمرہ کے رابطوں اور کاروباری لین دین کے لیے واٹس ایپ پر انحصار کرتے ہیں، فراڈ کرنے والے گروہ نت نئے طریقوں سے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان فراڈز کا مقصد ذاتی معلومات، مالی تفصیلات یا یہاں تک کہ مکمل اکاؤنٹ کا کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات، یہ فراڈ سماجی انجینئرنگ (Social Engineering) پر مبنی ہوتے ہیں، جہاں دھوکے باز صارفین کو اپنی ذاتی معلومات یا تصدیقی کوڈز (Verification Codes) فراہم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

واٹس ایپ نے ہمیشہ اپنے صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو ترجیح دی ہے، اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (End-to-End Encryption) جیسی خصوصیات کے ذریعے پیغامات کو محفوظ رکھا ہے۔ لیکن فراڈ کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی چالبازیوں کے پیش نظر، پلیٹ فارم کو مزید جدید حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کی ضرورت تھی تاکہ صارفین کو گفتگو شروع کرنے سے پہلے ہی ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ نے حال ہی میں متعدد نئے فیچرز متعارف کروائے ہیں، جو نہ صرف فراڈ کی شناخت میں مدد کریں گے بلکہ صارفین کو اپنے ڈیٹا اور اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بنانے کے قابل بھی بنائیں گے۔

واٹس ایپ پر فراڈ کی مختلف اقسام اور ان کے طریقے

واٹس ایپ پر فراڈ کی اقسام مسلسل بدلتی رہتی ہیں، لیکن کچھ عام طریقے ہیں جن سے صارفین کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔ ان طریقوں کو سمجھ کر ہی ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

  • پھشنگ (Phishing) اور جعلی لنکس: فراڈ کا یہ سب سے عام طریقہ ہے جہاں دھوکے باز جعلی لنکس بھیجتے ہیں جو بظاہر واٹس ایپ، بینک یا کسی مشہور کمپنی سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ ان لنکس پر کلک کرنے سے آپ کی ذاتی معلومات، پاس ورڈز یا مالی تفصیلات چوری ہو سکتی ہیں۔
  • شناخت کی چوری (Identity Theft): اس قسم کے فراڈ میں مجرم کسی جاننے والے یا سرکاری اہلکار کا روپ دھار کر آپ سے اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا آپ کو کسی سکیم کا حصہ بننے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
  • گھوسٹ پیئرنگ (GhostPairing): یہ فراڈ کا ایک نیا اور خطرناک طریقہ ہے جہاں ہیکرز واٹس ایپ کی جائز خصوصیات کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کو دھوکے سے اپنا اکاؤنٹ کسی ایسے ڈیوائس سے لنک کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو سائبر حملہ آور کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اس سے ہیکرز کو آپ کے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک براہ راست رسائی مل جاتی ہے۔ یہ اکثر جعلی فیس بک لاگ اِن پیجز یا کیو آر کوڈز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
  • ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن کوڈ فراڈ: فراڈ کرنے والے آپ کو واٹس ایپ کا چھ ہندسوں کا تصدیقی کوڈ بھیج کر کسی بہانے سے وہ کوڈ مانگتے ہیں۔ اگر آپ یہ کوڈ انہیں دے دیتے ہیں، تو وہ آپ کا اکاؤنٹ ہائی جیک کر سکتے ہیں۔
  • مالیاتی اسکیمیں: اس میں انعامی سکیمیں، لاٹری جیتنے کے جھوٹے پیغامات یا نوکری کی پیشکشیں شامل ہیں جن کا مقصد آپ سے رقم بٹورنا ہوتا ہے۔
  • ملٹی میڈیا فراڈ: بعض اوقات، مشکوک وائرل ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے بھی مالویئر پھیلایا جاتا ہے جو آپ کے فون کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے۔

واٹس ایپ کے نئے سیکیورٹی فیچرز: تحفظ کی نئی ڈھال

سائبر کرائمز کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے پیش نظر، واٹس ایپ مسلسل اپنے حفاظتی اقدامات کو مضبوط کر رہا ہے۔ حال ہی میں متعارف کروائے گئے نئے فیچرز صارفین کو نہ صرف فراڈ سے بچنے میں مدد دیں گے بلکہ انہیں ایک محفوظ اور پر اعتماد ماحول بھی فراہم کریں گے۔ یہ فیچرز خاص طور پر ایسے ڈیزائن کیے گئے ہیں جو دھوکہ دہی کی کوششوں کو ابتدائی مراحل میں ہی ناکام بنا دیں۔

  • چیٹ شروع ہونے سے قبل انتباہ: ایک اہم فیچر یہ ہے کہ واٹس ایپ اب نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والے مشکوک پیغامات کے خلاف صارفین کو قبل از وقت آگاہی فراہم کرے گا۔ جب کوئی انجان شخص آپ کو پیغام بھیجے گا، تو ایپ خود بخود ایک حفاظتی انتباہ جاری کرے گی جس میں نمبر کی رجسٹریشن، کانٹیکٹ لسٹ میں شمولیت، اور مشترکہ گروپ کی معلومات شامل ہوگی۔ یہ تفصیلات چیٹ کھولنے سے پہلے ہی اسکرین پر ظاہر کر دی جائیں گی۔
  • ڈیٹا کی خفیہ کاری (Encryption) کو مضبوط بنانا: اگرچہ واٹس ایپ پہلے سے ہی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتا ہے، نئے فیچرز کا مقصد ڈیٹا کے بیک اپ اور دیگر حساس معلومات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
  • اسکیمرز کے لیے رکاوٹ: ان فیچرز کا بنیادی مقصد فراڈ کرنے والوں کے لیے صارفین کو فریب دینا اور ان کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنا مزید مشکل بنانا ہے۔ خاص طور پر وہ دھوکے باز جو سوشل انجینئرنگ کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اب صارفین کو پھنسانے میں زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اسکیم ڈیٹیکشن فیچر

واٹس ایپ کا سب سے تازہ ترین اور اہم فیچر مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اسکام ڈیٹیکشن ہے۔ یہ فیچر ممکنہ فراڈ چیٹس کو شناخت کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

  • کیسے کام کرتا ہے؟ یہ فیچر آن ڈیوائس اے آئی استعمال کرتا ہے، یعنی مشین لرننگ ماڈل براہ راست صارف کے اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے۔ یہ ماڈل ان افراد کے واٹس ایپ میسجز کا تجزیہ کرتا ہے جن کے نمبر کانٹیکٹس کے طور پر محفوظ نہیں ہوتے اور گفتگو کے انداز اور زبان کو دیکھ کر ممکنہ فراڈ کا اندازہ لگاتا ہے۔
  • پرائیویسی کا تحفظ: اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ برقرار رکھتا ہے اور میسجز کو اینکرپٹڈ رہنے دیتا ہے۔ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس اے آئی ماڈل سے صارفین کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوگی اور ان کے میسجز تک کمپنی کو رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
  • وارننگ اور اختیار: اگر سسٹم کسی چیٹ کو ممکنہ فراڈ کے طور پر شناخت کرتا ہے، تو واٹس ایپ کی جانب سے صارف کے سامنے ایک وارننگ ظاہر کی جاتی ہے، جس کا علم دوسرے فرد کو نہیں ہوتا۔ صارفین اس وارننگ کو دیکھ کر میسجز بھیجنے والے کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں یا چیٹ جاری رکھ سکتے ہیں۔
فراڈ کی عام علامتیںاحتیاطی تدابیر
نامعلوم نمبرز سے غیر متوقع پیغامات/کالزنامعلوم نمبرز کو بلاک کریں، ‘Silence Unknown Callers’ فیچر استعمال کریں
مالیاتی انعامات یا نوکریوں کی پیشکشکسی بھی ایسی پیشکش پر یقین نہ کریں جس میں فوری رقم کا مطالبہ کیا جائے
ایسے لنکس جن میں ذاتی معلومات یا پاس ورڈ مانگے جائیںمشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، ویب سائٹ کے یو آر ایل کی تصدیق کریں
ہنگامی صورتحال کا بہانہ بنا کر رقم کا مطالبہرقم بھیجنے سے پہلے متعلقہ شخص سے براہ راست رابطہ کر کے تصدیق کریں
اکاؤنٹ کی تصدیق یا اپ ڈیٹ کے لیے کوڈ مانگنااپنا ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن کوڈ یا کوئی بھی تصدیقی کوڈ کسی کو نہ دیں
دھمکی آمیز یا پریشان کن پیغاماتایسے نمبرز کو فوری طور پر بلاک اور رپورٹ کریں

نامعلوم نمبرز اور پاس کیز سے حفاظت

واٹس ایپ نے صارفین کو نامعلوم اور مشکوک رابطوں سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں سے کچھ اہم فیچرز مندرجہ ذیل ہیں:

  • نامعلوم کالرز کو خاموش کرنا (Silence Unknown Callers): یہ ایک مؤثر فیچر ہے جو آپ کو ایسے نمبروں سے آنے والی کالز کو خودکار طور پر خاموش کرنے کی اجازت دیتا ہے جو آپ کی کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ نہیں ہوتے۔ یہ اسپام اور دھوکہ دہی پر مبنی کالز سے بچنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • پاس کیز (Passkeys) برائے چیٹ بیک اپ: واٹس ایپ نے اپنی چیٹ بیک اپس کے لیے پاس کیز کا نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرایا ہے۔ یہ فیچر صارفین کی چیٹ بیک اپس، تصاویر اور وائس میسجز کو مزید محفوظ بناتا ہے جو کلاؤڈ میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔ اب صارفین اپنے بیک اپ کو محفوظ کرنے کے لیے فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا فون کے اسکرین لاک کوڈ کا استعمال کر سکتے ہیں، جس سے پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ خاص طور پر اس صورتحال میں فائدہ مند ہے جب صارف اپنا فون تبدیل کرے یا کھو دے۔
  • اکاؤنٹ کی سخت سیٹنگز (Strict Account Settings): واٹس ایپ نے “اکاؤنٹ کی سخت سیٹنگز” نامی ایک لاک ڈاؤن طرز کا فیچر بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے صارفین کے لیے ہے جنہیں انتہائی ثقیف سائبر حملوں سے تحفظ کی ضرورت ہو، جیسے صحافی یا عوامی شخصیات۔ جب اسے آن کیا جاتا ہے، تو کچھ اکاؤنٹ کی سیٹنگز انتہائی سخت ہو جاتی ہیں، اور یہ آپ کے روابط میں شامل نہ ہونے والے افراد کی جانب سے بھیجی گئی منسلکہ اور میڈیا کو بلاک کرنے جیسے اقدامات کر کے آپ کے واٹس ایپ کے کام کرنے کے طریقے کو محدود کر دیتا ہے۔

صارفین کی ذاتی ذمہ داری اور احتیاطی تدابیر

پلیٹ فارم کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی فیچرز اپنی جگہ، لیکن صارفین کی اپنی احتیاط اور ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ فراڈ سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  • ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن (Two-Step Verification) فعال کریں: یہ واٹس ایپ کی حفاظت کی پہلی تہہ ہے۔ اس فیچر کو فعال کرنے سے کوئی بھی شخص آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا، چاہے اس کے پاس آپ کا سم کارڈ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایک چھ ہندسوں کا پن کوڈ ہوتا ہے جو ہر بار جب آپ کسی نئے ڈیوائس پر واٹس ایپ رجسٹر کرتے ہیں تو درکار ہوتا ہے۔
  • مشکوک لنکس اور پیغامات سے گریز: کسی بھی نامعلوم یا مشکوک لنک پر ہرگز کلک نہ کریں، یہاں تک کہ اگر وہ آپ کے کسی جاننے والے کی طرف سے آیا ہو۔ ہمیشہ یو آر ایل کو غور سے دیکھیں اور اگر ذرا بھی شک ہو تو متعلقہ شخص سے براہ راست رابطہ کر کے تصدیق کریں۔
  • ذاتی معلومات کا تحفظ: اپنی ذاتی معلومات جیسے بینک اکاؤنٹ نمبر، شناختی کارڈ نمبر، پاس ورڈ یا او ٹی پی (OTP) کسی بھی صورت میں واٹس ایپ پر یا فون پر کسی نامعلوم شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
  • اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا استعمال: ہمیشہ یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہیں۔ واٹس ایپ خود اس خصوصیت کو فعال رکھتا ہے، لیکن بیک اپ کے لیے بھی انکرپشن کو آن رکھنا ضروری ہے۔
  • لنکڈ ڈیوائسز کی جانچ پڑتال: باقاعدگی سے اپنی واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر “لنکڈ ڈیوائسز” کی جانچ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی نامعلوم ڈیوائس آپ کے اکاؤنٹ سے لنک نہ ہو۔
  • “ون ویو” فیچر کا محتاط استعمال: واٹس ایپ کے “ون ویو” فیچر (ایک بار دیکھنے کے بعد غائب ہونے والی تصاویر/ویڈیوز) کا مقصد پرائیویسی بڑھانا ہے، لیکن اس کا اسکرین شاٹ لیا جا سکتا ہے (جب تک کہ اسکرین شاٹ بلاک کرنے کا فیچر مکمل طور پر متعارف نہ ہو جائے)۔ اس لیے حساس معلومات بھیجتے وقت احتیاط کریں۔
  • کسی بھی چیز کو سوچ سمجھ کر شیئر کریں: واٹس ایپ پر کوئی بھی چیٹ، تصویر، ویڈیو، فائل یا وائس میسج شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں۔ یاد رکھیں کہ آپ جس کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں وہ اسے آگے فارورڈ یا شیئر کر سکتا ہے۔

فراڈ کی صورت میں کیا کریں؟ رپورٹنگ اور قانونی پہلو

اگر آپ کسی فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں یا کسی مشکوک سرگرمی کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو فوری طور پر اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔

  • واٹس ایپ کو رپورٹ کریں: اگر آپ کو کوئی مشکوک پیغام، کال یا اکاؤنٹ نظر آتا ہے تو اسے فوری طور پر واٹس ایپ کو رپورٹ کریں۔ واٹس ایپ میں ہر چیٹ کے اندر بلاک اور رپورٹ کرنے کا آپشن موجود ہوتا ہے۔ یہ رپورٹنگ واٹس ایپ کو ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد دیتی ہے۔
  • سائبر کرائم حکام سے رابطہ: پاکستان میں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کا سائبر کرائم ونگ آن لائن فراڈ اور سائبر کرائمز سے متعلق شکایات سنتا ہے۔ اگر آپ کو مالی نقصان ہوا ہے یا کوئی بڑا فراڈ ہوا ہے، تو آپ کو ایف آئی اے سائبر کرائم کو شکایت درج کروانی چاہیے۔ ان کی ویب سائٹ پر آن لائن شکایت درج کرانے کی سہولت بھی موجود ہے۔
  • بینک سے رابطہ: اگر آپ کے بینک اکاؤنٹ سے متعلق کوئی فراڈ ہوا ہے، تو فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کریں تاکہ اکاؤنٹ کو منجمد کیا جا سکے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
  • ثبوت محفوظ کریں: فراڈ سے متعلق تمام پیغامات، کال لاگز، ٹرانزیکشن کی تفصیلات اور اسکرین شاٹس کو ثبوت کے طور پر محفوظ کر لیں۔ یہ حکام کو تحقیقات میں مدد فراہم کریں گے۔
  • اپنے رابطوں کو آگاہ کریں: اگر آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے یا آپ کے نام سے فراڈ کیا جا رہا ہے، تو اپنے تمام رابطوں کو فوری طور پر آگاہ کریں تاکہ وہ بھی محتاط رہیں اور مزید افراد اس کا شکار نہ بنیں۔

سائبر کرائمز کے خلاف حکومتی ادارے بھی سرگرم ہیں اور قوانین میں بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ آن لائن جرائم کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ صارفین کی جانب سے بروقت رپورٹنگ اور حکام کے ساتھ تعاون سے ایسے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے، جیسا کہ جیو نیوز کی یہ رپورٹ سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر روشنی ڈالتی ہے۔

نتیجہ

واٹس ایپ نے فراڈ سے بچنے کے لیے نئے فیچرز متعارف کروا کر بلاشبہ ایک اہم قدم اٹھایا ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی اسکیم ڈیٹیکشن فیچر اور نامعلوم نمبروں سے پہلے ہی انتباہ صارفین کے تحفظ میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک کہ صارف خود احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرے۔ ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں ہر وقت چوکس رہنا ہوگا، مشکوک چیزوں پر شک کرنا سیکھنا ہوگا، اور اپنی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ واٹس ایپ کے نئے فیچرز اور صارفین کی ذاتی بیداری کا امتزاج ہی ہمیں آن لائن فراڈ سے بچاؤ کی ایک مضبوط ڈھال فراہم کر سکتا ہے۔ ہمیں ایک ذمہ دار ڈیجیٹل شہری کی حیثیت سے اپنے ڈیٹا اور پرائیویسی کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی تاکہ واٹس ایپ جیسے مفید پلیٹ فارمز کا استعمال محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکے۔