مقبول خبریں

امریکا میں شدید گرمی سب سے مہلک موسمی خطرہ قرار، ماہرین نے بڑے بحران سے خبردار کردیا

امریکا میں شدید گرمی کو اب ملک کا سب سے مہلک موسمی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین موسمیات اور صحت عامہ کے حکام نے ایک بڑے بحران سے خبردار کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ہیٹ ویوز کی شدت، تواتر اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے تباہ کن انسانی اور اقتصادی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ موجودہ پیش گوئیوں کے مطابق، امریکا کی وسطی اور مشرقی ریاستیں رواں ہفتے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، اور درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100.4 فارن ہائیٹ) یا اس سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے براہ راست اثرات کا نتیجہ ہے، جس کے پیش نظر فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

شدید گرمی: امریکہ کا سب سے مہلک موسمی خطرہ

گزشتہ دہائیوں سے، امریکا میں شدید گرمی طوفانوں، بگولوں اور سیلابوں جیسے دیگر قدرتی آفات کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق، ہر سال گرمی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد بگولوں، سمندری طوفانوں اور آسمانی بجلی سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ایک “خاموش قاتل” ہے جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات بتدریج اور مہلک ہوتے ہیں۔ سنہ 2004 سے 2018 کے دوران، امریکا میں گرمی سے متعلقہ حالات کی وجہ سے 10,527 اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد مئی سے ستمبر کے مہینوں میں ہوئیں۔ حالیہ اعداد و شمار اس خطرے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

2023 کا سال امریکا میں گرمی سے ہونے والی اموات کے حوالے سے ریکارڈ توڑ ثابت ہوا، جہاں 45 سال کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ 2,300 سے زائد اموات صرف زیادہ گرمی کے اثرات سے منسلک کی گئیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں کیونکہ گرمی سے ہونے والی بہت سی اموات کو دیگر بیماریوں یا حالات سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ 2022 میں بھی گرمی سے متعلقہ 1,713 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو اس بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2050 تک امریکا میں سالانہ تقریباً 60,000 افراد گرمی سے ہلاک ہو سکتے ہیں، اگر موجودہ رجحانات جاری رہے۔ یہ ایک خوفناک پیش گوئی ہے جو اس بات کی ضرورت پر زور دیتی ہے کہ اس موسمیاتی خطرے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

بڑھتی ہوئی شدت اور جان لیوا اثرات

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی لہریں اب نہ صرف زیادہ تواتر سے آ رہی ہیں بلکہ ان کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے۔ پین اسٹیٹ کے پروفیسر ڈبلیو لیری کینی کے مطابق، گرمی کی لہریں ہر سال زیادہ شدید، زیادہ کثرت سے اور زیادہ طویل عرصے تک جاری رہ رہی ہیں، جو کہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ امریکی محکمہ موسمیات نے وسطی اور مشرقی ریاستوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے کہ رواں ہفتے درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، اور یہ لہر کئی دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔ نیویارک، پنسلوانیا، نیوجرسی اور دیگر ریاستیں اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی شدت شہری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں، اور دن کے اوقات میں سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا ہے۔ ہیٹ ڈوم کہلانے والا گرم ہوا کا غلاف زمین پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے، جس سے فضائی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور شدید گرمی کی لہریں مزید مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے، جس میں کولنگ اسٹیشنز کا قیام اور عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت شامل ہے۔

صحت عامہ پر تباہ کن اثرات

شدید گرمی انسانی صحت کے لیے کئی سنگین خطرات کا باعث بنتی ہے۔ ان میں سب سے اہم ہیٹ اسٹروک ہے، جو ایک جان لیوا طبی ایمرجنسی ہے۔ ہیٹ اسٹروک میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، جسم میں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن)، بلڈ پریشر کا کم ہونا، گردوں پر دباؤ اور پہلے سے موجود دائمی امراض جیسے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا بڑھ جانا بھی عام ہے۔

  • کمزور آبادی: بزرگ افراد، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین، اور وہ افراد جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
  • بیرونی کارکنان: تعمیراتی مزدور، کسان، اور دیگر بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد بھی ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلقہ بیماریوں کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، محنت کش طبقے کو، خاص طور پر سیاہ فام اور ہسپانوی کارکنوں کو، شدید گرمی کی وجہ سے محنت کی پیداواریت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
  • سماجی و اقتصادی تفاوت: کم آمدنی والے گھرانے اور کرایہ دار اکثر ایئر کنڈیشننگ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ گرمی کی شدت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گرمی کے شدید دنوں میں منشیات کی زیادتی اور شراب سے متعلقہ اموات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے آفس آف کلائمیٹ چینج اینڈ ہیلتھ ایکویٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان بالبس کے مطابق، 2023 کا سال گرمی کے حوالے سے سب سے بدترین سال تھا جب ایمبولینسوں کو ہزاروں بار گرمی سے بے ہوش ہونے والے افراد کے لیے بھیجا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گرمی صرف ایک تکلیف دہ موسم نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران ہے۔

اقتصادی اور سماجی مضمرات

شدید گرمی کے اثرات صرف انسانی صحت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے وسیع تر اقتصادی اور سماجی مضمرات بھی ہیں۔ یہ معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کرتی ہے، جس میں زرعی پیداوار، مزدوروں کی کارکردگی اور توانائی کا شعبہ سرفہرست ہیں۔

  • مزدوروں کی پیداواریت میں کمی: شدید گرمی کے دوران باہر یا گرم ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں کی پیداواریت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ کے مطابق، 2050 تک امریکا میں محنت کی پیداواریت میں کمی کے نتیجے میں سالانہ نصف ٹریلین ڈالر کا نقصان متوقع ہے۔
  • زرعی شعبے پر اثرات: فصلوں، خاص طور پر مکئی اور سویابین کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس سے غذائی قلت اور کسانوں کے لیے معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مویشی بھی بیمار ہوتے یا مر جاتے ہیں، جو زرعی معیشت پر مزید بوجھ ڈالتا ہے۔
  • توانائی کی طلب میں اضافہ: ایئر کنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے، جس سے پاور گرڈ پر دباؤ پڑتا ہے اور بجلی کی بندش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نیویارک سٹی اور لاس اینجلس جیسے شہروں میں “کول روف” (Cool Roof) جیسے اقدامات کے ذریعے توانائی کی طلب کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
  • سیاحت اور مقامی کاروبار: گرمی کی لہریں سیاحتی مقامات اور مقامی کاروباروں کو بھی منفی طور پر متاثر کرتی ہیں، کیونکہ لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یورپ کے بعد امریکا میں بھی سخت گرمی کی وارننگ جاری کردی گئی

یہ تمام عوامل مل کر قومی اور مقامی معیشتوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

سالگرمى سے متعلقہ اموات (تقریباً)ماخذ
2004-201810,527 (مجموعی)CDC MMWR
20221,713Pandemic to Prosperity
20232,300+ (ریکارڈ)PreventionWeb
2050 (پیش گوئی)60,000 (سالانہ)Atlantic Council

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا بحران

شدید گرمی کی لہروں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ سائنسدانوں نے دس سال پہلے ہی اس بارے میں خبردار کر دیا تھا کہ امریکہ کے بڑے شہروں میں موسم گرما کی شدت بڑھے گی۔ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے ارتکاز نے یورپی ہیٹ ویو کو 2.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ گرم کر دیا ہے، جبکہ شمالی امریکہ میں گرمی کی لہر کو 2 ڈگری سیلسیس تک بڑھا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ایل نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کو ایل نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ایل نینو کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیشتر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں برس شدید گرمی کا سامنا ہے۔ ورلڈ ویدر اٹریبیوشن جیسی تنظیمیں مسلسل موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ ویوز کے درمیان تعلق کو اجاگر کر رہی ہیں۔ اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف مقامی اقدامات کافی نہیں بلکہ ایک عالمی اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے پر توجہ دے۔

حفاظتی تدابیر اور حکومتی اقدامات

شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، امریکی حکومت اور مقامی انتظامیہ مختلف سطحوں پر حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

  • کولنگ سینٹرز: نیویارک سٹی سمیت کئی شہروں میں گرمی سے متاثرہ افراد کو پناہ اور ٹھنڈا ماحول فراہم کرنے کے لیے کولنگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
  • عوامی آگاہی: شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، زیادہ پانی پینے اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے لباس پہننے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ پیاس لگنے کا انتظار کیے بغیر پانی پیتے رہنا ضروری ہے۔
  • ریاستی سطح پر منصوبہ بندی: کیلی فورنیا نے 200 ملین ڈالر کے ساتھ موسمیاتی لچک مراکز (resilience centers) تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اور ایک جامع کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایریزونا نے اپنی ہیٹ پریپیئرڈنیس پلان کا آغاز کیا ہے اور پہلا چیف ہیٹ آفیسر مقرر کیا ہے۔ نیو جرسی اور میری لینڈ بھی اپنے ایکشن پلان تیار کر رہے ہیں۔
  • کام کی جگہوں پر معیارات: کیلی فورنیا، اوریگن، واشنگٹن اور مینیسوٹا جیسی ریاستوں میں کام کی جگہوں پر گرمی کے معیارات (workplace heat standards) متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ مزدوروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
  • ماحولیاتی اقدامات: درخت لگانا اور کنکریٹ کے پھیلاؤ کو کم کرنا جیسے اقدامات شہروں میں گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے یورپی ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں، کیونکہ ان کا بنیادی ڈھانچہ اس قسم کی گرمی کے لیے تیار نہیں۔ امریکا میں بھی اسی طرح کے اقدامات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں اور گرمی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

مستقبل کا چیلنج اور اجتماعی ذمہ داری

شدید گرمی کا مسئلہ صرف ایک موسمی چیلنج نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ ماحولیاتی، سماجی اور اقتصادی بحران ہے جس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آئندہ برسوں کی گرمیاں اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گی۔ اس سے نمٹنے کے لیے ایک “ہول آف گورنمنٹ” (whole-of-government) وفاقی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جو بنیادی ڈھانچے، توانائی، رہائش، صحت، غذائی تحفظ اور قومی سلامتی سمیت متعدد پالیسی شعبوں کو آپس میں جوڑے۔ وفاقی حکومت تحقیق و ترقی، قواعد و ضوابط، معیارات اور فنڈنگ کے ذریعے گرمی سے بچاؤ کے اقدامات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کریں۔ عوامی شعور بیدار کرنا، پائیدار طرز زندگی اپنانا، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہم نے بروقت کارروائی نہ کی تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسے سیارے کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں شدید گرمی ایک معمول بن چکی ہوگی، جس کے انسانیت اور ماحولیات دونوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

نتیجہ

امریکا میں شدید گرمی اب محض ایک موسمی تکلیف نہیں بلکہ ایک مہلک موسمی خطرہ بن چکی ہے، جس کے صحت، معیشت اور سماجی زندگی پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس کی شدت اور تواتر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ماہرین ایک بڑے بحران سے خبردار کر رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں اور عوام کو احتیاطی اقدامات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ تاہم، اس بڑھتے ہوئے چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو نہ صرف فوری امداد فراہم کرے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کرے۔ یہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خاموش قاتل کے خلاف متحد ہو کر کام کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور قابل رہائش دنیا کو یقینی بنایا جا سکے۔