مقبول خبریں

اقوام متحدہ کا امریکا اور ایران سے کشیدگی کم کرکے مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کا امریکا اور ایران سے کشیدگی کم کرکے مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ متحدہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ناگزیر پکار بن چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کریں اور فوری طور پر تناؤ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ ان کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے واضح کیا ہے کہ یہ وقت سفارت کاری اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کا ہے تاکہ علاقائی اور عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کی ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ ہے جو کہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے مستقل کشیدگی کا شکار رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات، امریکی پابندیوں میں دوبارہ اضافہ، اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر ثالث ممالک کی کوششیں نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہیں تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور جنگ کے کسی بھی بڑے خطرے کو ٹالا جا سکے۔

امریکا-ایران کشیدگی کا تاریخی پس منظر

امریکا اور ایران کے تعلقات کی بنیادیں انیسویں صدی کے اواخر میں پڑی تھیں، جب ایران مغربی نوآبادیاتی مفادات، خصوصاً برطانیہ اور روس، سے محتاط تھا۔ اس وقت ایران نے امریکا کو ایک زیادہ قابل اعتماد غیر ملکی طاقت کے طور پر دیکھا۔ تاہم، بیسویں صدی کے وسط سے ان تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ 1953 میں، امریکا اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں (سی آئی اے اور ایم آئی سکس) نے ایران میں مداخلت کی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہ محمد رضا پہلوی کو مکمل اختیارات واپس مل گئے۔ اس واقعے کو ایران میں امریکا کے خلاف گہری ناراضگی کا ایک اہم سبب سمجھا جاتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں حقیقی سرد مہری 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آئی، جب آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت قائم ہوئی اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 امریکی سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران پر پہلی بار پابندیاں عائد کیں اور ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک متعدد براہ راست محاذ آرائیوں، سفارتی واقعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کو ‘بین الاقوامی بحران’ کہا جاتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام نے بھی اس کشیدگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 2006 میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے یورینیئم افزودگی پروگرام کو روکنے میں ناکامی پر پہلی مرتبہ پابندیاں عائد کیں۔ 2015 میں، ایران اور عالمی طاقتوں (P5+1) کے درمیان ایک تاریخی جوہری معاہدہ (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) طے پایا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کیں جبکہ امریکا اور یورپی ممالک نے اقتصادی پابندیوں میں نمایاں نرمی کی۔ تاہم، 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو JCPOA سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور ایران پر نئی اور سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچایا اور ایران نے بھی 2019 میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کر دیں۔

حالیہ کشیدگی اور نئے امریکی حملے و پابندیاں

حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 جولائی 2026 کو امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے اس کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایرانی ساحل کے ساتھ فوجی مقاصد، فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، اینٹی شپ میزائل لانچ سائٹس، اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی چھوٹے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ایران کو سٹریٹجک شپنگ لین کو مزید غیر مستحکم کرنے سے روکنے اور ایک مضبوط پیغام دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ان امریکی حملوں کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، امریکا نے ایران کے تیل کی فروخت سے متعلق پابندیاں بھی دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس کے بعد ایران نے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے حالیہ امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا۔ ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل کو احتجاجی خطوط بھی ارسال کیے ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنازع کے حل میں اقوام متحدہ کا کردار

اقوام متحدہ، عالمی امن و سلامتی کی سب سے بڑی ضامن ہونے کے ناطے، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بارہا فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے زور دیا ہے کہ تمام فریق زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید کشیدگی کا باعث بنیں، اور فوری طور پر تناؤ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔

عالمی ادارے کا یہ مؤقف رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے خطے کے عوام، عالمی امن و سلامتی اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ ہر نیا حملہ یا دفاعی کارروائی غلط اندازے اور کسی بڑے تصادم کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے، جس سے شہریوں اور شہری تنصیبات کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے جاری مشاورت کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے جنگ بندی کو نقصان پہنچے یا سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹ آئے۔ اقوام متحدہ یہ واضح کر چکی ہے کہ مسئلے کے کسی بھی حل کی بنیاد بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر ہونی چاہیے، جس میں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے اور ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔

امریکہ ایران مذاکرات سے قبل ثالثوں نے تناؤ کم کرنے کیلئے رابطہ چینلز قائم کر دیے - World - Business Recorder Urdu

مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اور پاکستان کا کردار

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں، اور پاکستان ان کوششوں میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding – MoU) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 دنوں کے اندر ایک حتمی معاہدہ طے کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک رابطہ چینل قائم کرنا بھی شامل تھا۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی 2026 سے پاکستان میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ عرب میڈیا آؤٹ لیٹ ‘العربیہ’ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مذاکرات فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کا مقصد رکھتے ہیں۔ ان اہم بیٹھکوں میں ایران پر لگی عالمی پابندیوں کو ہٹانے، دنیا بھر میں روکے گئے ایران کے پیسوں یعنی منجمد اثاثوں کی بحالی، اور ایران کے ایٹمی پروگرام جیسے بڑے اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ منجمد اثاثوں کی بحالی کو ایران مذاکرات میں ایک اہم اور فیصلہ کن نکتہ قرار دے رہا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ خطے میں امن پاکستان کے معاشی اور سلامتی کے مفادات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازع کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں اور فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے کی گئی اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔

یہ مذاکرات واشنگٹن اور تہران کے درمیان مہینوں سے جاری بالواسطہ رابطوں کے بعد سامنے آئے ہیں، جو کشیدگی کو روکنے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر مرکوز رہے، جبکہ پابندیاں ہٹانے اور فریقین کی طرف سے مطلوبہ ضمانتوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور بھی مکمل ہو چکا ہے، جس میں ایک باہمی رابطوں کا چینل قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اہم مذاکراتی نکاتتفصیل
پابندیوں کا خاتمہایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانا۔
منجمد اثاثوں کی بحالیدنیا بھر میں ایران کے روکے گئے مالی اثاثوں کی واپسی۔
جوہری پروگرامایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات اور اس کی حدود۔
آبنائے ہرمز کی سلامتیخلیجی پانیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانا۔
علاقائی استحکاممشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے اقدامات۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایک پائیدار حل تلاش کرنا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان موجودہ بداعتمادی کو کم کر سکے۔ اس قسم کی سفارتی کوششیں انتہائی پیچیدہ ہوتی ہیں، اور کامیابی کا انحصار فریقین کی رضامندی اور عالمی برادری کی مسلسل حمایت پر ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی اثرات

آبنائے ہرمز دنیا کے نقشے پر ایک باریک سا سمندری تجارتی راستہ ہے جو آج عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کا سب سے حساس ترین مرکز بن چکا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر دنیا کے خام تیل کی تقریباً 20 سے 30 فیصد سمندری سپلائی گزرتی ہے۔ خلیجِ فارس کو بحرِ عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملانے والا یہ راستہ دراصل عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جس میں تھوڑی سی رکاوٹ پوری دنیا کو مہنگائی کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سبب ایران کئی بار آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے، جبکہ امریکا ہمیشہ یہ اعلان کرتا آیا ہے کہ وہ اس راستے کو ہر قیمت پر کھلا رکھے گا۔ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے (آئی ایم او) نے متحارب فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی لانے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کو دہرایا ہے، اور حملوں کو ‘لاپرواہانہ’ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔

اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا مکمل بندش ہو جاتی ہے، تو اس سے دنیا میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو جائے گا کیونکہ تیل کی عالمی سپلائی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی۔ خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر سے 150 ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی اوپر چلی جائیں گی، جس سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہونے سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر تباہ کن دباؤ پڑے گا۔ اس کے علاوہ، ایل این جی اور کھادوں کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوگی، جس کے عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی عارضی جنگ بندی کے بعد بحری نقل و حمل میں کچھ بہتری آئی تھی، اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ شپنگ کمپنیاں اس اہم بحری راستے کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ تاہم، حالیہ امریکی حملوں اور ایران کے جوابی اقدامات نے اس پیش رفت کو دوبارہ متاثر کر دیا ہے، اور عالمی منڈیاں ایک بار پھر بے یقینی کا شکار ہیں۔

جوہری پروگرام اور پابندیوں کا اثر

ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں امریکا-ایران کشیدگی کا ایک مرکزی جزو ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد، ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں قبول کی تھیں، جس کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ تاہم، 2018 میں امریکا کی یکطرفہ علیحدگی اور نئی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا، خاص طور پر اس کے تیل کی فروخت میں کمی واقع ہوئی۔ ایران نے اس کے جواب میں 2019 میں معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری سرگرمیاں تیز کر دیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق، ایران 60 فیصد تک یورینیئم افزودگی کر رہا ہے، اور بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے اپریل 2026 میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ 2015 کا جوہری معاہدہ اب کسی نئے معاہدے کی بنیاد نہیں بن سکتا کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے ایک مختلف راستے پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکا کی جانب سے ایران کے تیل سے متعلق پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کا حالیہ فیصلہ، جو 8 جولائی 2026 کو کیا گیا، ایران کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی کمپنیوں، بحری جہازوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جو ایران کے تیل کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے “شیڈو بینکنگ نیٹ ورک” کو نشانہ بناتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی محدود کرنا اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنا ہے۔

دوسری جانب ایران ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور انہیں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات باہمی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں (7 جولائی 2026 کو) ایران کو جوہری معاہدے پر جلد فیصلہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو ایران معاہدہ کر لے، ورنہ امریکا کسی نہ کسی طریقے سے یہ معاملہ مکمل کر لے گا، اور یہ کام امریکا کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔ یہ بیانات اس کشیدہ صورتحال کو مزید ہوا دیتے ہیں اور امن کے امکانات کو دھندلا دیتے ہیں۔

نتیجہ: امن اور استحکام کی راہ

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ عالمی چیلنج ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی، تیل کی عالمی سپلائی، اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسے معاملات براہ راست اس تنازع سے جڑے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ ایک بروقت اور ضروری قدم ہے، جس کی حمایت عالمی برادری کو یکسو ہو کر کرنی چاہیے۔

پاکستان جیسے ثالث ممالک کی کوششیں، جو دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سرگرم ہیں، امید کی کرن ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ دونوں فریق مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دیں۔ اگرچہ حالیہ امریکی حملوں اور ایران کے جوابی اقدامات نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم امریکا نے اب بھی طویل مدتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

موجودہ حالات میں، پائیدار امن کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، تعمیری مکالمے اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں، اور ان کا کوئی متبادل نہیں۔ فریقین کو ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مستقبل پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے حل تلاش کرنے چاہییں جو خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔ عالمی برادری کو بھی اس تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کے تباہ کن نتائج سے بچایا جا سکے۔