مقبول خبریں

آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں یا رائٹ ہینڈڈ، یہ صلاحیت پیدائشی نہیں بلکہ مشق کا نتیجہ قرار

آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں یا رائٹ ہینڈڈ، یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر ہماری گفتگو کا حصہ بنتا ہے۔ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دائیں ہاتھ سے کام کرتا ہے، جبکہ تقریباً 10 فیصد افراد ایسے ہیں جو بائیں ہاتھ سے اپنے زیادہ تر کام انجام دیتے ہیں۔ صدیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ ہاتھ کا انتخاب، یعنی لیفٹ ہینڈڈ ہونا یا رائٹ ہینڈڈ ہونا، کیا یہ خالصتاً ایک پیدائشی صلاحیت ہے جو جینز میں چھپی ہوتی ہے، یا پھر یہ ماحول، مشق اور معاشرتی اثرات کا نتیجہ ہے؟ حالیہ تحقیق اور سائنسی پیشرفت نے اس پیچیدہ سوال پر نئی روشنی ڈالی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ محض ایک سادہ پیدائشی عمل نہیں بلکہ متعدد عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے جو کسی فرد کو دائیں یا بائیں ہاتھ سے کام کرنے پر مائل کرتا ہے۔

ہاتھ کے انتخاب کا پہلو: پیدائشی یا اکتسابی؟

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کا انتخاب پیدائشی ہوتا ہے، یعنی انسان پیدا ہوتے ہی یا تو دائیں ہاتھ والا ہوتا ہے یا بائیں ہاتھ والا۔ ماضی کی تحقیقات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بچے بڑے ہونے پر کس ہاتھ کو ترجیح دیں گے، اس کا تعین ماں کے پیٹ میں ہی ہو جاتا ہے۔ بعض تحقیقی رپورٹس کے مطابق دوران حمل 18 ہفتے بعد کیے جانے والے اسکین سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ بچے کی زندگی میں دائیں یا بائیں کس ہاتھ کی بالادستی ہوگی۔ ان تحقیقات میں سو فیصد تک ہاتھ کی بالادستی کی درست پیشگوئی کی گئی، جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر جینیاتی یا پیدائشی خصوصیت ہے۔

تاہم، اس نظریے کے برعکس، ایک اور نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ ہاتھ کا استعمال صرف پیدائشی نہیں بلکہ مشق، تربیت اور ماحول کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک مشہور مثل ہے کہ “ہم بایاں ہاتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں، لیکن دایاں ہاتھ خود بناتے ہیں”۔ یہ مثل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کے فطری رحجانات کچھ بھی ہوں، لیکن زندگی میں حاصل کی جانے والی تربیت، جدوجہد اور ماحول کے تاثرات اس کے ہاتھ کے استعمال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلاً، بہت سے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد معاشرتی دباؤ یا دائیں ہاتھ کے لیے بنائے گئے اوزاروں کی وجہ سے اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرنا سیکھ لیتے ہیں۔

آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں یا رائٹ ہینڈڈ، یہ صلاحیت پیدائشی نہیں بلکہ مشق کا نتیجہ قرار

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہاتھ کا انتخاب سماجی دباؤ کا نتیجہ ہے جو ہزاروں برسوں سے ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔ یعنی معاشرے میں دائیں بازو کو استعمال کرنے والے افراد کا غلبہ ہے اور ان کے مطابق ہی اوزار اور اشیاء تیار کی جاتی ہیں، یہی دباؤ نسل در نسل منتقل ہو جاتا ہے۔ اس طرح، پیدائش کے وقت چاہے جو بھی رجحان ہو، معاشرتی تربیت اور ضرورتیں انسان کو ایک مخصوص ہاتھ کے استعمال پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر بائیں ہاتھ والوں کے لیے زیادہ چیلنجنگ ہوتی ہے کیونکہ قینچی، کمپیوٹر ماؤس، اور ڈرائیونگ پلیٹس جیسی روزمرہ کی بہت سی اشیاء دائیں ہاتھ والوں کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں۔

دماغی سرگرمیاں اور ہاتھ کا استعمال

ہمارے ہاتھ کے استعمال کا گہرا تعلق ہمارے دماغ کی ساخت اور سرگرمی سے ہے۔ انسانی دماغ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: بایاں دماغ اور دایاں دماغ۔ دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ دماغ کا دایاں حصہ جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ زیادہ تر افراد دماغ کے بائیں حصے کو زیادہ استعمال کرتے ہیں جو زبان اور دیگر صلاحیتوں سے جڑا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کا دایاں ہاتھ بالادست ہو جاتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کی وجہ ماں کے پیٹ میں دماغ کی نشوونما اور جسمانی مائیکرو ٹیوبلز (microtubules) ہو سکتی ہے۔ مائیکرو ٹیوبلز ایسے خلیات کا اسٹرکچر ہیں جو انسانی خلیات کا زیادہ تر بوجھ اٹھاتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے دماغ کے بائیں اور دائیں جانب کے حصے زیادہ بہتر طریقے سے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید تحقیق سے یہ علم ہو سکے گا کہ اس کا کتنا فائدہ لیفٹ ہینڈڈ افراد کو ہوتا ہے۔ اس بہتر ربط کی وجہ سے بعض ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بائیں ہاتھ والے افراد میں کچھ منفرد ذہنی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔

جینیاتی عوامل اور بائیں ہاتھ کا رحجان

ہاتھ کے انتخاب میں جینیاتی عوامل کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت کیا گیا تھا کہ ہر 10 میں سے ایک لیفٹ ہینڈڈ فرد میں بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کی وجہ جینز میں چھپی ہوتی ہے۔ تاہم، یہ ایک پیچیدہ جینیاتی عمل ہے اور محض ایک جین کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں اگرچہ بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کا باعث بننے والے مخصوص جینز کی شناخت میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، مگر یہ ضرور معلوم کر لیا گیا ہے کہ انسانی جینوم کے کن مخصوص حصے اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگرچہ جینز کا کردار اہم تصور کیا جاتا ہے، مگر لیفٹ ہینڈڈ والدین کے ہاں رائٹ ہینڈڈ بچے کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو سائنسدانوں کے ذہنوں کو چکرا دیتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہاتھ کا انتخاب محض ایک سادہ موروثی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سے دیگر غیر جینیاتی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک فرد اپنے کام بائیں ہاتھ سے کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر کے کل 13 فیصد مرد اور 11 فیصد خواتین بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ بعض معاشروں میں ان کی مجموعی تعداد 20 فیصد تک بھی ہوتی ہے، جو علاقائی یا ثقافتی اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

خصوصیت دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد (رائٹ ہینڈرز) بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد (لیفٹ ہینڈرز)
آبادی کا فیصد تقریباً 90 فیصد تقریباً 10 فیصد
دماغی کنٹرول بائیں دماغ کا غلبہ (زبان اور منطق) دائیں دماغ کا زیادہ استعمال، دونوں دماغی حصوں کے درمیان بہتر ربط
عام آلات زیادہ تر آلات (قینچی، ماؤس وغیرہ) ان کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں آلات کے استعمال میں دشواری کا سامنا
تخلیقی صلاحیتیں عام تصور، لیکن بائیں ہاتھ والوں سے کوئی ٹھوس فرق نہیں بعض اوقات زیادہ تخلیقی، خاص طور پر مشکل مسائل پر توجہ دینے کی صلاحیت
مقابلہ جاتی روح عام مقابلے کی خواہش دائیں ہاتھ والوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے
معاشرتی دباؤ کم سامنا کرنا پڑتا ہے تاریخی طور پر منفی تصورات اور دباؤ کا سامنا

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کے لیے چیلنجز اور فوائد

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کو روزمرہ کی زندگی میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ایک ایسی دنیا میں جو دائیں ہاتھ والوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، قینچی، کمپیوٹر کے ماؤس، اور بعض اوقات گاڑیوں کے کنٹرول بھی دائیں ہاتھ والوں کی سہولت کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بائیں ہاتھ والے افراد کو اکثر اپنے غیر غالب ہاتھ سے کام کرنے کی تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے، جو انہیں ایک طرح کی “اکتسابی ایمبی ڈیکسٹرس” صلاحیت عطا کر دیتا ہے۔

تاہم، ان چیلنجز کے ساتھ ساتھ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد میں کچھ منفرد فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض ماہرین اور تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ بائیں ہاتھ والے افراد زیادہ ذہین، چالاک اور تخلیقی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پورے جسم کو دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر استعمال کر سکتے ہیں اور مشکل مسائل پر بہتر توجہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ہیلتھ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دائیں ہاتھ والوں کے مقابلے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنے والے بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح، حالیہ مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد میں مقابلہ کرنے کی خواہش دائیں ہاتھ والوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ نتیجہ جسمانی طاقت کے بجائے ذہنی پہلو کی برتری کو اجاگر کرتا ہے اور اس پرانی سوچ کو نئی اہمیت دیتا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی خصوصیت انسانوں میں اب تک کیوں برقرار ہے۔

تاریخی طور پر بہت سی نامور شخصیات بائیں ہاتھ سے کام کرتی تھیں، جن میں سابق امریکی صدر براک اوباما سمیت 8 امریکی صدور، البرٹ آئن سٹائن، مارک ٹوئن، میری کیوری، نیکولا ٹیسلا اور ارسطو شامل ہیں۔ برطانیہ کے شہزادہ ولیم، مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ بھی بائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں۔ یہ فہرست بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اگرچہ سوچنے کا تعلق دائیں یا بائیں ہاتھ سے نہیں بلکہ دماغ، علم اور تجربے سے ہوتا ہے۔

ثقافتی اور معاشرتی اثرات

ہاتھ کے استعمال کا انتخاب صرف حیاتیاتی یا نفسیاتی پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ اس پر ثقافتی اور معاشرتی اثرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں کئی معاشروں میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو “شیطان” یا “برائی کی علامت” سمجھا جاتا تھا۔ قدیم یونانی تو انہیں عفریت اور چڑیل جیسے ناموں سے منسوب کرتے تھے۔ گو کہ اب پرانے وقتوں کی طرح بائیں ہاتھ والوں کو برا اور غلط نہیں سمجھا جاتا، مگر اب بھی ان کے حوالے سے کچھ من گھڑت مفروضات لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں دائیں ہاتھ کے استعمال کو فضیلت دی گئی ہے۔ احادیث مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے، پینے اور چیزیں لینے دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ بغیر کسی شرعی عذر کے بائیں ہاتھ سے یہ کام کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، اور اسے شیطان کا کام قرار دیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا تو اسے منع فرمایا، جب اس نے تکبر کی بنا پر یہ عذر پیش کیا کہ وہ دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: “تم کبھی دائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ!” چناں چہ رسول اللہ ﷺ کی بد دعا کی وجہ سے اس کی موت تک اس کا دایاں ہاتھ کھانے کے لیے کبھی منہ تک نہیں اٹھتا تھا۔ البتہ، اگر کسی کو واقعی کوئی عذر لاحق ہو جیسے بیماری یا چوٹ تو بائیں ہاتھ کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

ان ثقافتی اور مذہبی اثرات کی وجہ سے بھی بہت سے افراد، خاص طور پر بچپن میں، دائیں ہاتھ کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے، چاہے ان کا قدرتی رجحان بائیں ہاتھ کی طرف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ معاشرتی تربیت ایک فرد کے ہاتھ کے انتخاب کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے یہ صلاحیت نہ صرف پیدائشی بلکہ اکتسابی بھی بن جاتی ہے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں سے متعلق طبی تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس موضوع کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔

دونوں ہاتھوں کا استعمال: ایمبی ڈیکسٹرس ہونے کی صلاحیت

ایمبی ڈیکسٹرس (Ambidextrous) وہ شخص ہوتا ہے جو دونوں ہاتھوں کو یکساں مہارت سے استعمال کر سکے۔ یہ ایک نایاب صلاحیت ہے؛ اندازے کے مطابق دنیا کی صرف ایک فیصد آبادی قدرتی طور پر ایمبی ڈیکسٹرس ہوتی ہے۔ تاہم، جدید دور میں ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے جنہیں ایمبی ڈیکسٹرس سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ اصل میں پیدائشی طور پر بائیں ہاتھ والے تھے جنہوں نے دانستہ طور پر یا سکولوں یا ملازمتوں میں تربیت کے نتیجے میں دائیں ہاتھ کا استعمال سیکھا۔ چونکہ بہت سے روزمرہ کے آلات دائیں ہاتھ والوں کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے بہت سے بائیں ہاتھ والے افراد انہیں دائیں ہاتھ سے استعمال کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ اس طرح، بائیں ہاتھ والے افراد میں اپنے غیر غالب ہاتھ میں موٹر سکلز (motor skills) تیار کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ایمبی ڈیکسٹرس ہونے کے فوائد بھی ہیں، خاص طور پر کھیلوں میں جیسے بیس بال، جہاں ‘سوئچ ہٹنگ’ (switch hitting) کو بہت سراہا جاتا ہے۔ یہ ایک بلے باز کو مخالف ہاتھ کے پچر کے خلاف زیادہ مؤثر ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، کچھ مطالعات میں ایمبی ڈیکسٹرس ہونے کے ممکنہ خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، بعض تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ایمبی ڈیکسٹرس افراد میں ذہنی صحت کے مسائل جیسے پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور اٹنشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD) پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایمبی ڈیکسٹرس بچوں کو سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کی لکھنے کی رفتار اور بولنے میں روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ تمام پہلو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہاتھ کا انتخاب اور اس کا استعمال انسانی نشوونما کا ایک انتہائی پیچیدہ حصہ ہے۔

آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں یا رائٹ ہینڈڈ، یہ صلاحیت پیدائشی نہیں بلکہ مشق کا نتیجہ قرار

نتیجہ

بالآخر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں یا رائٹ ہینڈڈ، یہ صلاحیت محض پیدائشی نہیں بلکہ متعدد عوامل کا مجموعہ ہے۔ سائنسی تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جینیاتی رجحانات اور دماغ کی نشوونما ابتدائی طور پر ہاتھ کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ماحول، معاشرتی دباؤ، آلات کی دستیابی اور عملی مشق بھی اس صلاحیت کو تشکیل دینے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کو معاشرتی ڈھانچے میں رہتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اکثر غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں کے استعمال کی صلاحیت، یعنی ایمبی ڈیکسٹرس ہونا، پیدائشی طور پر نایاب ہے مگر بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد اکثر اسے ضرورت کے تحت فروغ دیتے ہیں۔ اس لیے، ہاتھ کے انتخاب کو کسی ایک عنصر سے منسوب کرنا درست نہیں بلکہ یہ فطرت اور تربیت کا ایک حسین امتزاج ہے جو ہر فرد کو ایک منفرد صلاحیت سے نوازتا ہے۔