Table of Contents
ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن اب امریکا نہیں چاہتا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ الفاظ حالیہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماضی میں امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دیا تھا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں امریکی موقف میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ صدر ٹرمپ کے بار بار بیانات، جس میں انہوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی خود امریکی عدم دلچسپی کا بھی اظہار کیا، نے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ یہ بیان محض ایک سفارتی تبصرہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہری ہوتی کشیدگی، بد اعتمادی اور علاقائی استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان: تناظر اور اہمیت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سمت دی۔ ان کا سب سے نمایاں موقف ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کا یکطرفہ انخلا تھا، جس کے بعد “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی گئی۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کو ایک نئے، زیادہ جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا جو اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی محدود کرے۔
ٹرمپ کے کئی بیانات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایران امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا خواہش مند ہے۔ حال ہی میں 22 جولائی 2026 کو بھی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ملاقات کا شدت سے خواہاں ہے کیونکہ انہیں شدید تباہی کا سامنا ہے۔ لیکن امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی ایرانیوں سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس سے قبل 21 جولائی 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران امریکا سے ملاقات کے لیے شدید خواہش رکھتا ہے، تاہم واشنگٹن صرف اسی صورت میں مذاکرات کرے گا جب تہران بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔
17 جون 2025 کو بھی امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ایران کو مشورہ دیا تھا کہ اسے وہ معاہدہ قبول کر لینا چاہیے تھا جو میز پر موجود تھا۔ یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کی دعوت دینے کے بجائے، اس پر دباؤ بڑھانے اور اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ انہوں نے 22 جولائی 2026 کو نطنز کے قریب واقع ایرانی ایٹمی تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کا عندیہ دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایران ایسی کسی کارروائی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ دھمکیاں اور بیانات مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
جوہری معاہدہ (JCPOA) اور امریکہ کا انخلا
ایران جوہری معاہدہ، جسے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایران اور P5+1 ممالک (چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکا اور جرمنی) کے درمیان جولائی 2015 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا تاکہ اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے، جس کے بدلے میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔
2018 میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکا کے یکطرفہ انخلا کا اعلان کر دیا، جسے انہوں نے “تاریخ کا بدترین معاہدہ” قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کو خاطر خواہ طریقے سے نہیں روکتا اور یہ ایران کو بالآخر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ معاہدے سے انخلا کے بعد، امریکا نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں اور اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا آغاز کیا، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے نئے مذاکرات پر مجبور کرنا تھا۔
امریکا کے اس اقدام کے بعد ایران نے بھی معاہدے کی بعض شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ یورپی ممالک، جو جوہری معاہدے کو بچانے کے خواہاں تھے، کے لیے بھی ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی۔ یورپی ممالک نے امریکا سے ایران پر عائد پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایک مالیاتی میکانزم (INSTEX) بھی قائم کیا، لیکن یہ بھی ایران کو مکمل طور پر مطمئن نہ کر سکا۔
ایران کا موقف: شرائط اور مذاکرات کی خواہش
امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی پوزیشن میں لچک اور سختی دونوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک طرف ایران نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا حق رکھتا ہے اور اس پر عائد پابندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ دوسری طرف، ایران نے مذاکرات کے لیے شرائط بھی پیش کی ہیں۔ 24 جولائی 2025 کو ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور نے مذاکرات کی بحالی کے لیے چند بنیادی شرائط کا اعلان کیا۔ ان میں سرفہرست یہ ہے کہ امریکا کو ایران کا اعتماد بحال کرنا ہوگا اور مذاکرات کو کسی خفیہ یا خطرناک ایجنڈے کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، این پی ٹی کے تحت ایران کے جوہری حقوق، بالخصوص یورینیم کی افزودگی کا حق، تسلیم کیے جائیں گے۔
ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے۔ 16 مارچ 2026 کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران امریکا سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ تاہم، دیگر مواقع پر، ایرانی عہدیداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکی جانب سے نیک نیتی اور معاہدوں کی پاسداری ہو۔ محسن رضائی، جو ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر ہیں، نے 18 جولائی 2026 کو کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلسل معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے بعد “مذاکرات اور جنگ ساتھ ساتھ چلانے کی پالیسی اب ختم ہو چکی ہے”۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بھی امریکا کے ساتھ تعلقات میں واضح اور دیرپا حل چاہتا ہے۔
امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا مقصد ایران کی معیشت پر شدید مالیاتی پابندیاں عائد کرنا تھا تاکہ اسے جوہری اور میزائل پروگراموں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس پالیسی میں ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے، اس کے بینکنگ سیکٹر پر پابندیاں لگانے اور پاسداران انقلاب جیسی اداروں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے جیسے اقدامات شامل تھے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اپریل 2026 میں کہا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد ایران کی آمدن پیدا کرنے، رقوم کی ترسیل اور مالی وسائل کو بیرون ملک منتقل کرنے کی صلاحیت کو بتدریج محدود کرنا ہے۔
ان پابندیوں کے تحت ایران کی متعدد شخصیات، اداروں، اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں چین اور ہانگ کانگ میں قائم وہ کمپنیاں بھی شامل تھیں جو ایران کے خفیہ بینکنگ نیٹ ورک کا حصہ بن کر ہتھیاروں کے سودوں کی ادائیگیاں چھپانے میں ملوث تھیں۔ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی وسائل بھی بڑھا دیے تھے، جس میں ایئرکرافٹ کیریئرز اور لڑاکا ہوائی جہاز شامل تھے، تاکہ ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری کی جا سکے۔
یہ پالیسی ایران کی معیشت پر بوجھ ثابت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور افراط زر میں اضافہ ہوا۔ تاہم، اس پالیسی نے ایران کو مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ اس کے ردعمل میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تیز کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کو مزید فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔
| خصوصیت | ایران کا موقف | امریکا کا موقف (ٹرمپ انتظامیہ) |
|---|---|---|
| جوہری معاہدہ (JCPOA) | معاہدے کی بحالی کا خواہاں، پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیتا ہے۔ | معاہدے سے انخلا، اسے ‘بدترین معاہدہ’ قرار دیا۔ نئے، جامع معاہدے کا مطالبہ۔ |
| مذاکرات | بامعنی مذاکرات کے لیے تیار، لیکن امریکی اعتماد کی بحالی اور شرائط کی قبولیت ضروری۔ | مذاکرات کے لیے ایران کی خواہش کا اعتراف، لیکن فی الحال غیر دلچسپ یا مخصوص شرائط عائد۔ |
| پابندیاں | پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ، معاشی دباؤ کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ | “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی، نئی اور سخت پابندیاں عائد کرنے کا تسلسل۔ |
| سکیورٹی گارنٹی | اپنی قومی سلامتی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا حق۔ | خطے میں استحکام اور اتحادیوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ |
امریکی-ایرانی کشمکش کے خطے پر اثرات
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خطے پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی رقابتوں اور داخلی انتشار کا شکار رہی ہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات شام، عراق، یمن، لبنان اور خلیجی ممالک تک بھی پھیلتے ہیں۔

- تنازعات میں شدت: ایران کے اتحادی مختلف ممالک میں متحرک ہیں، جبکہ امریکا، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادی پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔ اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس سے بحری راستے، توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی تجارت براہ راست متاثر ہو گی۔
- عالمی معیشت پر دباؤ: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جاری فوجی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ 22 جولائی 2026 کو برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر اضافے کے بعد 92.01 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 85.16 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گا۔
- پاکستان کا کردار: پاکستان، جو ایران، چین، خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ اہم تعلقات رکھتا ہے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی، مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کے پرامن حل اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
- انسانی حقوق کی صورتحال: جنگی صورتحال کی وجہ سے انسانی حقوق بھی داؤ پر لگ چکے ہیں۔ عالمی اداروں کی جانب سے بارہا جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے تاکہ انسانی بحران کو روکا جا سکے۔
اس کشمکش میں چین، روس اور یورپی ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں، جو توانائی کی فراہمی، تجارت اور علاقائی تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ یہ سب مل کر مشرق وسطیٰ کو ایک انتہائی حساس خطہ بناتے ہیں جہاں کوئی بھی غلط قدم بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور سفارتی چیلنجز
امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر دونوں فریقوں نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو یہ صورتحال قابو سے باہر ہو کر ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مستقبل کے امکانات کئی عوامل پر منحصر ہیں، جن میں دونوں ممالک کی قیادت، علاقائی طاقتوں کا کردار اور عالمی برادری کی ثالثی کی کوششیں شامل ہیں۔
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن: ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی نئے مقام پر سرگرمیاں شروع کرنے کی صورت میں اسے نشانہ بنائے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی ایران پالیسی میں مزید سختی آ سکتی ہے۔
- ایران کا ردعمل: ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ محض دفاعی حکمت عملی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر بھرپور جارحانہ کارروائیاں بھی کی جائیں گی۔ ایرانی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
- سفارتی کوششیں: پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت دونوں ممالک نے کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے کی جانب پیش رفت پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے انتظام، بحری نقل و حمل اور سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
- علاقائی استحکام: مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف مزید انسانی جانوں کا ضیاع ہو گا بلکہ لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو سکتے ہیں۔ علاقائی امن و استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی حل تلاش کریں۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر، امریکی اور ایرانی قیادت کو ایک ایسے راستے کی تلاش ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے، لیکن اس مقصد کا حصول اس وقت تک مشکل دکھائی دیتا ہے جب تک کہ بد اعتمادی کی فضا ختم نہ ہو۔
نتیجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ “ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن اب امریکا نہیں چاہتا” مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ بیان صرف ایک سفارتی تبصرہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہری ہوتی کشیدگی، بد اعتمادی اور علاقائی استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے جوہری معاہدے سے امریکا کے انخلا، “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور اس کے ردعمل میں ایران کے جوابی اقدامات نے خطے کو مسلسل تناؤ کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔
جہاں ایک طرف ایران مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پیش کر رہا ہے اور امریکی اعتماد کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف امریکا کی جانب سے مذاکرات میں عدم دلچسپی اور پابندیوں میں اضافہ ایک ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ اس کشمکش کے اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی تنازعات میں شدت کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک سفارتی حل کے لیے کوشاں ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد اور سخت موقف کسی بھی فوری پیش رفت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ جب تک دونوں ممالک کی قیادت کوئی مشترکہ بنیاد تلاش نہیں کر لیتی اور ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتی، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔


